وادی میں کم عمر نوجوانوں کی ملی ٹنسی میں شمولیت پر سنجیدہ فکر طبقات مضطرب

Share Article

Mudasir-Sakib
ہارون ریشی

شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع سے تعلق رکھنے والے نوعمر ملی ٹنٹوں کی موت کے بعد اب سوشل میڈیا پر یہ بحث و مباحثہ شروع ہوگیا ہے۔ کچھ لوگ ان چھوٹی عمر کے لڑکوں کی قربانیوں کو سراہا رہے ہیں اور کچھ لوگ اس بات کی تنقید کررہے ہیں کہ اس قدر کم عمر لڑکوں کو ملی ٹنسی میں شامل ہوجانے کیوں دیا گیا ہے۔مختلف لوگ مختلف تاویلات دے رہے ہیں۔ 14سالہ مدثر احمد پرے اور 17سالہ ثاقب بلال شیخ ، دونوں کا تعلق بانڈی پورہ کے حاجن علاقے سے تھا اور دونوں اس سال اگست کے مہینے میں اپنے اپنے گھروں سے بھاگ گئے تھے اور ملی ٹنٹوں کے ساتھ جاملے تھے ۔مدثر نویں جماعت کا طالب علم تھا اور ثاقب گیاہویں جماعت کا۔یہ دونوں نوجوان اتوار کو سرینگر کے ایک مضافاتی علاقے میں فورسز کے ساتھ18گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپ میں مارے گئے ۔اس جھڑپ میں ان دو سمیت کل تین ملی ٹنٹ مارے گئے ۔ فورسز کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے اور جھڑپ کے دوران سات رہائشی مکانات خاکستر ہوگئے ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 31اگست کو ایک ہی ساتھ اپنے اپنے گھروں سے بھاگ نکلنے کے بعد ان دونوں ٹین ایجرزنے 15اکتوبر کو ملی ٹنٹ تنظیم لشکر طیبہ جوائن کرلی ۔مجہ گنڈ میں فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان جھڑپ شروع ہوجانے کے ساتھ ہی فیس بک اور سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹوں پر یہ خبر پھیل گئی تھی کہ اس علاقے میں فورسز کے محاصرے میں کئی ملی ٹنٹ پھنس گئے ہیں ، جن میں مدثر اور ثاقب بھی شامل ہیں۔ اسکے بعد حکام نے سرینگر میں انٹر نیٹ سروس بند کردی ۔ تاہم ان دونوں کم عمر ملی ٹنٹوں کے والدین اور دیگر افراد خانہ کو اس کی اطلاع مل چکی تھی اور وہ یہ بات سمجھ چکے تھے کہ ان کے عزیز اب مارے جائیں گے ۔
دونوں کی مائیں غم سے نڈھال ہوگئی ہیں۔مدثر کی ماں فریدہ بیگم دہاڑیں مار مار کر رہ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا ، ’’مجھے اس بات بھنک تک نہیں لگی تھی کہ میرے بیٹے نے ملی ٹنسی جوائن کرلی ہے۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ وہ گھر سے بھاگنے والا ہے تو میں اسے گھر میں قید کرکے رکھتی ۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ سب ہوگا۔‘‘ مدثر کی ایک تصویر حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی ، جس میں اسے ایک AK-47رائفل اور ایک چھری ہاتھوں میں لئے دیکھا جاسکتا تھا۔حقیقت میں یہ تصویر سوشل میڈیا پر آجانے کے ساتھ ہی یہ بحث شروع ہوگئی تھی کہ کیا اس عمر کے لڑکے کو ملی ٹنٹ بننے کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں۔ یا پھر کیا اس طرح کی ملی ٹنسی کو گلوریفائی کیا جانا ایک اچھی بات ہے یا اسکے بھیانک نتایج برآمد ہوسکتے ہیں۔

 

 

.ثاقب کے افراد خانہ کا کہنا ہے کہ 31اگست کو وہ گھر سے نکلا تھا، اُس دن صبح ساڑھے گیارہ بجے اسے گھر والوں نے آخری بار دیکھا تھا۔ اسکے چند دن بعد ثاقب نے اپنے والدین کو ایک پیغام بھیجا ، جس میں اس نے انہیں مطلع کیا کہ وہ ملی ٹنٹ بن چکا ہے۔اسکی ماں محبوبہ بیگم کہتی ہیں، ’’ جب ہمیں یہ خبر ملی تو ہم نے اس سے ملنے کی بہت کوشش کی ۔ میں اپنے لخت جگر سے ملنا چاہتی تھی لیکن کسی نے میری مدد نہیں کی ۔ حالانکہ میں جانتی تھی کہ وہ ایک صیح راستے پر نکلا ہے۔ میں خوش ہوں کہ وہ شہید ہوگیا ہے۔ مجھے اس کی موت پر کوئی افسوس نہیں ہے۔‘‘

 

 

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 8جولائی 2016کو جنوبی کشمیر کے ایک گاؤں میں معروف ملی ٹنٹ کمانڈر برہان وانی کے مارے جانے کے بعد وادی میں نوجوانوں کا ملی ٹنسی کی طرف رجحان بڑھنے لگا۔ فوج نے ’’آپریشن آل آؤٹ‘‘ شروع کیا ہوا ہے ، جس کے تحت آئے دن مختلف علاقوں میں جھڑپوں کے دوران ملی ٹنٹوں کو مارا جارہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق برہان وانی کی موت کے بعد اب تک اس مہم میں 600ملی ٹنٹ مارے جاچکے ہیں۔ صرف اسی سال نومبر کے آخر تک 240ملی ٹنٹ مارے گئے ہیں۔ لیکن اس بیچ نئے لڑکوں کا ملی ٹنسی میں شامل ہوجانے کا رجحان بھی جاری ہے۔اب تک سینکڑوں نئے لڑکے ملی ٹنسی میں شامل ہوچکے ہیں۔ ان میں کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی تھے۔اس سال کم از کم چار پی ایچ ڈی سکالرز فوج کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران ملی ٹنسی میں شامل ہوجانے والے کشمیر نوجوانوں میں تقریبا پچاس نوجوان ایسے ہیں ، جنہوں نے گریجویشن کی ہوئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت وادی میں تین سو جنگجو موجود ہیں ، جن میں 180سے زائد جنوبی کشمیر میں سرگرم ہیں۔سنجیدہ فکر طبقات سب سے زیادہ فکر مند اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کم عمر نوجوانوں کا ملی ٹنسی کی طرف رجحان پر ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *