مسئلہ کشمیر سنجیدہ اور بھروسہ مندکوششوں کی ضرورت

Share Article

ہارون رشی
01وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی صدارت میں  28رکنی وفد نے جموں و کشمیر کا دوروز دورہ کیا ۔یہ وفد یہاں امن بحال کرنے کی سمت میں کوئی پیش رفت کرنے میں ناکام ہوگیا۔یہ اعلیٰ سطحی وفد 4ستمبر کی صبح سری نگر ایئر پورٹ سے سیدھے ڈل جھیل کے کنارے قائم شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوینش سینٹر پہنچا ،جہاں اس وفد کے ممبروں نے دن بھر الگ الگ سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے ملاقات کی۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس، پیپلس ڈیموکریٹک فرنٹ ، پیپلس کانفرنس ، ڈیموکریٹک پارٹی نیشنلسٹ وغیرہ کے لیڈروں نے اس وفد سے ملاقات کی،لیکن یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی کیونکہ یہ سبھی پارٹیاں اور لیڈر کشمیر مسئلے پر ہندوستانی سرکار کے بنیادی موقف کی پوری حمایت کرتے ہیں۔ یعنی یہ تمام پارٹیاں جموں و کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بھی مانتے ہیں اور ہندوستان کے آئین کے ساتھ وفاداری کا حلف بھی لیتے رہتے ہیں۔ یہ سبھی پارٹیاں اور ان کے لیڈر کشمیر میں جاری علاحدگی پسندوں کی تحریک کی مخالفت بھی کررہے ہیں اور یہ تمام لیڈر آئے دن نئی دلی جاکر وہاں مرکزی سرکار کے افسروں اور مختلف پارٹیوں کے لیڈروں سے ملتے رہتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کشمیر میں امن قائم کر پانا ان لیڈروں اور ان پارٹیوں کے بس میں نہیں ہے،کیونکہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو انہوں نے ایسا بہت پہلے کر لیا ہوتا۔سچ تو یہ ہے کہ کشمیر میں امن بحالی پی ڈی پی اور بی جے پی کی اتحادی سرکار کے اختیار میں بھی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کشمیر میں لگاتار دو مہینے سے کرفیو نہیں لگا ہوتا۔ یہاں 70 سے زیادہ لوگ مارے نہیں گئے ہوتے اور تقریباً 200 لوگوں کی آنکھوں کی روشنی نہیں چلی گئی ہوتی۔ انٹر نیٹ اور موبائل فون بند نہیں ہوتے۔ نیوز چینلوں پر پابندی نہیں لگی ہوتی۔ ہر گائوں میں روزانہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے جلوس نہیں نکلتے ۔ دو مہینے کے دوران دو ہزار سے زیادہ نوجوان گرفتار نہیں ہوئے ہوتے۔ پولیس تھانوں میں دو ماہ کے دوران ہزاروں ایف آئی آر درج نہیں ہوئے ہوتے، ریاستی سرکار نے یہاں کب کا امن بحال کر لیا ہوتا۔لیکن سچائی تو یہ ہے کہ کشمیر کے حالات پر ریاستی سرکار یا مرکزی سرکار نے اپنا کنٹرول کھو دیاہے۔ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سرکار کو عوام کو قابو میں رکھنے کے لئے لگاتار دو مہینے تک بغیر ڈھیل دیئے کرفیو لگائے رکھنا پڑا ہے۔ گزشتہ 26 سال کے پُر تشدد دور میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ صرف دو مہینے میں لوگوں اور سیکورٹی دستوں کے بیچ کی جھڑپوں میں10 ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیںاور درجنوں لوگ عمر بھر کے لئے آنکھوں کی روشنی کھو چکے ہیں، اس لئے یقین کے ساتھ اور بغیر کسی خوف کے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ریاستی سرکار کشمیر کے حالات پر اپنا کنٹرول کھو چکی ہے اور یہاں امن بحال کرنا اس کے بس کی بات نہیں رہی ہے۔
سرکار دعویٰ کررہی ہے کہ کشمیر کے حالات بگاڑنے کے لئے پاکستان نے سینکڑوں کروڑ روپے یہاں بھیجے ہیں۔لیکن سرکار کے بے بس ہونے کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک وسیع اور منظم انٹیلی جینس خفیہ نیٹ ورک، پولیس فورس اور دوسری ایجنسیوں کے ہوتے ہوئے یہ سرکار 2 مہینے میں اس بات کا کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کرسکی کہ یہاں باہر سے پیسہ لایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی دوسرے ملک سے آنے والے سینکڑوں کروڑ روپے بوریوں میں ڈال کر پیدل سرحد پار تو نہیں لائے گئے ہوں گے۔یہ رقم اگر یہاں پہنچائی گئی ہے اور سرکار کے مطابق یہاں فسادیوں میں تقسیم کی گئی ہے تو کیا وجہ ہے کہ سرکار اتنے بڑے معاملے میں کسی ایک شخص کو بھی گرفتار نہیں کر سکی ہے؟کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ سرکار اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے یا تو جھوٹ بول رہی ہے کہ باہر سے پیسہ آیا ہے یا پھر سرکاری خفیہ سسٹم اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ سینکڑوں کروڑ سرحد پار سے یہاں پہنچائے بھی جارہے ہیں اور پھر بانٹے بھی جارہے ہیں لیکن سرکار کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی ہے، اسے کوئی ثبوت بھی نہیں ملتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر برسراقتدار پارٹیاں پی ڈی پی یا بی جے پی یا اپوزیشن پارٹی نیشنل کانفرنس کے لیڈر کل جماعتی وفد سے ملے بھی ہیں تو اس کا کیا نتیجہ نکلنا تھا؟بلکہ نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبد اللہ نے تو وفد کے ساتھ بات چیت اور ملاقات کے بعد باہر آکر میڈیا کو بتا یا کہ اس وفد کی کوئی زیادہ معتبریت نہیں ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں تو عمر عبد اللہ نے کہا کہ اب تک اس طرح کے کئی وفد یہاں آچکے ہیں ،لیکن اس کے نتیجے میں نہ ہی یہاں کشمیر کا مشئلہ حل ہو سکا ہے اور نہ ہی یہاں مستقل امن قائم ہو سکا ہے۔ عمر عبد اللہ نے بی جے پی لیڈر رام مادھو کے ایک تازہ بیان کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ رام مادھو کہتے ہیں کہ ہندوستان کے آئین کے دائرے میں رہ کر کشمیر مسئلے کا حل نکالا جانا چاہئے۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے تو آئین کے دائرے میں رہ کر ہی اسمبلی میں دو تہائی کی اکثریت سے خود مختاری کی تجویز پیش کی تھی،لیکن ہندوستانی سرکار نے اس کا کیا کیا؟ پی ڈی پی کے لیڈر سرتاج مدنی نے کل جماعتی وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی نے وفد کو بتایا کہ کشمیر میں مستقل امن کے لئے کشمیر مسئلے کا سیاسی حل نکالنا ضروری ہے۔

سچائی تو یہ ہے کہ کشمیر کے حالات پر ریاستی سرکار یا مرکزی سرکار نے اپنا کنٹرول کھو دیاہے۔ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سرکار کو عوام کو قابو میں رکھنے کے لئے لگاتار دو مہینے تک بغیر ڈھیل دیئے کرفیو لگائے رکھنا پڑا ہے۔ گزشتہ 26 سال کے پُر تشدد دور میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ صرف دو مہینے میں لوگوں اور سیکورٹی دستوں کے بیچ کی جھڑپوں میں10 ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیںاور درجنوں لوگ عمر بھر کے لئے آنکھوں کی روشنی کھو چکے ہیں، اس لئے یقین کے ساتھ اور بغیر کسی خوف کے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ریاستی سرکار کشمیر کے حالات پر اپنا کنٹرول کھو چکی ہے اور یہاں امن بحال کرنا اس کے بس کی بات نہیں رہی ہے۔

اس کل جماعتی وفد سے ملاقات کرنے والی دوسری پارٹیوں نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے وفد کو کشمیر مسئلے کا حل تلاش کرنے اور حریت کے ساتھ بات چیت کرنے کی صلاح دی ہے۔ شاید ایسا ہی رد عمل ملنے کے بعد کل جماعتی وفد میں شامل سیتا رام یچوری ، ڈی راجا اور اسد الدین اویسی نے حریت لیڈروں سے ملاقات اور بات چیت کرنے کی ناکام کوشش کی۔ سیتا رام یچوری اور ڈی راجا سری نگر کے حیدر پورا میں موجود سید علی شاہ گیلانی کے گھر پہنچے، لیکن گیلانی نے ان دونوں کے لئے اپنے گھر کے دروازے کھولنے سے بھی انکار کردیا، نتیجتاً انہیں واپس لوٹنا پڑا۔ باقی لوگ سری نگر کے ہم ہما جوائنٹ انٹیروگیشن سینٹر پہنچے، جہاں یسین ملک قید ہیں۔ یسین ملک نے کھڑے کھڑے ہی سلام و کلام کے بعد کل جماعتی وفد کو یہ کہہ کر واپس لوٹا دیا کہ وہ بات چیت نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ اسد الدین اویسی نے چشم شاہی کی جیل جاکر وہاں قید میر واعظ عمر فاروق سے ملاقات کرنے کی کوشش کی، لیکن میر واعظ نے صرف دو منٹ بات کرنے کے بعد اسد الدین اویسی کو یہ کہہ کر واپس لوٹا دیا کہ حریت نے پارلیمانی وفد سے نہ ملنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رات 2 بجے ان تینوں علاحدگی پسند لیڈروں کی طرف سے جاری کئے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ اس وفد سے امیدیں کیا رکھی جائیںجسے کسی واضح ایشو کو آگے بڑھانے کا اختیار حاصل نہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کل جماعتی وفد دراصل حریت لیڈروں سے ملنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ان کی دلیل ہے کہ ہندوستانی سرکار واقعی حریت کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی تھی تو کل جماعتی وفد کے ساتھ بات چیت کے لئے انہیں باضابطہ مدعو کیا جاتا، جس طرح ریاستی سرکار نے دیگر پارٹیوں کو دعوت نامہ بھیجا ۔غور طلب ہے کہ حریت کو سرکاری سطح پر ایسا کوئی دعوت نامہ نہیں بھیجا گیاتھا۔ بہر حال، محبوبہ مفتی نے پی ڈی پی کی صدر کی حیثیت سے حریت کو ایک خط لکھ کر کل جماعتی وفد سے ملنے کی اپیل کی تھی۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر سرکار واقعی چاہتی تھی کہ حریت کے لیڈر وفد سے ملیں تو اس کے لئے ضروری تھا کہ انہیں ایک دو دن پہلے جیلوں سے رہا کر دیا جاتا تاکہ وہ ایک دوسروں سے مل کر، صلاح و مشورہ کرتے۔ بہر حال کل جماعتی وفد کے دو روزہ جموں و کشمیر دورے نے یہاں کے حالات پر کوئی مثبت اثر نہیں ڈالا، بلکہ ان کے یہاں پہنچنے کے پہلے ہی وادی میں سب سے زیادہ تشدد کی وارداتیں ہوئیں جن میں 600 لوگ زخمی ہوئے۔ کل جماعتی پارلیمانی وفد کے کشمیر دورے کو اگر ناکام قرار نہ بھی دیا جائے تو بھی اسے کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا ۔سیتا رام یچوری نے حریت کے لیڈروں کے ساتھ ملاقات کی ناکام کوشش کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک بنیادی بات کہہ ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں نئی دلی کے تئیں بھروسے کی کمی پائی جارہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 26 سال کے دوران ہندوستانی سرکار نے، وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی کے دور حکومت کو چھوڑ کر، کبھی بھی کشمیر مسئلے کا کوئی سیاسی حل ڈھونڈنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ حالانکہ ہر وزیر اعظم نے اپنے بیانوں میں کشمیر مسئلے کے حل کرنے کی ضرورتوں پر زور دیا ہے۔ 1990 میں یہاں مسلح تحریک شروع ہو جانے کے کچھ ہی وقت بعد اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ ’’ کشمیر مسئلے کے حل کے لئے آزادی کی مانگ کو چھوڑ کر کسی بھی ایشو پر بات چیت کی جاسکتی ہے‘‘۔وزیر اعظم نرسمہا رائو نے کہا تھا کہ ’’ کشمیر مسئلے کے حل کے حوالے سے آزادی سے کم کچھ بھی مانگ لو‘‘۔ وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی نے کہا تھا کہ ’’ کشمیر مسئلے کو حل کرنے کے لئے آئین کے دائرے میں نہیں ،بلکہ انسانیت کے دائرے میں بات چیت کی جانی چاہئے‘‘۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کشمیر کے حوالے سے کہا تھا ’’ کشمیر مسئلے کا حل کرنے کے لئے سرحدوں کو بدلا تو نہیں جاسکتا، لیکن انہیں غیر متعلقہ بنایا جاسکتا ہے‘‘۔موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حال میں کشمیر کے حوالے سے انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت کے سہارے یہ مسئلہ حل کرنے کی بات کہی لیکن سچ تو یہ ہے کہ عملی طور پر ہندوستان کی سرکار کی طرف سے کشمیر مسئلے کا حل کرنے کے لئے کوئی ٹھوس بندوبست کرنے کے بجائے آج 2016 میں بھی کشمیری عوام کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس کی مثالیں گزشتہ دو مہینے کے دوران یہاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کل جماعتی وفد کے کشمیر دورے کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے اب تک ہمیشہ کشمیریوں کو بات چیت کے نام پر الجھانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ 2010 کے احتجاج میں جب سیکورٹی فورسیز کے ہاتھوں 120 عام شہری جن میں درجنوں بچے بھی شامل تھے، مارے گئے تو اس وقت کی یو پی اے سرکار نے مذاکرہ کاروں کی ایک تین رکنی ٹیم تشکیل کی جس میں دلیپ پڈگائونکر، رادھا کمار اور ایم ایم انصاری شامل تھے۔ اسے یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کشمیر کے تمام مواقف کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد اپنی رپورٹ اور سجھائو پیش کرے۔ یہ ٹیم کشمیر میں ایک سال تک پانچ ہزار وفود سے ملی اور کھل کر بات چیت کی۔ ایک سال بعد جب اس ٹیم نے اپنی رپورٹ کئی سجھائو کے ساتھ پیش کی تو ہندوستانی سرکار نے اسے ڈسٹبین میں ڈال دیا۔
اس کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اس سلسلے میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ مذاکرہ کاروں کو کشمیر اس لئے نہیں بھیجا گیا تھا کہ وہ ہمیں بتائیں کہ وہاں کے حالات کیسے ہیں۔ سرکار تو پہلے سے ہی جانتی ہے،لیکن ہم نے یہ ٹیم اس لئے تشکیل کی تھی تاکہ کشمیر کے اس وقت کے حالات کا دائرہ تبدیل کیا جاسکے۔یہ ایک وزیر داخلہ کا کھلا اعتراف تھا کہ مذاکرہ کاروں کے نام اور کشمیری عوام کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔
یو پی اے سرکار نے ہی 2005 میں جسٹس صغیر کی سرپرستی میں ایک ورکنگ گروپ تشکیل دے کر اسے یہ کام سونپا تھا کہ جموں و کشمیر اور مرکز کے درمیان رشتوں کو سدھارنے کے لئے اپنی سفارشیں پیش کرے۔ اس ورکنگ گروپ نے بھی پوری جستجو اور بات چیت کے بعد ایک رپورٹ مرکز ی سرکار کو پیش کی، لیکن اس رپورٹ کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ پھر اس سرکار نے گزشتہ 26 سال کے دوران کشمیری عوام اور علاحدگی پسند لیڈروں کو دھوکہ دینے کے لئے وقت بوقت کئی مشہور شخصیات کو بھی استعمال کیا۔ ان میں اے ایس دُلّت، رام جیٹھ ملانی ، کے سی پنت، این این بوہرا اور وجاہت حبیب اللہ جیسے لوگ شامل تھے۔لیکن ان شخصیتوں نے دوبارہ کبھی ہندوستانی سرکار کے لئے کشمیر میں اپنی خدمات پیش کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ کیونکہ انہوں نے ہندوستانی سرکار کے کہنے پر اور اس پر بھروسے کرکے علاحدگی پسند لیڈروں اور یہاں کے عوام کے ساتھ جو وعدے کئے تھے،وہ کبھی پورے نہیں ہوئے۔اس وجہ سے ان شخصیات کی معتبریت بھی ختم ہو گئی اور لوگوں نے ان پر دوبارہ بھروسہ نہیں کیا۔ شاید اس لئے کشمیر کو ’’بھروسے کی قبرگاہ ‘‘ کہا جاتا ہے،کیونکہ یہاں ہندوستانی سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کئی اہم اشخاص نے اپنی معتبریت کھو دیئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس بار کل جماعتی وفد کی عوامی سطح پر کوئی تعریف نہیں ہوئی ۔صرف حریت لیڈروں نے ہی نہیں،بلکہ بڑے کاروباریوں اور ایسوسی ایشن نے بھی وفد سے ملنے سے صاف انکار کردیا ۔یہ دراصل بھروسے کی کمی کا معاملہ ہے۔ممکن ہے کہ آنے والے کچھ دنوں یا ہفتوں میں کشمیر میں حالات نارمل ہو جائیں۔ کیونکہ اس طرح کے حالات ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتے ۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی سرکار ہر گزرنے والے دن کے ساتھ کشمیر میں اپنا بھروسہ کھو رہی ہے۔یہاں تک کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی مین اسٹریم کی سیاسی پارٹیوں کا اعتماد اور بھروسہ بھی ہندوستانی سرکار کی وجہ سے ختم ہوتا جارہا ہے۔
نئی دہلی کے لئے ضروری ہے کہ وہ کشمیر می عوام کا بھروسہ حاصل کرنے کے لئے ایک پروسیس شروع کرے جو ایمانداری کی بنیاد پر ہو ،حقیقت میں سنجیدہ ہو۔جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرنا ہندوستان کے لئے ضروری ہے،کیونکہ اگر طاقت کے بل پر عوام کو جھکانا ممکن ہوتا تو وہاں موجود 7 لاکھ فوج گزشتہ 26سالوں میں یہ کام کر چکی ہوتی۔
باکس
امن کے متوالے امن کا پیغام لے کر پہنچیں گے عثمان آباد سے کشمیر
وینائک رائو پاٹل
برہان وانی کے مارے جانے کے بعد سے کشمیر کی حالت بگڑ گئی ہے۔ 70دن ہونے کے بعد بھی کشمیر کے حالات خراب ہیں۔ کشمیر کی حالت خراب ہونے کی وجہ صرف برہان وانی کا مارا جانا نہیں ہے۔کئی سالوں سے کشمیر کا ایشو چلا آرہا ہے اور یہ ایشو ابھی تک نہیں سلجھا۔ اس کے پیچھے کئی طاقتیں ہیںجس کی وجہ سے کشمیر کی حالت ایسی ہو گئی ہے۔ ابھی گزشتہ ایک مہینے میں دو بار کشمیر گیا۔ وہاں کے مقامی کاروباریوں، نوجوانوں اور لیڈروں سے ملا، ان سے بات چیت کی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو ختم کرو، کشمیر کا جو بھی مسئلہ ہے،اس کا حل ایک بار میں نکالو۔ میں کشمیر میں سبھی طبقے کے لوگوں سے ملا۔کسانوں کا الگ معاملہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے سیب کے کاروبار کے لئے سرکار سے سہولت چاہئے۔ کاروباریوں کی الگ پریشانیاں ہیں۔ کاروباری کہتے ہیں کہ ہم دونوں طرف سے پسے جاتے ہیں۔ سرکار کہتی ہے کہ دکان کھولو، دہشت گرد کہتے ہیں بند کرو۔ کس کی بات مانیں۔ دہشت گردوں کی مانیں گے تو آرمی والے پریشان کرتے ہیں۔سرکار کی بات مانتے ہیں تو دہشت گرد ہماری دکان جلا دیتے ہیں۔ کشمیر کے لوگوں کے پاس کام نہیں ہے۔ ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ کشمیر میں مجھے ایک ٹیکسی والا ملا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ وہ بھی پتھر مارے گا۔میں نے پوچھا کہ کیوں ماروگے؟ اس کا کہنا تھا کہ ہمارا دو مہینے سے کام بند ہے۔ کچھ دنوں میں سردی کا آغاز ہو جائے گا۔ سیاحت بند ہو جائے گی تو ہم کھائیں گے کیا؟سوال ہے کہ ہندوستان میں اتنی زیادہ انڈسٹری ہے۔کیا ہم وہاں کے لوگوں کو انڈسٹری میں نوکری نہیں دے سکتے ؟کشمیر کے نوجوانوں کا بھروسہ جیتنا ہوگا۔ ان سے کوئی بات ہی نہیں کرتا۔ کشمیر میں لیڈر جاتے ہیں،لیڈروں سے اور علاحدگی پسندوں سے بات کرتے ہیں، ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ علاحدگی پسند ہمارے لیڈر نہیں ہیں ، آپ سیدھے ہم سے بات کرو، ہم سے پوچھو کہ ہمیں کیا چاہئے؟آج کے حالات میں وہاں نوجوانوں کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔
کشمیر میں کوئی کہتا ہے کہ ہم کو آزاد کشمیر چاہئے،کوئی کہتا ہے کہ ہمیں پاکستان میں جانا ہے اور کوئی کہتا ہے کہ ہمیں ہندوستان کے ساتھ رہنا ہے،یہ مسئلہ نیا نہیں ہے،یہ مسئلہ آزادی کے دوسرے دن ہی اٹھا تھا۔ کشمیر ہم کو الگ چاہئے۔ آج تک اس مسئلے کا حل نہیں کیا گیا۔ سیاستدانوں نے اپنے فائدے کے لئے اس مسئلے کو زندہ رکھا ہے۔ کشمیر کے لوگوں کو آپ کہتے ہیں کہ برے ہیں،اچھے نہیں ہیں، پاکستان کے لوگوں سے ملے ہوئے ہیں۔ لیکن جب کشمیر میں انتخابات ہوتے ہیں تو علاحدگی پسند دھمکیاں دیتے ہیں،لیکن اسکے باوجود 74فیصد لوگ ووٹ ڈالتے ہیں اور اپنی سرکار منتخب کرتے ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ ہندوستان کو اپنا ماننے والے ہیں۔ اس لئے پہلے ان کو سمجھنا پڑے گا۔ان کو اپنانا پڑے گا اور ان کو پیار سے جیتنا پڑے گا۔ بندوق کی گولی سے نہیں جیتا جاسکتا ۔
کل جماعتی وفد کشمیر گیا۔ کس سے بات ہوئی ؟ وزیر اعلیٰ، ایم ایل اے اور کچھ لیڈر۔کیا اس وفد نے عام لوگوں سے بات کی۔ نوجوانوں سے بات کی؟سڑکوں پر جاکر لوگوں سے بات کی؟نہیں، سیکورٹی میں رہ کر سب کو بلا کر بات کروگے تو عام آدمی کے بارے میں کیا سمجھ میں آئے گا ؟میرا ماننا ہے کہ ان کا غصہ دور کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ ان کا غصہ ہندوستان سے نہیں ہے، صرف سرکار اور فوج سے ہے۔
’’جوڑو بھارت مہم ‘‘ نے ایک امن مذاکرات 2اکتوبر کو کشمیر کے لال چوک پر رکھا ہے۔ ہم ہزاروں لوگوں کے ساتھ عثمان آباد سے کشمیر تک جائیںگے۔ 2اکتوبر کو لال چوک پر کشمیری لوگوں کے ساتھ، کشمیر کے امن کے لئے ،کشمیری لوگوں کی خوشحالی کے لئے ایک دعائیہ مجلس منعقد کریں گے۔ وہاں ہم کشمیری نوجوانوں سے بات کریںگے۔ ہماری ’’جوڑو بھارت مہم‘‘ شروع ہو چکی ہے۔یہ کوئی یاترا نہیں ہے۔یہ عوام بیداری مہم ہے کہ چلو کشمیر۔ یہاں سے لوگ تو جائیں گے نہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ کیسے کشمیر کے زیادہ سے زیادہ لوگ اس دعائیہ مجلس میں آئیں۔ہم وہاں امن کے سپاہی، امن کے متوالے بن کر جارہے ہیں۔
میںمانتا ہوں کہ انہیں پیار کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ وہ پتھر کیوں اٹھا رہے ہیں؟میں سمجھتا ہوں کہ سرکار کے علاوہ ،سماج کو بھی کشمیر مسئلے کے حل کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کشمیر ہمارا ہے،کشمیر کے لوگ ہمارے ہیں۔سرکار اور سماج کو مل کر کشمیر کے لئے کام کرنا ہوگا۔
(مضمون نگار ’’جوڑو بھارت مہم ‘‘ کے کنوینر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *