علیحدگی پسند لیڈریاسین ملک حراست میں لئے گئے

Share Article
yasin-malik
نئی دہلی: پلوامہ حملے کے بعد جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں پر وسیع کارروائی کے سگنل کے درمیان جمعہ کی رات جموں-کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) سربراہ یاسین ملک کو حراست میں لے لیا گیا۔حکام نے بتایا کہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔حالانکہ اب کسی اور کے حراست میں لیے جانے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ معلومات کے مطابق آرٹیکل 35۔اے پر 26 فروری کے آس پاس سماعت مجوزہ ہے۔ اسی وجہ سے احتیاطاً یاسین ملک کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس دوران وادی میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔پولیس یاسین کو کوٹھی باغ تھانے لے گئی۔ اس درمیان وادی میں پولیس اور فوجی نیم دستوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے نیم فوجی دستوں کی 100 کمپنیوں کو جموں۔کشمیر بھیجا ہے۔ اس میں سی آر پی ایف کی 35، بی ایس ایف کی 35، ایس ایس بی کی 10 اور آئی ٹی بی پی کی 10 کمپنیاں شامل ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت نے یاسین ملک اور علیحدگی پسند حریت کانفرنس نے کچھ لیڈران کی سکیورٹی واپس لے لی تھی۔ حکومت نے گذشتہ دنوں کو کہا تھا کہ ملک اور گیلانی سمیت 18 علیحدگی پسند لیڈران کی سکیورٹی واپس لی گئی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ آرٹیکل 35۔اے پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہونی ہے۔ ایسے میں سکیورٹی فورسز نے احتیاط کے طور پر یاسین ملک پریہ کارروائی کی ہے۔پلوامہ ضلع میں سی آر پی ایف کے قافلے پر شدید دہشت گردانہ حملے کے آٹھ دن بعد یہ کارروائی سامنے آئی ہے۔اس حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوان شہید ہو گئے تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *