کام کے بوجھ تلے بابو

Share Article

حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کی کامیابی کے سبب درخواستوں کا سیلاب آ گیا ہے۔ صرف مرکزی حکومت کی بات کریں تو ایک اندازہ کے مطابق، ہر سال تقریباً 8لاکھ درخواستیں مختلف محکمات کو موصول ہوتی ہیں۔ جب اتنی درخواستیں آ رہی ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ سینٹرل انفارمیشن کمیشن پر کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ حالانکہ چیف انفارمیشن کمشنر ستیندر مشر کے ساتھ ساتھ پانچ انفارمیشن کمشنر نظام بنائے رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بابوئوں پر نظر رکھنے والے لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہوتی تھی کہ حکومت ان کے کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے محکمہ میں مزید تقرریاں کیوں نہیں کر رہی ہے، لیکن اب حکومت کو اس کااحساس ہو گیا ہے اور وہ پانچ نئے انفارمیشن کمشنر مقرر کرنے کے لیے قدم اٹھا رہی ہے۔ دیر بھلے ہی ہو رہی ہے، لیکن جلد ہی انفارمیشن کمیشن میں دس انفارمیشن کمشنرکام کرنا شروع کر دیں گے، جس سے محکمہ کے بابوئوں کو قابل قدر راحت ملے گی۔
سرکاری محکموں میں ہنگلش
دہائیوں تک حکومت خالص ہندی اور خالص انگریزی پر زور دیتی رہی ، لیکن اب سرکاری زبان میں کچھ تبدیلی ہونے جا رہی ہے اور پروگرام میں ہنگلش کے استعمال کی بات کی جا رہی ہے۔وزارت خارجہ نے بابوئوں سے ایسی زبان استعمال کرنے کی بات کہی ہے، جسے بآسانی سمجھا جا سکے۔اس میں ہندی کے علاوہ دیگر زبانوں کے رائج الفاظ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔محکمہ سرکاری زبان کی سکریٹری وینا اپادھیائے نے جو گائڈ لائنس جاری کی ہیں، ان کے مطابق ، اب بابوئوں کو انگریزی کے رائج الفاظ کے بدلے سخت ہندی الفاظ کی تلاش کی ضرورت نہیں ہے۔اب وہ اپنے نوٹ میں انگریزی کے الفاظ کا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارا اہم مقصد لوگوں کی سمجھ آنے والی زبان کا استعمال کرنا ہے، نہ کہ ہندی کے نام پر سخت الفاظ کا استعمال کرنا، جنہیں سمجھنے کے لیے لوگوں کو لغت کی ضرورت پڑ جائے۔محکمہ کے اس فیصلہ سے ہندی محکمہ میں کام کرنے والے بابوئوں کو یقینی طور پر راحت ملے گی، ان کے کام کرنے کی رفتار تیز ہو جائے گی اور بار بار لغت کی مدد نہیں لینی پڑے گی۔
بابوئوں کی کمی
مغربی بنگال میں بابوئوں کی کمی ہو گئی ہے۔ اس سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی متفکر ہیں۔ جب وہ وزیر ریل بنی تھیں تو اپنے بھروسہ مند بابوئوں کو وزارت ریل میں لے آئی تھیں، لیکن اب وہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ہیں اور ریاست کے مقررہ 314آئی اے ایس افسران کی جگہ صرف 214آئی اے ایس افسران تعینات ہیں۔افسران کی کمی کے سبب حکومت کئی اسکیموں پر کامیابی سے عمل نہیں کر پا رہی ہے۔ ممتا نے مرکزسے آئی اے ایس افسران کا مطالبہ کیا ہے۔ یہی نہیں، مغربی بنگال کیڈر کے جو 42افسر باہر ڈیپوٹیشن پر ہیں، ممتا انہیں بھی بلانا چاہتی ہیں۔ ریاست کے جو افسران مرکز میں ڈیپوٹیشن پر جانا چاہتے ہیں، انہیں بھی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جن افسران کو مرکز میں ڈیپوٹیشن پر جانے کی اجازت نہیں ملی، ان میں وزارت ماحولیات کے سکریٹری آر پی ایس کہلون اور لیبر سکریٹری دلیپ رتھ بھی شامل ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *