جھارکھنڈ : مقامی آبادی کو اجاڑ کردوسرا سنگور-آنندی گرام

Share Article

ریاست جھارکھنڈ میں تیاری چل رہی ہے صنعت کاری کی۔لہٰذا بڑے صنعتی گھرانے یہاں آئیں گے اپنی صنعتیں لگانے۔ اس کے لئے ریاستی حکومت سنگور اور آنندی گرام کی طرح یہاں اراضی ایکوائر کرے گی۔اس طرح جو کھیل مغربی بنگال میں کھیلا گیا تھا، وہ اب جھارکھنڈ میں آدیواسیوں کو اجاڑ کر کھیلا جائے گا ۔ ویسے ان علاقوں میں مسلم آبادی بھی کسی حد تک موجود ہے۔بس فرق اتنا ضرور ہے کہ مغربی بنگال میں امبانی اور ٹاٹا تھے اور جھارکھنڈ میں روس جو خارجہ پالیسی میں اب ہمارا نہیں رہا اور جس کا جھکائو پاکستان کی طرف ہوگیا اور صنعت کار اڈانی ہیں جو کہ امبانی کے رخصت ہونے کے بعد یہاں آئے ہیں ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ کس طرح جھارکھنڈ دوسرا سنگور یا نندی گرام بننے جارہا ہے؟
پرشانت شرن
p-9جھارکھنڈ میں ایک بار پھر وزیر اعلیٰرگھور ر داس کے ذریعہ صنعتی ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملک و بیرون ملک کو مختلف شعبوں میں ریاست میں سرمایا کاری کا حوصلہ افزا ماحول دکھانے کی کوشش کے تحت ریاستی سرکار فروری2017 میں گلوبل انوسٹمنٹ کانفرنس کرنے جارہی ہے۔ اسے کامیاب بنانے کے لئے وزیر اعلیٰ داس بنگلورو، حیدرآباد،دہلی، ممبئی کے ساتھ ہی غیر ملکوں میں روڈ شو کر چکے ہیں۔ ’میک ان انڈیا ‘کے طرز پر ’میک ان جھارکھنڈ ‘کا ماحول بنانے کی تازہ کوشش ابھی ابتدائی دور میں رنگ پکڑنے لگی ہے۔ سینکڑوں صنعتکاروں نے سرمایا کاری کی خواہش ظاہر کی ہیں اور ان کے ساتھ ایم او یو بھی ہوئے ہیں۔ روس کی کمپنی ’روسوٹوم ‘کے ذریعہ اس ریاست میں جوہری توانائی پلانٹ لگانے کا اعلان کرنے کے بعد تو ریاستی سرکار کچھ زیادہ پُرجوش ہے۔
دیر آید درست آید‘ کے طرز پر رگھور سرکار نے جو سوچ اجاگر کیا ہے اور صنعتی گھرانوں کو ہر جدید وسائل فراہم کرنے کی بات دوہرائی ہے،اس سے یہ لگتاہے کہ اس بار ریاست میں صنعتی ماحول بنے گا جو کہ صنعت، تعلیم اور صحت وغیرہ کے شعبوں میں نتیجہ خیز بن کر ترقی کی کہانی لکھے گا۔ ویسے جھارکھنڈ میں معدنیات اور جنگلاتی املاک کی بھرمار ،سستے مزدوروں کی دستیابی ہونے کی وجہ سے ریاست بننے کے بعد سے ہی یہ ریاست صنعتکاروں کی نظر میں تھی۔سابقہ سرکاروں نے بھی ملک و بیرون مل کی کمپنیوں کے ساتھ ایم او یو بھی کئے۔ لیکن جل،جنگل ،زمین کے علاوہ سسٹم کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان میں سے زیادہ تر نے اپنے پائوں کھینچ لئے۔ایم او یو کے بعد کئی تو واپس ہی نہیں آئے اور کئی سرمایا کار اپنی تجویز کو زمین پر اتارنے کے لئے محکموں میں دوڑ دھوپ کے بعد تھک ہار کر منہ موڑنے کو مجبور ہو گئے۔
جھارکھنڈ کا نئی ریاست بننے کے بعد نیا صنعتی ماحول تھوڑے وقت میں ہی دھندلا ہو گیا، لیکن اس بار رگھور سرکار نے نئی سوچ اور پکے ارادوں کے ساتھ ایک بار پھر ریاست میں صنعتی ماحول بنانے کی کوشش کی اور اس پہل کوکامیاب ہوتا دیکھ کر لوگوں کو یہ احساس ہورہا ہے کہ اس بار بڑے صنعتی گھرانے یہاں صنعت لگائیں گے۔ اگر نئی تجویز جھارکھنڈ کی زمین پر اترے گی تو رگھور سرکار کی ایک نئی ساکھ بن جائے گی۔

’جھارکھنڈ وکاس مورچہ‘ کے صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ بابو لا ل مرانڈی کا ماننا ہے کہ ریاست میں ترقی کا کام ہونا چاہئے، صنعتی ماحول بننے پر آدیسوایوں کے حق کو نظر انداز کر کے ترقی کا کام نہیں ہو۔ اگر بڑے صنعتی گھرانے اپنی صنعت یہاں قائم کریں گے تو ظاہر ہے کہ آدیواسیوں کی ہی زمین ایکوائر کی جائے گی، اس سے آدیواسیوں کی سا لمیت پر بحران آئے گا اور جل ،جنگل ، زمین چھن جائے گی۔ اپنے ہی گھر میں وہ بے گھر ہوجائیں گے۔

ویسے اس سرکار نے اڈانی گروپ کو سستے ریٹ پر زمین فراہم کراکر اور خصوصی رعایتیں دے کر اپنے ارادے کا اظہار کردیا ہے۔ویسے رگھور سرکار کے اس فیصلے کی کافی تنقید بھی ہوئی۔ کیونکہ اڈانی کو امیت شاہ کا قریبی مانا جاتاہے اور ممکن ہے پارٹی لیڈر کے دبائو کی وجہ سے ہی رگھور سرکار کو اس طرح کا فیصلہ لینا پڑا ہو۔ویسے یہ بھی کہا جارہاہے کہ اگر کچھ وقت پہلے یہی ماحول رہتا تو امبانی گروپ کو جھارکھنڈ سے اپنا بوریا بستر نہیں سمیٹنا پڑتا۔
لیکن اب روسی کمپنی اور دیگر بڑے صنعتی گھرانوں کے ذریعہ ملی سرمایا کاری کی تجویز سے وزیر اعلیٰ رگھور داس انتہائی پُر جوش ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ صنعتکاروں کو مختلف طرح کی سرگرمیوں سے گزرنا پڑتا تھا،لیکن اب سگنل ونڈو سسٹم اسٹریم لاگو کی گئی ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے تمام ضابطے پورے ہو جائیں گے۔ صنعتی گھرانوں کو بہتر ین ڈھانچہ سمیت پوری سیکورٹی مہیا کرائی جائے گی۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ریاست میں طریقہ انتظام کی صورت حال یگر ریاستوں سے بہتر ہے اور نکسل مسئلے نہیں کے برابر ہیں،اس لئے صنعتکاروں کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ریاست میں کانکنی اور جنگلاتی املاک بڑی تعداد میں ہیں، اس سے صنعتی گھرانوں کو فائدہ ملے گا۔ وزیر اعلیٰ کا ماننا ہے کہ ملک و بیرون ملک میں جو روڈ شو ہوئے ،اس کا حوصلہ افزا نتیجہ سامنے آرہا ہے۔ روسی کمپنی کے ذریعہ ایٹمی توانائی پلانٹ لگانے سے جھارکھنڈ کو بھرپور مقدار میںبجلی فراہم ہو سکے گی۔ صحت اور تعلیم کے شعبے میں بھی تجویز آئی اور اس کی وجہ سے یہ ریاست کچھ دنوں میں خود کفیل ہوجائے گی۔
وزیر اعلیٰ کے ذریعہ کی جارہی کوشش کے بعد صنعت لگانے کی تجویز آنے کے ساتھ ہی اپوزیشن کی بھی آواز اٹھنے لگی ہے۔’جھارکھنڈ وکاس مورچہ‘ کے صدر بابو لال مرانڈی نے کہا کہ ترقی کے نعرے پر آدیواسی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ صنعت لگانے کے نام پر آدیواسیوں کی نقل مکانی برداشت نہیں ہوگی۔ اگر سرکار صنعتوں کے لئے یہاں کی زمین لیتی ہے تو ریاستی سطح پر تحریک چلائی جائے گی اور ایک بھی اینچ زمین نہیں لینے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سرکار غیر مزروعہ اور بنجر زمینوں کو نشان زد کرکے لینڈ بینک بنائے اور صنعتکاروں کو دے۔
اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ہیمنت سورین نے کہا کہ صنعتی سرمایا کاری کے نام پر وزیر اعلیٰ ملک و بیرون ملک گھوم رہے ہیں۔ سرکاری خزانے کی لوٹ ہورہی ہے۔ غریبوں کی ترقی کا کام چھوڑ کر صنعتکاروں کو لبھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلے بنیادی ڈھانچے کو تیار کرناچاہئے تھا۔ ویسے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس بار وزیر اعلیٰ رگھور داس کی قوت ارادی کی وجہ سے ریاست میں صنعتی ماحول بن سکتا ہے اور صنعت قائم ہونے سے لوگوں کو بالواسطہ یا براہ راست روزگار مہیا ہو سکتا ہے،ویسے چرچا اس بات کی بھی ہے کہ بی جے پی کے حامی صنعتکاروں کی نظر جھارکھنڈ کی معدنیات پر ہے اور وہ اسی بہانے معدنیات پر قبضہ کر سکیں گے اور یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کچھ چنندہ صنعتکاروں کو فائدہ دے کر تنازع میں گھرتے بھی جارہے ہیں۔
روسی اور دیگر بڑے صنعتی گھرانوں کے ذریعہ جھارکھنڈ میں سرمایا کاری کی تجویز ملنے سے ریاست کے وزیراعلیٰ رگھور داس بہت خوش ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا ماننا ہے کہ ریاست میں صنعتی ماحول بن رہا ہے۔ ریاست میں بھرپور معدنیات اور جنگلاتی املاک ہیں اور صنعتی گھرانوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔ بنگلورو،حیدرآباد،ہلی ،ممبئی ،امریکہ میں ہوئے روڈ شو کا حوصلہ افزا نتیجہ دیکھنے کو مل رہاہے۔ ملک کے بڑے صنعتی گھرانوں نے جھارکھنڈ میں سرمایا کاری کی خواہش ظاہر کی ہیں۔ کئی صنعتکاروں کے ساتھ ایم او یو بھی ہوئے ہیں۔صنعتکاروں کو ہر طرح کی سہولت مہیا کرائی جائے گی۔ صنعت قائم کرنے کے لئے زمین کی کوئی کمی نہیں ہوگی،ساتھ ہی اب صنعت کاروں کو صنعت قائم کرنے کے لئے کئی محکموں کی دوڑ نہیں لگانی ہوگی ،ریاست میں سنگنل ونڈو کی ابتدا کی گئی ،جہاں سارے کام ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ کا یہ ماننا ہے کہ اس ریاست میں طریقہ انتظام کی کوئی کمی نہیں ہے۔صنعتکاروں کو اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت ہیں ہے۔ نکسل مسئلے بھی نہیں ہیں۔ دراصل یہاں نکسلی ہیں ہی نہیں۔جرائم پیشہ افراد کا گروپ ہے اور اس پر پوری طرح سے قابو پا لیا جائے گا۔ صنعتکاروں کو پوری سیکورٹی دی جائے گی اور وہ بے خوف ہوکر اپنا کام پورا کر سکیں گے۔ دنیا کی متعدد تنظیموں نے بھی جھارکھنڈ کو سرمایا کاری کے لئے بہتر مانا ہے۔ ممبئی اور کئی بڑے شہروں میں ہوئے روڈ شو میں کچھ انہی وجوہات کو لے کر صنعتکار متاثر ہوئے ہیں۔روس کی ایک کمپنی بھی جوہری توانائی پلانٹ لگانے کی خواہش ظاہر کی ہے جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ ریاست میں صنعتی ماحول بنتا دیکھ کر یہ امید ہے کہ جھارکھنڈ ملک کی ہی نہیں دنیا کی خوشحال ریاست بنے گی۔
سرمایا کاروں کو متوجہ کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ رگھور داس اپنی ٹیم کے ساتھ جہاں میٹرو شہر اور بیرون ملکوں میں روڈ شو کررہے ہیں اور صنعتکاروں کو لانے میں کامیاب بھی ہور ہے ہیں،وہیں بی جے پی کے کچھ صنعتکاروں پر زیادہ ہی مہربان نظر آرہے ہیں۔ اسی وجہ سے تنازعات کے گھیرے میں بھی آرہے ہیں۔ بی جے پی کے پیارے صنعتکار اڈانی کے لئے پوری توانائی پالیسی ہی بدل دی گئی۔ اڈانی گروپ گوڈا میں 1600 میگاواٹ کا پاور پلانٹ لگانے جارہی ہے۔ اڈانی گروپ نے ریاستی سرکار کے ساتھ اس کے لئے ایم او یو کیا ہے،لیکن ایسی چرچا ہے کہ ایم او یو میں بھی پھیر بدل کردیا ہے۔
صنعتی دنیا میں یہ چرچا زوروں پر ہے کہ اڈانی گروپ کے لئے ریاستی سرکار نے جوہری پالیسی میں بدلائو کردیاہے۔ اس کا سیدھا فائدہ اڈانی کے پاور پروجیکٹ کو ملے گا۔ دراصل سرکار نے 2012 کی جوہری پالیسی میں ترمیم کی ہے،جس کے تحت سرکار انہی پاور پلانٹوں سے قابل برداشت قیمت پر بجلی لے گی جسے سستے ریٹ پرریاستی سرکار کوئلہ فراہم کرائے گی۔ جوہری پالیسی 2012 کے مطابق جھارکھنڈ میں قائم پاور پلانت سے پیدا ہونے والی بجلی کا 25 فیصد حصہ ریاستی سرکار کو دینا ہوگا۔ 25فیصد میںسے 13فیصد قابل برداشت قیمت پر اور 12فیصد طے ریٹ پر۔ طے ریٹ عموماً قابل برداشت ریٹ کا لگ بھگ نصف ہوتاہے۔ اب نئی جوہری پالیسی لاگو ہونے سے ریاستی سرکار اب سستی قیمت پر اڈانی گروپ سے بجلی نہیں خرید سکے گی۔سرکار کے اس نئے فیصلے سے اڈانی گروپ کو سیدھا فائدہ پہنچے گا۔ ریاستی سرکار اب سستے ریٹ پر اڈانی سے بجلی نہیں خرید سکے گی۔
اڈانی کے ساتھ پہلے مرحلہ کا ایم او یو فروری 2015 میں ممبئی میں ہوا تھا، اس کے بعد فیز 2 کے سمجھوتے میں کمپنی نے شرطوں میں بدلائو کے لئے دبائو بنایا۔ سرکار اڈانی گروپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لئے قانون میں پھیر بدل کر کے اڈانی کو سہولت دینے کا فیصلہ ریاستی سرکار نے کیا۔ اڈانی پروجیکٹ کے ساتھ تنازع کی وجہ سے اس وقت کے توانائی سکریٹری ایس کے جی رہاٹے تک کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ رہاٹے شرطوں کے بدلائو کے حق میں نہیں تھے۔ اڈانی گروپ کے سستے ریٹ پر زمین مہیا کرانے کو لے کر بھی ریاستی سرکار کی جم کر تنقید ہوئی تھی۔
’جھارکھنڈ وکاس مورچہ‘ کے صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ بابو لا ل مرانڈی کا ماننا ہے کہ ریاست میں ترقی کا کام ہونا چاہئے، صنعتی ماحول بننے پر آدیسوایوں کے حق کو نظر انداز کر کے ترقی کا کام نہیں ہو۔ اگر بڑے صنعتی گھرانے اپنی صنعت یہاں قائم کریں گے تو ظاہر ہے کہ آدیواسیوں کی ہی زمین ایکوائر کی جائے گی، اس سے آدیواسیوں کی سا لمیت پر بحران آئے گا اور جل ،جنگل ، زمین چھن جائے گی۔ اپنے ہی گھر میں وہ بے گھر ہوجائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *