اے ایم یو: ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ہال میں ادبی و ثقافتی پروگرام ’’جسٹیسیا4.0‘‘کا انعقاد

Share Article
AMU-PVC-Prof-M-H-Beg

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ہال میں منعقدہ ادبی و ثقافتی پروگرام ’’جسٹیسیا4.0‘‘کا افتتاح کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم ایچ بیگ نے کہا کہ سرسید علی گڑھ میں آکسفورڈ کی طرز پر یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے تھے جس میں سبھی مذاہب اور فرقوں کے لوگ تعلیم حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ سرسید نے یہ تعلیمی ادارہ سبھی لوگوں کے لئے قائم کیا تھا جس میں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ مل جل کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرسید کے خلاف بہت سے فتوے آئے لیکن وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے اور اپنی تعلیمی ا ور سائنسی تحریک کو جاری رکھا۔پروفیسر بیگ نے کہا کہ سرسید ایک عظیم ماہرِ تعلیم،مورخ اور دور اندیش انسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج یہاں کے اساتذہ و طلبہ کی سخت محنت اور قابلیت کے سبب ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک بھر میں دوسرے مقام پر ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے جذبات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کیونکہ اسی میں سب کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔
پروگرام کے اعزازی مہمان سرسید اویئرنیس فورم کے صدر پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ سرسید سیکولر ازم اور رواداری کی مثال تھے اور یہ دونوں خوبیاں ان کی شخصیت کا اہم حصہ تھیں۔انہوں نے کہا کہ سرسید کی تمام زندگی مذہبی تفریق سے پاک اور رواداری سے لبریز تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس زمانے کے ہندو اور عیسائی دونوں ہی ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے اور ان کو بھر پور تعاون بھی پیش کرتے تھے۔

پروفیسر صمدانی نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب انگریزوں نے ہندو چودھریوں سے پوچھا کہ ضلع کا چارج کس کو دیا جائے تو ہندو چودھریوں نے سرسید کا نام پیش کیا جو ایک بڑی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرسید نے جب شعبۂ دینیات قائم کیا تو کبھی بھی اپنی فکر کو شعبہ پر نہیں تھوپا۔ سرسید تقرریوں میں صرف قابلیت اور صلاحیت کو پیشِ نظر رکھتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے متعدد بڑے اساتذہ اور پرنسپل کے عہدوں پر عیسائیوں کی تقرری کی۔ آخر میں پروفیسر صمدانی نے ادبی سکریٹری اور پروفیسرحشمت علی خاں کو اس کامیاب انعقاد کے لئے مبارکباد پیش کرتے ہوئے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ یونیورسٹی میں امن و قانون کی فضا بنائے رکھیں اور یونیورسٹی کی املاک سے سرسید کی طرح ہی محبت کریں۔

ہال کے پرووسٹ پروفیسر حشمت علی خاں نے مہمانان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سیکولرازم کی سرسید نے صحیح طرح سے تصویر پیش کی اور ان کی سائنسی فکر آج بھی ملک کے لئے اہمیت کی حامل ہے۔لٹریری سکریٹری انور حسین آزاد نے مہمانان کا تعارف پیش کرتے ہوئے تین دن کے پروگرام کا اعلان کیا۔ نہال ندوی نے نظامت کی۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں سینئر ہال محمد مطاہر، کلچرل سکریٹری تنظیر اطہر، عبداللہ دانش، شمیم، ابو ہمزہ، اظہر حسین آزاد، اشتیاق احمد، ساجد بخاری، نوید، راہی بابو، امتیاز احمد، عبداللہ صمدانی، سلمان گوڑ وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا۔ پروگرام میں امبیڈکر ہال کے طلبہ کے علاوہ یونیورسٹی کے دیگر طلبہ نے بھی حصہ لیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *