کشمیر: حالات میں بہتری کے اشارے

Share Article

dami00وادی کشمیر کے حالات میں بہتری کے واضح اشارے ملنے لگے ہیں۔سینئر علاحدگی پسند رہنمائوں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کی جانب سے جاری کئے جانے والے ہفتہ وار احتجاجی کلینڈروں میں بھی اب بدلائو نظر آنے لگا ہے۔ تازہ احتجاجی کلینڈر میں پہلی بار ہفتے میں دو دن ہڑتال میں چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یعنی چار ماہ کے طویل احتجاجی سلسلے کے بعد پہلی بار وادی کشمیر میں معمول کی زندگی پورے دو دن تک مکمل طور پر بحال رہے گی۔گزشتہ ہفتے سرینگر کی مختلف سڑکوں پر پہلی بار مسافر بسیں دوڑتے ہوئے دیکھی گئیں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ یعنی گزشتہ چار ماہ کے دوران کشمیر میں ٹرانسپورٹ سو فیصد بند رہنے کے بعد اب مسافر گاڑیاں سڑکوں پر نکلنا شروع ہوگئی ہیں۔ دسویں اور بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں توقع کے برعکس 98فی صدر طلبا و طالبات نے شرکت کی۔ چار ماہ سے زائد عرصے بعد پہلی بار پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس جیسی مین ا سٹریم سیاسی جماعتوں نے سرینگر میں جلسے منعقد کئے ، جن میں ان کے سینکڑوں پارٹی کارکنوں نے شرکت کی۔ پی ڈی پی نے 13نومبر کو سرینگر کے لال چوک سے ایک کلو میٹر کی دوری پر واقع پارٹی کے صدر دفتر کے قریب ا یک روزہ کنونشن کا انعقاد کیا ، جس میں پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔ اس کے تین دن بعد یعنی 16نومبر کو نیشنل کانفرنس نے سرینگر میں اپنے پارٹی ہیڈ کوارٹر پر جلسے کا اہتمام کیا۔چند ہفتے پہلے تک مین اسٹریم سیاسی جماعتیں اس طرح کے جلسوں کا انعقاد کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔پابندی شدہ کرنسی نوٹوں کو بدلوانے کے لئے سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں بینکوں کی شاخوں پر لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ حالانکہ چار ماہ کی ایجی ٹیشن کے دوران یہاں کے بینک بھی ہڑتال کے دوران بند رہے ہیں۔ گزشتہ چار ماہ سے جاری پر تشدد وارداتوں کی شدت میں بھی مسلسل کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پولیس اعداد و شمار کے مطابق 8جولائی کو حزب کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد اس مہینے ( یعنی 23دن )وادی کے مختلف علاقوں میں پتھرائو کے 820واقعات رونما ہوئے۔اگست میں اس طرح کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی۔ اگست میں پتھرائو کے 747واقعات رونما ہوئے۔ اس کے بعد پتھرائو کے واقعات میں بتدریج کمی دیکھنے کو ملی۔ستمبر اور اکتوبر میں بالترتیب 157اور119پتھرائو کے واقعات رونما ہوئے ، جبکہ رواں ماہ یعنی نومبر کے ابتدائی پندرہ دن میں وادی کے مختلف علاقوں میں پتھرائو کے محض 49واقعات رونما ہوئے ہیں۔
یہ ساری باتیں اس یہ عندیہ دے رہی ہیں کہ وادی کشمیر کے حالات میں بہتری آرہی ہے۔ لیکن حالات میں بہتری کے آثار عیاں ہوجانے کے ساتھ ساتھ یہاں کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ سوال موضوع بحث بنتا جارہا ہے کہ چار ماہ سے جاری اس عوامی ایجی ٹیشن کے نتیجے میں کشمیری عوام نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان پر آشوب ایام میں کشمیری عوام نے عمومی طور پربیش بہا قربانیاں دی ہیں۔اس طرح کے حالات وادی کے تمام دس اضلاع میں دیکھنے کو ملے۔اس عرصے میں ایک سو کے قریب لوگ ، جن میں بعض کمسن بچے بھی شامل ہیں، فورسز اور پولیس کے ہاتھوں جاں بحق ہوگئے۔ محکمہ صحت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں پولیس اور فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں1200کمسن بچوں سمیت 9010افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ صرف وہ لوگ ہیں جنہیں زخمی ہوجانے کے بعد علاج و معالجے کے لئے وادی کے مختلف سرکاری اسپتالوں اور ہیلتھ سینٹروں پر لایا گیا۔ زخمیوں میں ایسے 1300افراد بھی ہیں ، جن کی آنکھیں متاثر ہوچکی ہیں۔ یہ لوگ فورسز کی جانب سے پلٹ گن کے استعمال کے نتیجے میں اپنی ایک آنکھ یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ پولیس گزشتہ چار ماہ کے دوران لگ بھگ دس ہزار نوجوانوں کو پتھرائو اور دوسرے قسم کے تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں گرفتارکر چکی ہے۔ گرفتار شدگان میں پانچ سو سے زائد افراد کو بد نام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے، یعنی ان لوگوں کوکسی عدالت میں پیش کئے بغیر مہینوںیا برسوں تک جیلوں میں رکھا جاسکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ چار ماہ کے عرصے میں وادی کشمیر میں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ معاشی نقصانات سے دوچار ہوگئے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق کشمیر روزانہ 130کروڑ روپے کے خسارے سے جھوج رہا ہے۔سب سے زیادہ بری حالت خط افلاس سے نیچے کی زندگی بسر کرنے والوں کی ہوئی ہے۔ چار ماہ کے دوران مختلف نجی کمپنیوں اور کاروباری اداروں میں کام کرنے والے لوگ بڑی تعداد میںبے روزگار ہوچکے ہیں۔وہ لاکھوں تاجر، جنہوں نے بینک لون لے رکھے ہیں ، سود در سود کے قرض میں ڈوب چکے ہیں۔ اس ساری صورتحال کے تناظر میں بیشتر سیاسی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ ہڑتالوں کی حکمت عملی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے سابق سربراہ پروفیسر نور احمدبابا نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک مفصل گفتگو میں بتایا،’’سب سے پہلے کشمیر ی عوام اور اس کی قیادت کو اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہیے کہ مسلسل ہڑتالوں سے کن نتائج کی توقع رکھتے ہیں؟یعنی جس طرح کا احتجاج ہم گزشتہ چار ماہ سے کررہے ہیں، اس کے نتیجے میں ہمیں کیا حاصل ہوجانے کی اُمید ہے؟ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہمیں ہڑتالوں کے بارے میں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب کے موقعے پر ہڑتالوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے مزدوروں نے اپنی معاشی حالت سدھار ی۔یعنی مزدوروں کی ہڑتال سے فیکٹریوں میں اشیاء کی پیداوار رک گئی جس کی وجہ سے ان کے مالکان ان ورکروں کی اجرتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔
اس کے بعد مختلف سیاسی اور سماجی گروپوں کی جانب سے ہڑتالوں کو اپنے مسائل اجاگر کرنے اور انہیں حل کرانے کے لئے استعمال کیا گیا۔لیکن یہ ہڑتال چھوٹے چھوٹے مسائل کو حل کرانے اور چھوٹے چھوٹے مطالبات پورے کرانے میں معاون ثابت ہوسکی ہیں۔ مثلاً 2008ء میں ہڑتال اور احتجاج کے زور پر کشمیری عوام نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین تفویض کرنے کے احکامات واپس لے۔آج ہم ہڑتال کے ذریعے حکومت ہند کو مجبور کرسکتے ہیں کہ وہ سرینگر کوا سمارٹ سٹی کا درجہ دے۔ لیکن جہاں تک بڑے سیاسی مقصد یعنی آزادی کا تعلق ہے ، ہڑتال کے ذریعے حکومت ہند کو اس پر مجبور کرنا ممکن نہیں ہے۔آج ہمیں اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ہڑتال اور احتجاج کے نتیجے میں بھارت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔‘‘
صاف ظاہر ہے کہ پروفیسر نور بابا کشمیر میں جاری احتجاج کے سلسلے کو غیر سود مند اور نقصان دہ سمجھتے ہیں۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے اور قربانیوں کو رائیگاں ہوجانے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ عوام اور قیادت ’’خود احتسابی ‘‘ کے عمل سے گزرے۔سینئر صحافی اور روزنامہ ’’چٹان ‘‘ کے ایڈیٹر طاہر محی الدین نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا،’’حالات ٹھیک ہوجانے کے بعد لازم ہے کہ کشمیری عوام خاص طور سے قائدین اس بات پر غور و فکر کریں کہ اس پر زور تحریک کے نتیجے کیا حاصل کیا گیا اور اگر کچھ حاصل نہیں ہوا ہے تو اس کے کیا وجوہات ہیں۔اس سوال پر سیاسی اور سماجی سطح پر بحث و مباحثے کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کی غلطیوں کی نشاندہی ہوجانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے میں مدد مل سکے۔‘‘
مبصرین متفق ہیں کہ کشمیری عوام کی جدوجہد حق بجانب ہے لیکن ان کا اصرار ہے کہ اس جدوجہد کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔بہر حال اب ایک ایسے وقت میں جب وادی میں ہڑتالوں اور احتجاج کا سلسلہ تھمتا ہوا نظر آرہا ہے اور معمول کے حالات بحال ہوتے نظر آرہے ہیں، عام کشمیر ی عوام کو کچھ نئے پریشان کن مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سب سے زیا دہ پریشانی ان لوگوں کو لاحق ہوگئی ہے، جن کے بچے یا عزیز و اقارب گزشتہ چار ماہ کے دوران حراست میں لئے جاچکے ہیں۔ انہیں چھڑانا اب ان کے لئے پریشان کن عمل ہے۔عام تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو اب یہ پریشانی لاحق ہونے لگی ہے کہ چار پانچ ماہ کے بند کے دوران ان کے بینک قرضہ جات میں جو اضافہ ہوا ہے اور جو رقومات واجب الادا ہیں، اس کی بھر پائی کیسے ہوگی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے ریاستی سطح کی بینکرس کمیٹی کی اُس درخواست کو رد کردیا ہے ، جس میں انہوں نے موجودہ نامساعد حالات کے دوران متاثر ہوئے تاجروں کے قرضہ جات کی ادائیگی میں نرمی کرنے اور ادائیگی کی مدت میں اضافہ کرنے کی گزارش کی تھی۔صاف ظاہر ہے کہ ہڑتالوں اور احتجاج کا سلسلہ اگر تھم بھی گیا تو بھی کشمیری عوام کو نت نئے مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *