انا  ہزارے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گئے اور انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں، جو کہتے ہیں کہ کیا کھائوں۔ مطلب یہ کہ ان کے پاس کھانے کو اتنا کم ہے کہ انہیں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ وہ کیا کھائیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں، جو کہتے ہیں کہ کیا کیا کھائوں۔ مطلب یہ ہے کہ ان  کے پاس کھانے کی اتنی چیزیں مہیا ہیں کہ انہیں ان میں چننا پڑتا ہے کہ کیا کیاکھائیں۔ انا ہزارے نے سماج میں پھیلے اس فرق کی طرف دھیان دلایا ہے، جو امیروں اور غریبوں کے درمیان موجود ایک بڑی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔بدعنوانی کے خلاف انا کی تحریک اس سلسلے میں حوصلہ فراہم کرتی ہے۔انا کو یقین ہے کہ بدعنوانی کے سبب جو پیسہ سسٹم سے باہر جاتا ہے، اگر وہ ترقی کے کام میں لگایا جائے تو غریبوں کے مسائل پر بہتر طریقے سے دھیان دیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بد عنوانی ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن میرا سوچنا ہے کہ ہمارے پاس غریبی مٹانے اور سب غریب لوگوں کو مناسب ڈھنگ سے کھانا مہیا کرانے کی کوئی صحیح پالیسی نہیں ہے۔ انا ہزارے کے بد عنوانی مخالف مظاہرے میں شامل ہونے والے زیادہ تر لوگ اس طبقے کے تھے، جنہیں اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ کیا کیا کھائوں، نہ کہ اس طبقے کے، جنہیں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا کھائوں۔ شہری علاقے میں تو زیادہ تر ایسے ہی لوگ انا کی تحریک میں شامل تھے۔ بد عنوانی مخالف مہم کی حمایت قابلِ تحسین ہے، لیکن سب سے بڑی بات ہے کہ ہمارا ملک جس طرح کے مالی مسائل کا سامنا کر رہا ہے، ان کی طرف انا ٹیم کو دھیان دینا چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ بد عنوانی کم ہونے سے ہماری مالی پوزیشن پہلے سے زیادہ کارگر طریقے سے کام کرے گی، لیکن اس سے مسائل کا حل تو نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود فرق بڑھے گا۔ ایک سابق وزیر مالیات کا کہنا ہے کہ جب طغیانی آتی ہے تو ساری کشتیاں حرکت میں آجاتی ہیں۔ ان کا مطلب ہے کہ اگر معیشت کی ترقی ہوگی تو سبھی لوگوں کو اس کا فائدہ ہوگا، لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔
گزشتہ بیس سالوں کو دیکھنے سے یہ بات حتمی ہوجاتی ہے ۔ اس درمیان جی ڈی پی اور وی او پی کی اصلاح سے ہندوستانی معیشت میں ترقی ہوئی ہے، لیکن اس کے  مطابق غریبوں کے مسائل کا حل نہیں ہوپایا ہے۔ اسی سبب یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح کی پالیسی موجودہ وقت میں اختیار کی جارہی ہے، اگر آگے بھی کی جاتی رہی تو غریبوں کے مسائل حل نہیں ہو پائیں گے۔ غریب اور بے روزگار لوگ کیا کھائیں والی صورت حال سے باہر نہیں نکل پائیں گے۔ یہ صحیح ہے کہ منریگا جیسے کچھ منصوبے  بنے ہیں، جن سے روزگار ملتے ہیں اور غریبوں کو پیسہ ملتا ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ موجودہ معیشت میں پارلیمنٹ لوگوں کے مسائل کی نمائندگی نہیں کر پا رہی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ابھی جس طرح کا انتخابی نظام ہمارے ملک میں ہے، اس سے ہم اصلاح کی بات نہیں سوچ سکتے۔ یہ صحیح بھی ہو سکتاہے اور غلط بھی، لیکن اگر موجودہ مالی نظام  سے لوگ مطمئن نہیں ہیں تو پھر اس کا متبادل تلاش کرنا ہی پڑے گا۔ موجودہ انتخابی نظام بنیادی طور پر امیروں اور طاقتور لوگوں کی ہی مدد کرتا ہے۔
اگر پارلیمانی جمہوریت کو صحیح معنوں میں آگے بڑھانا ہے تو اس نظام کو جلد سے جلد سدھارنے کی ضرورت ہے۔ اس میں سدھار کے لیے ایک تجویز رکھی گئی تھی کہ انتخاب میں پارٹیوں کے اوپر جو خرچ کیا جاتا ہے، اس کا بندوبست خود سرکار کرے، تاکہ انتخاب میں کالے دھن کا استعمال روکا جاسکے۔ الیکشن کمیشن سے  اس بات کی مانگ کی گئی تھی کہ چنائو میں ایک امیدوار کے لیے خرچ کی جو حد مقرر کی گئی ہے، اسے بڑھایا جائے۔ الیکشن کمیشن نے اسے بڑھا کر اسمبلی کے چنائو کے لیے 16 لاکھ روپے کر دی۔ عام طور پر ایک ممبر اسمبلی اپنا انتخابی خرچ آٹھ سے نو لاکھ روپے دکھاتا ہے، لیکن سبھی جانتے ہیں کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ جتنی رقم دکھائی جاتی ہے، اس سے کئی گنا زیادہ خرچ کی جاتی ہے۔ یہ سارا انتخابی خرچ کالا دھن ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں انتخاب میں کالے دھن کے استعمال کو روکنا بہت مشکل لگتا ہے۔ پارٹیاں چاہے سرکار سے پیسہ لیں یا نہ لیں، کالے دھن کا استعمال تو کیا ہی جائے گا، کیونکہ خرچ کی حد مقرر کرنے کے بعد بھی چنائو میں کئی گنا زیادہ خرچ کیا جاتا ہے، جسے الیکشن کمیشن نہیں روک پاتا ہے۔ اگر حکومت انتخاب لڑنے کے لیے پارٹیوں کو پیسہ دے گی تو بھی یہ ہوگا، تو پھر کیوں سرکاری دولت برباد کی جائے۔ اس لیے انتخابی اصلاح کے لیے تفصیلی مباحثے کی ضرورت ہے، اس کے بعد ہی اس کا  تعین کیا جا سکتا ہے کہ کیسے الیکشن کا نظام ہمارے ملک میں درست ہو۔g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here