(محمد ہارون (کشمیر
p-2وزیر ڈاکٹر منموہن سنگھ اور یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی کے حالیہ دورۂ جموں و کشمیر کے موقعے پر اس شورش زدہ ریاست سے متعلق منفی اور مثبت دونوں ہی پہلو ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔ وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کے دورے سے محض ایک دن قبل سرینگر کے حیدر پورہ علاقے میں ایک فوجی قافلے پر ہوئے خونیں حملے نے تو ملک کے سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگاروں کو ہلاکر رکھ دیا ہے، کیونکہ جموں و کشمیر کی ملی ٹینسی کی 24 سالہ تاریخ میں پہلی بار اس طرح کا شدید ملی ٹینٹ حملہ ہوا ہے، جس میں بیک وقت فوج کے 8 جوان ہلاک اور تقریباً ڈیڑھ درجن اہلکار زخمی ہوئے ہوں۔ محض چند دن قبل تک وادی آنے والے سیاحوں کی تعداد کو دیکھ کر بعض مبصرین جموں و کشمیر میں مکمل قیام امن قائم ہوجانے کی نوید سنا رہے تھے، لیکن اس دہلا دینے والے ملی ٹینٹ حملے نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ کشمیر ایک ناقابل بھروسہ جگہ ہے، جس کے بارے میں کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا ہے کہ یہاں کب کیا ہو، بلکہ یہ استدلال مزید قوی ہوتا نظر آرہا ہے کہ کشمیر بنیادی طور پر ایسا مسئلہ ہے ہی نہیں، جس کا حل فوجی قوت کے بل پر نکالا جاسکتا ہے، کیونکہ ریاست میںسات لاکھ کے لگ بھگ فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے باوجود اگر 24 سال بعد بھی فوجی قافلوں پر اس قدر شدید حملے ہوں، تو یہ سیکورٹی لحاظ سے ایک بہت حوصلہ شکن بات ہی قرار دی جاسکتی ہے۔
کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے معروف کشمیری صحافی اور موقر اخبار روز نامہ چٹان کے مدیر اعلیٰ طاہر محی الدین حالیہ ملی ٹینٹ حملہ کو حکومت کے اس دعوے کی سراسر نفی قرار دے رہے ہیں کہ کشمیر میں امن قائم ہوچکا ہے اور ملی ٹینسی پر قابو پایا جاچکا ہے۔ ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک گفتگو میں طا ہر محی الدین نے کہا کہ ’’حکومت کا یہ دعویٰ سراسر غلط ثابت ہوا کہ یہاں ملی ٹینسی ختم ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم کی آمد پر اس طرح کا حملہ یہ بات بھی سمجھاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یہاں ملی ٹینٹوں کی قوت کو قطعاًنظر انداز نہیں کیاجاسکتا ہے۔ مستقبل میں اگر کشمیر حل کے حوالے سے بھارت اور پاکستان یا پھر دلی اور سرینگر کے درمیان کوئی تصفیہ ہو بھی جاتا ہے، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ملی ٹینٹ اسے سبوتاژ کرنے کی قوت رکھتے ہیں، کیونکہ حالیہ حملے سے یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ جدید ترین اسلحہ سے لیس لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود فوج اور دیگر فورسز لگ بھگ ڈھائی دہائیاں گزرنے کے باوجود وادی میں ملی ٹینسی کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔‘‘ طاہر محی الدین نے مزید کہا کہ ’’جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اور مسئلہ کے حل سے متعلق کسی امکانی صورتحال پر اگرایک ہی جملے میں تبصرہ کرنا ہو، تو کہا جاسکتا ہے کہ یہاں ملی ٹینسی کی قوت کو نظر انداز کرنا ایک حماقت ہے۔‘‘

وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کے دورے کے حوالے سے جو مثبت تصویر نظر آئی، وہ یہ تھی کہ ریاست میں تعمیراتی سرگرمیاں شدو مد سے جاری ہیں اور ریاست واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ جموں و کشمیر پہنچنے پر وزیر اعظم اور سونیا گاندھی نے سب سے پہلے کشتواڑ علاقے میں 850 میگاواٹ کی صلاحیت والے ایک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا افتتاح بھی کیا۔ جموں و کشمیر کی صنعتی ترقی میں برقی رو کی قلت ایک بہت بڑی رکاوٹ تصور کی جاتی ہے اور اس لحاظ سے متذکرہ پاور پروجیکٹ کی تعمیر ریاستی عوام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کی آمد پر انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں کو جس قدر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کرنا پڑے، اس کو دیکھ کر بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کشمیر واقعی ایک غیر محفوظ جگہ ہے۔ جتنی دیر تک ڈاکٹر منموہن سنگھ اورسونیا گاندھی وادی میں موجود تھے، سرینگر کے شہرہ آفاق جھیل ڈل سے منسلک سڑک، یعنی بلوارڈ روڈ کو نہ صرف عام کشمیریوں، بلکہ سیاحوں کی آمد و رفت کے لیے بھی بند کردیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ڈل جھیل سے متصل سینکڑوں ہوٹلوں اور گیسٹ ہائوسوں میں قیام پذیرملکی و غیر ملکی سیاحوں کو دو دن تک اپنے کمروں تک ہی محدود رہنا پڑا۔ ڈل کے سامنے زبرون پہاڑیوں پر فوج کے شارپ شوٹرس تعینات تھے، جبکہ ڈل کے پانیوں پر تیرتے ہوئے موٹر بوٹس میں صرف سیکورٹی فورسز گشت کرتے نظر آرہے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کی آمد سے قبل ہی سابق جنگجوئوں کو حفظ ماتقدم کے طور پر گرفتار کرلیا تھا۔ ڈاکٹر سنگھ اور محترمہ سونیا کی سرینگر میں موجودگی کے دوران شہر کے بیشتر علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا گیا تھا، جبکہ سید علی شا ہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک اور شبیر احمد شاہ جیسے علیحدگی پسند لیڈران کو ان کے گھروں میں نظربند کردیا گیا تھا۔ 25 جون کو، یعنی جس دن وزیر اعظم اور سونیا گاندھی سرینگر پہنچے ، وادی بھر میں علیحدگی پسندوں کے کہنے پر ایک ہمہ گیر ہڑتال ہوئی، جس کی وجہ سے یہاں معمول کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔
سینئر صحافی ریاض ملک کہتے ہیں کہ حکومت خود کنفیوژن کا شکار ہے، جبکہ سیکورٹی ایجنسیوں میں اعتماد کا فقدان صاف نظر آرہا ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کے ساتھ ایک بات چیت میںریاض ملک نے کہا کہ ’’وزیر اعظم اور یوپی اے چیئر پرسن کی آمد پر وادی میں حفاظتی انتظامات کے نام پر یہاں جو کچھ کیا گیا، وہ قطعاً ایک جمہوری ملک کے لیڈران کے شایانِ شان نہیں ہے۔ ایسا نہیں کہ ان شخصیات کی آمد پر حکومت اور سیکورٹی ایجنسیز کو حفاظتی انتظامات نہیں کرنے چاہیے تھے، لیکن حفاظتی انتظامات کے نام پر جس طرح سے عام کشمیریوں، یہاں تک کہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو یرغمال بنادیا گیا اور وادی کے مختلف علاقوں میں سابق جنگجوئوں کو پولس تھانوں میں بند رکھا گیا اور شہر کے بیشتر علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا، وہ شرمناک ہے۔ ایک طرف حکومت یہ دعوے کرتے نہیں تھکتی کہ وادی میں امن قائم ہوگیا ہے اور دوسری طرف سیکورٹی کے نام پر لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنائی جارہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود کنفیوژن کا شکار ہے اور سیکورٹی ایجنسیوں میں اعتماد کا فقدان ہے۔‘‘
وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کے دورے کے حوالے سے جو مثبت تصویر نظر آئی، وہ یہ تھی کہ ریاست میں تعمیراتی سرگرمیاں شدو مد سے جاری ہیں اور ریاست واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ جموں و کشمیر پہنچنے پر وزیر اعظم اور سونیا گاندھی نے سب سے پہلے کشتواڑ علاقے میں 850 میگاواٹ کی صلاحیت والے ایک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا افتتاح بھی کیا۔ جموں و کشمیر کی صنعتی ترقی میں برقی رو کی قلت ایک بہت بڑی رکاوٹ تصور کی جاتی ہے اور اس لحاظ سے متذکرہ پاور پروجیکٹ کی تعمیر ریاستی عوام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ حالانکہ جموں و کشمیر میں ایک اہم شکایت یہ ہے کہ یہاں کے وسائل کے استعمال سے پیدا شدہ بجلی سے جنوبی ہند کے شہروں اور دیہاتوں کو روشن کرکے خود اس ریاست کو گھپ اندھیرے میں رکھا جارہا ہے۔ ریاست کی سول سوسائٹی اور سیاسی حلقے، یہاں تک کہ مین اسٹریم جماعتیں نئی دلی کے اس رویے کو ’’ریاستی وسائل لوٹنے ‘‘ سے تعبیر کرتی رہی ہیں اور اس پر یہاں خاصی ناراضگی پائی جارہی ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے دورۂ جموں و کشمیر کے دوران ریاست کے سرحدی اضلاع میں سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر و تجدید کے لیے 710 کروڑ روپے بھی واگزار کردیے۔ یہ خطیر رقم پردھان منتری گرام سڑک یوجنا اسکیم کے تحت فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نے ریاست میں پرائم منسٹرس ری کنسٹرکشن پروگرام کے تحت ریاست میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر اعظم اور سونیا گاندھی نے جموں و کشمیر کے دورے کے دوران قاضی گنڈ- بانہال ریل لنک کا افتتاح کیا۔ یہ ریل لنک ریاستی عوام کے لیے کسی بھی بڑے تحفے سے کم نہیں، کیونکہ اس ریل لنک کے بعد پہلی بار وادیٔ کشمیر کا باقی دنیا کے ساتھ زمینی رابطہ سال بھر جاری رہنے کاامکان پیدا ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے ہر سال موسم سرما میں بھاری برفباری کے ساتھ ہی سرینگر جموں شاہراہ ہفتوں تک بند ہوجاتی تھی اور وادی کے عوام کا باقی دنیا کے ساتھ زمینی رابطہ عملاً منقطع ہوکر رہ جاتا تھا۔ اب قاضی گنڈاور بانہال کے درمیان ریل لنک قائم ہوجانے کے بعد وادی کا بیرونی دنیا کے ساتھ زمینی رابطہ بر قرار رہے گا، کیونکہ عام طور سے قاضی گنڈ سے بانہال تک 35 کلو میٹر طویل سڑک ہی پہاڑوں سے برفانی پسیاں گر آنے کی وجہ سے بند ہوجاتی تھی۔ فی الوقت بانہال سے اودھم پور تک کی ریلوے لائن پر کام چل رہا ہے۔ توقع ہے کہ اس ریل لائن کی تکمیل 2017 تک ہوگی، جس کے بعد تاریخ میں پہلی بار وادیٔ کشمیر ہندوستان کے ساتھ بذریعہ ریل جڑ جائے گی۔ صاف ظاہر ہے کہ اس طرح کے ترقیاتی پروجیکٹ جموں و کشمیر کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک نوید ہیں، لیکن ان ترقیاتی پروجیکٹوں کا تذکرہ کرکے اسے مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ جوڑنا سراسر ایک غیر منطقی رویہ ہے اور بدقسمتی سے اس رویے کو ملک بھر میں فروغ دیا جارہا ہے۔ جموں و کشمیر کے حالات سے متعلق ملک کے عوام کو حقائق بتانے کے بجائے انہیں گمراہ کن اطلاعات فراہم کرنے کا رجحان فروغ پارہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیر کا پرابلم صرف ملی ٹینسی سے نمٹنا نہیں ہے، بلکہ کشمیر کو لے کر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری مخاصمت بھی اس مسئلے کا ایک بہت بڑا فیکٹر ہے۔ 26 جون کو عین اس وقت، جب وزیر اعظم اور سونیا گاندھی جموں و کشمیر میں موجود تھے، ریاست کے پونچھ علاقے میں لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کے فوجیوں کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کے تبادلے سے پورا خطہ دہل اُٹھا۔ اس خطے میں جنگ کا سا سماں پیدا ہو گیا۔ ہندوستانی فوج کے مطابق پاکستانی رینجرس نے پونچھ میں منڈی، کرشنا گھاٹی اور چکاں دا باغ کے مقامات پر کنٹرول لائن کے اس پار ہندوستانی چوکیوں کو ہدف بنایا، جس کے جواب میں ہندوستانی سپاہیوں نے بھی فائرنگ اور گولہ باری کی۔ ہندوستانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ اس سال یکم جنوری سے پاکستان کی جانب سے 35 ویں مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی تھی۔ یہ صورتحال صاف بتاتی ہے کہ کشمیر کے حالات کے حوالے سے نہ صرف اندرونی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ اس کے بیرونی پہلوئوں کو ایڈریس کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کے دورے کے موقعے پر جو چند باتیں بالکل واضح ہوگئی ہیں، وہ یہ ہیں کہ ملی ٹینسی کو نظر انداز کرنا ایک بہت بڑی غلطی ثابت ہوسکتی ہے، کشمیر مسئلے کے حل کی کوششوں کی کامیابی کے لیے پاکستان کو شامل کرنا ناگزیر ہے اور یہ کہ محض ترقیاتی سرگرمیوں کو اصل مرض کا علاج سمجھنا ایک غلطی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here