وسیم احمد 
اس وقت ہندوستان کا عدلیہ اپنے شباب پر ہے ۔ایسے ایسے مہارتھیوں کو عدلیہ کے فیصلوں نے جیل کی ہوا کھلا دی ہے کہ اپنی عدلیہ کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے ۔بڑے بڑے قد آور لیڈر لالو پرساد یادو،رشید مسعود،جگناتھ مشرا اور بالی وڈ کا قد آور ہیرو سنجے دت ،بڑا طاقتور مذہبی ڈھونگی بابا آسا رام اور گینگ ریپ کے چاروں ملزمان جن کو پھانسی کی سزا ہوئی۔حالانکہ یہ فہرست ذرا طویل ہے لیکن فی الحال ان دو مہینوں کی بات کریں تو عدلیہ یقینا اپنے شباب پر ہے اور ایک بار پھر جمہوری نظام پر عوام کا بھروسہ قائم ہونے لگا ہے۔ورنہ ہر طرف ایک مایوسی کا عالم تھا اور ہندوستان کا عام طبقہ یہ خیال کرنے لگا تھا کہ کورٹ ، کچہری ، عدالتیں ، ہائی کورٹ ،سپریم کورٹ صرف غریبوں کو سزا دے سکتا ہے،امیروں کو تو پیسے کے بل پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔حال میں ہوئے چند فیصلوں نے عدلیہ پر اعتماد بحال کیا ہے۔کون سوچ سکتا تھا کہ وہ آسا رام جو خود ساختہ بھگوان بنا ہوا تھا جس کی اربوں کھربوں کی جائداد ہے،ایک پورا امپائر کھڑا ہوا ہے ،وہ کبھی ایک معمولی سی عام غریب بچی کی وجہ سے جیل کی ہوا کھائے گا یا پھر لالو یادو جیسے قد آور لیدڑ جو خود اپنی ریاستوں کے کبھی قانون بنایاکرتے تھے جو بہار کی سیاست پر برسوں بے تاج بادشاہ بنے رہے ،وہ جیل کی چہار دیواری میں 5 سال کے لئے بے یارو مددگار زندگی کے دن گزاریں گے۔اسی طرح سنجے دت کے بارے میں بھی کوئی نہیں سوچ سکتا تھا لیکن آج سبھی کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ کبھی نہ کبھی انصاف کی جیت ہوتی ہے۔
ان تمام فیصلوں کے ساتھ ایک اور بہت اہم کام یہ ہوا کہ وزیر داخلہ کی جانب سے ایک سرکولر سامنے آیا۔مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے تمام ریاستوں کے وزیر اعلیٰ کو ایڈوائزی جاری کی کہ مسلم نوجوانوں کو غلط طریقے سے گرفتار کیے جانے پر روک لگائی جائے اور اسی کے ساتھ ساتھ جو بھی مسلم نوجوان دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں بند ہیں، ان کے مقدمات کی سماعت کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور خصوصی وکیل مقرر کیے جائیں ۔اس کے ساتھ ہی تعصب کی بنیاد پر بے گناہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت اور جلد کارروائی کی جائے اور بے گناہ رہا ہونے والے نوجوانوں کو معقول معاوضہ دیا جائے اور ان کی بازآبادکاری کو یقینی بنایا جائے۔
یہ وہی سشیل کمار شندے ہیں جنہوں نے جے پور کے کانگریس کے’’ چنتن شیور‘‘ میں یہ بیان دیا تھاکہ بی جے پی اور آر ایس ایس دہشت گردی کے کیمپ چلارہی ہیں اور ان کے اسی بیان کو ہوم سکریٹری نے بھی یہ کہہ کر پختگی دی تھی کہ ان کے پاس تقریباً ایسے دس دہشت گردوں کے نام ہیںجن کی تربیت ان کیمپوں میں ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کرنل پروہیت ،سادھوی پرگیہ ، اسیمانند اس وقت بھی اجمیر دھماکہ کے الزام میں جیلوں میں بند تھے اور اس بیان کی اصلیت پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس وقت بھی شندے کے اس بیان سے بی جے پی اور آر ایس ایس نے ہنگامہ مچا دیا تھا اور شندے کے استعفیٰ کی مانگ کی تھی اور اس وقت پارلیمنٹ کا سیشن نہیں چلنے دیا تھا ۔جب تک شندے نے لفظ ہندو دہشت گردی پر اظہار ندامت نہیں کردیا۔
اس وقت شندے کا یہ فیصلہ دانشمندانہ تھا کیونکہ اگر اس وقت وہ سیشن ان کی وجہ سے نہ چل پاتا تو کئی اہم فیصلے جو لئے جانے تھے وہ نہ لئے جاتے ،مگر اس بار کے شندے کے ایڈوائزی جاری کرنے پر پھر وہی ہنگامہ کا دور شروع ہوا کیونکہ شندے نے تمام وزرائے اعلیٰ کو یہ بھی لکھا ہے کہ اب تک کئی ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں پتہ چلا ہے کہ مسلم نوجوانوں کو پولیس نے غلط طریقہ سے گرفتار کیا ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ کچھ مسلم نوجوانوں کو یہ بھی احساس ہورہا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہاہے لہٰذا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کوئی بھی بے قصور شخص بلا وجہ گرفتار نہ کیا جائے۔
ظاہر ہے شندے کے اس مکتوب سے پھر سے بی جے پی اور آر ایس ایس جارحانہ انداز میں حملہ آور ہوئی ہیں کہ بے گناہ ، بے گناہ ہوتا ہے ۔وہ کسی ایک مذہب کا نہیں ہوتا ہے۔شندے کے اس ایڈوائزی سے ہٹ کر ہم تاریخ کے صفحات الٹتے ہیں تو ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ریاستوں کو بے گناہ مسلمانوں کے تعلق سے کوئی خط گیا ہو بلکہ نہرو جی اور مسز اندرا گاندھی کے زمانے میں بھی اس طرح کی آگاہی ریاستوں کوہوتی رہی، لیکن ان لیڈروں کی نیت پر شک کم ہی کیا جاسکتا ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ شندے کے اس بیان کو 2014 کے الیکشن سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے ۔
دراصل کانگریس خود اپنا اعتما د کھو چکی ہے ۔ آزادی سے لے کر آج تک کانگریس نے مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ہمیشہ وعدے کیے ۔ ان 66 سالوں میں تقریبا 45 سال کانگریس کی اپنی حکومت رہی اور 9 سال مخلوط حکومت کے ساتھ کانگریس نے راج کیا۔یعنی تقریبا 54 سال ملک پر کانگریس نے حکومت کی اور ان 54 سالوں میں مسلمانوں کو صرف وعدوں پر رکھا۔
آج جتنے گھوٹالے ، جتنی مہنگائی، جتنی بد عنوانی ، جتنی بے روزگاری ،جتنی دہشت گردی ہے ان سب کی صرف اور صرف ذمہ دار کانگریس ہے ۔کیونکہ ملک پر لمبے عرصے تک اس کا ہی راج رہا ہے۔ کانگریس کا یہ ہمیشہ گیم پلان رہا ہے کہ ایجنسیاں دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کو پکڑتی رہیں اور کانگریس بس وعدوں پر ٹالتی رہے ۔سچر کمیٹی رپورٹ،رنگاناتھ مشرا کمیشن رپورٹ سب سرد خانے میں پڑی رہیں۔مسلم نوجوان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتے رہیں۔کبھی کوئی نوجوان 14 سال کی سزا کے بعد بے گناہ ثابت ہو، کبھی 5 سال کی سزا ہو پھر بے گناہی ثابت ہو ۔ ان میں سے کتنوں کی بازآبادکاری کا کام ہوا؟کتنے نوجوانوں کو معاوضہ ملا؟کتنے بے گناہوں کو پکڑے جانے پر پولیس افسران کو سزا ملی؟
وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے چاہے نیک نیتی کے سبب ہی یہ ایڈوائزری کیوں نہ جاری کی ہو مگر اتنے زخم مسلمانوں کو لگ چکے ہیں کہ اب کوئی مرہم بھی لگاتا ہے تویہ زخم دُگنا ہوجاتا ہے اور یہ احساس کھائے جاتا ہے کہ اس وقت کیوں؟اب کیوں؟اور اب تو ویسے بھی 2014 کا الیکشن سامنے ہے۔ اسی لئے سشیل کمار شندے کے اس ایڈوائزری جاری کرنے پر ایک بار پھر کانگریس کی نیت پر شک کیا جارہا ہے ورنہ یہ ایڈوائزری 8 سال قبل ہی شیو راج پاٹل کے وقت میں جاری ہونی چاہئے تھی۔شیو راج پاٹل 2004 میں وزیر داخلہ بنے تھے اور 2008 میں انہوں نے استعفیٰ دیا تھا جب ممبئی دہشت گردانہ حملے کے بعد ان پر کافی دبائو پڑا تھا ۔اس وقت بھی کافی بے گناہ مسلم نوجوانوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا تھا۔ دراصل کانگریس کا طریقہ کار ہی یہ ہے کہ الیکشن کے قریب آتے ہی اسے مسلمانوں کا اچانک خیال آجاتاہے اور آر ایس ایس ،بی جے پی اپیزمنٹ کے گیت گانے لگتی ہیں اور کانگریس یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہے کہ سوائے اس کے تمام پارٹیاں مسلمانوں کے مخالف ہیں ،مگر کانگریس ان کے لئے سنجیدہ ہے۔کانگریس یہ نہیں جانتی کہ مسلمان اب پڑھا لکھا ہوشمند مسلمان ہے ۔وہ اب صرف علی گڑھ اور جامعہ میں ہی نہیں پڑھتا ۔وہ اب پورے ہندوستان میں پڑھتا ہے اور وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ کس وقت کون سا لالی پاپ اسے دیا جارہاہے اور اس لالی پاپ کو مسلم Allied جماعتیں کس طرح صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔یہی تو ہوتا ہے جب بھی کوئی اس طرح کا رجھانے والا بیان آتا ہے سبھی مسلم جماعتیں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح اس کی حمایت کرنے لگ جاتی ہیں۔بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ سبھی جماعتوں کا کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی مفاد ضرور ہوتاہے کیونکہ مسلمانوں کا یہ المیہ رہا ہے کہ ان کا ایک تو کوئی قائد نہیں اور اگر کوئی ہوتا بھی ہے تو وہ بک جاتا ہے اور اگر مسلم تنظیموں کی بات کریں تو مسلمانوں کا بھروسہ ان تنظیموں پر سے بھی اٹھ چکا ہے۔
ان تمام منفی باتوں کے ساتھ ساتھ ایک بات اس فرقہ وارانہ ماحول میں ضرور تسکین کا باعث ہے کہ اب مسلمانوں کا ساتھ غیر مسلم حضرات بھی دے رہے ہیں۔ ان کا سیکولرازم سچا ہے کیونکہ جب بھی کہیں کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو ابھی بھی غیر مسلم حضرات مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں کیونکہ اس وقت سیکولر حضرات اور جماعتوں کا مسلمانوں کے ساتھ ہونا بہت ضرور ہے۔
وزیر داخلہ کا ایڈوائزری مکتوب یوں تو بہت سے تنازعہ کو جنم دے چکا ہے اور اس پربی جے پی اور آر ایس ایس اور دوسری تنظیموں نے کھل کر ہنگامہ کیا ہے اور سشیل کمار شندے کو استعفیٰ تک دینے کے لئے کہا ہے کیونکہ ان تنظیموں کا یہ کہنا ہے کہ بے گناہ ہندو یا مسلم نہیں ہوتا ۔وہ اگر بے گناہ ہے تو کسی بھی مذہب کا ہو،اسے انصاف ملنا چاہئے۔مولانا ارشد مدنی نے بھی شندے کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے، لیکن ان کا ایک سوال بہت اہم ہے کہ جہاں کانگریس کی حکومت ہے وہاں اس پر عملی اقدام کیوں نہیں ہوتا۔ دہلی میں بھی کانگریس کی حکومت ہے لیکن یہاں بھی بٹلہ ہائوس انکائونٹر کی جانچ پوری طرح نہیں کرائی گئی اور اگر حکومت واقعی مسلم نوجوانوں کو لے کر سنجیدہ ہے تو پھر بٹلہ ہائوس انکائونٹر کا پہلے حل نکالنا چاہئے وہ کچھ بھی ہو۔
وزیر داخلہ کے اس مکتوب کو اگر ہم انتخابی موسم سے ہٹ کر دیکھیں تو ہم صرف کوشش ہی کرسکتے ہیں کہ اچھا دیکھیں،اچھا بولیں اور اچھا سوچیں کہ یہ کانگریس کا مسلمانوںکے لئے انتخابی ہتھکنڈہ نہ ہو کر ان کی فلاح و بہبود کے لئے اٹھایا جانے والاایماندارانہ قدم ہو۔باقی مسلمانوں کے لئے تو ساری پارٹیاں ایک جیسی ہیں۔ g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here