بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں 82سالہ بزرگ لیڈر بیرسٹر کمال حسین کے سرگرم عمل ہونے سے سیاسی صورتحال اچانک بدل گئی ہے۔ ان کی قیادت میں 5سیاسی پارٹیوں کے اتحاد جاتیہ اوکیا فرنٹ (قومی اتحاد فرنٹ) کے بی این پی قیادت والے 20پارٹیوں کے اپوزیشن فرنٹ سے اتحاد کے بعد اپوزیشن میں جان آگئی ہے۔ آئندہ 30دسمبر کو ملک میں 9پارلیمانی انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔ اس نئی صورتحال کے پیدا ہونے سے شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کی قیادت والے 14پارٹیوں والے برسراقتدار اتحاد کےسامنے زبردسست چیلنج آگیا ہے۔ ’چوتھی دنیا اردو 5تا11نومبر2018کے گزشتہ ماہ کے اوائیل میں اپنے نمائندہ کے بنگلہ دیش دورے کے بعد اپنی خصوصی رپورٹ شیخ حسینہ کے آمنے سامنےکمال حسین میں یہ چونکانے والا انکشاف بھی کردیا تھا جو کہ اب ثابت ہوگیا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کمال حسین اپنے شاندار پس منظر کے ساتھ بلگلہ دیش کے مہاتیر محمد ثابت ہوسکتے ہیں اور شیخ حسینہ کے مقابلے آسکے ہیں۔ کمال حسین بابائے قوم شیخ مجیب الرحمن کے نہایت قریبی اور ملک کے آئین سازوں میں شامل رہے ہیں۔
 
 
 
ضرور پڑھیں

ریاستی وزیر فرہاد حکیم بنے کولکاتہ کے میئر

 
 
قابل زکر ہے کہ شیخ حسینہ نے یکم نومبر کو بیرسٹر کمال حسین کی قیادت میں ایک اعلیٰ اپوزشین وفد سے ملاقات کی تھی ۔ ویسے یہ بھی اہم ہے کہ شیخ حسینہ کے برسر اقتدار اتحاد نے حال میں متعدد پولنگ سینٹروں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو استعمال کرنے کے لیے ایک چارٹر تیار کیا ہے۔
عیاں رہے کہ بی این پی کے اتحد میں ممنوعہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش شامل تھی۔ علاوہ ازیں جماعت کے کچھ افراد کے آزاد امیدوار کے طورپر یا بی این پی کے ٹکٹ پر انتخابات لڑنے کی خبریں بھی سننے کو مل رہی ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن نے اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ کسی بھی ایسی پارٹی جس کا رجسٹریشن ختم کردیا گیا ہے کہ افراد آزادانہ یا کسی پورٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here