سپریم کورٹ کے سابق جسٹس پی سی گھوش ہوں گے ملک کے پہلے ’لوک پال‘

Share Article

justice-pinaki-chandra-ghos

نئی دہلی :سپریم کورٹ کے سابق جج پناکی چندرگھوش (پی سی گھوش) کا نام ملک کے پہلے لوک پال کے طورپرفائنل کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیرکوسرکاری طورپراس کا اعلان کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس پی سی گھوش حالیہ وقت میں قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آرسی) کے رکن ہیں۔

جسٹس پی سی گھوش 27 مئی 2017 کو سپریم کورٹ سے ریٹائرہوئے تھے۔ سپریم کورٹ سے پہلے وہ کولکاتا ہائی کورٹ کے جج اورآندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ اب وہ ملک کے پہلے لوک پال بننے جارہے ہیں، جس کا صرف حتمی اعلان ہونا باقی ہے۔

واضح رہے کہ بدعنوانی کے معاملوں پرایک آزاد اورمضبوط ادارہ قائم کرنے کے لئے سال 2013 میں لوک پال اورلوک آیکت بل پاس کیا گیا تھا۔ 16 جنوری 2014 کو یہ بل نافذ ہوا تھا۔ حالانکہ مرکزکی مودی حکومت پانچ سال کے مدت کارمیں لوکپال کی تقرری نہیں کرپائی۔

لوک پال کی تقرری میں ہورہی تاخیرکولے کر’کامن کاز’ نام کی ایک غیرسرکاری تنظیم (این جی او) نے سپریم کورٹ میں پی آئی ایل دائرکی تھی۔ عرضی گزارکی طرف سے پیروی کررہے سینئرایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے عدالت میں اپیل کی تھی کہ حکومت کو جلد ازجلد لوکپال کی تقرری کا حکم دینا چاہئے۔

7 مارچ کو پی آئی ایل پرسماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) رنجن گوگوئی کی قیادت میں بینچ نے مودی حکومت سے لوکپال کی تقرری کولے کرہورہی تاخیرکی وجہ پوچھا تھا۔ بینچ نے 15 دن کے اندرحکومت کوجواب دینے کوکہا تھا۔ اس سے قبل 17 جنوری کو ہوئی سماعت میں عدالت نے لوکپال کی تقرری میں تاخیرکولے کرمرکزی حکومت کو پھٹکار بھی لگائی تھی۔ کانگریس کے سینئرلیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے بھی دو دن پہلے لوکپال کی تقرری کولے کرحکومت کو ساتویں بارخط لکھا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *