پرشانت شرن
p-10راجیہ سبھا کے انتخاب کولے کر پہلے سے ہی بدنام جھارکھنڈ میں اس بار بھی وہی ہوا،جس کا شک پہلے سے ہی تھا۔ اس بار انتخاب میںپھر کراس ووٹنگ ہوئی اور اپوزیشن جماعتوںکے مشترکہ امیدوار کی ہار ہوگئی، جبک اپوزیشن کے پاس جیت کا آنکڑاتھا اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ سپریمو کے بیٹے وسنت سورین کی جیت پکی مان کر اپوزیشن لیڈرمطمئن تھے۔لیکن بی جے پی نے اپنے دوسرے امیدوار کی جیت کے لیے ایسی حکمت عملی بنائی کہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کے لییلائی گئیپھول مالائیں گاڑی میں ہی رکھی رہ گئیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دونوں امیدواروں نے جیت درج کرکے یہ ثابت کردیا کہ اقتدار اورپیسے میں کافی طاقت ہوتی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی بھلے ہی نظم و ضبط ار بدعنوانی سے پاک حکومت کی بات کرے، لیکن اس راجیہ سبھا انتخاب سے یہ صاف ہوگیا کہ کہنے اور کرنے میںکافی دور کارشتہ ہوتا ہے۔ بی جے پی نے راجیہ سبھا کی دونوںسیٹیں جیتنے کے لیے پوری طاقت جھونک دی۔ حکومت و انتظامیہ کا سہارا تو لیا ہی گیا، پیسے کا بھی بھاری کھیل ہوا۔ ذرائع کی مانیںتو پارٹی کے پالیسی سازوں نے رانچی سے 30 کلومیٹر دور پتراتو کی ہری وادیوںمیںایسے ارکان اسمبلی سے رابطہ کیا، جنھیں رجھایا جاسکتا تھا۔ پلامو ڈویژن کے دو ارکان اسمبلی پر ڈورے ڈالے گئے اور انھیںلالچ دیا گیا۔ ہری گھاس کے لالچ میںکئی ارکان اسمبلی آگئے اور بی جے پی نے اپنی جیت کے لیے میجک نمبر چھولیا ۔ بی جے پی نے اقتدار کا اثر دکھاتے ہوئے ان ارکان اسمبلی کو ہڑکایا، جن پر کچھ معاملات میں وارنٹ جاری تھا۔ بی جے پی نے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ایک ایم ایل اے چمرا لنڈا کو بھی اسپتال کے کمرے میں بند کرادیا اور ڈاکٹروںسے یہ لکھوا دیاکہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے، اس لیے انھیںووٹنگ کے لیے نہیںلے جایا جاسکتاہے۔ لیکن جب جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے لیڈروں نے ایمبولنس سے لانے کی کوشش کی ،توپولیس نے ایک معاملے میں انھیں گرفتار کرکے اسپتال میں ہی گھیرے رکھا۔ اس معاملے میں عدالت نے بھی نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو سخت پھٹکار لگائی اور کہا کہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے رکن اسمبلی چمرا لنڈا کو گرفتار کرنے کے 24 گھنٹے بعد بھی انھیں عدالت میں کیوں نہیں پیش کیا گیا۔ بی جے پی کے پالیسی سازوں نے پانکی سے کانگریسی ایم ایل اے دیویندر سنگھ بٹو کو بھی نہیںنکلنے دیا اور ووٹنگ میںجانے سے روک دیا۔ ویسے اس معاملے میں دیویندر سنگھ کا کہنا ہے کہ انھوںنے گرفتاری کے خوف سے ووٹنگ میں حصہ نہیںلیا اور اس معاملے میںانھوں نے پارٹی کے اعلیٰ لیڈروں کو اطلاع بھی دی تھی، لیکن ذرائع کی مانیں، تو بی جے پی کے پالیسی سازوں نے انھیںخوف کے ساتھ ہی وہ سب کچھ دے دیا، جو وہ چاہتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی پلامو ڈویژن کے ایک دیگر ایم ایل اے کو بھی بی جے پی اپنے ساتھ رکھنے میںکامیاب رہی۔ اس انتخاب میںدو ایم ایل اے غیر حاضر ہوگئے، جبکہ دو نے کراس ووٹنگ کرکے بی جے پی کے دوسرے کروڑپتی امیدوار کو راجیہ سبھا بھیج دیا۔
دراصل راجیہ سبھا انتخاب سے ایک دن پہلے 10 جون کوجگن ناتھ پور تھانے کی پولیس نے 2013 کے ایک معاملے میں درخواست دے کر جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ایم ایل اے چمرا لنڈا کے خلاف گرفتاری کاوارنٹ حاصل کرلیا تھا۔ چمرا لنڈا رانچی کے آرکیڈ اسپتال میںعلاج کرا رہے تھے۔ 10 جون کی رات جگن ناتھ پور تھانے کے انسپکٹر پولیس فورس کے ساتھ آرکیڈ اسپتال پہنچے اور لنڈا کو گرفتار کرنے کی کوشش کی ، لیکن ڈاکٹروں نے انھیںبتایا کہ ان کی طبیعت خراب ہے اوروہ گرفتاری کے لائق نہیں ہیں۔ اس کے بعد ان کے کمرے کے باہر اور اسپتال میںبھاری پولیس فورس تعینات کردیا گیااور ووٹنگ کے دن 11 جون کی صبح پولیس نے انھیں گرفتار کرلیا اور اگلے دن انھیںکورٹ میںپولیس نے پیش کیا۔ ا س وجہ سے کورٹ نے پولیس کو جم کر پھٹکار لگائی اور پولیس سے پوچھا کہ آخر 24 گھنٹے کے اندر انھیںکورٹ میںکیوںنہیںپیش کیا گیا۔
جھارکھنڈ میںراجیہ سبھا کی دو سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہونی تھی۔ اس کے لیے تین امیدوار انتخابی میدان میںتھے، ظاہر ہے کہ کسی ایک کو تو ارنا ہی تھا۔ بی جے پی کے دو امیدوار تھے اور دونوں نے ہی جیت حاصل کی۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ ایک سیٹ پر لڑا تھا اور ہار گیا۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کی جیت پر کبھی بھی کسی کوشک نہیںتھا، بی جے پی کے پاس آجسو (آل جھارکھنڈ اسٹوڈنٹ یونین) کو لے کر47 ووٹ تھے، اس لیے نقوی کی آسان جیت طے تھی۔ وہ جیتے بھی، لیکن بی جے پی کے دوسرے امیدوار مہیش پوددار کے پاس جیت کا آنکڑا نہیںتھا، لیکن وہ جیت گئے، ان کے ووٹ کاجگاڑ ہوگیا۔ ادھر اپوزیشن کے پاس 30 ووٹ تھے اور انھیںجیت کے لیے صرف 28 ووٹ چاہیے تھے ۔ دو ووٹ اپوزیشن کے پاس زیادہ ہی تھے، ا س لیے اپوزیشن جیت کو لے کر پوری طرح پُریقین تھا، لیکن انتخاب سے ٹھیک ایک دن پہلے نظارہ بدل گیا اور ووٹنگ ہوتے ہوتے ساری ایکوئیشن ہی بگڑ گئی۔ کسی نے کراس ووٹنگ کی، تو کوئی غائب ہی رہا اور بی جے پی نے دونوں سیٹوں پر اپنی جیت درج کرلی۔ ظاہر ہے کہ 30ارکان اسمبلی کی حمایت والا امیدوار ہار جائے، تو اس کا صاف صاف مطلب ہے کہ کسی نے پارٹی کو غچا دے دیا اور دوسری کو حمایت دے دی۔ الزام یہ لگ رہا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی کھیل ہوا ہے۔ اگر پولیس نے کسی کوروکا، تنگ کیا اور اسمبلی نہیںپہنچنے دیا،تو یہ جمہوریت کامذاق ہے اور اقتدار کا کھل کر غلط استعمال ہوا ہے اور جس ایم ایل اے نے کراس ووٹنگ کی وہ کہہ رہے ہیںکہ ضمیر کی آواز پر انھوںنے ووٹنگ کی، تو یہ بھی اخلاقیات کا کھلا مذاق ہے۔ کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ جھارکھنڈ، راجیہ سبھا انتخاب میںہارس ٹریڈنگ کے لیے کتنا بدنام رہا ہے۔
بی جے پی پر سوالیہ نشان اٹھنا لازمی ہے۔ پارٹی نے ہر طرح کی طاقت کا استعمال کیا،دولت، طاقت اور اقتدار کا کھل کر غلط استعمال ہوا۔ چمرا لنڈاکے خلاف جب پرانے معاملے تھے،تو عین وقت پر ووٹنگ سے ایک دن پہلے کیوںگرفتاری وارنٹ جاری ہوا۔ ایسے وقت پر پولیس کارروائی ہونے سے تو غلط پیغام ہی جائے گا،لیکن چمرالنڈا کو بھی شک کے دائرے سے دیکھا جارہا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ چمرا لنڈا نے ووٹ دینے کے لیے کوشش کیوں نہیںکی؟ اگر وہ ووٹ دیتے،تو اپوزیشن کا امیدوار نہیں ہارتا۔ یہ وہ بھی جانتے تھے ، لیکن انھوںنے ایسا نہیں کیا،اورانھوںنے ایسا کیوں نہیں کیا، یہ وہ ہی بتاسکتے ہیں ۔
اس انتخاب میںدوسرے ایم ایل اے جو سب سے زیادہ چرچا میں ہیں، وہ ہیں پانکی سے کانگریس کے ایم ایل اے دیویندر سنگھ بٹو۔ چرچا ہے کہ ان کے خلاف بھی ایک مقدمہ دائر ہے اور پولیس نے انھیںدھمکایا بھی تھا اور وہ اسی ڈر سے غائب ہوگئے اور ووٹنگ کرنے نہیں آئے۔ ویسے وہ کہتے ہیںکہ اس بات کی اطلاع انھوں نے اپنے سینئر لیڈروں کو دے دی تھی، لیکن سوال ان پر بھی یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر وہ غائب کیوںہوگئے؟ ٹھیک ایک دن پہلے جب رانچی میںتھے اوردن بھر میٹنگ میںپارٹی لیڈروں کے ساتھ رہے، تو پھر وہ اچانک ووٹنگ کے دن کہاں غائب ہوگئے اوراپنے موبائل کا سویچ آف کیوں کردیا۔ وہ پولیس کے ڈر سے غائب رہے یاپھر انھوں نے اسی کی آڑ میںبالواسطہ طور پر بی جے پی کی مدد کردی۔ ویسے اگر ذرائع کی مانیں ، تو وہ 11 جون کوووٹنگ کے دن رانچی میںہی تھے اور بی جے پی کے پالیسی سازوں کے رابطے میںتھے۔
اب دو ارکان اسمبلی جنھوںنے کراس ووٹنگ کی، اس کا تو پتہ چل نہیںپایااور یہ کچھ مشکل سا بھی لگ رہا ہے۔لیکن یہ تو سچ ہے کہ کسی نے تو غداری کی ہی ہے۔ دو ارکان اسمبلی نے اپوزیشن کی جگہ بی جے پی کوووٹ دے دیا۔ یہ دونوں کسی بھی پارٹی کے ہوسکتے ہیں، لیکن اپوزیشن اس کا ٹھیکرا جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے پرکاش رام اور ماسس کے واحد ایم ایل اے اروپ چٹرجی پر پھوڑ رہا ہے۔ حالانکہ ان دونوں نے ہی اس سے انکارکردیا ہے۔یہ کہتے ہیںکہ انھوںنے اپنے پولنگ ایجنٹ کو دکھاکر ووٹ کیا ہے۔
ادھر کانگریس کے ریاستی صدر سکھ دیو بھگت نے کہا کہ پارٹی کے دو ارکان اسمبلی نے پارٹی کے اعلیٰ کمان کے فیصلے کے خلاف کام کیا ہے۔ انھوںنے کہا کہ پارٹی پانکی کے ایم ایل اے دیویندر سنگھ بٹو کے خلاف تادیبی کارروائی کرے گی اور پارٹی سے انھیںبرطرف کیا جائے گا۔ ریاستی صدر نے کہا کہ اس بارے میںاعلیٰ کمان کو پوری رپورٹ بھیج دی ہے کہ پانکی ایم ایل اے نے پارٹی وہپ کے خلاف ووٹنگ کی ہے۔
بی جے پی کے پالیسی ساز کسی بھی طرح کی ہارس ٹریڈنگ سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھیں انڈپنڈینٹ کا ساتھ ملا۔ اپوزیشن جماعتیں ہار کوقبول نہیں کرپارہی ہیں اور الزاموںکی بوچھار کررہی ہیں، جبکہ انھیںیہ دیکھنا چاہیے کہ ان کی اتحادی جماعتوں نے ہی انھیں چھلا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here