فسطائیوں کی پناہ گاہ ہے نیشنلزم

Share Article

کشمیر کے حالات آج ایسے ہوگئے ہیں جوکہ 1980 کے اواخر کے بعد کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ حالانکہ طالب علموں نے 2010میں بھی سنگ باری کی تھی، لیکن اس کے بعد چیزیں قابو میں آگئی تھیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر متاثرہ لوگوںسے وقت رہتے بات چیت نہیں کی گئی تو مسئلہ اور بڑھ جائے گا اور اگر وہاں کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی، جن کے ساتھ ہم خود کو نہیں جو ڑ پائے، تو پھر بات چیت کا موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ یہاں میں ایک دلیل دینا چاہوں گا۔ آپ گیلانی کو کنارے لگانا چاہتے ہیں۔ لیکن کیوں! گیلانی ایک نظریہ کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ علیحدگی پسند ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے نظریہ سے اتفاق نہ رکھتے ہوں، لیکن پھر بھی وہ ایک نظرئے کی نمائندگی تو کرتے ہیں۔ ایسے میں انہیں بات چیت سے الگ رکھنے کے بجائے ان سے گفتگو کرنا بہتر متبادل ہوگا۔ اب موجودہ حالات پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کے موجودہ حالات کے لیے گیلانی ذمہ دار ہیں، توپھر انہیں بات چیت میں شامل کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟یہاں طالب علم ہیں، نوجوان ہیں آپ کس سے بات کریں گے اور کس سے نہیں کریں گے؟ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کشمیر گئے ہیں، ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن مدعا یہ ہے کہ آپ موجودہ حالات کو معمول پر کیسے لائیں گے؟ صرف انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت جیسے بیان سے کچھ نہیں ہونے والا ، اٹل جی کی نقل سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ۔
اٹل جی نے کشمیر کے معاملے میں ایمانداری سے مداخلت کی تھی۔ انہوںنے کہا تھا کہ ہم انسانیت اور کشمیریت کے پیمانے پر کشمیر مسئلے کے حل کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ یہاں پی ڈی پی (پپلس ڈیموکریٹک پارٹی) کی سرکار بنا کر اور آرٹیکل 370پر اپنا رخ تبدیل کیے بغیر آپ عوام کے درمیان کس طرح کا اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں؟لوگوں کو اس بات کا احساس ہے کہ آپ صرف عہدے اور اقتدار کے لیے حکومت میں شامل ہوئے ہیں اور آپ مسئلے کے حل کو لے کر سنجیدہ نہیں ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی کشمیر مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے تو اس کی فکر مثبت اور عام ڈگر سے ہٹ کر ہونی چاہیے۔ پیکج اور اس طرح کے اعلانات سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، بلکہ ایسے اقدام کو نوجوان اپنی بے عزتی خیال کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں امید کرنی چاہیے کہ وزیر داخلہ کچھ بہتر کریں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ2019اب دور نہیں ہے، صرف تین سال باقی ہیں۔ اگر کرکٹ کی اصطلاح میں بات کریں تو ایک ون ڈے میچ کے 50اووروں میں سے 27اوور ختم ہوگئے ہیں۔ کرکٹ میں آخری 6اووروں میں آپ بہت زیادہ رن بنا سکتے ہیں، لیکن سیاست میں آخری 6اووروں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اس حکومت کے پاس کچھ کرنے کے لیے صر ف دو سال اور کچھ مہینے کا وقت باقی ہے۔ ترقی ایک یا دو سال میں نہیں کی جا سکتی۔ سرکار اپنی استعداد کے مطابق بہتر کام کر رہی ہے، لیکن 2019میں آپ لوگوں کو کیا دکھا کر ووٹ مانگیں گے؟ آپ یہ کہہ کر ووٹ نہیں حاصل کر سکتے ہیں کہ ترقی کی شرح(شرح نمو) 7.8 یا 7.9فیصد رہی ہے۔ ان باتوں پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔ ترقی کا عام تصور عام تاثر اور افراط زر کی شرح پر منحصر رہتا ہے۔ اگر دال200روپے کلو فروخت ہوگی تو آپ کسی کو یہ نہیں سمجھا پائیں گے کہ کچھ اچھا ہورہا ہے۔اگر بڑے پیمانے پر بے روزگاری ہو اور لوگوں کو بہتر روزگار نہیں ملتا ہو تو بھی کچھ نہیں ہوگا۔ اگر کسانو ں کو راحت نہیں دی جاتی ہے تو بھی عوام کو یہ محسوس ہوگا کہ کچھ نہیںہورہا ہے۔
فسطائی طاقتوں کی عمومی پناہ گاہ قوم پرستی یا نیشنلزم ہوتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے خلاف ماحول تیار کرو اور ملک کو اپنے پیچھے کھڑا کر لو۔ یہ ان کی حکمت عملی ہوتی ہے، جسکی آپ مخالفت نہیں کر سکتے ، لیکن یہی کھیل ہے۔ پہلے وہ قومی گیت، پھر بھارت ماتا کی جئے اور اب نیشنلزم کا سہارا لے رہے ہیں۔ اداکارہ رامیہ پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ میں پاکستان گئی ہوں اور پاکستا ن جہنم نہیں ہے۔ وہاں کے لوگ بھی ہمارے جیسے ہی ہیں۔ کیا ایسا بولنا ہندوستان کے خلاف بولنا ہے؟ یہ سمجھ سے باہر ہے۔ ظاہر ہے عدالت میں یہ الزام ٹھہر نہیں پائے گا۔ سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلوں میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کسی شخص کے خلاف آپ اس وقت تک ملک سے غداری ثابت نہیں کرسکتے جب تک کہ اس کی تقریر سے تشدد نہ بھڑکا ہو۔محض نفرت انگیزتقریر ملک سے غدراری نہیں ہے۔ غدراری کا مطلب ہے جب آپ یہ کہیں کہ ہم سرکار کے خلاف تشدد بھڑکانا چاہتے ہیں۔ رامیہ کے بیان میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ لیکن یہ اشارے اچھے نہیں ہیں۔ اگر وزیر اعظم تاریخ میں خود کو ایک ذمہ دار، اچھے اور تخلیقی وزیر اعظم کے طور پر درج کرانا چاہتے ہیں تو انہیں سنگھ پریوار سے جڑے ایسے عناصر پر قابو رکھنا ہوگا جو انہیں کے لیے پریشانی کا سبب بن رہے ہیں۔
پیاز کی قیمتیںپھر سرخیوں میں ہیں۔ اس بار یہ سرخیاں 100روپے کلو پیاز کی وجہ سے نہیں ہیں، بلکہ 5پیسہ فی کلو فروخت ہونے کی وجہ سے ہیں۔ کسان پیاز 5 پیسے فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہاہے اور یہ بازارمیں 4روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہورہی ہے۔ بے شک اس کا فائدہ مڈل مین اٹھا رہے ہیں۔ یہ افسوسناک کہانی برسوں سے جاری ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ کسانوں کو ملنے والے پیسے اور صارف (خریدار) کے ذریعہ ادا کئے گئے پیسے کے درمیان کا فاصلہ کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ زراعت کے شعبے میں بہت کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے۔ بے شک سوائل ہیلتھ کارڈ جیسے کچھ قابل ستائش کام ہوئے ہیں، لیکن ٹرانسپورٹیشن، اسٹوریج کے لیے کسان اب بھی مقامی تاجروں پر انحصار کرتے ہیں۔ تاجر کسان کی نہیں بلکہ اپنے مفاد کی فکر کرتا ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ حالات میں سدھار ہوگا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *