ایک بار پھر مسئلہ کشمیر

Share Article

میگھناتھ دیسائی
کشمیر میں تشدد کے پیش نظر  کل جماعتی وفد کو وہاں گئے ڈیڑھ ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ہم ایک بار پھر اسی حالت میں پہنچ گئے ہیں۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ تشکیل کردہ مذاکراتی وفد کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اس وفد میں نہ تو کسی سیاسی پارٹی کا نمائندہ ہے اور نہ ہی انہیں سرکاری طور پر کوئی درجہ حاصل ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ وہ گزشتہ 63سالوں سے چلے آرہے اس مسئلہ کے تئیں وسیع اور لچک دار رویہ اپنا سکیںگے۔
قابل غور بات  یہ ہے کہ اگر آپ کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں تو کسی بھی ایشو کے حوالے سے آپ کا نظریہ پہلے سے ہی طے ہوتا ہے۔ کشمیر ہندوستان کا ہے اور اس کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، بات یہیں آکر ختم ہو جاتی ہے۔ اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تو آپ یا تو باغی ہیں یا پھر پاکستان کے ایجنٹ۔ کانگریس اور بی جے پی کے رخ میں تھوڑا سا فرق ہوسکتا ہے، لیکن زیادہ فرق نہیں ہوسکتا۔ دونوں ہی پارٹیوں کے وزیراعظم ہوئے ہیں، جنہیں لگا کہ وہ اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ ایک ٹھوس سمجھوتہ کرسکتے ہیں، لیکن اٹل بہاری واجپئی منزل تک پہنچتے، اس سے قبل ہی این ڈی اے حکومت اقتدار سے برطرف ہوگئی اور اب منموہن سنگھ حل کی تلاش کرتے کرتے مایوس نظر آنے لگے ہیں۔ تاریخ کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخی حقائق پر رائے نہیں قائم کی جاسکتی۔ ہم 1947کے اس دور میں واپس نہیں لوٹ سکتے جب ریاستوں کا انڈین یونین میں انضمام ہو رہا تھا۔ جونا گڑھ، حیدرآباد اور جموں و کشمیر تین ایسی ریاستیں تھیں جو ہندوستان کے ساتھ انضمام میں ٹال مٹول کر رہی تھیں۔ آزاد ہند کے ایکٹ میںیہ نظم تھا کہ کوئی بھی ریاست اپنی مرضی سے ہندوستان یا پاکستان کا حصہ بن سکتی تھی، لیکن اس میں کچھ عملی دقتیں بھی تھیں۔ جونا گڑھ کے نواب نے پاکستان کے ساتھ انضمام کی کوشش کی، لیکن ناکام رہے۔ جونا گڑھ کے عوام نے یہ واضح کر دیا تھا کہ انہیں ہندوستان کے ساتھ رہنا ہے۔ حالات اس قدر خراب ہو چکے تھے کہ جنگ کے امکانات ہوگئے تھے۔ جونا گڑھ کے دیوان شاہ نواز بھٹو نے پاکستان سے فوجی امداد طلب کی، لیکن پاکستان بروقت ایسا نہیں کر پایا اور خون خرابہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔
حیدرآباد میں بھی عوام کے جذبات ہی سب سے اہم تھے۔ وہاں کا نظام اپنی آزاد ریاست کے حق میں تھا۔ نظام کے مشیر والٹر مانکٹن نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہیں مانا۔ آخر میں پولس کی طاقت کے استعمال کے بعد ہی حیدرآباد کا ہندوستان میں انضمام ہوسکا، لیکن جموں و کشمیر کا معاملہ ان دونوں ریاستوں سے الگ تھا۔ حیدر آباد اور جونا گڑھ کے برعکس کشمیر کے راجا ہندو تھے، جب کہ وہاں کے زیادہ تر عوام مسلمان تھے۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی کشمیر ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ہی نزدیک تھا اور اس بنیاد پر اسے دونوں میں سے کسی بھی ملک میں انضمام کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ پھرپاکستان کے قبائلی جنگجو دستے اچانک کشمیر میں گھس گئے۔ ان کا ایک ہی مقصد تھاکہ پاکستان میں کشمیر کاانضمام ہو، لیکن مہاراجا ہری سنگھ نے عین موقع پر ہندوستان کے ساتھ انضمام نامہ پر دستخط کر دئے اور ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ حالانکہ اس وقت تک پاکستانی فوج کے جوان بھی وہاں پہنچ چکے تھے، لیکن ہندوستانی فوج نے پہلے ریاست کی راجدھانی کی گھیرا بندی کی اور پھر دراندازوں کو کنٹرول لائن کے باہر کھدیڑ دیا۔ اس کے بعد معاملہ اقوام متحدہ کے پاس پہنچا اور تب سے اب تک یہ ایک مسئلہ ہی بنا ہوا ہے۔ کانگریس پارٹی کا یہ خیال  تھا کہ مکمل انضمام سے پہلے عوام کی مرضی کا احترام کرنا چاہیے۔ حیدرآباد اور جونا گڑھ کے معاملوں میں شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ جموں و کشمیر میں حالات قابو میں ہوتے ہی ریفرنڈم کرایا جانا تھا۔ حالانکہ کشمیر کا ہندوستان میں انضمام ہو چکا تھا، لیکن تمام متعلقہ فریق اس بات پر متفق تھے کہ مکمل انضمام سے پہلے ریفرنڈم کرایا جانا چاہیے۔ اسی مقصد سے آئین میں دفعہ 370کو جگہ دی گئی تھی۔ 1953میں شیخ عبداللہ نے جواہر لال نہرو کو پاکستان سے بات کرنے کے لیے کہا تاکہ کشمیر کے دونوں حصوں میں ایک ساتھ ریفرنڈم کرایا جاسکے اور انڈین یونین میں اس کے انضمام کا عمل پورا ہوسکے،لیکن اس کے بعد فوراً شیخ عبداللہ کو ان کے گھر میں نظربند کر دیا گیا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے جب انضمام کو منظوری دی تو اس وقت عبداللہ گھر میںہی نظر بند تھے۔ اس وقت اس تنازعہ کو زبردستی دبانے کی کوشش کی گئی اور اس مسئلے کا آج تک کوئی حل نہیں نکلا۔ ہندوستان میں زیادہ تر لوگ میری بات کو نہیں تسلیم کریںگے، لیکن یہی حقیقت ہے۔ کشمیری عوام اب بھی اس سانحہ کو یاد کرتے ہیں۔ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ شیخ عبداللہ کو کس طرح بغیر کسی عدالتی کارروائی کے بار بار نظربند کیا گیا اور رہا کیا گیا، یہ عدالتی نظام کا کھلے عام مذاق تھا۔ انہیں بلا وجہ سزا دی گئی، کیوں کہ انہوں نے سچ بولنے کی غلطی کی تھی۔ کم و بیش یہی بات عمرعبداللہ نے گزشتہ دنوں دوہرائی اور وہ صحیح تھے۔ حالانکہ انہیں اس کا کوئی فائدہ ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔ میں تو بس یہی دعا کرتا ہوں کہ انہیں بھی کہیں ان کے دادا کی طرح نظربند نہ کر دیا جائے۔ مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں مرکز کے مذاکراتی وفد کا بھی یہی حشر نہ ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *