کشمیر کو سنبھالیے،کھیلئے مت

Share Article

وسیم راشد
وادی ٔکشمیر میں کئی وارداتیں منصوبہ بند طریقے سے ہوئی ہیں‘ یہ انکشاف ہے اس ٹیپ کا جو وزارت داخلہ کو علیحدگی پسندوں سے موصول ہوا ہے اور جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وادیٔ کشمیر میں تازہ حالات کا ذمہ دار علیحدگی پسند گروپ ہے۔ تازہ انکشاف سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ وادی میں انتہا پسند تشدد بھڑ کا رہے ہیں۔ کشمیر کے حالات کیا ہیں اس سے تو اخبارات نے کافی حد تک معلومات فراہم کر دی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وادیٔ کشمیر کے لوگ علیحدگی پسندوں کے کہنے میں آ کر یہ فسادات کر رہے ہیں۔ کشمیر نے دو ملکوں کا بٹوارہ دیکھا ہے اور یہ وہ کشمیر ہے، جس کے عوام نے تقسیم کے بعد پاکستان جانا منظور نہیں کیا۔ آج ان مٹھی بھر شر پسند عناصر کی وجہ سے پورا ملک پریشان ہے ،جو کہ خود کو ہندو ستان سے الگ مان کر ایک آزا د ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس میں کمی بھی ہماری حکومت کی ہی ہے۔ کسی بھی ریاست کو بے یارو مددگار چھوڑ دینا انتہائی خطرناک ہے۔ موجودہ حالات میں اس جڑ کو تلاش کرنا ضروری ہے، جس کی وجہ سے ہمارے کشمیر ی نوجوان شر پسند عناصر کے بہکاوے میں آ رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جو اعتماد کھو چکی ہے اسے بحال کرے۔ عمر عبد اللہ ہوں یا پھر کوئی دیگر لیڈر، انھوں نے کبھی بھی ہمدردانہ طور پر کشمیریوںکے مسائل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ کانگریس بھی ان کے مسائل کو نہیں سمجھ رہی ہے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کر ہی ہے۔
کشمیری عوام چاہے علیحدگی پسندوں کی وجہ سے اور چاہے باہری طاقتوں مثلاً لشکر طیبہ یادوسری دہشت گرد تنظیموں کے کہنے میں آ کر بندوقیں اٹھا لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کی صحیح رہنمائی نہیں کر رہے ہیں۔ہم ان کے جذبات سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔آج حالات یہ ہیں کہ کانگریس سے نہ صرف کشمیریوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے بلکہ وہ اس کے شدید مخالف ہو گئے ہیں۔ ہمیں ان کے رد عمل کا جواب گولہ بارود اور بندوقوں سے نہیں دینا چاہئے، بلکہ وجوہات کو تلاش کرنا چاہئے۔ اگر عوام کی عدم اعتمادی کا یہی حال رہا اور اسی طرح کشمیری عوام سڑکوں پر اترنے لگے تو پوری دنیا کے سامنے ہندوستان کی شبیہ تو خراب ہوگی ہی خود ہندوستانی عوام بھی کمزور پڑ جائیں گے۔ سی آر پی ایف نے جس طرح نہتے کشمیریوں پر گولی چلائی، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس گولہ باری میں 2نوجوانوں کی ہلاکت ہوئی اور پوری وادی میں جیسے آتش فشاں پھٹ پڑا۔ اس سے ایک بات تو صاف ہے کہ ہماری حکومت کشمیر کے عوام میں اعتماد پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ دہشت گردوں کی گولی کا جواب بے شک گولی سے دو ، لیکن عوام کے دکھ درد کا جواب گولی نہیں ہے۔ کشمیر کے عوام اس لئے الگ ہونے کی بات کرتے ہیں، کیونکہ وہ وہاں اکثریت میں ہیں۔ اگر انہیں یہ سمجھایا جائے کہ صرف اکثریت میں ہونا ہی الگ ملک یاریاست کی تشکیل کا جواز نہیں ہے، تو شاید مسئلے کے حل کے قریب پہنچا جا سکتا ہے۔بے شک کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں، لیکن ان کی تعداد پورے ملک میں بسنے والے مسلمانوں سے زیادہ تو نہیں ہے نا؟ اگر کشمیر کو صرف اسی جواز کی بنیاد پر الگ کر دیا جائے کہ وہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، تو پھر ہندوستان کے دیگر20کروڑ مسلمانوںکا کیا ہوگا۔ اس بنیاد پر تو ہر گائوں اور ہرشہر سے یہ آواز اٹھے گی اور اگر مسلمان یہ آواز اٹھائیں گے تو وہاں بسنے والے اکثریتی طبقہ کے لوگ یقینا اس کی مخالفت کریں گے اور اس طرح تو ہندوستان کے ہر گائوں اور شہرمیں فساد برپا ہو جائے گا، نتیجتاً مسلمان کروڑوںکی تعددمیں مارے جائیںگے۔ کشمیر کے مسلمانوں کو یہ بتانا بے حد ضروری ہے کہ اس طرح آپ ہندوستان کے تقریباً20کروڑ عوام کے لیے خطرہ پیدا کر رہے ہیں اور یہ کام صرف اور صرف حکومت کرسکتی ہے اور وہ بھی ہمدردانہ طور پر۔ ایسے میں میڈیا کا رول بھی بہت اہم ہے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ کشمیر کے عوام کو بھڑکانے کے بجائے ان کے مسائل کو سامنے لائے ا ور وادی میں جو بے روزگاری، فاقہ کشی اور غریبی ہے، اس کو صحیح اور سچے انداز میں پیش کرے۔ یہ حقیقت ہے کہ فوج کشمیر کا حل نہیں ہے۔ حال ہی میں ایک پروگرام نیوز پوائنٹ کے نام سے ایک چینل پر چل رہا تھا، جس میں عوام سے ایک سوال کیا گیا تھا کہ کیا سلگتے کشمیر کے لیے فوج آخری راستہ ہے؟ جس میں 72فیصد لوگوں کی رائے تھی نہیں اور 28فیصد لوگوں کی رائے تھی کہ ہاں فوج ہی آخری راستہ ہے۔ اس بحث و مباحثہ میں موجود سیاسی لیڈران کا یہی کہنا تھا کہ کشمیر کے قائدین عوام کے تئیں اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔ اسے بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ا س کے علاوہ ان لیڈران کا یہ کہنا تھا کہ نوجوانوں کو سمجھانے سے ہی صورت حال قابو میں آسکتی ہے، کیوںکہ اگر کشمیر کا حل صرف مذاکرات سے نکلنے کا انتظار کیا جائے تو بہت دیر ہوجائے گی،اس کے لیے کشمیر کے ہر علاقے کے سیاست دانوں کو اپنے علاقے کے نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کی نئی نئی اسکیمیںوضع کرنی چاہئیں تاکہ نوجوانوں کو اس تخریب کاری سے نکالا جاسکے۔ اگر وادی کے نوجوانوں کو بہتر روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں، ان کے لیے تعلیم کا بہتر انتظام کیا جائے تو وہ شاید اس راستے کا انتخاب نہیں کریں گے اور وادی میں ایک نہیں ہزاروں شاہ فیصل کشمیر کی کوکھ سے پیدا ہوسکتے ہیں، مگر بات وہی ہے کہ اتنے ہمدردانہ انداز میں سوچنے کے لیے پہلے جذبہ ہونا ضروری ہے۔مرکزی حکومت کو بھی باریک بینی اور ہمدردانہ جائزہ لے کر وادی ٔکشمیر کی صورتحال کو سمجھنا چاہیے۔ عمرعبداللہ نے خود حالات کو بہتر بنانے میں کتنی کوشش کی، یہ اتنا اہم نہیں ہے، جتنا کہ اپوزیشن پارٹیوں خاص کر پی ڈی پی کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی ذمہ داری سے بچنا۔ مرکزی حکومت جس طرح ماؤنوازوں کے لیے ہمدردانہ جذبہ رکھتی ہے ویسا ہی جذبہ کشمیر یوںکے لیے بھی ہونا ضروری ہے۔ مرکز اگر ماؤنوازوں کے لیے یہ رخ اختیار کرتا ہے کہ یہ بھٹکے ہوئے نوجوان ہیں اور ان کے خلاف کسی طرح کی فوجی کارروائی مناسب نہیں تو ایسا ہی ہمدردانہ رویہ کشمیر کے نوجوانوں کے لیے بھی ہونا ضروری ہے۔ گزشتہ دنوں جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، بنگال اور اڑیسہ وغیرہ میں نکسل ہلچل بہت زیادہ رہی۔ مگر چدمبرم کا رویہ کافی ہمدردانہ رہا، حالانکہ ماؤنوازوں کو فروغ دینے میں حکومت کی زیادتیاں بہت حد تک ذمہ دار ہیں کہ ان قبائلیوں اور ان کے علاقوں کے غریب پسماندہ عوام کو زندگی کی تمام آسائشوں سے محروم کردیا گیا۔ ان کے کھیت کھلیانوں، مکانات،  اورچراگاہوں وغیرہ کو کارپوریٹ باڈیز کی خاطر تباہ و برباد کر دیا گیا۔یہ کام بڑے صنعت کاروں کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا،جس سے وہاںان کی فیکٹریاںقائم کی جا سکیں۔اسی ناانصافی نے ماؤنواز کو جنم بھی دیا ہے اور ہتھیار اٹھانے پر مجبور بھی کیا ہے اور یہ کشمیریوں کی طرح سیکورٹی فورسز پر پتھر نہیں پھینک رہے بلکہ گولی کا جواب گولی سے دے رہے ہیں۔ کشمیر چونکہ آزادی کے بعد سے اب تک سیاسی، سماجی اور معاشی نابرابری اور خلفشار سے باہر نہیں نکل پایا ہے، اس لیے وہاں غربت کے سبب نفرت نے تو جنم لیا ہے مگر اس نفرت کے اظہار کے لیے ان کے پاس گولہ باردو نہیں ہے۔ ان کے پاس آزاد جیسا کوئی رہنما نہیں ہے ،جو کہ نکسلیوں کے پاس تھا۔اس لیے وہ اپنے بچوں کی لاشیں دیکھ کر بے قابو ہوکر پتھر پھینکتے ہیں۔دوکانوں کو آگ لگا دیتے ہیں،سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کر دیتے ہیں۔اور وہ کیا کریں؟ ان کے پاس کوئی ہمدرد قائد نہیںہے۔کشمیر ہو یا نکسل متاثرہ خطے، حکومت کو دونوں کو ہی ہمدردانہ نظر سے دیکھنا ہوگا۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کرفیو کے سبب اخبارات شائع نہیں ہو سکے۔اس سے قبل 2008میں امرناتھ اراضی کے مسئلے پر ہوئے تنازعہ میں چار روز تک اخبارات کی اشاعت بند رہی تھی۔1996میں بھی انتخابات کے دوران اشاعت کئی روز تک بند رہی۔حالانکہ اخبارات کا شائع نہیں ہونا ایک طرح سے جمہوریت کے چوتھے ستون اور سیکولر ازم پر براہ راست حملہ ہے۔مگر پھر کیا کیا جائے؟ کیسے حالات پرقابوپایا جائے۔ امن واماں کی بگڑتی صورت حال اور فوج کی مدد حاصل کرنے کے باوجود حکومت نے جموں وکشمیر میں مذاکرات کا باب بند نہیں کیا ہے۔ حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ وادی میںماحول پر سکون ہو اورحالات معمول پر آجائیں تو اس کا سیاسی حل تلاش کیا جائے گا۔معتمد داخلہ جی کے پلئی بھی صورت حال کا جائزہ لے کر واپس مرکزآگئے ہیں اور انہوں نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو پوری صورت حال سے واقف کرادیا ہے۔ ایسے میں بے حد ضروری ہے کہ پاکستان سے بھی مذاکرات کئے جائیں اور جو گزر گیا اور جو نہیں ہوپایا اسی لکیر کو نہ پیٹ کر آگے کی طرف دیکھاجائے کہ کیا کیا جاسکتا ہے؟ ایسا نہیں کہ ہمارے سیاست دانوں نے اس معاملہ میں پیش روی نہیں کی۔1964سے آج تک یہ کوشش جاری ہے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم نہرو جی نے اور 1986میں جے پرکاش نرائن نے لگاتار اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کی مگرپھر1975 میں شیخ عبداللہ کے برسر اقتدار آنے پر جو معاہدہ ہوا وہ اور 1993میں اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہاراؤ نے اس مسئلہ کو سمجھانے کی حتی الامکان کوشش کی۔ این ڈی اے کے دور اقتدار میں وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی اور وزیر اعظم واجپئی سبھی نے اس مسئلہ کو ہمدردانہ طور پر سلجھانے کی کوشش کی مگر ابھی بھی منزل دور ہے۔ ابھی بھی کشمیر کا مسئلہ نہیں سلجھایا گیا ۔ تونہ جانے کتنی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور شاید شاعر کا یہ کہنا کہ
لمحوں نے خطاکی تھی صدیوں نے سزاپائی
پھر سے اور نہ جانے کتنی صدیاں گزر جائیں ۔ اسی لئےیہ بہت ضروری ہےکہ کشمیر کا کوئی نہ کوئی حل نکالا جائے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

One thought on “کشمیر کو سنبھالیے،کھیلئے مت

  • July 28, 2010 at 1:02 pm
    Permalink

    Dear مادام،
    زممداری ملنے سے آدمی میں نکھار آ جاتا ہے اور آپ کے بھی ماملے میں بھی ایسا ہی ہے. پہلی مرتبہ چوتھی دنیا میں آپ کا ارتیکلے پڑھا اور بہت اچھا لگا اور ماترید بھی. آپ ایسا ہی لکھتی رہیں انشا الله دیں پر دیں نکھار آتا جاےگا. آپ کو بہت بہت مبارکباد. آپ کا مخلص – محمّد جمشید hasan

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *