کہاں جائیں یہ غریب رکشا والے؟

Share Article

آدتیہ پوجن
سڑکوں پر چلنے والا رکشہ انسانی محنت کے استعمال کی سب سے واضح مثالوں میں سے ایک ہے اوریہ روزی روٹی کمانے کا سب سے پرانا طریقہ ہے۔جانے کب سے، تین چکوں والی اس سواری کے گھومتے پہیوں کے ساتھ جانے کتنی زندگیوں کی قسمت گھومتی رہی ہے۔ناخواندگی اور زمین کی محرومی کے سبب فاقہ کشی پر مجبور سماج کے سب سے نچلے اور کمزور طبقہ کے لئے رکشہ پیٹ پالنے کا اٹوٹ اور واحد وسیلہ رہا ہے۔صدیوں سے رکشہ والوںکا یہ طبقہ دوسرے بھارت یا دوسرے ہندوستان کا آئینہ بھی رہا ہے، لیکن دہلی حکومت اور دہلی میونسپل کارپوریشن(ایم سی ڈی) کا بس چلے تو وہ راجدھانی کی سڑکوں پر رکشوں کا چلنا ہی بند کر دے۔ تبھی تو عدالتوں کے بار بار انکار کے باوجود ایم سی ڈی دہلی کی سڑکوں پر رکشوں کی تعداد کو 99ہزار تک محدود کرنا چاہتی ہے۔ایک تخمینہ کے مطابق دہلی میں پانچ لاکھ سے زیادہ رکشے سڑکوں پر دوڑتے ہیں اور قریب چالیس لاکھ لوگوں کی دو وقت کی روٹی ان رکشوں پر منحصر ہے۔ایم سی ڈی کی مانیں تو رکشے سڑکوں پر ٹریفک کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور وہ اسی وجہ سے ان کی تعداد کم کرنا چاہتی ہے۔ٹاٹا اور فورڈ جیسی کمپنیوں کے ذریعہ تیار نئے زمانہ کی تیز رفتار کاروں کے لئے رکشے کی کچھوا چال رکاوٹ کا سبب تو ہے ہی، اس سے زیادہ یہ سماج کے خوشحال طبقہ کی آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں۔یہ سماج کا وہ حصہ ہے جسے ذہن میں رکھ کر تمام اقتصادی پالیسیاں آج ملک میںبنائی جاتی ہیں۔تبھی تو کار، موٹر سائیکل، موبائل کی قیمتیں ہر سال کم ہوتی ہیں لیکن چاول، دال کی قیمت کبھی کم نہیں ہوتی۔ ایم سی ڈی اسی طبقہ کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے رکشوں کو راجدھانی کی سڑکوں سے اوجھل کرنا چاہتی ہے۔ اسے نہ تو چار لاکھ بے روزگاروں اور 35لاکھ زندگیوں کے مستقبل کی فکر ہے، نہ ہی مسلسل آلودگی سے بے حال ہوتے دہلی کے ماحول کی پرواہ ہے۔
دراصل، ایم سی ڈی نے ایک قانون کے تحت راجدھانی میں رکشوں کے لئے لائسنسوں کی تعداد 99ہزار تک محدود کر دی تھی۔ ایک این جی او نے اس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اس سال 10فروری کو ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ کے ذریعہ اس قانون کو رد کر دیا۔کورٹ نے ایم سی ڈی کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں دوڑ رہی کاروں اور موٹر سائیکلوں کو کم کرنے کے لئے پالیسی پہلے بنانی چاہئے، کیونکہ یہ راجدھانی کے ماحول کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں،لیکن ایم سی ڈی نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ پانچ اگست کو سپریم کورٹ نے اس کی اس اپیل کو خارج کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ رکشہ چلانا ہر انسان کو آئین سے ملے روزگار کی آزاد ی کے دائرے میں آتا ہے اور اسے چھیننے کا کوئی حق ایم سی ڈی کے پاس نہیں ہے۔کارپوریشن کو نصیحت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ پٹرول،ڈیزل اور سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں کی بڑھتی تعداد پر روک لگانا زیادہ ضروری ہے۔ عدالت کے اس فیصلہ سے رکشہ اور رکشہ پلروں کو فی الحال راحت بھلے ہی مل گئی ہو، لیکن ایم سی ڈی اور حکومت کے رویہ کو دیکھتے ہوئے اس کی کوئی گارنٹی نہیں کہ مستقبل میں پھر ایسے کسی قانون کی مدد سے ان کے سر پر تلوار نہیں لٹکے گی۔دہلی حکومت اور ایم سی ڈی راجدھانی کی سڑکوں پر انسانوں کے ذریعہ چلائے جانے والے رکشوں کی تعداد کو صرف محدود ہی نہیں کرنا چاہتی، بلکہ انہیں رفتہ رفتہ پوری طرح ختم کرنے کا منصوبہ  بنا رہی ہے۔ میونسپل کارپوریشن اس کی جگہ شمسی توانائی سے چلنے والے الیکٹرانک رکشہ چلانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔کارپوریشن کی دلیل ہے کہ تیز رفتار سے چلنے والے الیکٹرانک رکشے دہلی کو ٹریفک جام سے نجات دلانے میں کارگر ثابت ہوںگے۔چوتھی دنیا نے اس سلسلہ میں دہلی کے میئر پرتھوی راج چوہان سے  بات کی تو انھوں نے یہ تو نہیں مانا کہ کارپوریشن راجدھانی کی سڑکوں سے رکشوں کو پوری طرح ہٹانا چاہتا ہے، لیکن یہ ضرورکہا کہ رکشہ ٹریفک کی چال کو سست کرتا ہے۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ دہلی کے کئی حصوں میں رکشوں کی انٹری پر پابندی ہے، پھر بھی ان علاقوں میں ٹریفک جام عام بات ہے۔ایم سی ڈی کی اس مہم میں دہلی کی حکومت بھی پیچھے نہیں ہے۔اکتوبر میں ہونے والے دولت مشترکہ کھیلوں سے پہلے راجدھانی کے ٹریفک نظام کو ماحول دوست بنانے کی تیاری ہے۔ اس کے لئے بیٹری سے چلنے والے رکشہ ای-رک کو لانچ کیا گیا ہے۔کیا حکومت یہ نہیں جانتی کہ ماحول کو آلودہ کرنے میں انسانی رکشوں کا کوئی تعاون نہیں ہے،بلکہ اس کے لئے پٹرول اور ڈیزل سے بنی گاڑیاں ذمہ دار ہیں؟ حکومت اور ایم سی ڈی اس ایشو سے جڑے انسانی پہلوئوں کو بھی نظر انداز کر رہی ہے۔راجدھانی یا ملک کے کسی بھی حصہ میںرکشہ چلانے والے بیشتر لوگ ناخواندہ ہوتے ہیں۔کہیں نوکری نہیں ملی،فاقہ کشی کی نوبت آ گئی تو کرائے پر رکشہ چلانے لگے۔اگر ان سے روزگار کایہ وسیلہ بھی چھین لیا گیا تو ان کی زندگیوں میں پوری طرح تاریکی چھا جائے گی۔ اس ایشو کا ایک اقتصادی پہلو بھی ہے۔ایک شمسی توانائی سے چلنے والے الیکٹرانک رکشے کی قیمت 30سے 40ہزار کے قریب ہے، حکومت دہلی کے ذریعہ شروع کئے گئے ای رک کی قیمت ایک لاکھ پچاس ہزار روپے ہے، جبکہ انسانی رکشے کی قیمت صرف دس سے 12ہزار روپے ہوتی ہے۔غریب رکشہ چلانے والوں کے پاس الیکٹرانک رکشہ خریدنے کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے، یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت یا ایم سی ڈی کے پاس اس کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ پرائیویٹ یا سرکاری بینکوں سے لون مہیا کرانے کا منصوبہ بنے بھی تو سود کے بوجھ تلے ان کی زندگی برباد ہوکر رہ جائے گی۔
دہلی کا دل کہے جانے والے کناٹ پلیس علاقہ میں دن اور رات کا فرق کرنا مشکل ہے۔ سورج کی روشنی کم ہوتے ہی پب اور ریستوراں اور سجی ہوئی دکانوں سے نکلتی رنگ برنگی روشنی کے ساتھ سڑک کے دونوں کنارے لگیں اسٹریٹ لائٹیں یہ احساس ہی نہیں ہونے دیتیں کہ دن کب گزر گیا،لیکن اسی علاقہ میں رکشہ چلانے والے اتر پردیش کے بدایوں ضلع کا رحمت علی دن بھر سخت محنت مشقت کرنے کے بعد بھی رات کو چین سے سو نہیں پاتا۔ دہلی میں اکیلے رہ رہے رحمت علی کے اوپر بیوی اور پانچ بچوں کے علاوہ ضعیف ماں باپ کی بھی ذمہ داری ہے۔وہ صبح سات بجے سے لے کر شام کے سات بجے تک سواریوں کو یہاں سے وہاں لے جاتا ہے اور اوسطاً150روپے کی کمائی کر لیتا ہے، لیکن اپنا رکشہ نہ ہونے کی وجہ سے اسے روزانہ 50روپے اس کے مالک کو دینے پڑتے ہیں۔باقی پیسے میں وہ خود کیا کھائے اور گھروالوں کو کیا بھیجے، یہی سوچ سوچ کر اس کی رات گزر جاتی ہے۔وہ رات کو بھی رکشہ چلاناچاہتا ہے،لیکن رکشے کا مالک ایسا کرنے نہیں دیتا ،کیونکہ اس نے نائٹ شفٹ کے لئے کسی دوسرے شخص کو رکشہ کرائے پر دے رکھا ہے۔ بہار کے پورنیا ضلع سے آئے 60سالہ نول کامت کا قصہ تو اس سے بھی زیادہ دردناک ہے۔گائوں میں مزدوری کر کے زندگی بسر کر رہے نول کی بیوی کی چار سال قبل موت ہو گئی تھی۔ بیوی کی موت کے بعد اس کی تمام امیدیں دو جوان بیٹوں پر ٹکی تھیں،لیکن بیٹوں نے ایسا رنگ بدلا کہ اسے گھر سے بھاگنے کو مجبور ہونا پڑا۔گھر والوں سے مایوس ہوکر وہ کسی طرح دہلی پہنچا۔ کام کی تلاش میں دو تین دنوں تک یہاں وہاں گھومتا رہا لیکن کہیں کام نہیں ملا۔ بھوک سے بے حال اس نے رکشہ چلانے کی سوچی کیونکہ وہ پڑھنے لکھنے کی بات تو دور، ڈھنگ سے ہندی بھی نہیں بول سکتا تھا۔ وہ ڈھائی سال سے رکشہ چلا کر کسی طرح زندہ ہے،بڑھتی عمر میں دوسرے انسانوں کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے وہ کئی بیماریوں کا شکار بھی ہو چکا ہے، لیکن چاہ کر بھی وہ کام نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ اس کے پاس روزگار کا اور کوئی وسیلہ ہی نہیں ہے اور اپنے گائوں واپس جا نہیں سکتا۔کم و بیش یہی حال بہار، اترپردیش، جھارکھنڈ، اڑیسہ اور راجستھان جیسی ریاستوں سے آنے والے ہررکشہ پلر کا ہے لیکن ایم سی ڈی کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اڑیسہ کے میور بھنج ضلع کے بدری اورانوکو ایم سی ڈی کے اس قانون کے بارے میں زیادہ پتہ نہیںہے ، لیکن بتائے جانے پر وہ یہی کہتا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس کے پاس دو ہی متبادل بچیں گے ،ایک چھوٹے موٹے جرائم کرکے اپنے اور اپنے کنبہ کا پیٹ پالنا یا پھر انہیں مارکر خود بھی موت کی نیند سوجانا۔
ایم سی ڈی کے اس قانون میں ویسے بھی کئی دشواریاں ہیں۔ رکشوں کی تعداد کو 99ہزار تک محدود کرنے کے بعد بھی لاکھوں رکشے سڑکوں پر دوڑ رہے ہیں تو اس کے لئے میونسپل کارپوریشن کے افسران کا بدعنوان رویہ اور راجدھانی میں سرگرم رکشہ مافیاذمہ دار ہیں۔دہلی میں کچھ ہی رکشا پلروں کے پاس اپنا رکشہ ہے۔ بیشتر لوگ کرائے پر رکشہ لے کر چلاتے ہیں۔جس کا مالکانہ حق ان ہی مافیا عناصر کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ افسران کی ملی بھگت سے ایک ایک آدمی ہزاروں رکشے چلواتا ہے اور غریب رکشہ پلروں کے خون کی قیمت پر کروڑوں کی کمائی کرتا ہے۔ پرتھوی راج چوہان بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دہلی کی سڑکوں پر چلنے والے بیشتر رکشوں کے پاس لائسنس نہیں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ 99ہزار کی سیلنگ سے متعلق قانون کو عدالت نے مان لیا ہوتا تو اس پر لگام کسی جا سکتی تھی۔ مطلب یہ کہ ایم سی ڈی اپنے بدعنوان افسران کو قابو میں نہیں کر سکتی،لیکن غریب رکشہ پلروں کے پیٹ پر لات مارنے کو آمادہ ہے۔ گویااس ملک میں تمام قاعدے قانون غریبوں کے لئے ہی بنائے جاتے ہیں۔
سوال صرف ایم سی ڈی کے اس قانون کا ہی نہیں ہے، سوال کارپوریشن کے آقائوں کے نظریہ کا بھی ہے۔لندن،سنگاپور،نیویارک ،بیجنگ جیسے شہروں میں آج بڑی گاڑیوں کے مقابلہ رکشوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایندھن کی کھپت نہیں ہوتی اور آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ ماہر ماحولیات کی رائے میں آلودگی کی بڑھتی سطح انسان کے وجود کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ دہلی کو پہلے سے ہی دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شمار کیا جاتاہے۔باوجود اس کے ریاستی حکومت اور ایم سی ڈی بڑی گاڑیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے،بلکہ کمزور اور غیرمتبادل رکشہ پلروں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقتدارکی بلندی پر بیٹھے لوگ اکثر حقیقت سے دور ہو جاتے ہیںاور ایسے عناصر سے گھر جاتے ہیں جو انہیں زمینی حقیقت سے روبرونہیں کراتے،بلکہ ہوائی کی باتیں کر کے اپنی خود غرضی میں مبتلا رہتے ہیں۔ دہلی حکومت اور ایم سی ڈی میں بھی ایسے ہی افسران کا بول بالا ہے، جنہیں پیٹرول اور ڈیزل کی آلودگی سے بدبو نہیں آتی، لیکن انسانوں کے پیسنے کی بدبو سے دل متلانے لگتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *