کاس گنج متاثرکاچیک لینے سے انکار، دفعہ 144ہنوز نافذ

Share Article
chandan-family
یوم جمہوریہ کے موقع پراترپردیش کے کاس گنج میں دوفرقوں کے درمیان تشددکے بعدعلاقے میں ماحول کشیدہ ہے۔لیکن اس دوران ضلع انتظامیہ نے ہلاک چندن کے گھر20لاکھ روپے کا چیک دینے پہنچاتو گھروالوں کوحالت کافی خراب تھی ،ان کا کافی براحال تھا۔انہوں نے چیک لینے سے فوراً انکارکردیا۔ چندن کے والدین نے انتظامیہ پرالزام لگایاکہ جب یہاں تشددوتنازعہ ہورہاتھاتب وہ ایٹہ میں بیٹھ کرنمائش دیکھ رہے تھے۔
وہیں ضلع مجسٹریٹ آر پی سنگھ نے بتایا کہ کاس گنج کے حالات تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں اور لوگ اپنے گھروں سے نکل رہے ہیں۔ احتیاط کے طور پر شہر میں اب بھی دفعہ 144 نافذ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس فورس کے ساتھ افسران بھی گشت کر رہے ہیں۔ فسادیوں پر ڈرون کیمروں سے بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ لوگوں سے باہمی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹے سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔ پولیس اب تک 112 سے زائد افراد کو گرفتار کر چکی ہے جس میں 81 افراد نقض امن کے الزام میں اور 31 افراد کو دوسرے معاملوں میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاٹس ایپ پر افواہ نہ پھیلے، لہذا انٹرنیٹ سروس اب بھی بند ہے۔ حالات کا جائزہ لینے کے بعد رات کو انٹرنیٹ سروس بحال کرنے پر فیصلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آج سے تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 26 جنوری کو ترنگا یاترا کے دوران کاسگنج شہر کوتوالی علاقے میں دو گروپوں کے درمیان پتھراؤ اور فائرنگ کے بعد ہونے والے تشدد میں ایک نوجوان کی موت ہو گئی تھی جبکہ ایک زخمی ہو گیا تھا۔ واقعہ کے بعد آر اے ایف ، پی اے سی اور بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کرنا پڑی تھی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *