کہیں یہ بی جے پی کے خاتمہ کی شروعات تو نہیں

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

مصیبتیں ہر عام انسان اور سماج پر آتی ہیں۔ ہم لڑتے بھی ہیں، اس لڑائی میں اگر کوئی ہمدرد نہ ملے تو لوگ بے بس و لاچار محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ ختم ہورہا ہے۔ اس سے بھی خطرناک حالات تب پیدا ہوتے ہیں، جب کوئی خود غرض ہمدرد بننے کا ناٹک کرتا ہے۔ وہ مدد کے نام پر دھوکہ دیتا ہے اور ہماری مجبوری کا فائدہ اٹھانے لگتا ہے۔ ہندوستان کے لوگ اسی صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ ملک کی حالت یہ ہے کہ بازار نے لوگوں کی زندگی کو جہنم بنادیا ہے۔ امیر ہو یا غریب مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ ملک کے 260اضلاع میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ آج یہاں ماؤنوازوں کا دبدبہ ہے۔ سپاہی اور نیم فوجی دستوں کی لاشوں کو دیکھ کر عوام خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ گھروں میں بے روزگاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، کیونکہ نوکری نہیں ہے۔ یہ سب حکومت کی خراب پالیسی کا نتیجہ ہے۔ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کو بازار کے حوالے کیا گیاہے۔ اگر حکومت پر روک نہیں لگائی گئی تو بازار مکمل طور پر ملک کو اپنے قبضہ میں لے لے گا، لیکن اس مسئلہ کا حل کس کے پاس ہے؟ عوام کی طرف سے لڑائی کون لڑے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن پر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف لڑنے کی ذمہ داری ہے، وہ اپنی صلاحیت کھوچکے ہیں۔ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہبی جے پی معتبراپوزیشن کا رول ادا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ اسے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس ہی نہیں ہے۔ مہنگائی ہو یا بے روزگاری یا پھر عوام سے وابستہ دیگر مسائل، بی جے پی نے صرف خانہ پری کے لیے دھرنا دیا اور مظاہرے کیے نیز پارلیمنٹ کے اندر ہنگامہ کیا۔ وہ بھی صرف میڈیا میں نظر آنے کے لیے ۔ جمہوریت میں اپوزیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ حکومت کے ہر کام کاج پر نظر رکھے۔ اس پر روک لگائے۔عوام کی حمایتی بن کر حکومت کی پالیسیوں اور منصوبوں پر سوال اٹھائے۔ غربیوں، دیہی باشندوں اور استحصال زدہ طبقات کے لیے جد و جہد کرے اور ان کی قیادت کرے نیز ان کے ساتھ مل کر ان کے مطالبات کی حمایت میںتحریک چلائے۔ اگر اپوزیشن یہ کام کرتی ہے تبھی وہ اصل اپوزیشن کہلانے کی حق دار ہوتی ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو ایسی اپوزیشن کا کیا فائدہ؟ پھر حکومت کا بے لگام ہونا تو فطری ہے۔ جمہوریت میں عوام کسی پارٹی کو اپوزیشن میں اس لیے بٹھاتے ہیں تاکہ وہ اس کے دکھ درد کوسمجھے اور حکومت کے خلاف آواز بلند کرے۔ جمہوریت میں اپوزیشن کو اپنی افادیت ثابت کرنی ہوتی ہے، انہیں صرف جد و جہد نہیں کرنی ہوتی، بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ موجودہ حکومت سے زیادہ بہتر کام کرسکتی ہے، تاکہ عوام اس پر بھروسہ کرسکیں اور اسے اگلے الیکشن کے بعد حکمرانی کا موقع دیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت میں اپوزیشن کی ذمہ داریاں حکمراں جماعت سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بی جے پی کیا کر رہی ہے؟ ڈیزل کے دام بڑھ گئے، لیکن بی جے پی کے اندر اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ جسونت سنگھ اور اوما بھارتی کو پارٹی میں واپس بلایا جائے یا نہیں۔ مہنگائی کے ایشو پر لال کرشن اڈوانی پریس کانفرنس نہیں کرتے، لیکن جسونت سنگھ کو پارٹی میں واپس لانے کے لیے وہ پریس کے سامنے آتے ہیں۔ عوام کی مشکلات کو کیسے دور کیا جائے یا پھر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کیا حکمت عملی ہو، یہ بی جے پی کے لیے ایشو نہیں ہے، لیکن اوما کی پارٹی میں واپسی کے مسئلے پر میٹنگوں کا دور چل رہا ہے۔ جھارکھنڈ میں جوتے اور پیاز کھانے کے بعد بی جے پی اب بہار کی حکمت عملی بنانے میں جٹ گئی ہے۔ عوام کی پریشانیوں کے بارے میں کیا کرنا ہے، یہ بی جے پی کے ایجنڈے میں ہے ہی نہیں۔ بی جے پی اور اس کے صدر نتن گڈکری کو اپوزیشن کی ذمہ داری کا احساس ہی نہیںہے۔ شدید پریشانیاں جھیل رہے عوام اور ملک پر منڈلاتے بحران کے درمیان بی جے پی میں کسی ٹی وی سیریل کی طرح روٹھنے اور منانے کا ڈراما چل رہا ہے۔ ان کے رویے سے تو یہی لگتا ہے کہ بی جے پی بھی حکومت کی پالیسیوں کا ساتھ دے رہی ہے۔ ایسا ماننے کی وجہ یہ بھی ہے کہ بی جے پی نے موجودہ اقتصادی پالیسی کے خلاف اپنا کوئی منصوبہ یا پالیسی کا روڈمیپ عوام کے سامنے نہیں رکھا ہے۔ جب مہنگائی سے لڑنے کا بی جے پی کے پاس کوئی طریقہ ہی نہیں ہے تو عوام کی نظروں میں اپنی موجودگی کا احساس کرانے کے لئے بی جے پی نے پھر سے جناح کے بھوت کو باہر نکالا ہے۔ جسونت سنگھ کو پارٹی میں واپس لینے کا بہانہ بنا کر سرخیاں بٹوریں۔ بی جے پی کی کہانی عجیب ہے۔پہلے اڈوانی جی نے جناح کو سیکولر بتایا تو انہیں صدر کے عہدہ سے مستعفی ہونا پڑا۔ آر ایس ایس اور پارٹی نے اڈوانی کے بیان کو پارٹی کے نظریے کے خلاف بتایا تھا۔ تب کئی ماہ تک اڈوانی کو غائب رہنا پڑا تھا۔ بہر حال اڈوانی پھر واپس آ گئے ۔ انتخابات میں انہیں وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بنایا گیا۔ جس بات پر اڈوانی نے صرف ایک بیان دیا تھا، اسی موقف پر جسونت سنگھ نے پوری کتاب لکھ دی۔ پارٹی نے انہیں بے عزت کر کے باہر کا راستہ دکھا دیا۔لیکن ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا اورجسونت سنگھ کو پھر پارٹی میں واپس لے لیا گیا۔ جب ان لوگوں کو واپس ہی لینا تھا تو نکالنے کا فیصلہ کیوں لیا گیا۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ آج جو ملک کا ماحول ہے اس میں عوام کو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ جناح کیا تھے اور جسونت سنگھ بی جے پی میں رہیں یا نہ رہیں۔بی جے پی ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے۔ جمہوریت میں ایک مضبوط اپوزیشن عوام کا حق ہے۔ پارلیمنٹ میں بی جے پی کانگریس کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور سات بڑی بڑی ریاستوں میں حکومت چلا رہی ہے۔ اب جب بی جے پی ہی اس ذمہ دار ی کو نہیں سمجھ سکتی ہے تو ملک کے عوام کیا کریں۔ بی جے پی کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر حکومت عوام مخالف پالیسیاں نافذ کر رہی ہے۔ عوام کو برباد کرنے کے لئے حکومت کی جتنی ذمہ دار پالیسیاں ہیں، اتنی ہی بی جے پی کی غیر ذمہ داریاں بھی ہیں۔
بی جے پی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس نہ تو کوئی نئی سوچ ہے اور نہ ہی وہ خود کو الگ دکھانے کی کوشش میں ہے۔ مہنگائی کے نام پر بی جے پی نے دہلی اور دوسرے شہروں میں مظاہرہ تو کیا مگر وہ بھی ایک پروگرام کی طرح تھا۔ جیسے بی جے پی کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ کوئی ایونٹ مینجمنٹ کمپنی ہو۔ بی جے پی کے بیانات اور احتجاجی مظاہروں میں عوام کے تئیں ہمدردی کا فقدان صاف نظر آتا ہے۔ عوام کے ساتھ مل کر عوام کے حق میں آواز اٹھانے کا فن بی جے پی بھول چکی ہے۔دنیا بھر میں کئی اپوزیشن جماعتیں ہیں جو ہمیشہ نئے نئے خیالات کے ساتھ عوام کو رجھانے اور حکومت کو گھیرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ بی جے پی کا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بدل گئی مگر اس کا نظریہ، پارٹی سسٹم اور طرز ویسی ہی ہے جیسی شروعات میں تھی۔ بی جے پی میں بدلائو نہیں ہے۔ حال ہی میں الیکشن ہار جانے کے بعد پارٹی میں نظریات اور تنظیم پر دوبارہ غور کرنے کا وقت آیا تو حیرت انگیز طریقہ سے پارٹی نے وہی پرانا راگ الاپنا شروع کر دیا اور پارٹی کے نظریات کو شیاما پرساد مکھر جی اور دین دیال اپادھیائے کے نظریات سے جوڑ کر تھم گئے۔ یہ بات دیگر ہے کہ ان دونوں کی سوچ کیا ہے، یہ پارٹی کارکنان اور لیڈران کو ہی معلوم نہیں ہے۔ بے چارے ملک کے عوام کو تو یہ بھی علم نہیں ہے کہ ان دونوں کا ہندوستانی سیاست اور سماج میں کیاتعاون ہے۔ سماجی تبدیلی، سیاست، خارجہ پالیسی اور اقتصادی پالیسی پر ان کے خیالات کیاہیں۔ یہ بی جے پی کی ہی کمزوری ہے۔ دونوں بڑے لیڈر ہیں، مفکر بھی ہیں، مگر بی جے پی نے ان کے خیالات کو پھیلانے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اس سے تو یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ پارٹی نظریات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی ہے۔ بی جے پی کارکنان کا حوصلہ وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہو رہا ہے۔ حامی پارٹی سے دور ہوتے جا رہے ہیں پھر بھی اس کے طریقہ کارمیں کوئی تبدیلی نہیں ہے ۔ہندو دھرم خطرے میں ہے ۔یونیورسل سول کوڈ اور رام جنم بھومی جیسے ایشوز کو عوام نے ٹھکرا دیا ہے تو پھر بی جے پی آج بھی ان ہی خیالات ، ایشوز اور تنازعات میں کیوں الجھی ہوئی ہے۔ بی جے پی کو پاکستان اور بنگلہ دیش میں مذہب کی بنیاد پر بنی پارٹیوں سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ ان دونوں ملکوں میں جماعت اسلامی کے امیدوار انتخاب لڑ تے ہیں لیکن انہیں عوامی حمایت حاصل نہیں ہوتی ہے۔
نتن گڈکری کو پارٹی کی کمان سنبھالے ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہیں۔ اپنی ٹیم منتخب کرنے میں انہیں چارماہ لگ گئے۔ ان کی ٹیم کے انتخاب میں تاخیر ہوئی مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ ابھی تک پارٹی کے جنرل سکریٹری، نائب صدور اور سکریٹریوں کو مقررہ ذمہ داریاں نہیں ملی ہیں۔ اس لئے پارٹی کا کام رکا ہوا ہے۔ گڈکری کہتے ہیں کہ کوئی جلد بازی نہیں ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈران فکر میں مبتلا ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ گڈکری بے سمت ہیں۔ انہیں معلوم نہیں ہے کہ پارٹی کو کس سمت میں لے کر جانا ہے۔ وہ سیاسی جماعت کو کسی این جی او کی طرح چلاناچاہتے ہیں، جبکہ ابھی پارٹی کو نظریے اور پالیسی کے حوالے سے واضح حکم کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے دفتر میں کام کر رہے بی جے پی کارکنان اور افسران کو یہ لگتا ہے کہ پارٹی میں تعطل بر قرار ہے۔ کچھ تو یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ اگر یہی حال رہا تو بہار اور اتر پردیش میں پارٹی کا حال بد سے بد تر ہوجائے گا۔ گڈکری کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود قومی سطح کے لیڈر نہیں ہیں۔ وہ سب کو ایک ساتھ خوش کرنا چاہتے ہیں، اس لئے ٹھوس فیصلہ لینے میں ناکام ہیں۔ وہ زیادہ تر فیصلے سینئر لیڈران کے حکم پر لیتے ہیں اور اس کے بعد اس فیصلے سے ناراض گروپوں کو خوش کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ جسونت سنگھ کو واپس لینے کا فیصلہ گڈکری نے اڈوانی کے دباؤ میں لیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ نتن گڈکری نے جسونت سنگھ کو واپس لینے کا فیصلہ لینے کے لئے پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ بھی نہیں بلائی، جس نے جسونت سنگھ کو نکالنے کا فیصلہ لیا تھا۔ نریندر مودی جسونت سنگھ کے اخراج کی اہم وجہ تھے۔ انہیں خوش کرنے کے لئے راجیہ سبھا میں رام جیٹھ ملانی کو لایا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ پارٹی کسی پالیسی پر نہیں بلکہ لیڈران کو خوش کرنے کی بنیاد پر چل رہی ہے۔
ویسے کسی پرانے لیڈر کو واپس پارٹی میں جگہ دینا کسی بھی پارٹی کے لئے عام بات ہے، لیکن جسونت سنگھ کی واپسی ذراہٹ کرہے۔ جب جسونت سنگھ نے جناح کو سیکولر بتایا اور نہرو کو تقسیم ہند کے لئے ذمہ دار قرار دیا تو بی جے پی نے یہ اعلان کیا تھا کہ جناح کو سیکولر کہنا پارٹی کے اصولی نظریات کے بالکل خلاف ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈران نے اسے بی جے پی کے نظریات پر حملے سے تعبیر کیا تھا۔ جسونت سنگھ اپنے بیانات سے نہیں پلٹے ہیںاور نہ ہی انہوں نے کوئی معافی مانگی، پھر بھی انہیں بی جے پی نے پارٹی میں واپس لے لیا۔ اب بی جے پی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کو یہ بتائے کہ اب پارٹی کے نظریات کیا ہیں؟ کیا بی جے پی جناح کو سیکولر تسلیم کرنے لگی ہے، یا پھر یہ محض ایک پولیٹکل پوسچرنگ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ایک ایونٹ ، بی جے پی کا ایک شو تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کے ساتھ فی الحال کچھ بھی اچھا نہیں ہورہا ہے۔ شاید پارٹی کو یہ محسوس ہوتا ہو کہ اس طرح کے کاموں سے عوام میں یہ پیغام جائے کہ پارٹی میں کچھ ہورہا ہے۔ پارٹی مضبوط ہورہی ہے، لوگ واپس آنا چاہ رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی کی یہ پالیسی بھی کامیاب نہیں ہوسکی، کیونکہ اس کے فوراً بعد اوما بھارتی کی واپسی پر پارٹی کا اختلاف کھل کر سامنے آگیا۔ ملک کے عوام پریشان ہیں۔ حکومت ایک کے بعد ایک عوام کو پریشانی میں ڈالنے والی پالیسیوں پر عمل کر رہی ہے۔ اسے بدقسمتی ہی کہیں گے کہ حکومت کا کوئی متبادل نظر نہیں آرہا ہے۔ بی جے پی کے نئے صدر سے لوگو ںکی امیدیں بڑھی تھیں، لیکن وہ بھی ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ انہیں آر ایس ایس نے پارٹی کی اصلاح کرنے کے لئے بی جے پی کا صدر بنایا تھا لیکن وہ بھی بی جے پی کے رنگ میں رنگ گئے۔ گروپ بندی پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ پرانے لوگوں کو واپس لانے کی ضرورت اس لئے ہے، کیونکہ لیڈر پیدا کرنے میں بی جے پی ناکام رہی ہے۔ پارٹی کے اندر چل رہی خانہ جنگی کی وجہ سے بی جے پی نے عوام کے سوالوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ نہ کوئی نئی حکمت عملی ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی و اقتصادی روڈ میپ ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بی جے پی اپنی اصلیت اور افادیت کو ختم کرنے پر ہی آمادہ ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *