اے یو آصف
انسانیت سوز واقعات دنیا میں کہیں بھی ہوں،شرمناک ہیں۔ایسے واقعات درحقیقت یہ بتاتے ہیں کہ انسانیت مررہی ہے۔ ماضی قریب میں خانہ جنگی کے نتیجے میں شام میں ایلن کردی کی لاش و دیگر معصوم بچوں کی حالت زار کی جو تصاویر منظر عام پر آئیں تو ہر شخص بلا لحاظ مذہب و ملت دہل اٹھا۔ اسے تو یہ کہہ کر نمٹنے کی کوشش کی گئی کہ معاملہ خانہ جنگی کا ہے اور وہاں بحرانی کیفیت ہے ،مگر 24اگست 2016کو ریاست اڑیسہ کے کالا ہاندی میں جو کچھ ہوا ہے ،اس کی تو کوئی توضیح کی ہی نہیں جاسکتی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ 23اگست کو کالا ہانڈی میں ایک قبائلی دینا مانجھی کی اہلیہ امنگ دئی کی ٹی بی سے موت ہوگئی۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہوا جب اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک کے حکم سے ریاست کے سرکاری اسپتالوں سے لاشوں کو گھروں تک پہنچانے کے لئے مفت سرکاری سروس مہا پرائن کا خصوصی انتظام ہے۔دینا مانجھی کا بیان ہے کہ اسپتال نے لاش لے جانے کے لئے ایمبولینس دینے سے انکار کردیا۔ غریبی کی لائن سے نیچے زندگی گزار رہے دینا مانجھی نے اپنی بیوی کی لاش 60کلو میٹر دور اپنے گائوں لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔ اپنی 12سالہ بیٹی کے ساتھ 10کلو میٹر تک وہ اپنی بیوی کی لاش کندھے پر اٹھا کر سڑک پردوڑتا رہا۔یہ منظر سڑک پر کھڑے لوگ بُت بنے دیکھتے رہے۔ مقامی میڈیا اہلکار کی نظر جب اس انسانیت سوز منظر پر پڑی تو کلکٹر کو اطلاع دی گئی جنہوں نے ایمبولینس کا انتظام کرکے اس کے گائوں بھجوایا اور پھر وہاں اس کی آخری رسم ادا کی گئی۔
ریاست میں مہا پرائن مفت سرکاری سروس کے رہتے امنگ دئی کی لاش کی جو دُرگت ہوئی،اس کے لئے اسپتال کاانتظامیہ اور حکومت تو ذمہ دار ہے ہی،مگر سوال یہ ہے کہ جب کالا ہانڈی کے اسپتال سے دینا مانجھی اپنی اہلیہ کی لاش کو لے کر مجبوری میں اپنے گھر کے لئے 60کلو میٹر کے سفر پر اپنی کمسن بچی کے ساتھ نکلا تو کیا اسپتال کے اندر اور باہر کوئی انسان موجود نہیں تھا۔ سوال یہ بھی ہے کہ10 کلو میٹر تک اہلیہ کی لاش کو پیدل اٹھائے اسے سڑک پر چلتے ہوئے دیکھ کر عام انسان کیوں نہیں چونکا؟کیا آج انسان کاضمیر اتنا مر چکا ہے؟انسانیت اتنا دم توڑ چکی ہے؟
سرکاری انتظامیہ کی اپنی ذمہ داری ہے۔یہ تو انہیں ادا کرنی ہی ہے،لیکن ہمارا انسانی فریضہ ، انسانی ذمہ داری اور انسانی اقدار ہرگز ختم نہیں ہونے چاہئے۔ اگر ختم ہو گئے تو پھر کیا بچے گا؟مستقبل ہمیں کبھی معاف نہیں کرسکے گا۔ یہ صرف سرکاری انتظامیہ اور ریاستی حکومت کے لئے ہی نہیں ،ہمارے لئے بھی لمحہ ٔ فکریہ ہے۔ہمیں ایسے مواقع پر ضرور چونکنا چاہئے،ورنہ یہ ہمارے اندر کی انسانیت کی موت کے مترادف ہوگا۔
اس اندوہناک واقعہ کے موقع پر اس کالم نویس کو 1983 کا ایک واقعہ یاد آتا ہے جو کہ نئی دہلی کے جی بی پنت اسپتال میں اس زمانہ کے مشہور اردو صحافی محمد مسلم ؒ کی عیادت کرنے گیا تھا۔ وہاں پہنچ کر جب بیڈ کو خالی پایا تو استقبالیہ کی طرف رُخ کیا، جہاں سبھی لوگ بشمول ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد خلیل اللہ پریشان تھے کہ برین ٹیومر کے شکار یہ عظیم صحافی اچانک کہاں چلے گئے، کہاں غائب ہوگئے۔ 3-4گھنٹے تک اسپتال کاانتظامیہ پریشان رہا۔ تب جاکر بڑے اطمینان سے کھلی شروانی میں ملبوس محمد مسلمؒ واپس آتے دکھائی دیئے ۔دریافت کرنے پر انہوں نے جو کچھ بتایا وہ واقعہ بھی کم عبرتناک نہیں تھا۔ اس وقت بھی انتظامیہ ناکام ہوگیا تھا۔جب ایک دلت خاتون زارو قطار رو کر اپنی معذوری کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں، وہ بہت غریب ہے اور اس کے ساتھ کوئی ہے بھی نہیں ہے، وہ اپنے شوہر کی لاش کی آخری رسوم کیسے ادا کرے۔
اسپتال میں لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے۔تبھی برین ٹیومر کا علاج لے رہے یہ عظیم صحافی اپنی صحت کی پرواہ کئے بغیر اس خاتون کی لاش کو سہارا دینے آگے بڑھے۔تب وہاں موجود کچھ مسلمان بھی ساتھ ہولئے۔ عجیب منظر تھافرقہ وارانہ ہم آہنگی کا اور انسانی جذبہ کا۔ ایک غیر مسلم دلت کی لاش کا ’کریا کرم‘ محمد مسلم ؒ کی رہنمائی میں چند مسلمانوں نے انجام دیا۔
دراصل یہ وہی انسانیت ہے جو مری جارہی ہے۔کیا ہم تیار ہیں اس انسانیت کو مرنے سے بچانے کے لئے۔ یہ وہ سوال ہے جو ہمارے ضمیر کو بار بار جھنجھوڑتا ہے۔یہ ہمارے لئے محاسبہ کا لمحہ ہے۔آخر کیا بات ہے کہ آج ہمارے معاشرہ میں عبد الستار ایدھی کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔
پہلے مختلف شہروں میں خدام ملت اور خدام انسانیت جیسے ادارے ہوا کرتے تھے جو ایسے مواقع پر اس طرح کی خدمات انجام دیتے تھے۔یہ ادارے لاوارث لاشوں کو بھی اپنے یہاں لاکر تجہیز و تدفین کا نظم کرتے تھے۔ ضرورت ہے کہ ایسے اداروں کا قیام عمل میں آتارہے، تاکہ بوقت ضرورت انسانی خدمت انجام دی جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here