کشمیر اور کشمیریوں سے دل کا رشتہ جوڑئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
کشمیر ہمارے لیے کبھی ترجیح نہیں رہا۔ کشمیر کی کیا تکلیف ہے، وہ تکلیف کیوں ہے، اس تکلیف کے پیچھے کی سچائی کیا ہے، ہم نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ ہم نے ہمیشہ کشمیر کو سرکاری چشمے سے دیکھا ہے، چاہے وہ چشمہ کسی بھی سرکار کا رہا ہو۔ ہم میں سے بہت کم لوگ سرینگر گئے ہیں۔ سرینگر میں سیاح کے ناطے جانا ایک بات ہے اور کشمیر کو سمجھنے کے لیے جانا دوسری بات ہے۔ کشمیر کی تصویر ہمارے دماغ میں کچھ ایسی بسی ہے کہ کشمیر کی ہر سڑک اور ہر گلی میں دہشت گرد رہتے ہیں اور وہ کبھی بھی گولیوں کی بوچھار کر سکتے ہیں، لیکن کشمیر ایسا نہیں ہے۔ کشمیر بہت خوبصورت ہے، قدرتی طور پر بھی اور انسانی طور پر بھی۔
میں تقریباً پچیس سالوں بعد کشمیر گیا اور میں نے کوشش کی کہ کشمیر میں ان سچائیوں کو تلاش کروں، جنہیں تلاش کرنا ایک صحافی کا فرض ہے۔ کشمیر میں لوگ بہت محبت سے ملے، بنا تلخی دکھائے ہوئے انہوں نے اپنی تکلیفیں بتائیں اور بنا طنز کیے ہوئے اپنی یہ خواہش رکھی کہ ہندوستان کے لوگ ان سے باتیں کریں، ان کے من کو سمجھیں۔ انہیں اس بات کا ملال ہے کہ ان کی اور ہندوستان کے لوگوں کی آپس میں بات چیت نہیں ہو پاتی اور اسی لیے شاید ہندوستان کے لوگ کشمیر کے لوگوں کے درد اور تکلیف کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔ ہندوستان کے میڈیا سے بھی کشمیر کے لوگوں کو بہت شکایت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے اخباروں میں کشمیر کو لے کر تبھی خبریں چھپتی ہیں، جب کشمیر میں کوئی مڈبھیڑ ہو، پتھر بازی ہو یا کوئی بہت بڑی ہڑتال ہو۔ کشمیر جب پرامن رہتا ہے، تب ہندوستانی میڈیا کشمیر میں اپنی دلچسپی نہیں دکھاتا۔

جب دہلی میں یا ملک کے دوسرے حصے میں سیاسی پارٹیاں بند بلاتی ہیں، تو پارٹی کے کارکن زبردستی دکانیں بند کراتے ہیں، آٹو اور ٹیکسیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور سرکاری ساز و سامان میں آگ لگاتے ہیں۔ سرینگر کے اس بند کو دیکھ کر مجھے لگا کہ یہ بند اپنی مرضی سے ہے اور اس بند کے پیچھے چھپی طاقت کو سمجھنا چاہیے۔ سرینگر کو لے کر ہمارے من میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔ پہلی غلط فہمی ہے کہ وہاں کے ہر گھر میں پاکستانی جھنڈا لہرایا جاتا ہے، کشمیر کے لوگ پاکستان میں ملنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی صحیح نہیں ہے، کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ پاکستان جب اپنے ہی لوگوں کو نہ کھانا دے پا رہا ہے، نہ ترقی دے پا رہا ہے، نہ روز گار دے پا رہا ہے تو وہ انہیں کیا دے گا۔ پاک مقبوضہ کشمیر کی بدحالی کی جانکاری بھی سرینگر کے لوگوں کو ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہوئے وعدے نبھائے جائیں، انہیں عزت کی نظر سے دیکھا جائے، ان کا مذاق نہ اڑایا جائے اور ان کے ساتھ سونے کے پنجرے میں بند چڑیا جیسا سلوک نہ کیا جائے۔

ان دنوں کشمیر پرامن ہے۔ 2008-09 اور 2010 جیسی بدامنی سڑکوں پر نہیں دکھائی پڑتی۔ سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل نے کشمیر کے حالات پر ایک کتاب لکھی ہے اور اس میں کہا ہے کہ کشمیر میں سیاح آ رہے ہیں، کشمیر میں بازار کھلے ہیں، اسکول کھلے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ ڈائریکٹر جنرل صاحب کے اس بیان کی ہندوستان میں بڑی مذمت ہوئی اور کچھ نیتاؤں نے تو یہاں تک مانگ کر ڈالی کہ سرکاری اہل کاروں کو کتاب لکھنے کے حق سے محروم کر دیاجائے۔ کشمیر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کیسی جمہوریت ہے، جو سوچ کے اوپر بھی پہرے بیٹھانے کی بات کرتی ہے۔ انہوں نے یہ صاف کہا کہ جمہوریت کی خوبصورتی ہی اس لیے ہے کہ یہاں رہنے والے ہر آدمی کو بغیر کسی خوف کے اپنی بات کہنے کا موقع ملتا ہے۔
میں سرینگر کے تقریباً ہر حصے میں گھوما اور مجھے اس بات کے اشارے ملے کہ یہی موقع ہے، جب کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ ترجیح دینی چاہیے۔ میں کشمیر میں حریت رہنماؤں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، جے کے ایل ایف کے لیڈر یاسین ملک، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے شبیر شاہ سے ملا۔ ان کے ساتھ میری کافی لمبی بات چیت ہوئی۔ جس ایک بات کو ان سب نے کہا، وہ یہ کہ ہندوستانی حکومت کو پرامن آوازوں کو سننا چاہیے۔ اگر ہندوستانی حکومت پرامن طریقے سے کیے جانے والی مانگوں کو نہیں سنے گی تو وہ یہ پیغام دے گی کہ اسے تشدد آمیز یا ہتھیاروں کی زبان یا توڑ پھوڑ کی آواز سمجھ میں آتی ہے۔
میری ملاقات سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی سے بھی ہوئی۔ مفتی صاحب جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے ملک کے وزیر داخلہ رہے ہیں۔ ان کا صاف ماننا ہے کہ یہی وقت ہے، جب ہندوستانی حکومت کو کشمیر میں اعتماد بحالی کی پہل کرنی چاہیے۔ محبوبہ مفتی نے مجھے ایک تصویر دکھائی، جس میں ایک 11 سال کے بچے کو پولس پکڑ کر لے جا رہی تھی۔ الزام یہ ہے کہ وہ بچہ ملک کے خلاف کام کر رہا ہے۔ پولس والے کا ہاتھ اور اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑے اس کی 7 سال کی بہن زار و قطار آنسو بہا رہی ہے۔ محبوبہ مفتی نے مجھ سے سوال کیا کہ اگر 11 سال کا بچہ آپ سمجھتے ہیں ہندوستان کے ساتھ نہیں ہے، تو پھر کشمیر میں ہندوستان کے ساتھ ہے کون؟ یہ سوال صرف محبوبہ مفتی کا نہیں ہے، بلکہ کشمیر میں رہنے والے تقریباً ہر آدمی کا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر پاکستان سے جڑا ہوا علاقہ ہے، اس لیے وہاں فوج رہے گی ہی۔ لیکن فوج کتنی رہے اور فوج کا کام کیا ہو، اس پر بحث ضروری ہے۔ کشمیر کے لوگ فوج سے دہشت زدہ ہیں، وہ فوج کی دہشت کی بہت سی کہانیاں بتاتے ہیں۔ جب ہندوستانی فوج کا ایک سپاہی غلطی کرتا ہے تو اس کا الزام پوری فوج کے اوپر لگ جاتا ہے۔ یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کشمیر کے لوگ ہمارے بھائی ہیں، انسان ہیں یا جزوی طور پر غلام ہیں۔
میں نے اوپر کشمیر کے جن لیڈروں کے نام لکھے ہیں، وہ سب چاہتے ہیں کہ ہندوستان کی سیاسی پارٹیاں کشمیر کے نظریے کو سمجھیں، پر انہیں افسوس ہے کہ ہندوستان کی سیاسی پارٹیاں بھی ہندوستانی حکومت کی طرح کشمیر کو ترجیح نہیں دیتیں۔ ان کے من میں پرکاش کرات، اے بی بردھن، ارون جیٹلی، ملائم سنگھ یادو، شرد یادو، رام وِلاس پاسوان اور منی شنکر ایّر جیسے لیڈروں کے لیے عزت ہے، پر یہ لیڈر بھی ہندوستانی حکومت کی طرح کشمیر کو اپنی ترجیح نہیں مانتے۔ ان میں سے اگر کوئی کشمیر جاتا ہے تو خاموشی کے ساتھ آرام کرنے جاتا ہے۔ کشمیر کے لوگ ان لیڈروں سے رابطہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔
کشمیر میں ہندوستانی حکومت کی طرف سے مقرر کیے گئے مذاکرات کاروں کو لے کر شک و شبہ کا ماحول ہے۔ ان کی رپورٹ کو کشمیری قیادت صحیح نہیں مانتی۔ ان کی رپورٹ کے زیادہ تر حصوں کو کشمیر کے لوگ اصلیت سے دور اور تعصب سے بھرا مانتے ہیں۔ کشمیر کے لوگوں کے من میں اٹل بہاری واجپئی کو لے کر بہت زیادہ احترام ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر اٹل بہاری واجپئی ہندوستان کے وزیر اعظم کچھ دن اور رہتے تو وہ کشمیر مسئلہ کے حل کے لیے شاید کافی کچھ کرتے۔ کشمیریوں کے من میں پی چدمبرم کے ذریعے وزیر داخلہ رہتے ہوئے لوک سبھا میں کی گئی تقریر نے بھی بڑی امید جگائی تھی۔ اس میں چدمبرم نے کہا تھا کہ کشمیر ایک یونیک مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی یونیک ہوگا، لیکن چدمبرم کا بیان بھی صرف بیان رہا۔
سرینگر میں سید علی شاہ گیلانی نے بند کا اعلان کیا، میں نے اپنا واپس آنا ایک دن آگے بڑھا دیا، کیوں کہ میں نام نہاد علاحدگی پسندوں کے بند کی حقیقت دیکھنا چاہ رہا تھا۔ بند کے دن میں پورے سرینگر میں گھوما اور میں نے پایا کہ نوے فیصد دکانیں بند ہیں، سڑکوں پر بسیں نہیں چل رہی ہیں اور نہ سڑکوں پر بھیڑ بھاڑ ہے۔ اس کے باوجود جو سڑکوں پر چلنا چاہ رہا تھا، اسے کوئی روک نہیں رہا تھا۔ پرائیویٹ گاڑیاں چل رہی تھیں، پرائیویٹ ٹیکسیاں چل رہی تھیں، کچھ ہوٹل والوں نے اپنے ہوٹل بھی کھول رکھے تھے، پر انہیں کوئی ڈنڈے کے زور سے یا نعروں کے شور سے بند نہیں کرا رہا تھا۔ جب دہلی میں یا ملک کے دوسرے حصے میں سیاسی پارٹیاں بند بلاتی ہیں، تو پارٹی کے کارکن زبردستی دکانیں بند کراتے ہیں، آٹو اور ٹیکسیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور سرکاری ساز و سامان میں آگ لگاتے ہیں۔ سرینگر کے اس بند کو دیکھ کر مجھے لگا کہ یہ بند اپنی مرضی سے ہے اور اس بند کے پیچھے چھپی طاقت کو سمجھنا چاہیے۔ سرینگر کو لے کر ہمارے من میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔ پہلی غلط فہمی ہے کہ وہاں کے ہر گھر میں پاکستانی جھنڈا لہرایا جاتا ہے، کشمیر کے لوگ پاکستان میں ملنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی صحیح نہیں ہے، کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ پاکستان جب اپنے ہی لوگوں کو نہ کھانا دے پا رہا ہے، نہ ترقی دے پا رہا ہے، نہ روز گار دے پا رہا ہے تو وہ انہیں کیا دے گا۔ پاک مقبوضہ کشمیر کی بدحالی کی جانکاری بھی سرینگر کے لوگوں کو ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہوئے وعدے نبھائے جائیں، انہیں عزت کی نظر سے دیکھا جائے، ان کا مذاق نہ اڑایا جائے اور ان کے ساتھ سونے کے پنجرے میں بند چڑیا جیسا سلوک نہ کیا جائے۔
کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ہیں۔ ان سے کشمیر کے لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں اور وہ امیدیں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ عمر عبداللہ کو بہت کچھ دہلی کے اشارے پر کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ کشمیری ہیں، نوجوان ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کے لیے شاید کچھ کر سکیں۔ میرے یہ پوچھنے پر کہ کیا عمر عبداللہ کو 2014 میں پھر سے کشمیر کے عوام موقع دیں گے، لوگوں نے کہا، شاید دیں گے۔ جو دوسرا نام ابھی سے انتخابات کی تیاری کر رہا ہے، محبوبہ مفتی کا ہے۔ ہندوستان کے سیاسی لیڈروں، صحافیوں اور عام لوگوں کو کشمیر جانا چاہیے اور کشمیر کے لوگوں کے ساتھ انسانیت کا اور دل کا رشتہ جوڑنا چاہیے۔ ابھی بھی وقت ہے اور وقت اس لیے ہے، کیوں کہ ابھی بھی کشمیر میں امن ہے۔ اس موقع کا فائدہ سرکار اٹھائے یا نہ اٹھائے، ملک کے سیاست دانوں کو اٹھانا چاہیے اور کشمیریوں کی تکلیف میں خود کو شریک کرنا چاہیے۔ کل شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *