پلوامہ حملے کی بعد دہرادون میں مقامی لوگوں نے کشمیری طالبات کوگھیرا،دیواربن کھڑی رہی پولس

Share Article
Dehradun-police
نئی دہلی:جموں و کشمیر کے پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد پورے ملک میں احتجاج کئے جا رہے ہیں۔جگہ-جگہ خراج عقیدت تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ تو وہیں دوسری طرف ملک کے الگ الگ حصوں میں رہنے والے کشمیری لوگوں کو دھمکیاں دیئے جانے اور کرایہ کے مکان خالی کروائے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، ایسے میں سی آر پی ایف ایک بار پھر ان لوگوں کی مددگار ثابت ہوئی ہے۔ دراصل سی آر پی ایف نے ایک ٹویٹ کرکے ان لوگوں سے ہراساں کئے جانے سے جڑے معاملات کو رپورٹ کرنے کے لئے کہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سی آر پی ایف نے ’مددگار‘ ہیلپ لائن کے ذریعہ ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست سے باہر رہنے والے کشمیری طالب علم اور عام لوگ @ سی آر پی ایف مددگار پر رابطہ کر سکتے ہیں۔سی آر پی ایف کے مطابق ٹول فری نمبر 14411 پر کال کرنے کے ساتھ ہی لوگ 7082814411 پر ایس ایم ایس کر کے مدد مانگ سکتے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد دہرادون اور انبالہ سمیت کئی علاقوں میں رہنے والے کشمیریوں کو ان کے مکان مالکان نے گھر خالی کرنے کے لئے کہہ دیا ہے۔وہی احتجاج کے دوران بہار میں کشمیری لوگوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی بات سامنے آئی تھی۔ دراصل اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرا دون میں تعلیم حاصل کر رہے کچھ کشمیری نوجوانوں نے شکایت کی تھی کہ انہیں پریشان کیا جا رہا ہے اور بدلے ہوئے حالتوں میں مالک مکان اپنے گھروں پر حملہ ہونے کے خدشہ کے سبب انہیں گھر خالی کرنے کو کہہ رہے ہیں،حالانکہ دہرادون پولیس نے دہرادون میں تعلیم حاصل کر رہے کشمیری طالب علموں کی حفاظت کا بھروسہ دلایا ہے۔
وہیں دوسری طرف انبالہ کی ایک گرام پنچایت نے پلوامہ حملے کی مخالفت میں گاؤں والوں سے کرایہ پر رہ رہے کشمیری طالب علموں سے 24 گھنٹے کے اندر گھر خالی کروانے کا فرمان جاری کیا ہے، جس سے منسلک ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔جس کے بعد 5-6 طالب علموں کو ایم ایم مولانا یونیورسٹی میں منتقل کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
پلوامہ میں 5 دن پہلے ہوئے ایک دہشت گردانہ حملے میں اپنے 40 ساتھیوں کو کھونے کے بعد سی آر پی ایف اپنے فرض اور ہدف پر ڈٹی ہوئی ہے اور اس کا شاندار نذیر تب دیکھنے کو ملا جب جموں و کشمیر سے باہر رہ رہے کشمیریوں کو مبینہ طور پر دی جا رہی دھمکیوں کی خبروں کے پیش نظر سری نگر واقع سی آر پی ایف ہیلپ لائن نے ٹوئٹ کے ذریعے ان سے کہا کہ وہ کسی بھی طرح کے ہراساں کئے جانے کے معاملے میں ان سے رابطہ کریں، ایسی خبر ہے کہ دہشت گردانہ حملے کے بعد لوگوں میں غصہ ہے، دہرادون اور انبالہ سمیت کئی جگہوں پر رہ رہے کشمیریوں کو ان کے مکان مالکان نے گھر چھوڑنے کے لئے کہہ دیا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *