کشمیر سول سوسائٹی سے بات چیت سیاسی عمل اور جمہوریت کے نام پر ہمیں کمزور کیا گیا

Share Article

دہلی سے گئے تین رکنی صحافیوں کے ایک گروپ نے کشمیر کی سول سوسائٹی سے بات چیت کی۔ اسی سلسلے میں کشمیر کی سول سوسائٹی کی ایک خاتون ممبر نے کشمیر مسئلے پر اپنی بیباک رائے دی جسے انہی کے لفظوں میں یہاں شائع کیا جارہا ہے۔

p-2کبھی بھی جموں و کشمیر میں فری ڈیموکریٹک ایکسپریشن ہوا ہی نہیں۔1977 میں یہاں انتخابات ہوئے تھے ، تب مرار جی دیسائی کی سرکار تھی۔ اس وقت صاف ستھرے انتخابات کروائے گئے تھے۔ صرف وہی ایک انتخاب تھا جو اچھے ماحول میں ہوا۔ 1996کے بعد سے گزشتہ 30سالوں میں ہمیں کافی نقصان ہوا۔ یہاں کا امن خراب کیا گیا۔ فوج نے گائوں کے گائوں، شہر کے شہر جلا دیئے۔ بھاری تعداد میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے معاملے سامنے آئے، ہر سطح پراتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی ہندوستان کا رد عمل کیا رہا؟اس نے پھر سے ایک ایسی سرکار جموں و کشمیر پر تھوپ دی جسے شاید ہی کبھی پانچ فیصد ووٹ ملا ہو۔ بے شمار کشمیریوں کی قربانی کے باوجود ہم پر فاروق عبداللہ کی سرکار تھوپ دی گئی۔ صرف انسانی نقصان ہی نہیں ہوا، ہماری عزت و قار کو بھی نقصان پہنچایا گیا ۔عورتوں کے ساتھ عصمت دری ہوئی، ہزاروں گھر تباہ کئے گئے۔ آپ کو شاید پتہ ہو کریک ڈائون آپریشن کے بارے میں، اس میں کیا کیا ہوا؟ کریک ڈائون آپریشن میں سب مردوں کو ایک میدان میں جمع کرتے تھے۔ گھروں میں جاتے تھے اور سب تہس نہس کر دیتے تھے۔ لوٹ کھٹوس کرتے تھے۔ میں اسے تباہی کا آپریشن کہتی ہوں۔ گھر کو تہس نہس کرتے تھے، عورتوں کے ساتھ گھر میں چھیڑ چھاڑ کرتے تھے اور مردوں کو گھر کے باہر رکھتے تھے۔ شاید آپ نے وہ نہیں دیکھے ہیں۔ وہ آپریشن 15 سال تک چلا۔ کشمیری نفسیات کو اس طرح نقصان پہنچایا گیا، اس طرح زخمی کیا گیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ یہ سب ہونے کے بعد یہاں مہینوں تک کرفیو رہا۔پھر اس کے بعد آپ کی وہی حکمت عملی ، وہی فراڈ سرکار۔ جمہوری سرکار ہونے کی پوری دنیا میں ڈھنڈورا پٹتے ہیں۔ جب جمہوری سرکار آتی ہے، پھر وہ ایک نئی تجویز پاس کرتی ہے آٹونومی کی۔خود مختاری کی یہ تجویز آزادی چاہنے والوں کے ایجنڈا کو چڑھانے کے لئے لاتے ہیں۔ وہ تجویز دو تہائی اکثریت سے پاس ہوئی۔ ریاست کے اسمبلی اجلاس میں جتنے بھی قانون بنتے ہیں،وہ اصل میں دہلی سے تیار ہوکر آتے ہیں۔ہم سمجھتے نہیں ہیں، وہ روز کہتے ہیں کہ یہ بل آیا، وہ بل آیا ہے اسمبلی میں۔یہ ایسے بل ہوتے ہیں جن کا دور دور تک لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ہے۔یہ سارے بل کشمیری لوگوں کو کمزور بنانے کے لئے ہوتے ہیں۔ اچانک اسمبلی اجلاس میں بل آتے ہیں۔یہ بل ایجنسیز بنا کر لاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اسے پیش کرو۔ اس میں جو ریئل لیجسلیشن ہوتا ہے، عوام کے بااختیار بنانے کے لئے، گڈ گورننس کے لئے، ایسا آج تک ہم نے نہیں دیکھا۔ میں یہ بات بغیر کسی تضاد کے کہہ سکتی ہوں۔کوئی بھی بل کشمیری لوگوں کوبا اختیار بنانے کے لئے یا گڈ گورننس کے لئے کبھی نہیں ہوتا ہے۔
جب ہمارے جوانوں نے بندوق اٹھائی،تب اس کے بعد بہت بڑے بڑے سیاسی پنڈت آئے اور بولنے لگے کہ آپ سیاست کے راستے سے لڑو،آپ کو سب کچھ ملے گا، بندوق چھوڑ دو، آپ کو سب کچھ ملے گا۔ ہندوستان آپ کو سب کچھ دے گا۔ اب لوگوں نے بندوقیں بھی چھوڑ دی۔ لوگوں نے 2008 میں پُر امن احتجاج کیا۔2010 اور اب 2016 میں احتجاج ہو رہا ہے ۔ میں خود گواہ ہوں۔ اس دن 10سے 12لاکھ لوگ آئے تھے۔میں خود اس دن دیکھنے گئی۔ اس دن مجھے لگا کہ کشمیر میں آزادی ہے۔ اس دن اپنے آپ خود لوگ آئے تھے اور اپنے آپ کو سنبھال رہے تھے، خود عید گاہ جارہے تھے۔کوئی کنفیوژن نہیں ہوا۔ہندوستان میں کوئی میلہ ہوتا ہے تو اس میں بھگڈر ہوتی ہے۔ لیکن یہاں 12-14 لاکھ لوگ ایک جگہ آتے ہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کس طرح سلوک کرتے ہیں۔ اس وقت لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ آزاد ہیں۔ میں نے وہ پل دیکھے ہیں۔ میں اس پل کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں، جو میں نے دیکھا کہ جب 12لاکھ سے 15 لاکھ لوگ سڑکوں پر اگلے دن آئے تو مکمل کریک ڈائون کیا گیا۔ 9دنوں کے لئے کرفیو لگایا گیا 2008 میں اور 2010 میں۔آپ نے کشمیریوں کو نفسیاتی، اقتصادی اور معاشرتی کمزور کرنے کا کام کیا۔کیونکہ آپ جب کرفیو اٹھاتے ہیں، تو لوگ کہتے ہیں کہ ہم اب باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ یہی آزادی ہے ۔یہی طریقہ عمل انہوں نے آج تک چلایا ۔ آج لوگ سمجھ چکے ہیں۔آج جب کرفیو ہٹایا گیا، تو کئی لوگ باہر نہیں نکلے کیونکہ یہ تمام طریقہ عمل بہت زیادہ استعمال ہو چکے ہیں۔ ڈر اور دہشت کا بہت زیادہ استعمال ہو چکا ہے۔لیکن آج لوگ ان سب سے تنگ آچکے ہیں۔
فاروق عبداللہ آئے تو ایک نیا فتنہ کھڑا کیا گیا۔ یہاں یاترا ہوتی تھی بڑے پُر امن طریقے سے۔10ہزار لوگ آتے تھے۔ کشمیری ان کی مہمان نوازی کرتے تھے، اچھی طرح سے، کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ ہم اس میں جاتے تھے۔ آنے جانے والے یاتریوں کا استقبال کرتے تھے۔ انہوں نے اس کو بھی پوری طرح سے سیاسی ایشو بنا دیا۔ اس یاترا کو بھی سیاسی شکل دے دی گئی۔انہوں نے ایک ٹرسٹ بنایا، امر ناتھ یاترا ٹرسٹ بنایا ۔ اس کو سرکار سے الگ کیا اور اس میں پہلے پنڈتوں کو رکھا۔ گورنر اس کے چیف ہیں۔ انہوں نے پورے ہندوستان میں ہندوئوں کو موبلائز کیا۔ کہا کہ ہم آپ کو بلا خرچ کشمیر لے جارہے ہیں۔ یہاں آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ایریا اکولوجیکل (ماحولیاتی نقطہ نظر سے ) بہت ہی حساس ہے۔ لوگ گنگوتری جاتے ہیں۔ وہاں ماحولیات اور قانون کے حساب سے ہر ایک دن صرف 150یاتریوں کو جانے دیا جاتا ہے اور یہاں 50-50 ہزار لوگ روز آتے ہیں۔یہ ہمار ماحولیات کو ختم کرنے کے لئے کیا گیا۔ اس پر بھی ہم نے آواز اٹھائی ۔کسی نے نہیں سنی ۔اس میں دوسری سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ایک ایکسٹرا کنسٹی ٹیوشنل باڈی بن گئی ہے۔یہ اب ریاستی سرکار پر منحصر نہیں ہے۔یہ آزادانہ طور سے کام کرتی ہے۔ گزشتہ مرتبہ انہوں نے اس کے سارے ممبرس دلی کے بنائے۔ پنڈت کو بھی نہیں رکھا۔ اب یہ پورا کا پورا ہندوستانی شرائن بورڈ ہو گیا ہے۔ اب انہیں لالچ ہو گیا ہے۔ انہوں نے امر ناتھ نگر کا پلان بنایا تھا کہ سارا کچھ مکمل آزادانہ طریقے سے ہوگا اور ایک ریاست کے اندر ایک الگ ریاست بن جائے گا۔ اس وقت 2008 میں ہم نے ایک تحریک چلائی۔ وہ تحریک ہم نے اس وقت اس لئے چلائی کہ امر ناتھ نگر، ایک ریاست کے اندر ایک خود مختار ریاست بن جاتا۔ اسی لئے، ہم نے اس پر تحریک چلائی کہ ہم اس کے لئے زمین نہیں دیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس سے پورا کشمیر فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کردیا جائے گا۔ اس لئے ہم نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔
دھیان دینے والی بات ہے کہ امر ناتھ مندر کو ایک مسلمان (ملک )نے ہی تلاش کیاتھا اور پوجا پاٹ بھی و ہی کرواتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب سادھو سنت آتے تھے، تو گھر گھر جاکر بھکشا بھی مانگتے تھے اور لوگ ان کو بھکشا بھی دیتے تھے۔ اس پیسے سے ان کی زندگی چلتی تھی۔ جلوس نکلتا تھا، جیسے چھڑی مبارک، اس میں ہندو اور مسلمان دونوں ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ اس کے بعد راستوں پر جو لنگر ہوتے تھے، وہ مسلمان لگایا کرتے تھے۔ بیشک پیسے لیتے رہے ہوںگے۔یہ ساری چیزیں ایک ملی جلی ثقافت کو دکھاتی ہیں۔ پہلے یاتری جو جاتے تھے، انہیں مسلمان گھوڑے پر بھی لے جاتے تھے اور اپنے کندھوں پر بھی لے جاتے تھے۔ لیکن اب جو ہوا وہ پوری طرح سے فرقہ وارانہ کردیا گیا۔ایک تو پہلے ان ملک کو بے دخل کیا اور ایک بار پیسہ دے کر ان کو ہٹا دیا گیا۔ مندر ہے تو کوئی مسلمان نہیں رہ سکتا۔ اب وہاں پر سادھو رکھا گیا ہے۔ ٹھیک ہے۔ اب لنگر کو بڑے بڑے صنعتکار اسپانسر کرتے ہیں اور جو ٹھیہا لینے والے ٹھیکہ دار ہیں وہ جگہ جگہ فری میں کھانا دیتے ہیں۔ لیکن مسلم کو لنگر کا ٹھیہا لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ جو وہاں کے ہندو ہیں، وہی ٹھیکے لیتے ہیں۔ یعنی ملی جلی ثقافت ختم ہو گئی۔ گھوڑے والے جو ہیں ان کے ساتھ مار پیٹ کی جاتی ہے، جھگڑا ہوتا ہے، جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اب یہ کر دیا گیا کہ امر ناتھ یاترا کا انعقاد ہندو کرے گا۔ اس طرح اس یاترا کو فرقہ وارانہ بنا دیا گیا اور مسلمانوں کے کردار کو ختم کر دیا گیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں فرقہ وارانہ سیاست کہاں سے آگئی ؟یہ ایک شرائن تھا جس کو ایک ریاست چلاتی تھی ۔ ریاست سے اب اسے الگ کر دیا گیا۔ اسے ایک آزاد یونٹ بنا دیا گیا جو ریاستی حکومت کے تحت نہیں ہے اور سارے حکم دہلی سے لیتا ہے۔ ہم نے بار بار کہا کہ یاتریوں کے آنے کے قانون کو ریگولرائز کرو، جیسے آپ نے گنگوتری میں کیا کیونکہ یہ بھی ماحولیاتی حساب سے کافی حساس علاقہ ہے۔ وہاں پر آپ فکرمندی دکھاتے ہو، لہٰذا یہاں اس زمین کی بھی فکر کرو۔ گنگوتری میں جو گلیشئر ہے، وہ بہت پیچھے چلا گیا ۔وہاں لوگوں کی چہل پہل اور وارمنگ سے ۔لیکن یہاں کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا۔ اب اس سرکار نے گزشتہ دو سالوں میں کیا کیا ہے ۔پنچ ترنی تک ایک الگ راستہ وہاں سے نکال رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کو یہ بھی سمجھ میں آئے کہ آپ اسے ایک الگ ہندو نگر بنا رہے ہیں۔ نتین گڈکری جب روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ منسٹر بنے، تب انہوں نے جموں و کشمیر سرکار سے کہا کہ آپ جواہر ٹنل سے دائیں اور بائیں زمین ایک انڈیپنڈنٹ باڈی کو منتقل کرو،تاکہ ہم اس کو یاترا کے لئے ڈیولپ کرسکیں۔ کشمیری پنڈتوں نے اپنی ایک اسکیم سرکار کو بتائی، جس میں وہ اپنا ایک الگ ملک بنانا چاہتے ہیں جواہر ٹنل کے دائیں سے لے کر امر ناتھ غار تک۔ آپ امر ناتھ شرائن بورڈ بل پڑھئے۔ اس میں لکھاہے کہ وہ ایئرپورٹ بنا سکتے ہیں، ریلوے لائن بچھا سکتے ہیں، اسپتال بنا سکتے ہیں، پاور اسٹیشن بناسکتے ہیں۔ اس کے لئے شرائن بورڈ کو ریاستی سرکار کو ایک درخواست دینا ہوگا کہ ہمیں فلاں جگہ اتنی زمین چاہئے اور ریاستی سرکار کو یہ کرنا ہوگا اور پیسہ ان کا اپنا ہوگا۔ ہم نے کبھی امر ناتھ یاترا کی مخالفت نہیں کی۔ جیسے اسرائیل آئوٹ آف نو وہیر(کچھ سے نہیں) بنا، اسی طرح یہ شرائن بورڈ بنا۔نہیں تو 185سال سے امر ناتھ یاترا کا کرتا دھرتا مسلمان تھا۔ جس وقت اس گوفہ کی کھوج ہوئی تھی، اس وقت ایک سمجھوتہ ہوا تھا کہ اس میں جو چڑھاوا آئے گا اس کے تین حصے ہوں گے۔ ایک حصہ ملک لوگ، دوسرا دھرم رتھ لیں گے اور تیسرا مٹن کے پنڈے لیں گے۔ مٹن اننت ناگ کے پاس ایک جگہ ہے۔ اے کے سنہا جو کہ یہاں کے گورنر تھے، انہوں نے ملک کو ایک بار پیسہ دے کر بے دخل کردیا۔ پتہ نہیں ملک کو ہٹانے کے بعد کچھ پیسے دیئے یا نہیں، یہ کسی کو پتہ نہیں ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کو کچھ پیسے دے کر ہٹا دیا گیا۔ کشمیر کا گورنر بھی ہندو کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔
میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب سے ہم نے یہ تحریک زور و شور سے چلائی، تب سے انہوں نے کیا کیا چال چلی، میں یہ کہنا چاہتی ہوں۔ یہ کسی کا بیان نہیں ہو سکتا ہے کہ آپ ایک ایسا ایکسٹرا کنسٹی ٹیوشنل باڈی بنائیں جو سرکار سے پورا تعاون لے ،لیکن اس کی کوئی ذمہ داری ریاستی سرکار کے تحت نہ ہو۔ ایک چھوٹی مثال ہے۔ جیسے وشنو دیوی کے لئے یاامر ناتھ درشن کے لئے ہیلی کاپٹر سروس ہے۔اس سے ملا سارا پیسہ شرائن بورڈ کو جاتا ہے۔ سوال ہے کہ ایئر اسپیس کس کا ہے؟کیا شرائن بورڈ کا؟نہیں ، پھر ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟کیا ہندوستان کی کسی دیگر ریاست میں ایسی کوئی مثال ہے ؟
کل ملا کر میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ کس طرح اسمبلی کے ذریعہ لوگوں کو کمزور بنانے کی کوشش کی گئی۔ سیاسی عمل اور جمہوریت کے نام پر ہمیں کمزور کیا گیا ہے۔ پی ڈی پی سرکار نے کہا کہ ہمارے پاس ایجنڈا آف الائنس ہے۔ ایجنڈا آف الائنس میں ہے کہ ہم کشمیر مسئلے کے حل کے لئے بات چیت کو آگے بڑھائیں گے ۔ ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے۔پہلے انہوں نے بی جے پی کے خلاف ووٹ لیا۔ اس کے بعد سرکار بنانے کے لئے بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا ۔ یہ ایجنڈا آف الائنس سب بکواس تھا، دھوکہ تھا۔ اب وہ دھیرے دھیرے کشمیری لوگوں کو زمین کے معاملے میں بھی کمزور بنانے کے راستے پر چل رہے ہیں۔ اس کے لئے ان کے پاس کئی پلان ہیں اور انہوں نے اس پر کام بھی کرنا شروع کردیا ہے۔ ایسی ہی اسکیم ہے شیلٹر فار ہوم لیس۔ اس میں 20 ہزار کروڑ روپے، 5لاکھ بے گھر لوگوں کے لئے گھر بنانے کے لئے رکھا گیا ہے۔یعنی جو بے گھر ہیں ان کو یہاں بسایا جائے گا۔جن فوجیوں نے ہمارے اوپر ظلم کئے، ان کے لئے بھی کالونی بنا رہے ہیں۔ آپ اس کے لئے زمین دے رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کے لئے انکلیو بنانے کی بات ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *