جنسی جرائم کا سلسلہ آخر کب رکے گا؟

Share Article

میر شاہ حسین سنبھلی 
p-2ہمارا ملک ہندوستان دنیا کے باوقار اور تہذیب یافتہ ممالک میں شمار ہوتا تھا۔ اس ملک کی اپنی تاریخ اور تہذیب و ثقافت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں عرب آئے، مغل آئے اور انگریز آئے، مگر اس ملک نے سب کو سینے سے لگایا اور انہیں جاہ و منصب کے ساتھ ساتھ احترام اور الطاف و عنایات سے نوازا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ملک آسمان کے تاروں کے جھر مٹ میں نظر آنے والے اس چاند کی مانند تھا کہ لوگ جس کی تعریف بھی کرتے تھے اور عزت بھی، مگر افسوس صد افسوس کہ آج اس خوبصورت ملک کی تہذیب دم توڑ رہی ہے اور جنسی جرائم وبا کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اس کا علاج نا ممکن تو نہیں، لیکن مشکل بہت ہے۔ 16 دسمبر کو دہلی میں یو پی کے ضلع بلیا کی رہنے والی ایک میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ جو حادثہ رونما ہوا، وہ انسانی سماج کو جھنجوڑ کر رکھ گیا۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے قبل بھی حادثات ہوتے رہے ہیں، مگر ملک کی راجدھانی دہلی میں اس واقعہ کو اخبارات اور ٹی وی نے اتنی کو ریج دی کہ یہ خبر دنیا کی ٹاپ ٹین خبروں میں شمار کی گئی۔ ابھی اس واقعہ کو گزرے ہوئے چند ماہ کا عرصہ ہی ہوا ہے کہ ایک اور خطرناک خبر نے انسانی وجود کو ہلا دیا۔ دہلی میں ایک پانچ سال کی بچی آبرو ریزی کا شکار ہوئی، جو اس وقت زندگی او ر موت کے بیچ میں معلق ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں یورپ سے ایک جوڑا ہندوستان گھومنے آیا تھا۔ اس جوڑے میں ایک عورت کے ساتھ مدّھیہ پردیش میں آبرو ریزی کی گئی۔ آج تو عالم یہ ہے کہ صبح اخبارات کی اگر سرخیاں دیکھی جائیں، تو اس میں تین سرخیوں میں ایک سرخی آبرو ریزی کی ضرور ہوتی ہے۔ یہ ملک جس میں صنفِ نازک کی آبرو کے لیے یہاں کے غیور مرد اپنی جان قربان کر دیا کرتے تھے، آج وہ ہی مرد حضرات ایسے بھیانک اور دل دہلا دینے والے کارنامے انجام دے رہے ہیں۔ جس ملک میں پیڑوں کو، جانوروں کو، ندیوں کو پوجا جاتا ہے اور عورت کو دیوی کا درجہ دیا جاتا ہے، اس ملک کے افراد ایسے ذلیل کام کرتے وقت یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عورت ماں ہوتی ہے، بہن ہوتی ہے، بیوی ہوتی ہے، بیٹی ہوتی ہے۔ کیا آبرو ریزی کی شکار ہونے والی لڑکیوں کا قصور صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ کم سن ہوتی ہیں، نازک ہوتی ہیں، شریف ہوتی ہیں۔ یہ تو انسانیت سوز، جرم کرنے والے درندے آج اپنے پیروں پر کھڑے ہیں، تو گھر کے آنگن سے ان کو سڑکوں تک پہنچانے والی عورت ہی ہے۔ مگر قابل شرم بات یہ ہے کہ وہ عورت، جو انسان کو جنم دیتی ہے، آج اپنی آبرو کی تحفظ کے لیے در در بھٹک رہی ہے۔ جب آبرو ریزی ہونے پرعورتیںاحتجاج کرتی ہیں، تو ہمارے ٹیلی ویژن ایسے پرسوز مناظر دکھاتے ہیں، جس سے انسانیت چیخ اٹھتی ہے۔ دہلی میں احتجاج کرنے کے دوران دہلی پولس کے ایک ایس پی نے ایک لڑکی کو زور دار طمانچہ مارا۔ یہی نہیں، جب اس بابت ملک کے وزیر داخلہ کا بیان آیا، تو انہوں نے کہا کہ ملک میں آبرو ریزی کے واقعات تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ جب ملک کا وزیر داخلہ اس طرح کے بیانات دیتا ہے، تو حادثہ کا شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ پر کیا گزرتی ہوگی۔ انتظامیہ نے لڑکی کو تھپڑ مانے والے ایس پی کو صرف معطل کیا اور اپنا پلہ جھاڑ لیا۔ یہ ہے ہمارے ملک کی صورت حال، جہاں غریب عوام کے خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت سے پولس کی تنخواہ دی جاتی ہے، وہیں پولس انھیں عوام پر لاٹھیاں چلاتی ہے۔ کیا دنیا کے اس سب سے بڑے جمہوری ملک میں عوام کو آواز بلند کرنے کا بھی حق نہیں؟ یہی ہے وہ آزادہندوستان جس کے لیے ہمارے لیڈران ہمارا بھارت مہان کے نعرے لگاتے ہیں؟

ایک رکشہ چلانے والا مزدور جب صبح کو اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اسے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ شام کو واپس آکر گھر پر اپنے بچوں کو خیریت سے پائے گا یا نہیں۔ خونی بھیڑیوں کی طرح کھلے عام گھومنے والے درندے کب اس غریب کی عزت تار تار کر دیں، پتہ نہیں۔ اس کے علاوہ اسکول بھیجنے والے والدین بھی اپنی بچیوں کی طرف سے ہر وقت فکر مند رہتے ہیں۔ خدا بری گھڑی نہ لائے، نہ معلوم کب کوئی ایسی منحوس خبر آئے کہ ان کی بچی اغوا کر لی گئی ہے یا اس کے ساتھ کوئی دردناک حادثہ پیش آیا ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر میں ملازمت کرنے والی خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں۔

اگر ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی بات کی جائے، تو ملک کا کوئی صوبہ مستورات کے لیے محفوظ نہیں۔ کچھ سنگین واقعات ملک کی خوبصورت وادی کشمیر میں رونما ہوئے، جہاں سننے میں آیا کہ فوج کے ذریعہ کشمیری لڑکیوں کے ساتھ دست درازی کی گئی۔ ان حالات پراقلیتی کمیشن کے چیئرمین و جاہت حبیب اللہ نے کہا کہ فوج کے ذریعہ آبرو ریزی ایک سنگین جرم ہے۔ مگر افسوس کہ کشمیری خواتین کی عرضداشت سننے والا کوئی نہیں۔ اگر کسی صوبے میں آبرو ریزی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، تو صوبائی حکومت یہ کہہ کر کہ ہمارے پاس عملہ نہیں ہے، اپنی ناکامی کاٹھیکرا مرکزی حکومت کے سر پھوڑ دیتی ہے اور مرکز کہتا ہے کہ صوبے کے حکام ذمہ دار ہیں۔ اس طرح الزام تراشیوں کا دور چلتا رہتا ہے اور چکی کے ان دو پاٹوں کے بیچ میں پستے ہیں ملک کے غریب، مظلوم عوام۔ صورتِ حال اتنی ناگفتہ بہ ہو چکی ہے کہ جب کسی لڑکی کی آبرو لٹ جائے اور اس کے اہل خانہ پولس میں رپورٹ درج کرانے کے لیے جاتے ہیں، تو بمشکل تمام رپورٹ درج ہوتی ہے۔ اور اگر رپورٹ درج ہو بھی جائے، تو مظلوم عوام عدالت تک پہنچتے پہنچتے اتنا خون تھوکتا ہے کہ حالات سے لڑنے کے لیے اس کے جسم میں خون باقی نہیں رہتا، پھر عدالت اپنا کام شروع کرتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پہلے تو عدالتوں میں جج حضرات کا فقدان ہے اور اگر کہیں کوئی منصف موجود ہے، تو وہ ایسے مقدمات کی سماعت میں اتنا وقت لیتا ہے کہ عوام انصاف کے لیے ترسنے لگتے ہیں۔ عدالت تاریخ پہ تاریخ ڈالتی رہتی ہے اور طویل مدت تک مظلوم کے جذبات، اس کا پیسہ اور وقت برباد ہوتا رہتا ہے، تب جاکے کہیں فیصلہ آتا ہے، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور وہ لڑکی، جس کی آبرو لٹ جائے روز روز کی چنتا میں جلنے سے بہتر ایک دن خاموشی سے چتا میں جاکر لیٹ جاتی ہے، کیو نکہ جس لڑکی کی زندگی برباد ہوتی ہے، نہ تو کوئی اس کی منزل ہوتی ہے، نہ کوئی مستقبل ،نہ کوئی اس سے ملنے آتا ہے اور نہ ہی اس کے گھر کوئی رشتہ آتا ہے۔
عدالتوں سے ہی انصاف سرخ رو ہے مگر
عدالتوں سے ہی انصاف ہار جاتا ہے
ایک رکشہ چلانے والا مزدور جب صبح کو اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اسے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ شام کو واپس آکر گھر پر اپنے بچوں کو خیریت سے پائے گا یا نہیں۔ خونی بھیڑیوں کی طرح کھلے عام گھومنے والے درندے کب اس غریب کی عزت تار تار کر دیں، پتہ نہیں۔ اس کے علاوہ اسکول بھیجنے والے والدین بھی اپنی بچیوں کی طرف سے ہر وقت فکر مند رہتے ہیں۔ خدا بری گھڑی نہ لائے، نہ معلوم کب کوئی ایسی منحوس خبر آئے کہ ان کی بچی اغوا کر لی گئی ہے یا اس کے ساتھ کوئی دردناک حادثہ پیش آیا ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر میں ملازمت کرنے والی خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں۔
آج ہم ہندوستانی عوام بدترین دور سے گزر رہے ہیں کیو نکہ یا تو ہمارے سسٹم میں خرابی ہے یا غریب اور مالدار کے بیچ کی جو کھائی ہے، وہ اب تک پٹ نہیں پائی ہے۔ ہمارے سیاسی آقائوں کے پاس کھوکھلے وعدوں اور نشتر کی طرح چبھنے والے الفاظ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ملک کے سابق وزیر داخلہ مفتی سعید کی بیٹی کا جب اغوا ہوتا ہے، تو پوری حکومت ہل جاتی ہے، مگر جب کسی غریب یا بے سہارا کی عصمت لٹتی ہے، تو بدلے میں احتجاج کرنے والوں پر پولس لاٹھیاں برساتی ہے۔ آخر ایسا کیوں؟ کیا اس ملک کا غریب عوام ہندوستان کا شہری نہیں ہے یا غریب اورامیرکے لیے الگ الگ قانون ہیں؟ یہی نہیں، وومن رائٹس تنظیم کا کہنا ہے کہ افسران اور انتظامیہ عورت کی تعمیر و ترقی کے لیے بڑے بڑے وعدے کرتی ہے، مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ عورت کو اس کے حقوق ملنا تو دو ر کی بات ہے، ملک میں کوئی عورت محفوظ ہی نہیں ہے۔ آبرو ریزی کے واقعات میں روز بروز اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے مرد حضرات سنجیدہ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج لڑکیاں شکمِ مادر میں ماردی جاتی ہیں یا دنیا میں آنے کے بعد والدین غربت کے ڈر سے ان کا گلا گھونٹ دیتے ہیں اور اگر کچھ لڑکیاں سن بلوغ کو پہنچ بھی جائیں، تو ملک میں گھومنے والے بے لگام درندے انہیں برباد کر دیتے ہیں۔ ہندوستان ہی نہیں، پڑوسی ملک پاکستان میں بھی لڑکیوں پر لاتعداد مظالم کیے جا رہے ہیں۔ اپنی خواہشات کا اظہار کرکے، پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننے کا خواب سجائے ملالہ یوسف زئی پر اس لیے جان لیوا حملہ کیا گیا کہ وہ تعلیم یافتہ ہونے کے بعد ملک کے غریب عوام کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ کوئی ہے، جو یہ بتا سکے کہ ملالہ یوسف زئی کا جرم کیا تھا؟ کیا اسلام میں لڑکیوں کی تعلیم ممنوع ہے؟ یہ لمحہ فکر یہ ہے۔ آج اس وبا سے بچنے کے لیے حکومت کو ایسے قوانین مرتب کرنے ہوں گے، جو عبرت ناک بھی ہوں اور انصاف کو زندہ بھی رکھیں، کیو نکہ ہر گلی محلے میں معصوم بچیاں اپنے تحفظ کے لیے رو رو کر آنسو بہار رہی ہیں اور چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں، کہاں گئے ہمارے غیرت مند بھائی، جو ہماری آبرو کے رکھوالے تھے۔ کہاں ہیں وہ ہمارے بزرگ، جنہوں نے ہمیں اپنی گودوں میں کھلایا تھا۔ کیا سماج میں ہماری فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے، کیا ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم لڑکی ہیں، غریب ہیں۔ کیا اس ملک سے انصاف مٹ چکا ہے، کیا یہاں کا جمہوری نظام فیل ہو چکا ہے، کیا اس ملک میں بے گناہوں کی اسی طرح آبرو ریزی ہوتی رہے گی۔ اگر انتظامیہ نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا، تو وہ دن دور نہیں کہ ہندوستان کی تہذیب سسک سسک کر دم توڑ دے گی اور پھر یہاں نہ کوئی سیاح آئے گا اور نہ بیرونی ممالک میں یہاں کے سماج کے ٹھیکہ داروں کو کوئی عزت ملے گی۔ اس وقت ہندوستانی عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس ملک میں جنگل راج چلے گا یا یہ ملک ماضی کی طرح امن و آشتی کا گہوارہ بن پائے گا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *