کشمیر: ہڑتال کا لامتناہی سلسلہ جاری

Share Article

damiسرینگر کے حید رپورہ علاقے میں واقع سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر8نومبر کو دن بھر لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ جمع تھی۔ اس بھیڑ میں ایسے درجنوں نوجوان بھی شامل تھے، جنہوں نے اپنے چہروں کو رومال سے ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ اپنے پر جوش نعروں کے ذریعے گیلانی ہائوس کے اندر جاری میٹنگ کے شرکاء کو خبر دار کررہے تھے کہ وہ چار ماہ سے جاری ایجی ٹیشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کر کے ’’ شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری نہ کریں۔‘‘

در اصل گیلانی کے گھر پر ایک میٹنگ جاری تھی، جس میں یہ فیصلہ لینا تھا کہ چار ماہ سے جاری ایجی ٹیشن کو جاری رکھا جانا چاہیے یا پھراسے سمیٹ لیاجائے۔گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کی قیادت میںمنعقد ہوئی اس میٹنگ میں متعددسماجی ، مذہبی اور علاحدگی پسند جماعتوں کے لیڈروں کے علاوہ تاجر انجمنوں، ٹرانسپورٹروںکے لیڈر اور سیول سوسائٹی سے جڑی تمام اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا ۔چھ گھنٹے کی اس طویل میٹنگ میں تمام شرکاء نے ایجی ٹیشن کے حوالے سے اپنے اپنے موقف کا اظہا کیا۔ ان میں سے چند ایک نے مسلسل ہڑتال کے نقصانات کو بیان کرتے ہوئے ، وادی میں کاروبار زندگی بحال کرنے کی صلاح دی۔ لیکن بعض نے ’’کچھ حاصل کئے بغیر‘‘ ہڑتال ختم نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ میٹنگ کے اختتام پر تینوں لیڈروں گیلانی، میر واعظ اور یٰسین ملک نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایجی ٹیشن کو جاری رکھنے کا فیصلہ سُنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ میں انہیں یہ اختیار دیدیا گیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن کو جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ لینے کے مجاز ہیں۔
ہڑتال جاری رکھنے کے حریت لیڈروں کے اس فیصلے پر وادی کے عام لوگوں نے ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔کچھ لوگ یہ کہہ کر مسلسل ہڑتال کے طریقہ کار کو غلط قرار دے رہے ہیں، کہ اس کے نتیجے میں غریب عوام کا جینا محال ہورہا ہے۔ لیکن ہڑتال کو جاری رکھنے کے حق میں بولنے والے لوگوں کا استدلال ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران عوام نے جو بے پناہ قربانیاں دی ہیں، انہیں یکسر نظر انداز کرکے ہڑتال ختم کرنے کا مطلب عوام کو’’احساس شکست‘‘ سے دوچار کرنے کے مترادف ہوگا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 8جولائی کو جنوبی کشمیر کے ایک گائوں میں فورسز کے ہاتھوںنوجوان ملی ٹنٹ کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں ایک ہمہ گیر ایجی ٹیشن پھوٹ پڑی۔برہان کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگوں کی شرکت کو دیکھ کر حکومت نے وادی کے تمام دس اضلاع میں کرفیو نافذ کردیا لیکن حالات اس قدر خراب ہوگئے کہ حکومت مسلسل52دن تک کرفیو میں ڈھیل دینے سے قاصر رہی۔یہاں تک کہ عید الاضحی کے موقعے پر بھی وادی کے بیشتر علاقوں میں سخت ترین کرفیو نافذ رہا یہاں تک کہ عوام کو نماز عید کی ادائیگی کی اجازت بھی نہیں ملی۔ چار ماہ سے جاری اس ایجی ٹیشن میں اب تک ایک سو افراد ، جن میں زیادہ تر نوجوان ہی شامل ہیں، مارے جاچکے ہیں۔پندرہ ہزار افراز زخمی ہوئے ہیں، جن میںایسے سینکڑوں نوجوان بھی شامل ہیں، جن کی آنکھیں جزوی طور پر یا مکمل طور پر بینائی سے محروم ہوچکی ہیں۔پولیس اب تک لگ بھگ دس ہزار نوجوانوں کو فورسز پر پتھرائو کرنے کے الزام میں گرفتار کرچکی ہے۔ جبکہ آج بھی وادی کے مختلف علاقوں میں پولیس کے چھاپوں اور نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔اس عرصے میں حکومت نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کو مکمل طور سیل کردیا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس مسجد میں چار ماہ سے اذان کی آواز نہیں گونج پائی ہے۔حریت لیڈروںجن میں قابل سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یٰسین ملک ہیں، کی جانب سے دیئے جانے والے ’’احتجاجی کلینڈروں‘‘ پر لوگ عمل کرتے ہوئے مسلسل ہڑتال پر ہیں۔ان مسلسل ہڑتالوں کے نتیجے میں تاجروں اور ٹرانسپورٹر وں، پرائیویٹ دفاتر میں کام کرنے والوں کا غیر معمولی معاشی نقصان ہوچکا ہے۔ ماہرین اقتصادیا ت کے مطابق کشمیر مسلسل ہڑتال کے نتیجے میں روزانہ 130کروڑ روپے کے خسارے سے جھوجھ رہا ہے۔چار ماہ سے تمام سکول، کالج اور یونیورسٹیاں مقفل ہیں۔ یہی نہیں بلکہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران وادی میں سکول عمارتوں کو نذ آتش کرنے کی پر اسرار وارداتیں رونما ہوئی ہیں۔ اب تک مختلف علاقوں میں 30سے زائد سکول عمارتیں خاکستر ہوچکی ہیں۔
اس ساری صورتحال کے تناظر میں حریت قائدین نے ہڑتال مسلسل جاری رکھنے کاایک غیر معمولی فیصلہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق وادی کے تباہ کن حالات کے تئیں مرکزی سرکار کی عدم توجہی نے حریت لیڈروں کو ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ لینے پر مجبور کردیا ہے۔
سرکردہ تجزیہ کار اور روزنامہ ’’چٹان ‘‘ کے ایڈیٹر طاہر محی الدین نے اس موضو ع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’ مودی سرکار نے کشمیر کے انتہائی ناگزیر حالات کے تئیںمکمل طور بے رخی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مرکزی سرکار چاہتی تو وادی کے حالات بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات کرسکتی تھی۔ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جاسکتا تھا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ مرکزی سرکار گزشتہ چار ماہ سے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ کشمیر کے عوام خواہ کتنا ہی احتجاج کریں ، ان کی بات نہیں سنی جائے گی۔ مرکز کے اس رویہ نے یہاں کے عوام اور لیڈر شب کی ناراضگی کو سخت غصے میں تبدیل کردیا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ 8نومبر کی میٹنگ میں ایجی ٹیشن کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘
تاہم بعض مبصرین ایجی ٹیشن کو جاری رکھنے کے فیصلے کو غیر سود مند قرار دے رہے ہیں۔ سینئر صحافی اورسیاسی مبصر ساحل مقبول کہتے ہیں،’’ میرے خیال سے گزشتہ چار ماہ کے دوران کشمیر عوام کی جدوجہد اور احتجاج کے کئی فوائد حاصل ہوئے ہیں لیکن اب اس سلسلے کو مزید جاری رکھنا خود عوام کے مفاد کے خلاف ہے۔‘‘ ساحل نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’چار ماہ کے دوران یہاں جو کچھ بھی ہوا، اس کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی عالمی لیڈروں نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ثانیا ً یہ کہ کشمیر میں جاری تحریک کے ساتھ نوجوان ایک بڑی تعداد میں جڑ گئے ہیں، جسکی وجہ سے یہ تحریک مزید مضبوط ہوگئی ہے لیکن ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھنا قطعی طور پر عوام کے حق میں نہیں ہے۔ عوام کا غالب طبقہ بری طرح معاشی بدحالی کا شکار ہورہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہاں کرائم ریٹ بڑھ جائے گا۔ مسلسل ہڑتالوں کے نتیجے میں عوام کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہورہے ہیں یہاں تک کہ مریضوں کا مناسب علاج و معالجہ بھی ممکن نہیں ہوپارہا ہے۔ تاجر طبقہ اور ٹرانسپورٹر سب سے زیادہ مٹاثر ہوچکے ہیں۔ ٹرانسپورٹروں کی گاڑیوں کے ٹائر اور پرزے تک زنگ آلود ہوچکے ہیں۔ زیادہ تر ٹرانسپورٹرس نے تو بینکوں سے قرضہ لیکر گاڑیاں حاصل کی ہیں۔ اگر یہ ہڑتال مسلسل جاری رہی تو وہ خسارے کی بھرپائی اور قرضے کی ادائیگی کیسے کریں گے۔تعلمی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں لازم ہے کہ مزاحمتی قیادت اپنی اسٹریٹجی پر از سر نو غور کریں۔‘‘
چار ماہ سے جاری ایجی ٹیشن میں سب سے زیادہ نقصان تعلیمی شعبے کو ہوا ہے۔ پرائیویٹ سکول ایسویشن نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر غور کررہی ہے کہ موجودہ حالات میں بچوں کا تعلیمی کرئیر کیسے بچایا جائے۔ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار نے اس ضمن میں ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ بچوں کے مستقبل کو کیسے بچایا جائے۔ ہم چند کے اندر اندر ایک لائحہ عمل مرتب کرکے اسے قوم کے سامنے رکھیں گے۔ تعلیمی شعبے کے ساتھ کھلواڑ کرنا اجتماعی خود کشی کے مترادف ہے۔ ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہے اور انکی تعلیم سے ہی یہ مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔‘‘یہ بات قابل ذکر ہے کہ پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے حال ہی میں بچوں اور انکے والدین کو رعایت دینے کے لئے کئی اقدامات کا اعلان کیا۔ جن میں گزشتہ چار ماہ کی سکول فیس میں بھاری رعایت دینا بھی شامل ہے۔ اسکے علاوہ ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا ہے کہ جو طلبہ ایجی ٹیشن کے دوران زخمی ہوئے ہیں ، ان کی فیس معاف کردی جائے گی۔ ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا ہے کہ جو سکول جلائے جاچکے ہیں، انکے طلباء و طالبات کو مختلف سکولوں میں مفت ایڈمشن دیا جائے گا تاکہ سکول عمارتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ لیکن ہڑتال جاری رہنے کی صورت میں پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے یہ سارے اقدامات بے سود ثابت ہونگے۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ مسلسل ہڑتال کا طریقہ کار عوام کے مفاد نہیں ہر گز نہیں ہوسکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حریت قیادت کے پاس یا تو ہڑتال کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ، جس کے سہارے ایجی ٹیشن کو جاری رکھنا ممکن ہو۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حریت لیڈروں کو غالباً یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ اگر وہ ایک ایسے وقت میں ہڑتال کو ختم کرائیں گے، جب ہزاروں نوجوان جیلوں میں بند ہیں اور ہزاروں نوجوانوں کو لگے زخم ابھی تازہ ہیں تو شاید انہیں عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑئے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *