جھارکھنڈ: کیا بی جے پی کی اکیلے چلنے کی پالیسی کامیاب ہوگی ؟

Share Article

منگلا نند 

p-3bپہلے پورا دیش، پھر ایک ایک پردیش ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ انتخابی نعرہ اب جھارکھنڈ میں بھی گونجنے لگا ہے۔ جھارکھنڈ کی ایک دو پارٹیوں کو چھوڑ کر سبھی پارٹیوں کے لیڈر بی جے پی کو گھیرنے کی جتنی کوششیں کر رہے ہیں، بی جے پی اتنی ہی تیزی سے مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ ریاست میں کانگریس – جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) اتحاد ٹوٹ جانے کے بعد بن رہے حالات میں سب سے زیادہ فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملنے کی قیاس آرائی ابھی سے شروع ہو گئی ہے۔ کس طرح سے ہریانہ اور مہاراشٹر میں بی جے پی نے اکیلے دَم پر سرکار بناکر ثابت کردیا کہ اکیلے چلنے کی پالیسی ہی سب سے اچھی ہے، اب وہی پیٹرن بی جے پی جھارکھنڈ میں بھی اپنا چکی ہے۔ 81 رکنی جھارکھنڈ اسمبلی میں بی جے پی کہیں اکیلے دَم پر ہی اکثریت نہ ثابت کر دے، یہی سوچ کر کانگریس اور جے ایم ایم کے لیڈروں کی نیند اڑ چکی ہے۔ یہ پارٹیاں کسی بھی طرح جوڑ توڑ کرکے جھارکھنڈ میں سرکار بنانے کی کوشش تو کر رہی ہیں، لیکن اب موجودہ حالات میں سب کا کھیل بگڑ چکا ہے۔ پہلے مرحلہ، یعنی 25 نومبر کو ہونے والی ووٹنگ کے لیے امیدوار پرچہ نامزدگی بھی بھر چکے ہیں۔

کانگریس ایم ایل اے اننت پرتاپ دیو بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ وہ بھوناتھ پور اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے ایم ایل اے تھے۔ کانگریس نے اننت پرتاپ کو پارٹی کا امیدوار بنایا تھا، لیکن کانگریس کے ذریعے امیدوار بنائے جانے کے 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ اننت پرتاپ نے پلٹی مار دی اور بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ الیکشن سے ٹھیک پہلے لیڈروں کے ذریعے پارٹی بدلنے کا یہ سلسلہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی یہاں ایسا ہوتا رہا ہے۔ ایسی متعدد مثالیں ماضی میں دیکھنے کو مل چکی ہیں۔ کبھی اندر سنگھ نامدھاری بی جے پی میں تھے، پھر انہوں نے اپنی ایک الگ پارٹی بنا لی۔ وہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو میں بھی شامل ہوئے، پھر آزاد امیدوار کے طور پر رکن پارلیمنٹ چنے گئے۔ اسی طرح رادھا کرشن کشور کانگریس میں تھے، وہاں سے جے ڈی یو میں گئے اور پھر دوبارہ کانگریس میں آ گئے۔ فی الحال وہ بی جے پی میں ہیں۔ مادھو لال سنگھ پہلے لیفٹسٹ تھے، اس کے بعد آزاد امیدوار بنے، پھر کانگریس میں چلے گئے اور اب بی جے پی میں ہیں۔ نئیل ترکی جے ایم ایم سے کانگریس میں گئے، پھر آجسو میں اور اب جے ایم ایم میں دوبارہ لوٹ آئے ہیں۔ وجے ہانسدا کانگریس میں تھے، پھر جے ایم ایم میں آئے اور رکن پارلیمنٹ بنے۔

بی جے پی نے ارجن منڈا کو کھرساواں اور سی پی سنگھ کو رانچی اسمبلی سیٹ سے انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ جھارکھنڈ میں بی جے پی نے پانچ خواتین امیدواروں کو بھی ٹکٹ دیا ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے عیسائی فرقہ کے بھی دو امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ تاہم، 18 سیٹوں پر اس نے ابھی اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اتحاد ہونے کی صورت میں آجسو کو ان میں سے کچھ سیٹیں دی جا سکتی ہیں۔ اُدھر رانچی کے رکن پارلیمنٹ رام ٹہل چودھری کے ذریعے آجسو کے ساتھ اتحاد کی کوشش کی مخالفت کیے جانے کے بعد بی جے پی نے ہٹیا سیٹ سے سیما شرما کے نام کا اعلان کر دیا ہے۔

بی جے پی نے ارجن منڈا کو کھرساواں اور سی پی سنگھ کو رانچی اسمبلی سیٹ سے انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ جھارکھنڈ میں بی جے پی نے پانچ خواتین امیدواروں کو بھی ٹکٹ دیا ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے عیسائی فرقہ کے بھی دو امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ تاہم، 18 سیٹوں پر اس نے ابھی اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اتحاد ہونے کی صورت میں آجسو کو ان میں سے کچھ سیٹیں دی جا سکتی ہیں۔ اُدھر رانچی کے رکن پارلیمنٹ رام ٹہل چودھری کے ذریعے آجسو کے ساتھ اتحاد کی کوشش کی مخالفت کیے جانے کے بعد بی جے پی نے ہٹیا سیٹ سے سیما شرما کے نام کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سیٹ پر ابھی آجسو کے نوین جیسوال ایم ایل اے ہیں۔ آجسو نے اسی سیٹ کو چھوڑنے کے لیے بی جے پی پر دباؤ بنایا تھا۔ حالانکہ، آجسو کے دعوے والی دیگر سیٹوں پر ابھی امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں ہوا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے ٹکٹ بٹوارے میں پارٹی کے کسی بھی داغی کو امیدوار بنانے سے پرہیز کیا ہے۔ زرعی گھوٹالے میں ملزم سابق وزیر ستیہ آنند بھوکتا سمیت دیگر معاملوں میں جانچ کے دائرے میں آئے ارون منڈل، رام چندر بیٹھا اور بیج ناتھ رام سمیت کئی لوگوں کو ٹکٹ دینے سے پرہیز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ چودھری، لکشمن سنگھ اور شیتل اوراؤں کو بھی پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ بی جے پی نے ریاست کی جن 18 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے، ان کے نام ہیں شکاری پاڑہ، بڑکا گاؤں، رام گڑھ، مانڈو، ہزاری باغ، دھنوار، بگودر، گومیا، چندن کیاری، نرسا، ٹنڈی، گھاٹ شیلا، جگس لائی، ایچا گڑھ، تماڑ، سلی، کولے بیرا اور لوہر دگہ۔ فی الحال بی جے پی جھارکھنڈ میں اکیلے چلنے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ اس کی یہ پالیسی اگر کامیاب رہی، تو جھارکھنڈ میں وہ پوری اکثریت کے ساتھ سرکار بنانے میں کامیاب ہوگی۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *