جھارکھنڈ میں آبائی زمین کو بچانے کی جنگ

Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ
اس سال گرمی اپنے شباب پر ہے اور جھارکھنڈ کے کانکے نگڑی سے ہو کر گزرنے والی ندی جمار انتہائی خشک سالی کا شکار ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جمار ندی پانی سے لبریزہوتی تھی اور اپنے کنارے بسے تمام گائووں کو سیراب کرتی تھی۔جمار ندی کے کنارے بسے گائووں کے لوگ اس پانی سے اپنے کھیتوں کی سینچائی کرتے تھے اور مچھلیاں پالتے تھے، لیکن اب جمار ندی پر جھارکھنڈ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ریاست کی راجدھانی کی توسیع کی بھی ذمہ داری آ گئی ہے۔ملک و بیرون ملک کے کارپوریٹ گھرانوں اور صنعت کاروں کی سہولت کے لیے اس ندی کا پانی اور بہائو دونوں لوٹ لیا گیا اور اس سے بھی دل نہیں بھرا تو اب حکومت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ(آئی آئی ایم) ، لاء یونیورسٹی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) کھولنے کے نام پر جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کے کانکے بلاک میں واقع نگڑی گائوں کے باشندوں کی زمین پر ریاستی حکومت قبضہ کرنا چاہ رہی ہے۔ اس ندی کے کنارے راجدھانی کے رنگ روڈ، این ایچ75، گریٹر رانچی اور ایسے ہی کئی منصوبوں کے بننے کے سبب جمار ندی خستہ حالی کا شکار ہو گئی ہے۔ کارپوریٹ زمینداروں کے لیے پراپرٹی ڈیلر کی طرح کام کر رہی جھارکھنڈ حکومت نے اس کی گود میں بسے 35 گائووں کے ساتھ کانکے نگڑی کے باشندوں کی زمین پر قابض ہونے کی مہم چلا رکھی ہے۔

نندی گرام اور سنگور کے زخم ابھی بھرے نہیں ہیں اور ملک میں سینکڑوں ایسے نندی گرام اور سنگور کی زمین تیار کی جا رہی ہے۔ خواہ بھٹا پارسول (یو پی) ہو یا جیتا پور (مہاراشٹر) یا پھر کوڈن کولم (تمل ناڈو)۔ ان تمام مقامات پر سرکار جبراً تحویل اراضی کرنے کی ضد میں کسانوں اور مزدوروں کو مرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اسی فہرست میں ایک اور نام کانکے نگڑی گاؤں (جھارکھنڈ) کا بھی شامل ہو چکا ہے۔ یہاں 35 گاؤوں، جن میں ہزاروں لوگوں کی 277 ایکڑ زرخیز زمین تحویل میں لینے کا اعلان ہو چکا ہے۔ عدالت سے بھی راحت کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ گاؤں والے اپنی جان دینے کو تیار ہیں ، لیکن زمین نہیں۔ پیش ہے چوتھی دنیا کی خاص رپورٹ:

رانچی کے کانکے پٹھوریا علاقہ میں جھارکھنڈ حکومت کا منصوبہ رانچی کی توسیع کے لیے گریٹر رانچی بنانے کا ہے۔ اسی علاقہ سے رانچی کے چاروں طرف چکر لگانے والا رنگ روڈ بن رہا ہے اور اسی علاقہ سے این 75بھی گزرتاہے۔ این ایچ 33 اور این ایچ 75 کے درمیان اور آس پاس کے پورے رانچی ضلع میں آنے والا علاقہ گریٹر رانچی کے منصوبہ کے تحت ہے، جس کا دائرہ تقریباً 30 ہزار ایکڑ طے کیا گیا ہے۔ رنگ روڈ اور رانچی سے پتراتو روڈ کانکے نگڑی گائوں کے نزدیک آپس میں ملتے ہیں۔
غور طلب ہے کہ رنگ روڈ کے اس حصہ کو بنانے کے لیے جھارکھنڈ روڈکنسٹرکشن ڈپارٹمنٹ نے سال 2008 میں یہاں کی زمین تحویل میں لینے کی کوشش کی تھی، لیکن زمین حاصل کرنے میں انہیں مکمل کامیابی نہیں ملی۔ تاہم رنگ روڈ بننے کا کام ابھی ادھورا ہی پڑا ہے۔حالانکہ وافر مقدار میں دھان کی فصل پیدا کرنے والی یہاں کی زرخیز زمین اب نئے بحران میں پھنس گئی ہے۔ ستمبر 2011 میں حکومت نے اس گائوں کی 227.71 ایکڑ زمین تحویل میں لے کر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اور لاء یونیورسٹی کھولنے کے لیے مذکورہ اداروں کو الاٹ کر دی تھی اور یہاں چہاردیواری کی تعمیر بھی شروع کرا دی گئی ہے۔ چہاردیواری کی تعمیر کے لیے تقریباً500 مسلح پولس دستوںکی تعیناتی کر کے 227.71 ایکڑ زمین کی گھیرابندی کر دی گئی اور غریب دیہی باشندے خاموشی سے اپنی زمین پر ہو رہی تعمیر کو دیکھتے رہے،کیونکہ بڑے پیمانہ پر تعینات پولس اہلکاروں کے سامنے بے یار و مددگار نہتے گائوں والے کیا کر سکتے تھے۔ لہٰذا، بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ اس زمین کو حکومت نے تحویل میں لے لیا ہے اور اب یہاں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) اور لاء یونیورسٹی کھولی جائے گی۔ گائوں والوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے تحویل اراضی کے لیے کوئی بھی قانونی کارروائی نہیں اپنائی۔ لہٰذا دھیرے دھیرے اس کی مخالفت میں آوازیں بلند ہونے لگیں، لیکن تب تک 63.76 ایکڑ زمین پر چہار دیواری کی تعمیر ہو چکی تھی۔ حالانکہ گائوں والوں کے غم وغصہ اور احتجاج کے بعد چہاردیواری کی تعمیر روک دی گئی اور 12 لوگوں پر دفعہ 107 لگا کر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ریاستی پولس کے اہلکاروں نے کھیتوں میں کھڑی گیہوں کی فصل کو تہس نہس کر دیا۔ دیہی باشندوں کو تحویل اراضی کرنے کی صحیح معلومات نہیں مل پائی۔اس دوران غریب قبائلی مانڈر کے ممبر اسمبلی بندھو ترکی قبائلیوں کے لیے لڑ رہے سماجی کارکن دیامنی برلا کے رابطہ میں آئے اور انہیں اس تحریک کی قیادت کرنے کی دعوت دی گئی۔ گائوں والوں کی اپیل کے اصرارپر دیامنی نے تحویل اراضی کے حقائق کی تلاش شروع کی اور حق اطلاعات قانون کے تحت انھوں نے مختلف معلومات حاصل کیں، جو درج ذیل ہیں:
– کانکے انچل کے موضع نگڑی، تھانہ نمبر53 میں معاملہ نمبر 21/1957-58 کے ذریعہ ورسا ایگریکلچر یونیورسٹی کانکے کی توسیع کے لیے کل 202.27 ایکڑ زمین لی گئی، جس میں رعیت کی کل تعداد 153تھی۔ کل پنچاٹی (رعیت) رقم 1,55,147.88روپے ، جس میں 128پنچاٹیوں (رعیتوں) کے ذریعہ ادائیگی نہیں لیے جانے کے سبب بقیہ رقم 1,33,732روپے رانچی کے خزانہ میں جمع کر دی گئی۔
– زمینی معاملہ نمبر31/1958/59 سے موضع نگڑی میں سیڈ فارم ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ کے لیے 25.44 ایکڑ زمین تحویل میں لی گئی۔
– مذکورہ 227.71 ایکڑ اراضی میں سے آئی آئی ایم کے لیے کل 214.29 ایکڑ زمین حکم نمبر 658؍را ، مورخہ07-03-09سے فروغ انسانی وسائل، جھارکھنڈ، رانچی کو مفت میں منتقل کی گئی ہے۔ رانچی رنگ روڈ کے لیے 12.635 ایکڑ تحویل شدہ زمین مجوزہ ہے اور 0.70 ایکڑ مجوزہ اراضی کی منتقلی ہوئی ہے۔ مذکورہ اطلاع ضلع کے تحویل اراضی آفیسر ، رانچی کے ذریعہ 29فروری 2012 کو دی گئی ہے۔
حق اطلاعات سے موصولہ محکمہ برائے شہری ترقیات کے ذریعہ 19 اپریل 2007 کی موصولہ اطلاع یہ ہے کہ جھارکھنڈ ریاست کی تشکیل کے وقت سے ہی ریاست کے لیے نئی راجدھانی کی ترقی ریاستی حکومت کے منصوبہ کا حصہ تھی۔ اس بابت بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے لیے کم سے کم نقل مکانی ، سرکاری اور بنجر زمین کا زیادہ سے زیادہ استعمال، پانی کی دستیابی ، پانی کی نکاسی کی ضروریات اور ماحول کا تحفظ وغیرہ ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے جگہ کے انتخاب کی شکل میں رانچی کی تین سائٹوں کی تجویزپیش کی گئی۔ پہلی رانچی شہر کے جنوب میں سورن ریکھا ندی اور قومی شاہراہ 33 کے نزدیک، جسے بعد میں خارج کر دیا گیا۔ دوسری سائٹ کی شکل میں رانچی شہر کے شمال مغرب میں پتراتو روڈ اور راتو روڈ کے درمیان کا علاقہ مناسب سمجھا گیا، جس میں سانگا، ہرہری، چیری، مناتو، سکرہوٹو، گاگی، کھٹنگا، پتگال، کرکٹا، مالسیرن ، سرانگو، مانہا، چمگرو گائوں بسے ہیں۔ تیسری سائٹ کی شکل میں رانچی شہر کے شمال مشرق میں جمارندی کے شمال اور پتراتو روڈ اور قومی شاہراہ 33 کے درمیان کا علاقہ مناسب سمجھا گیا، جس میں چاما ، برکو برہو ،جڈو، اوپرکونکی، ہیت کونکی، اوچاپیڑی، ناواڈیہ، سوتیانبے، کوکوڈارو، موروم، نگڑی ، کھٹنگا، رول، ایکامبے، ہوسر، چیتار، بالو، سوڈکانڈو ، جمواری اور مدن پور گائوں بسے ہیں۔
مذکورہ دوسری اور تیسری سائٹ کو محکمہ برائے شہری ترقیات، رانچی حکومت کی تکنیکی کمیٹی نے واٹر سپلائی، ٹریفک، عمارت تعمیر، پاور سپلائی وغیرہ کے لیے معقول سمجھا۔ لہٰذا، اسے کور کیپٹل کمپلیکس کی شکل میں فروغ دینے کی سفارش کی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ دوسری اور تیسری سائٹ کی زمین پر ہی 35 گائوں ہیں، جہاں تقریباً 30 ہزار خاندان آباد ہیں۔ یہاں مقیم ہزاروں لوگوں کو حکومت اب کور کیپٹل کمپلیکس کی تعمیر میں تباہ کرنے کا خاکہ تیار کر چکی ہے۔اس سلسلہ میں سال 2007 میں وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی کی بھی تشکیل ہو چکی ہے۔ غور طلب ہے کہ سال 1957-58 میں جب اراضی تحویل میں لی گئی تھی، اس وقت رعیتوں کو 800 روپے فی ایکڑ اور 15 فیصد تلافی رقم ملا کر کل 736 روپے کی شرح سے معاوضہ دیا گیا تھا ۔
آر ٹی آئی کے ذریعہ موصولہ اطلاع، جو 18 اگست 2008 کے خط میں سپرنٹنڈنٹ انجینئر،روڈ کنسٹرکشن ڈپارٹمنٹ ،رانچی؛ وائس چانسلر برسا ایگریکلچر یونیورسٹی ، کانکے، رانچی کو موضوع این ایچ 75 سے این ایچ 33 پارٹ 7 رنگ روڈ میں تحویل اراضی کے لیے کلیئرنس سرٹیفکٹ کے سلسلہ میں کہتے ہیںکہ کانکے اور انچل کے تحت موضوع نگڑی تھانہ نمبر 53 مختلف کھاتہ اور پلاٹ رقبہ 12.63 ڈیڑھ ایکڑ زمین، جو آپ کی یونیورسٹی کے تحت آتی ہے،اس اراضی میں جھارکھنڈ حکومت کے مذکورہ منصوبہ رنگ روڈ کی تعمیرہونا ہے۔ تعمیر کے لیے جھارکھنڈ حکومت پرعزم ہے۔ لہٰذا ، التماس ہے کہ اس منصوبہ کو مکمل کرنے کے لیے مذکورہ زمین پر این او سی ایگزیکٹیو انجینئررنگ روڈ، صدر دفتر رانچی کو دینے کی مہربانی کی جائے۔
اس خط کے جواب میں برسا ایگریکلچر یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریٹیو ڈائریکٹر ونے کمار سنکو کہتے ہیں ’’محترم، مذکورہ ضمن کے سلسلہ میں ہدایت کے مطابق یونیورسٹی کے لیٹر 6324 مورخہ 16 دسمبر 2008 کے ذریعہ تحریرشدہ این او سی پر رضامندی دینے پر کہنا ہے کہ آپ کے خط کے ذریعہ مذکورہ رنگ روڈ کے لیے جن پلاٹوں اور رقبوں کا ذکر کیا ، اس کی روشنی میں یہ مطلع کرنا ہے کہ ابھی تک اراضی کو یونیورسٹی تحویل میں نہیں لے پائی ہے، اس لیے مذکورہ اراضی کی این او سی جاری کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔ لہٰذا، یونیورسٹی کے ذریعہ جاری لیٹر 6324 مورخہ 16 دسمبر 2008 کو خارج سمجھا جائے اور اس میں تحریر این اوسی کو خارج کر دیا جائے۔
مذکورہ حقائق، ایگریکلچر یونیورسٹی کے ڈائریکٹر، روڈ کنسٹرکشن ڈپارٹمنٹ، محکمہ برائے شہری ترقیات اور حق اطلاعات سے موصولہ اطلاعات کو دیکھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کانکے نگڑی کی تحویل اراضی کا پورا معاملہ ادھورا اور خامیوں سے پر ہے۔ 227.71 ایکڑ اراضی پر آج بھی گائوں والوں کا قبضہ ہے۔ سال 2012 تک انھوں نے اس زمین پر کھیتی کی اور سال 2011-12 تک کی لگان رسید بھی ان کے پاس ہے۔ باوجود اس کے ریاستی حکومت انہیں ان کی پشتینی زمین سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ حکومت نے تاناشاہی رویہ اختیار کرتے ہوئے 12 دیہی باشندوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے، جس کی مخالفت میں نگڑی باشندے گزشتہ 4 مارچ سے اپنی اراضی پر بانس بلی اور پیڑ کی ٹہنی، جھاڑیاں ڈال کر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ اس دھرنے میں خواتین، مرد اور بچے سبھی شامل ہیں۔ گائوں والوں کے اتحاد کی وجہ سے چہاردیواری کا تعمیری کام بند کرنا پڑا تھا، لیکن اس جگہ پر تنائو اس وقت مزید بڑھ گیا جب نیشنل لاء یونیورسٹی آف اسٹڈی اینڈ ریسرچ ان لاء کی بار ایسو سی ایشن جھارکھنڈ نے مجوزہ مقام پر تعمیری کام جلد شروع کرنے کے لیے جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ 30 اپریل 2012 کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس پرکاش ٹاٹیا اور جسٹس اپریش کمار سنگھ کی بینچ نے مجوزہ مقام پر تعمیری کام جلد پورا کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس سلسلہ میں عدالت نے محکمہ داخلہ کے چیف سکریٹری اور پولس ڈائریکٹر جنرل کو 48 گھنٹوں کے اندر نگڑی، کانکے میں چہار دیواری کا تعمیری کام شروع کرانے کا حکم دیا ۔ ہائی کورٹ کا حکم ملتے ہی جائے وقوعہ پر گزشتہ دو مئی کو مسلح پولس دستہ اتار دیا گیا اور 63.76 ایکڑ پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ پولس کے ذریعہ طاقت کا استعمال کیے جانے کے بعد بھی نگڑی کے باشندوں نے ہمت نہیں ہاری اور وہ مسلسل پر امن تحریک چلا رہے ہیں۔ گزشتہ 23 اپریل کو متاثرہ دیہی باشندوں نے ایک مہا سبھا کا انعقاد کیا، جس میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے۔ اس مہا سبھا میں نرسا کے ممبر اسمبلی ارون چٹرجی، مانڈر کے ممبر اسمبلی بندھو ترکی، سی پی آئی ایم ایل (لبریشن) کی گنی ارانو، پیپلز فرنٹ جھارکھنڈ کے سکریٹری ارون پردھان سمیت کئی تنظیموں کے لیڈروں نے نگڑی کے باشندوں کے ساتھ جدوجہد کرنے کا وعدہ کیا۔ وہیں کانکے سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی رام چندر بیٹھا اور رانچی سے کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ سبودھ کانت سہائے نے اس معاملہ پر نہ تو کوئی بیان دیا اور نہ ہی دھرنے کے مقام پر جا کر متاثرہ گائوں والوں کی کوئی خبر لی۔ غور طلب ہے کہ جھارکھنڈ ریاست پانچویں شیڈول کے تحت آنے والی ریاست ہے، جہاں قبائلی اکثریت میں ہیں۔ ریاستی حکومت پانچویں شیڈول نافذ کرنے کا وعدہ تو کرتی ہے ، لیکن اسی ریاست میں قبائلیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ اپنی زمین سے اجڑنے کے بعد ہزاروں قبائلیوں کا کیا ہوگا۔ کیا ان کی باز آبادکاری کے لیے جھارکھنڈ حکومت نے کوئی منصوبہ بنایا ہے۔ آج کانکے، نگڑی کے باشندوں کا ایک ہی نعرہ ہے ’’جان دے دیں گے ،لیکن زمین نہیں دیں گے‘‘۔ کانکے ، نگڑی کے بچے بھی اس لڑائی میں شامل ہیں۔ وہ اسکول سے سیدھے دھرنے کے مقام پر جاتے ہیں اور اس میں شامل ہوتے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں ’’زمین ہماری ماں ہے، اس سے ہمیں دور مت کرو‘‘، لیکن بہری اور گونگی حکومت نگڑی سے اٹھنے والی آواز سے بے خبر ہے۔ حکومت کے تئیں مقامی باشندوں میں جس طرح سے اشتعال پیدا ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ نگڑی میں بھی ایک نندی گرام کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *