کمل ہاسن کی فلم تنازعہ کا شکار

Share Article

شاہد نعیم
تمل فلم انڈسٹری کے سُپر اسٹار کمل ہاسن کی فلم ’وشو روپم‘ تنازع کا شکار ہو گئی۔ یہ فلم 25 جنوری کو ریلیز ہونا تھی، لیکن مسلم تنظیموںکے احتجاج کے سبب ریاستی حکومت نے اس فلم کی نمائش پر پابندی لگادی۔کمل ہاسن نے حکومت کے فیصلہ کے خلاف مدراس ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ، جہاں سے انھیں کچھ لمحوں کی راحت بھی ملی، لیکن تمل ناڈو سرکاریہ معاملہ مدراس ہائی کورٹ کے ڈبل بینچ میں لے گئی، جہاں عدالت نے سنگل بینچ کے فیصلے کوخارج کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے ذریعے فلم کی نمائش پر پندرہ روز کے لیے لگائی گئی پابندی کے فیصلے کو برقراررکھا۔ اس طرح فلم ’وشو روپم ‘ کی نمائش اپنی ہی سرزمین تمل ناڈو میں کھٹائی میں پڑ گئی۔
فلم ’وشو روپم ‘ بڑے بجٹ کی فلم ہے۔ اس کی تکمیل میں تقریباً سو کروڑ روپے لگے ہیں۔ کمل ہاسن اس صورتحال سے بہت افسردہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں بری طرح پھنس گیا ہوں۔ ’شو روپم ‘ میرے لیے ایک فلم نہیں، بلکہ میری زندگی ہے۔ میں نے نہ صرف اپنی زندگی کے پانچ چھہ سال اس میں لگائے بلکہ اپنی پوری جائیداد اسے بنانے کے لیے گروی رکھ دی۔ مجھے انصاف چاہیے۔ ’وشو روپم ‘ سیاسی سازش کا شکار ہوئی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ کمل ہاسن نے اس فلم کے لیے اپنی زندگی کا سارا سرمایہ داؤ پر لگادیا ہے یہاں تک کہ اپنا گھر تک گروی رکھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ کمل ہاسن اپنے اوپر لگے فرقہ پرستی کے الزام سے بھی بہت افسردہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس فلم میں مسلمانوں کی دل آزاری یا اسلام اور مسلمان کی شبیہ خراب کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے ، لیکن بعض چھوٹے گروپ اپنے سیاسی مفاد کے لیے مجھے استعمال کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس فلم کو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ کوئی بھی مسلمان اس کو دیکھ کر فخر کرے۔  ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی بھی فلم سینسر بورڈ سے اسی وقت پاس ہوتی ہے، جب کہ اسے ہر زاویے اور نقطئہ نگاہ سے اچھی طرح جانچ پرکھ لیا جاتا ہے ، لیکن سینسر بورڈ سے پاس ہونے کے باوجود ’وشو روپم ‘ تنازع کا شکارہو گئی۔ مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے سے مایوس ہوکر کمل ہاسن نے کہا کہ تمل ناڈو حکومت نہیں چاہتی کہ وہ ریاست میں رہیں۔ اس لیے مجھے تمل ناڈو چھوڑ کر کشمیر سے لے کر کیرالہ تک کوئی سیکولر ریاست تلاش کرنی ہوگی یا پھر ایم ایف حسین کی طرح کسی دوسرے ملک جانا ہوگا۔  اس دوران پوری فلم انڈسٹری کمل ہاسن کی حمایت میں اتر آئی ہے، سیاستدانوں کو بھی اس تنازع میں کودنے کا موقع مل گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے کمل ہاسن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر کسی کو اظہار کی آزادی حاصل ہے اور فنکاروں کو اپنی پسند کا کام کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے۔ مرکزی وزیر برائے اطلاعات ونشریات منیش تیواری نے کہا کہ ایک بار جب فلم سینسر بورڈ کسی فیصلے پر پہنچتا ہے تو ریاستی سرکاروں کو اس کو عمل میں لانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے پرکاش جھا کے معاملے میں اسی رخ کو اپنایا تھا۔ سینسر بورڈ کی لیلا سیمسن سمیت فلمی دنیا کے اہم شخصیات نے کمل ہاسن کی حمایت مین آواز بلند کی ہے۔ سیمسن نے کہا کہ سینسر بورڈ سے منظوری ملنے کے بعد ریاستی سرکاریںفلم کی نمائش کو کیسے روک سکتی ہیں۔ مشہور فلمسازمہیش بھٹ نے کہا کہ کمل ہاسن نیشنل پراپرٹی ہیں، ایک بے داغ فنکار ہیں۔ انھیں بے عزت کیا گیا ہے۔ پورے فلمی طبقے کے لیے یہ ایک سب سے سیاہ موقعوںمیں سے ایک ہے۔ جاوید اختر نے کہا کہ سرکار کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ لاء اینڈآرڈر کو سدھارے، نہ کہ اس طرح فلم کی نمائش پر روک لگائے۔ اس سے سرکار کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔ ہم کمل کے ساتھ ہیں۔ اس موقع پر شاہ رخ خان نے کہا کہ کمل ہاسن سینئر فنکار ہیں جن کی میں بہت عزت کرتا ہوں۔ میری کمپنی ریڈ چلی نے ’وشو روپم ‘ میں ویژئل افیکٹ کا کام کیا ہے۔ فلم پر تنازع پوری طرح بدقسمتی کی بات ہے اور غلط ہے۔ اس سلسلے میں سلمان خان نے کہا کہ سینسر بورڈ نے اس فلم کی منظوری دیدی ہے ، سو فی صدی میں اس فلم کو دیکھنے جارہا ہوں۔ شاہ رخ خان نے ایک پروگرام میں کہا کہ ہم سب ا س سے گزر چکے ہیں ، ہم سب نے اس کا سامنا کیا ہے۔ یہ کسی فلم کے ساتھ سب سے بد قسمتی کی بات ہے۔ میں واقعی یہ بتانا چاہوں گا کہ میری فلم کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے۔ میری فلموں بلو باربر اوراوم شانتی اوم کے لیے کے لیے بھی ایسا کیا گیا۔ جنوبی ہند کے مشہور اداکار ناگارجن نے بھی کمل ہاسن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے فلم نہیں دیکھی ہے لیکن میں کمل ہاسن کو لمبے عرصے سے جانتا ہوں اور ان کا مداح ہوں۔ رنویر شوری ، رجت کپور اور منوج باجپئی نے کمل ہاسن کی حمایت جتائی ہے۔ کمل ہاسن کے دوست اور سپر اسٹار رجنی کانت نے بھی ہاسن کی حمایت کی ہے۔
اس دوران فلم ’وشو روپم ‘ کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے ڈی ایم کے کے سربراہ کرونا ندھی نے سوال اٹھایا ہے کہ کہیں کمل ہاسن کو چدمبرم کی تعریف تو بھاری نہیں پڑ رہی ہے۔ دراصل ایک پروگرام میں کمل ہاسن نے مرکزی وزیرخزانہ چدمبرم کی جم کر تعریف کی تھی اور انھیں ماہر اقتصادیات کے ساتھ ساتھ انھیں وزیر اعظم بننے کے لائق بتادیاتھا۔ اسیتعریف کے پیش نظر کرونا ندھی نے کمل ہاسن سے تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للتا کی ناراضگی کو جوڑا ہے ۔کمل ہاسن سے جے للیتا کی ناراضگی کی ایک اور تھیوری بھی بتائی جارہی ہے کہ دراصل کمل ہاسن اپنی فلم ’وشو روپم ‘ کو سنیما گھروں کے ساتھ ساتھ ڈی ٹی ایچ پر بھی ریلیز کرنے والے تھے اور ڈ ی ٹی ایچ کے ڈسٹری بیوشن رائٹس کے لیے جے للتا کی جیا ٹی وی سے بات چیت ہوئی تھی، لیکن بعد میں بات نہیںبنی اور رائٹس وجیا ٹی وی کو بیچ دیے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمل ہاسن کے اس اقدام کی وجہ سے بھی جے للتا کافی ناراض تھیں۔لیکن وزیر اعلیٰ جے للتانے ان تمام الزام کو من گھڑت بتاتے ہوئے کہا کہ اس فلم کی نمائش پر کچھ مسلم تنظیموں کو اعتراض تھا جس کی وجہ سے پوری ریاست میں نقص امن کا خطرہ تھا ، اسی وجہ سے اس فلم پر پابندی لگائی گئی۔ انھوںنے بتایا کہ یہ فلم ریاست کے 524سے زیادہ سنیما گھروں میں دکھائی جانی ہے اور اس کے لیے ہمارے پاس سکیورٹی کا مناسب بندوبست نہیں ہے۔ انھوں نے کہاکہ اگر کمل ہاسن مسلم تنظیموں سے ملکر ان کے اعتراض کو دور کر دیتے ہیں تو پھر فلم کی نمائش پر سے پابندی ہٹالی جائے گی۔بہر حال کمل ہاسن کی فلم ’وشو روپم ‘ کی نمائش تمل ناڈو میں ابھی تک نہیں ہوپائی ہے جبکہ شمالی ہند میں یہ فلم دکھائی جانے لگی ہے۔
ہم یہ جانتے ہیں کہ کمل ہاسن ایک بے داغ شبیہ کے سیکولرکردار والے فنکار ہیں۔ اگر وہ اس بات پرراضی ہو گئے ہیں کہ وہ متنازع حصے اس فلم میں سے نکال دیںگے، تو ہمیں بھی بڑا دل اور بڑی سوچ رکھتے ہوئے ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ آخرجب اپنے ملک کے لوگ ہی اپنوں کا ساتھ نہیں دیںگے، توپھر کون دے گا۔ دل برداشتہ ہو کر اگر کمل ہاسن ملک چھوڑ دیں گے تو ان کا تو جو نقصان ہوگا وہ ہوگاہی، فلم انڈسٹری بھی ایک عظیم فنکار سے محروم ہو جائے گی۔ ہم فدا حسین کی جلا وطنی نہیں بھولے ہیں ہمیں جتنا ان کا دکھ ستاتا ہے اتنا ہی کمل ہاسن کابھی دکھ ستائے گا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *