وصی احمد نعمانی، ایڈوکیٹ( سپریم کورٹ)
ہندوستان دنیا کا ایک مضبوط ترین جمہوری سیکولر ملک ہے، جس نے تمام اہم مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے وسیع دامن میں پناہ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہم بین الاقوامی مذہبی اور روحانی رہنماؤں نے اس سرزمین کو اپنا آشیانہ بنایا اور ان سب نے پوری زندگی انسانیت کی فلاح اور امن و سکون کے لیے وقف کردی۔ مگر اسی سرزمین کے آنگن میں ایسے ذہن و دماغ اور عقل و شعور بھی کارفرما رہے جس نے اس مٹی کی محبت کی خوشبو کو پراگندہ کیا۔ اس میں سب سے اہم رول فرقہ وارانہ شعور کا رہا ہے۔ اکثر ہندوستان کی یہ سرزمین اس گندی سازش سے کانپ کانپ اٹھتی رہی ہے، لیکن چونکہ اس کے خمیر میں اپنا پن، بھائی چارہ، محبت اور ایکتا کے چشمے موجزن رہے ہیں، اس لیے یہ سرزمین صاف من کو نوازتی رہی ہے اور پراگندہ دماغ کو سزا دیتی رہی ہے۔ ہندوستان کی اسی سیکولر مذہبی رواداری کے تحفظ کے لیے سب سے بڑی پنچایت پارلیمنٹ سے قانون سازی ہوتی رہی ہے۔ گزشتہ دو یا تین دہائی سے خاموشی کے ساتھ اور کبھی ببانگ دہل اس کے پاکیزہ ماحول کو نیست و نابود کرنے کے اقدام کیے جاتے رہے ہیں، مگر اس کا خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں ہوسکا۔ نتیجتاً یہاں کے بیدار مغزوں اور باشعور ذہنوں نے ان سازش کاروں کو سزا دینے اور ان کی حوصلہ شکنی کے لیے ہمیشہ فعال اور زود اثر قانون سازی کی وکالت کی ہے۔ ایسی ہی کاوشوں میں سے ’’فرقہ وارانہ تشدد(انسداد، کنٹرول اور مظلومین کی باز آبادکاری) بل2005 کی شکل میں ہندوستان کو ایک فعال اور زود اثر قانون دینے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس بل کو سب سے پہلے مورخہ 5 دسمبر 2005 میں راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا۔ اس کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ ’’اس بل کا مقصد مرکزی اور صوبائی حکومت کو بااختیار بنانا ہے کہ وہ اس قانون کے اطلاق کے ذریعہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار اور مضبوط رکھے اور ایسا ماحول بنائے رکھنے کے لیے انسدادی کارروائی بھی کرے۔ جس سے ملک کے سیکولر تانے بانے، اتحاد و اتفاق، ہم آہنگی اور ملک کی اندرونی سلامتی کا تحفظ کیا جاسکے۔ساتھ ہی متاثرہ افراد کی بازآبادکاری اور ا س سے متعلقہ دیگر امور کو انجام دیا جاسکے۔‘‘
یوپی اے حکومت نے مذکورہ بالا مقاصد کے حصول کے لیے 2004 کے الیکشن منشور میں ’’کامن منیمم پروگرام‘‘ کے تحت یہ وعدہ کیا تھا کہ ایسا قانون بنایا جائے گا جس کے ذریعہ فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف جنگ کرنے والوں کے ہاتھوں کو مضبوط کیا جائے گا اور پھر 2005 میں وعدہ کے مطابق اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا، اس کے خد و خال کو پڑھنے او رغور کرنے کے بعد نامور مفکرین، جورسٹ، قانونی ماہرین، رضاکاران جو اس میدان میں سرگرم عمل رہے ہیں۔ ان سب نے مل کر 2005 کے فرقہ وارانہ تشدد بل کو یکسر مسترد کردیا اور کہا کہ ان کے ساتھ مرکزی حکومت نے دھوکہ اور فریب کا ارتکاب کیا ہے۔ اس لیے مطالبہ کیا گیا کہ اس ڈرافٹ بل میں خاطر خواہ ترمیم کر کے نیک اور پاک ذہنوں کا احترام کیا جائے۔ مخالفتوں کے درمیان یا اس سے مرعوب اور متاثر ہو کر مرکزی سرکار نے بل کو ’’پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی ہوم افیئرز‘‘ کو نظر ثانی کے لیے بھیج دیا۔ لیکن صد افسوس کی بات ہے کہ جب پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس بل کو 6 دسمبر 2006 کو پارلیمنٹ میں ٹیبل کیا تو کوئی خاطر خواہ ترمیم نہیں پیش کی گئی۔ 2005 سے 2006 تک سول سوسائٹی اور حکومت کے مابین ہر سطح پر میٹنگ ہوئی۔ وزرائے داخلہ سے لے کر اس شعبہ کے اہم حکام اور ممبران پارلیمنٹ سے کئی کئی بار گفت و شنید ہوئی، مگر کوئی مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ اگرچہ مرکزی حکومت نے اس بل میں تقریباً 59 ترامیم شامل کر کے مرکزی کابینہ کے پاس بھیج دیا جس نے اپنی جانب سے ہو بہو بل کی توثیق کردی۔ بظاہر آنسو پونچھنے کے لیے ہلکے پھلکے اقدام کیے گئے۔ مگر سول سوسائٹی کے ایک بھی مشورہ کو شامل نہیں کیا گیا۔ اگر اس بل کو پاس کرلیا جاتا اور قانون کی شکل دے دی جاتی تو ان ذہنوں کی زیادہ حوصلہ افزائی ہوتی جو فرقہ وارانہ ماحول کو پراگندہ کر کے اپنا منصوبہ پورا کرنے کی تاک میں رہتے ہیں۔ جب کہ بل کا مقصد ہندوستان کے سیکولر تانے بانے کو محفوظ و مضبوط بنانا، تمام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا، عزت و آبرو کا احترام کرنا بتایا گیا تھا۔
اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے لازم تھا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایسے قوانین و ضوابط طے کرتیں جو شہریوں کی جسمانی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی، مذہبی، سیاسی اور انسانی اقدار کی حفاظت کرسکیں اور یہ سب کچھ کرنے کی خود کی ذمہ داری محسوس کرتیں۔
مرکزی حکومت نے 2005 کے فرقہ وارانہ تشدد بل میں بظاہر کچھ ترمیم کیں اور اسے ’’ڈرافٹ فرقہ وارانہ تشدد(انسداد، کنٹرول اور متاثرین کی باز آباد کاری) بل 2009‘‘ کا نام دے دیا۔
مرکزی حکومت کے اس بے سود عمل کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے مختلف مسلم جماعتوں اور اداروں کے رہنماؤں نے یکم مارچ کو دلی میں یکجا ہو کر اپنا منصوبہ تیار کرنا شروع کردیا اور متفقہ طور پر ببانگ دہل کہا کہ ’’فرقہ وارانہ تشدد(انسداد، کنٹرول اور متاثرین کی باز آبادکاری) بل 2009‘‘ نامناسب، ناقابل قبول اور کاؤنٹر پروڈکٹیو ہے۔ ان سب نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس بل پر نظر ثانی کی جائے کیوںکہ نام نہاد 59 ترامیم کے باوجود 2009 کا بل کسی طرح بھی 2005 کے بل سے مختلف نہیں ہے۔ اس لیے جب تک اہم اور زبردست ترامیم نہیں ہوتی ہیں، 2009 کا بل بھی کوئی اہم مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔
مسلم رہنماؤں نے صاف لفظوں میں کہا کہ جب تک فساد کا خدشہ باقی رہے گا اس کے انسداد کی خاطر خواہ کوشش نہیں ہوگی۔ فرقہ وارانہ فساد کو فوراً کنٹرول کرنے کا اثر انداز طریقہ نہیں اپنا جائے گا، جب تک متاثرین کو خاطر خواہ معاوضہ، باز آبادکاری کے طور پر وارثین کی بھر پور مالی مدد نہیں ہوگی، عزت و احترام، وقار اور آبرو کی حفاظت کے لیے قانون وضع نہیں کیا جائے گا، املاک کی تباہی کا بھر پور معاوضہ نہیں دیا جائے گا، مجرموں کی نشاندہی کرنے کے بعد ان کو مقدمہ چلا کر سزا نہیں دی جائے گی، حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ دار مشینری کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کا التزام نہیں ہوگا، فسادیوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے ذہنوں کو سزا دینے کا صاف قانون نہیں ہوگا، مجرمین کو جلد سے جلد سزا دینے کا قانونی التزام شامل نہیں ہوگا، 2009 کا بل بھی کسی کام کا نہیں ہوگا۔ اس اعتراض پر مرکزی سرکار کے کان کھڑے ہوگئے اور تجویزوں اور مانگوں کو دھیان سے غور کرنے کا کام شروع ہوا۔اس لیے کہ مسلم رہنماؤں نے یہ محسوس کیا کہ 2009کا بل بھی پولس، دیگر حکام یا صوبائی حکمرانوں کی مشینری کو جواب دہ قرار دینے کے لیے کوئی قانونی التزام نہیںکرتا ہے۔ اگراچانک دنگا ہوجائے یا پھیل جائے یا ہفتہ بھر میں بھی کنٹرول نہ ہوپائے تو انسانی حقوق کمیشن تک کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ بااثر طریقہ پر مداخلت کرکے مظلومین کو انصاف دے سکے۔ اگر صوبوں میں حکومتوں کی ایما پر دنگا فساد کنٹرول نہیں ہوسکے تو مرکزی سرکار دستور ہند کا آرٹیکل 355 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کر کے صوبائی حکومت کو برخاست کرسکے، اس کا کوئی بھی اختیار اس بل کے ذریعہ مرکزی حکومت کو نہیں دیا گیا ہے۔ دوسری طرف یہ بل تو ناپسندیدہ پولس کے ہاتھوں کو مضبوط کرتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اس بل کے ذریعہ پولس کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی علاقہ کو ’’کمیونلی ڈسٹرب ایریا‘‘ اعلان کردے، بس اس کا کام ہوگیا کیوں کہ ایسا کرنے کے بعد پولس کو خوب من مانی کرنے کا اختیار مل جاتا ہے جیسا کہ اب تک دیکھا گیا ہے۔
مسلم رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ’’فرقہ وارانہ تشدد‘‘ کی مناسب اور ٹھیک ٹھیک الفاظ میں تعریف بیان کرے۔ مثلاً جنسی یا صنفی جرائم، مذہبی منصوبہ بند قتل، تباہی و بربادی، لوٹ پاٹ وغیرہ کو فرقہ وارانہ تشدد کی تعریف میں شامل کرے تاکہ ان جرموں کو عام تعزیراتی جرائم کے خانہ سے الگ کر کے اس کی شدت کا احساس کیا جاسکے اور اس کے مجرمین کا سماجی بائیکاٹ ، ان کے املاک کی ضبطی کا حکم دیا جائے۔ ساتھ ہی ریلیف کیمپوں کو یکطرفہ نہ بند کیا جائے۔ جب تک کہ مظلومین اپنی اصل جگہ پر چین اور سکون کی پرامن زندگی گزارنے کے لیے واپس جانے کی حالت میں پورے تحفظ کے ساتھ تیار نہ ہوجائیں۔ ان لوگوں نے یہ بھی مانگ کی ہے کہ اس طرح کے فرقہ وارانہ حالات پر مبنی فوراً ایف آئی آر درج کرنے کا التزام ہونا چاہیے۔ واقعہ یا جرم کی تفتیش مخصوص تفتیشی عملہ کے ذریعہ، نامزد ملزمان، مجرمین، سیاسی عہدیدار، پولس، اس کے حکام کے خلاف مخصوص عدالت میں، مخصوص وکیل جو مظلومین کو قابل قبول ہوں،کے ذریعہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس طرح کے مقدموں کی کارروائی کے لیے سرکاری افسران کے خلاف پیشگی اجازت لینے کے التزام اور منظوری کو غیرضروری قرار دیا جائے۔ پورے ملک میں فساد سے متاثرہ کو یکساں معاوضہ دیا جائے۔ اس کے لیے مذہبی، علاقہ، شخصیت، مرتبہ آڑے نہیں آنی چاہیے اور نہ اسے بنیاد بنانا چاہیے۔ جان و مال، عزت و آبرو، مذہبی مقامات کا انہدام یا اس کے نقصان کو معاوضہ کی بنیاد ماننی چاہیے۔ اس طرح کے نقصان کے تخمینہ کے لیے صوبہ کے باہر کے مخصوص کمشنر کی خدمات لی جانی چاہیے تاکہ تفتیشی اور تخمینہ کے کاموں میں کوئی بے جا مداخلت نہ ہو۔
مذکورہ بالا التزام کے بغیر 2005 کے بل میں ترامیم کے بعد بھی اسے 2009 بل کی شکل میں پارلیمنٹ میں نہیں پیش کیا جانا چاہیے۔ مسلم رہنماؤں نے یہ مانگ نہایت وثوق کے ساتھ کی ہے کہ ’’جس طبقہ کے لوگ مذہبی منصوبہ بندی کے تحت قتل کیے جاتے ہیں، اس طبقہ کے ’’مشورہ مذکورہ بالا‘‘ کو 2009 کے بل میں شامل کیے بغیر پارلیمنٹ میں نہیں پیش کریں۔ اس طرح سیکولر طاقت، سول سوسائٹی، ہم نوا سیاسی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلدی جلدی میں بل نہ پیش کرے۔ نظر ثانی کرے تاکہ بل کی خامیاں، کمیاں جو ان کے ذریعہ بتائی گئی ہیں، ان کو دور کرسکیں تاکہ سب کو قانون کی نگاہ میں برابری کا حق دلایا جاسکے۔ اس متحدہ بیان میں ہندوستان کے اہم رہنماؤں، مفکروں اور دانشوروں نے اپنے دستخط ثبت کیے ہیں تاکہ حکومت کو باور ہوسکے کہ پوری مسلم قوم مجوزہ ’’فرقہ وارانہ تشدد(انسداد، کنٹرول اور متاثرین باز آباد کاری) بل 2009 کو خامیوں کا ایک بند پٹارہ سمجھتی ہے جو بل کے مقاصد کے حصول کے بالکل منافی ہے۔ دستخط کرنے والوں میں جناب سید حامد، مولانا سید جلال الدین عمری، مولانا ارشد مدنی، سید شہاب الدین، ڈاکٹر محمد منظور عالم، ظفر سیف اللہ، اسد الدین اویسی، مفتی محمد مکرم احمد، مولانا اعجاز احمد اسلم جیسے اکابرین وغیرہ کے نام نامی شامل ہیں۔
بی جے پی کی مخالفت
بی جے پی نے مجوزہ بل کی تجویزوں کی سخت مخالفت کی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ یہ بل خطرناک ہے اور بھید بھاؤ پر مبنی ہے۔ اس کا دانستہ طور پر بے جا استعمال کیا جائے گا، کیوں کہ اس میں غیرجانب داری نہیں ہوسکتی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ اس بل میں اس بات کی جھلک ملتی ہے کہ فرقہ وارانہ فساد اکثریتی طبقہ کے ذریعہ پھیلایا جاتا ہے۔ یہ بل فرقہ وارانہ فساد کی نئی تعریف اور توجیہ پیش کرتی ہے، جو بے حد جانب داری پر مبنی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فساد پیدا کرنے کے لیے صرف اکثریتی طبقہ پہل کرتا ہے اور یہ کہ فساد کبھی بھی اقلیتی طبقہ کے ذریعہ نہیں پیدا کیا جاتا ہے۔ اس طرح فساد اکثریتی طبقہ کے ذریعہ کیا گیا جرم ہے اور یہ قابل سزا ہے۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ اس بل کے حساب سے تو ایسا لگتا ہے کہ اقلیتی طبقہ کی طرف سے کیا گیا تو بڑے سے بڑا جرم بھی جرم کے خانہ میں نہیں آتا ہے۔ یہ بل تو ٹاڈا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس لیے بی جے پی اس بل کی سخت مخالفت کرتی ہے اور یقین کے ساتھ کہتی ہے کہ اگر اس بل کا اطلاق قانون بننے کے بعد ایک بار ملک میں ہوگیا تو جس نیت سے اس کو ڈرافٹ کیا گیا ہے، اس سے ہندوستان کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی تار تار ہو کر رہ جائے گی۔ اس کالے قانون کا نتیجہ نہایت خطرناک ہوگا۔ اس لیے ہر حالت میں اس بل کا اصل مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔ بی جے پی کا یہ رد عمل مسلم رہنماؤں کی تجویزوں پر منحصر 2009 کے بل میں ترامیم کے پیش نظر جسے بحث و مباحثہ کے بعد قانون کا جامہ پہننا ہے، اس پر ہے۔
مرکزی سرکار
دوسری طرف مرکزی سرکار اس بل کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ایک اہم قدم مانتی ہے۔ اس لیے اس کا کہنا ہے کہ ہر حالت میں یہ بل قانون کی شکل لے گا اور اسے لاگو کر کے ہی دم لیا جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ مرکزی اور صوبائی سرکاریں اس بات کے لیے بااختیار ہوںگی کہ وہ ایسے اقدام کریں، جس سے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف آواز بلند کرنے والوں، فساد کرنے والوں، جان و مال کی تباہی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جاسکے۔ دونوں سرکاروں، ان کی باڈیز اور اداروں کو اختیار ہوگا کہ ایف آئی آر درج کرے۔ آزادانہ، درست، صاف وشفاف تفتیش کرے، ثبوت یکجا کرے، قرقی، ضبطی کرے، سرکاری عملہ اور پولس حکام کی من مانی کو لگام دے اور ان کو سزا دے۔ دونوں سرکاروں کو اس بات کا بھی اختیار ہوگا کہ جہاں فساد ہوگیا ہے یا ہونے کا خدشہ ہے، ایسی جگہوں سے یا ان جگہوں پر کنٹرول نہیں کرپانے کی حالت میں یا مدد کرنے، سازش کرنے، ہوا دینے، پشت پناہی کرنے، ڈھیل دینے کی حالت میں آفیسرز، ذمہ دار حکام کی تبدیلی کر کے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے، اچھے افسران، عملہ کی تعیناتی یا تقرری کرے یا تبادلہ کرے۔ یہ بل اس بات کا بھی تاثر دیتا ہے کہ حکومت نے اس بات کی دلی کوشش کی ہے اور ایسی دفعات شامل کی گئی ہیں کہ ان کی مدد سے فرقہ وارانہ فساد کو روکا جاسکے گا۔ یہ بل مرکز کو اس بات کا بھی اختیار دیتا ہے کہ وہ خود بخود صوبہ کے کسی ایریا کو جو متاثرہ ہے، اسے ’’فرقہ وارانہ ڈسٹرب ایریا‘‘ قرار دے دے(مگر یہ مجوزہ ترمیم میں قابل قبول نہیں ہے) اور متعلقہ صوبہ کی مرضی یا درخواست کے بغیر اس علاقہ میں مرکزی سیکورٹی فورسز کو تعینات کردے۔ اس بل کی اہم بات یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ متعلقہ صوبوں میں سرزد جرم کی تفتیش ، ٹرائل دوسرے صوبوں میں انجام دئے جائیں تاکہ غیرجانب داری کا احساس و یقین ہو۔
دوسری طرف بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ بل ہندوستان کے وفاقی جذبات کی نفی کرتا ہے۔ اگرا س بل کا اطلاق ہوجاتا ہے تو مرکزی سرکار کی آمریت قائم ہوجائے گی اور جو دائرہ کار صوبائی حکومتوں کا ہے، اس میں زبردست مداخلت ہوجائے گی اور آخر کار ہندوستان کا وفاقی نظام تار تار ہوجائے گا۔
کچھ دیگر مفکرین کا کہنا ہے کہ یہ تو ایسا شرپسند قانون ہے جو خود مجرموں کی پشت پناہی کرتا ہے اور اس سے صوبائی دہشت گردی کو فروغ ملے گا۔ اس بل میں ’’ڈاکٹرن آف کمانڈ اینڈ سپیریر رسپانسبیلٹی‘‘ کے نظریہ کو بالکل بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، یعنی اس اصول کے تحت جو جتنا بڑا عہدیدار ہے، اس کی پہلی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس کے ماتحت قانون کے مطابق کارکردگی انجام دیں۔ بصورت دیگر ماتحت کی خامیوں، کمیوں، غیرقانونی ایکشن یا عدم ایکشن کا انجام سب سے پہلے اعلیٰ ترین عہدیدار کو جھیلنا ہوتا ہے۔ مثلاً اس اصول کے تحت احسان جعفری سابق ممبر پارلیمنٹ کی بیوی نے گلبرگہ سوسائٹی کے قتل عام اور آتشزدگی کی اطلاع احمد آباد کے پولس کمشنر کو دی تھی، مگر اس نے اپنے ماتحت کی غیرقانونی کارکردگی پر کوئی کارروائی نہیں کی اور قتل و غارت گری ہوجانے دیا، اس لیے اس اصول کے تحت سب سے پہلے مذکورہ بالا پولس کمشنر کو قتل و غارت گری کے لیے پھانسی کی سزا ملنی چاہیے تھی۔ اس لیے حالت و واقعات کا تقاضہ ہے کہ اس اصول اور ڈاکٹرن کو بل 2009 کے مسودہ میں شامل کرتے، لیکن بڑے افسران اور دیگر بڑے رہنماؤں کو 2009 کے مجوزہ بل کے دائرہ میں لا کر سزا دینے اور انہیں ذمہ دار قرار دینے کی تجویز نہیں ہے۔ اسی طرح اس بل میں صنفی یا جنسی جرائم کو جو عورتوں کے خلاف پولس عملہ کی طرف سے ہوجانے دیا جاتا ہے، ایسے جرم پر بھی یہ بل خاموش ہے۔ جب کہ ضروری ہے کہ عورتوں کے خلاف زیادتی کو فرقہ وارانہ تشدد کے دائرہ میں لائیں۔
اس طرح کی موافقت اور مخالفت میں ترمیم شدہ 2005 کے بل کو 2009 کی شکل میں حکومت نے قانون کی شکل دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، اسے تنقید و تبصرہ اور تعریف و ستائش کے پیمانہ پر تولا اور ناپا جارہا ہے۔ ان حالات میں مرکزی حکومت نے کافی ایسی دفعات کو شامل کردیا ہے، جو بظاہر مسلم رہنماؤں کی تجاویز کی عکاسی کرتی ہیں، اسی بل کو اب پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری ہے۔ حکومت نے درحقیقت کن کن نئی دفعات کو نئی شکل دی ہے اور مسلم رہنماؤں کی کن کن تجویزوں کو شاملِ بل کردیا ہے ۔ ان سب پر تبصرہ اگلی قسط نمبر 2 میں کریںگے۔ تجاویز کو پڑھنے کے بعد لگتا ہے کہ بی جے پی کسی بھی حالت میں بل کو مجوزہ تجویزوں کے ساتھ پاس ہونے نہیں دے گی، جب کہ حکمراں کانگریس بشمول ہم شریک جماعتیں اس بل کو کافی نئی ترامیم کے ساتھ پیش اور پاس کراکر قانون کی شکل دینا چاہتی ہیں۔ اگلی قسط میں ان تمام اہم تجاویز اور نکات کو قاری حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش رہے گی۔
(جاری)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here