پہاڑی پر چڑھ رہا تھا جےاین یو کا طالب علم، دوست کررہا تھا شوٹ، تبھی پھسلا پیر اور ہوگئی موت، دیکھیں ویڈیو

Share Article
maut ka video

پولیس کےمطابق 30دسمبر کو پروین اپنے دوست کےساتھ کیمپس کے پاس پہاڑی پر چڑھ رہا تھا۔

 

نئی دہلی: دہلی کے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جےاین یو) کیمپس میںایک طالب علم کی پہاڑی پر موت ہوگئی۔ مدھیہ پردیش کے جبل پور کا رہنےوالا تیواری جےاین یو میں اسکالر تھا۔ پولیس کے مطابق 30دسمبر کو پروین اپنے دوستوں کے ساتھ کیمپس کےپاس پہاڑی پر چڑھ رہا تھا۔ اسی دوران اس کا پیر پھسلا اور وہ نیچے گر گیا۔ اس کے سر پر گہری چوٹ لگی۔ اسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

طالب علم جےاین یو میں ICSSRمیں پڑھائی کررہا تھا اور وہ کیمپس کے کے برہم پتر ہاسٹل میںرہتا تھا۔ جب طالب علم پہاڑی پر چڑھ رہا تھا تو اس کاایک دوست ویڈیوں بنا رہا تھا۔ ویڈیوںمیں دیکھا جاکستا ہےکہ طالب علم قریب آدھی پہاڑی چڑھ چکا تھا۔ لیکن جب وہ اور اوپر جانے کی کوشش کرنےلگا تھا تو اس نے جس پتھر کو پکڑا ہوا تھا وہ ٹوٹ ہوا تھا وہ ٹوٹ گیا اور اس کےبعد اس کا پیر پھسلا گیا۔ پیر پھسلنے سے وہ پہاڑی سے نیچے گر گیا۔ جس سے اس کےسر پر گہری چوٹ آئی ہے۔

 

باہوبلی عتیق احمد کو بھیجا گیا بریلی جیل، بولے اب چنائو لڑوں گا

 

najeeb ahmad

بتادیں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی وقت وقت پر کئی مدعوں کو لے کر چرچا میں رہتا ہے۔ اکتوبر2018میںسی بی آئی نے جےاین یو طالب علم نجیب اھمد کی تلاش بند کر دی تھی۔ سی بی آئی نے دلی کے پٹیالیہ ہائوس کورٹ میں کلوزر رپورٹ داخل کی تھی۔ نجیب احمد قریب2سال سے یونیورسیٹی کیمپس سے لاپتہ ہے۔ سی بی آئی نے پولیس کی ایک سال سے زیادہ کی جانچ کے بعد پچھلے سال 16مئی 2018کو جانچ کا ذمہ اپنے ہاتھوں میںلیا تھا۔ اس سے پہلے گزشتہ 8اکتوبر 2018کو دلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں سی بی آئی کو کلوزر رپورٹ داخل کرنےکی اجازت دے دی تھی۔ دلی ہائی کورٹ نجیب کیماں فاطمہ نفیس کے اس الزام سے متفق نہیں ہوا تھا کہ سی بی آئی سیاسی مجبوریوں کے چلتے کلوزر رپورٹ داخل کرنا چاہتی ہے۔ جسٹس ایس مورلی دھر اور جسٹس ونود گویل نے فاطمہ کے اس الزام کو خارج کردیا کہ سی بی آئی کی جانچ سست اور دھیمی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *