کشمیر کی لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ محفوظ ہیں

سامعہ جمال 
p-11جموں و کشمیر،ہندوستان کے سر پر ایک تاج ہے۔اگر ہم غور سے دیکھیںتو ہمیں پتہ چلے گا کہ اس ایک تاج کے اب 3 حصے ہوچکے ہیں۔پہلا IOK(انڈیا مقبوضہ کشمیر)۔دوسرا حصہ POK (پاکستان مقبوضہ کشمیر)جسے آزاد کشمیر بھی کہا جاتا ہے اور تیسرا حصہ چین کے پاس ہے جسے اکسائی چین کہا جاتا ہے۔
پورے کشمیر میں ایسا مانا جاتا ہے کہ وہاں ہر وقت موت کا خوف رہتاہے۔ وہاں پر حالات اتنے برے مانے جاتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ہر کوئی باغی ہے۔ اگر ایک عام انسان سے پوچھا جائے کشمیر کے بارے میں ،تو شاید وہ سب سے پہلے (دہشت گردی) کا ذکر کرے گا۔وہاں پر حالات برے ہیں، اس بات کا گھر بیٹھے صرف اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔کشمیر میں دہشت گردی کی بات پر یقین تو وہاں جا کر کیا جاسکتا ہے یا پھر وہاں کے جو لوگ یہاںہیں ان سے بات کرکے پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں ایسے ہی کچھ کشمیری طالبات جو دہلی میں رہ کر ماسٹرس کی پڑھائی کر رہی ہیں، ان سے بات کرنے کا موقع ملا۔ ان سے بات کرکے کشمیر کے بارے میں کافی باتیں پتہ چلیں۔ جیسے ہی میں نے وہاں پر دہشت گردی کی بات کہی، تو وہ سب ناراض ہو گئیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ وہاں اتنے برے یا پھر ڈرنے والے حالات نہیں ہیں جتنا کہ نیوزچینل والے دکھاتے یا بتاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ میڈیا صرف کشمیر کا ایک پہلو بتاتا ہے، ورنہ اگر ذرا گہری توجہ دی جائے تو ہم خود احساس کریں گے کہ ہندوستان میں کوئی ایسا حصہ نہیں ہے جہاں دہشت گردی نہ ہوتی ہو۔ مریم دہلی میں ایم ایس سی (باٹنی) کر رہی ہیں، انہوں نے کہا ’’ اگر کشمیر میں آئی ایس آئی اور مجاہدین ہیں تو جنوبی ہند میں تامل ٹائیگر کا خوف ہے، شمال مشرق کی طرف اُلفا کا خوف ہے اور خالصتان کی مانگ کرتے سکھ مذہب کے باغی بھی ہیں۔چونکہ کشمیر میں میڈیا کافی جوش کے ساتھ کام کرتاہے، اس لئے وہاں کی چیزیں زیادہ معلوم ہوتی رہتی ہیں۔

کشمیر کی ان لڑکیوں کا ماننا ہے کہ وہاں لڑکوں سے زیادہ لڑکیاں محفوظ ہیں۔ ایک اسٹوڈنٹ نے بتایا کہ وہاںپر ایک لڑکی یا پھر ایک عورت رات کو 8بجے گھر سے باہر تو جاسکتی ہے، لیکن ایک لڑکا یا آدمی تو بالکل نہیں باہرجا سکتا۔ ایسا اس لئے کیونکہ وہاں پر جو انڈین آرمی ہے، وہ ان کے باپ ، بھائی یا بیٹوں کو بلا وجہ پکڑ کر مار کر انہیںدہشت گرد بتا کر اپنا الو سیدھا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیری لڑکوں کو کشمیر کے باہر بھیج دیا جاتاہے اور سب سے زیادہ کشمیری لڑکے دہلی شہر میں پائے جاتے ہیں۔ 25سال کی ایم اے کی اسٹوڈنٹ نے بتایا ’’ میرے اپنے ماموں کے بیٹے کے ساتھ ایسا ہی ہواہے۔ ایک دن میرا بھائی کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا، جب وہ کافی دیر تک واپس نہیں آیا، تو سب کو فکر ہوئی،کیونکہ رات کافی ہو گئی تھی ۔ اگلے دن کافی ڈھونڈا گیا، لیکن اس کا پتہ نہیں چلا، آخر تقریباً 10 دن بعد اس کی لاش ملی ۔

کشمیر کی ان لڑکیوں کا ماننا ہے کہ وہاں لڑکوں سے زیادہ لڑکیاں محفوظ ہیں۔ ایک اسٹوڈنٹ نے بتایا کہ وہاںپر ایک لڑکی یا پھر ایک عورت رات کو 8بجے گھر سے باہر تو جاسکتی ہے، لیکن ایک لڑکا یا آدمی تو بالکل نہیں باہرجا سکتا۔ ایسا اس لئے کیونکہ وہاں پر جو انڈین آرمی ہے، وہ ان کے باپ ، بھائی یا بیٹوں کو بلا وجہ پکڑ کر مار کر انہیںدہشت گرد بتا کر اپنا الو سیدھا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیری لڑکوں کو کشمیر کے باہر بھیج دیا جاتاہے اور سب سے زیادہ کشمیری لڑکے دہلی شہر میں پائے جاتے ہیں۔ 25سال کی ایم اے کی اسٹوڈنٹ نے بتایا ’’ میرے اپنے ماموں کے بیٹے کے ساتھ ایسا ہی ہواہے۔ ایک دن میرا بھائی کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا، جب وہ کافی دیر تک واپس نہیں آیا، تو سب کو فکر ہوئی،کیونکہ رات کافی ہو گئی تھی ۔ اگلے دن کافی ڈھونڈا گیا، لیکن اس کا پتہ نہیں چلا، آخر تقریباً 10 دن بعد اس کی لاش ملی ۔ 5دن اور گزرنے کے بعد اس کی لاش کی تصویر ایک لوکل اخبار میں چھپی ۔ اس کی لاش کے آس پاس کئی ہتھیار رکھے گئے تھے اور اسے ایک دہشت گرد بتایا گیا تھا۔ اس کی لاش کے ساتھ ایک نہایت ہی کالا اور مونچھوں والا آرمی کا افسر کھڑا تھا۔ یہ قصہ سن کر لگتا ہے کہ وہاں ہرماں باپ کو اپنے بچے کی فکر لگی رہتی ہے۔ اگر کشمیر کے لوگ اپنے بیٹوں کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس میںکیا غلط ہے؟
23 سال کی شیبا نے بتایا ’’ کشمیر میں ہر ایک کشمیری پر 10آرمی جوان تعینات ہیں۔ انہیں ہماری حفاظت کے لئے وہاں رکھا گیا ہے ،لیکن وہاں ہم خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔جب ہم اپنے گھر واپس جاتے ہیں، توہم میں سے جو کوئی بھی نقاب پہنے ہوئے ہوتا ہے، اسے چیک پوسٹ پر چہرہ کھول کر دکھانا پڑتا ہے۔ اگرایسا نہ کرو تو وہ جانے نہیں دیتے۔’ کونن پوشپورا ‘میں جو کچھ بھی ہوا میں نے صرف اس کے بارے میں سنا ہے۔ نہ تو میرے پاس کوئی پختہ ثبوت ہیں اور نہ ہی وہاں میرا کوئی جاننے والا ہے، لیکن ہاں دہلی کے مقابلے کشمیر میں عورت ذات زیادہ محفوظ ہے‘‘۔
28 سال کی مہناز نے بتایا ’’ جب میں کوئی 5سال کی تھی تو ایک دن گھر کے باہر کھیل رہی تھی۔ سامنے سے ایک آرمی آفیسر گزرا۔ میںآفیسر کوسر اٹھا کردیکھ رہی تھیکہ تبھی میری ماں نے مجھے دیکھا اورزور سے چانٹا مارتے ہوئے کہا کہ آرمی والوں کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا کرو۔ ایک دفعہ ایسا بھی ہوا میں اس وقت 10سال کی تھی،کرفیو لگا ہوا تھا۔ میں اپنے گھر کسی وجہ سے پہنچ نہیں پائی تھی۔ کافی ڈری ہوئی تھی۔ مجھے دیکھ کر ایک آرمی والے نے ہی پانی پلایا اور مجھے حفاظت کے ساتھ گھر پہنچایا۔ایسا نہیں ہے کہ سارے آرمی والے برے ہیں۔ ان میں اچھے برے دونوں ہوتے ہیں، لیکن اچھے صرف 10فیصد ہی ہوتے ہیں۔
پڑھائی کا حال:
کشمیر میں اکثر ایسے حالات ہوتے ہیں کہ آرمی والوں کو فائرنگ کرنی ہوتی ہے۔ اس فائرنگ کیسبباکثر اسکول اور کالج بند رہتے ہیں۔ انہی طلباء نے بتایا کہ ایک دفعہ ان کے بی اے کے امتحان تقریبا ً دو یا تین مہینہ چلے۔ اس کی وجہ تھی کرفیو اور وہاں کے حالات۔ انہی طلباء نے یہ بھی بتایا کہ اکثر جب اسکول کھلتے تھے تو کمروں، سیڑھیوں اور چھت پر سب سے زیادہ گولیاں ملتی تھیں۔ وہاں پر صرف ایک ہی یونیورسٹی ہے۔ہر کورس میں 25یا30سیٹیں ہوتی ہیں۔ ان سیٹوں کے لئے 2500 لوگ کوشش کرتے ہیں۔ کئی طلبا کے داخلے نہیں ہو پاتے ۔ جن لوگوں کے پاس کافی پیسہ ہے وہ تو اپنے بچوں کو ہندوستان کے باہر بھیج دیتے ہیں ،لیکن جن کے پاس زیادہ پیسہ نہیں ہے، ان لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر انہی طلبا میں سے ایک طالبہ ہے عرشی ۔ عرشی نے کہا کہ ’’ ہم پانچ بہنیں ہیں۔ میں سب سے بڑی ہوں۔ میرے ابا کشمیر یونیورسٹی میں ملازم ہیں۔ ان کی تنخواہ زیادہ نہیں ہے۔ میں تو پڑھ لکھ گئی ، لیکن میری باقی بہنوں کا تو اللہ ہی مالک ہے۔
جن طالبات سے مل کر یہ ساری باتوں کا پتہ چلا وہ سب ایک بات سے تو ضرور متفق تھیں کہ یہاں انہیں پڑھنے کے لئے کافی وقت مل جاتا ہے۔ان سب کا کہنا تھاکہ کشمیر میں وہ لوگ رات کو 8بجے کے بعد پڑھ نہیں پاتی تھیںجبکہ یہاں رات کو ڈھائی بچے تک پڑھتی ہیں۔24سال کی ایم ایس سی کی طالبہ کشاف نے کہا’’ اگر ہم اتنی پڑھائی اپنے گھروں میں کر پاتے، تو آج ہم سب کی سب کلکٹر بن گئی ہوتیں‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *