یروشلم معاملہ :امریکہ اوراسرائیل کے خلاف جمعیۃ علماء ہندکی قیادت میں ایک ہزارسے زائدمقامات پراحتجاجی مظاہرہ

Share Article

jamiat-protest

امریکی صدر کے ذریعہ القدس کو اسرائیلی راجدھانی قراردییے جانے کے خلاف 22دسمبربروزجمعہ کو جمعیۃ علماء ہند کے ز یر اہتمام پورے ملک میں تقریبا ایک ہزار پندرہ شہروں و قصبات میں ایک ساتھ زبردست احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا انداز ہ ہے۔ہندوستانمیں منعقد یہ احتجاج امریکہ کے فیصلے کے خلاف اب تک کا سب سے بڑ ا احتجاج ہے۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی آواز پر دہلی، ممبئی، پونے، کلکتہ، گوہاٹی، اگرتلہ، پٹنہ، رانچی، بنارس، کانپور، مظفرنگر، دہرادون، گیا، حیدر آباد، احمد آباد، پٹن، سورت، بنگلور، چینئی سمیت مختلف مقامات پر لاکھوں مظاہرین الگ الگ قسم کے نعروں پر مشتمل پلے کارڈ اٹھائے ہوئے سڑک پر نکل پڑے اور پرامن طریقے سے اس فیصلے کے خلاف مظاہرہ منعقد کیا، اس احتجاج سے قبل آج مساجد میں بھی خصوصی دعاء کا اہتمام کیا گیا۔ ہر طرف خاص طور سے یہ نعرہ لگایا گیا کہ ’’یروشلم پر قبضہ ختم کرو، معصوموں کا قتل بندکرو‘‘

 

 

 

qari-usman

اس موقع پر بنار س میں احتجاجی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا قاری محمد عثمان منصورپوری نے ۰۲?دسمبر کی شام جمعےۃ کے ز یر اہتمام دہلی میں منعقد اہم مشاورتی اجتماع میں منظورشدہ قرار داد بھی پڑھ کر سنایا۔جس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ القدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے’’امریکی صدر کا یہ اقدام، بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کے ان فیصلوں کے منافی ہے جن کے تحت یہ طے پا چکا ہے کہ۷۶۹۱ء کی جنگ کے دوران اسرائیل نے القدس پر زبردستی قبضہ کیا ہے۔ا س اقدام کا مقصد القدس پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو جائز ٹھہرانا ہے اور یہ یقیناًفلسطین کے پرامن حل کے لیے ہر گز معاون نہیں ہے۔‘‘

 

deoband

 

’’آج کے اس اہم اجتماع میں ہم اپنے اس مضبوط موقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ ایسی آزاد فلسطین مملکت بنے جس کی راجدھانی مشرقی یروشلم ہو۔ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک کی دیرینہ پالیسی کے مطابق امریکی فیصلے کی واضح الفاظ میں مذمت کرے۔ ہندستان کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ اس نے ایک ایسے آزاد فلسطین کی وکالت کی ہے جس کی راجدھانی مشرقی یروشلم ہو۔‘‘اس قرارداد کو مظاہرے کے بعدملک بھر میں متعلقہ ضلع مجسٹریٹ اور ضلع کمشنر کے ذریعہ سکریٹری جنرل، اقوام متحدہ نیویارک، امریکہ،وزیر خارجہ، حکومت ہند، نئی دہلی اور سفیر، امریکی ایمبیسی، نئی دہلی کوبھی ارسال کیا گیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمو دمدنی نے جمعیۃ کی جانب سے اس وسیع پیمانے پر ہوئے احتجا ج پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ دنیا میں الگ تھلگ پڑگیا ہے، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ مسلسل سرکشی پر مبنی رویہ اپنائے ہوئے ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکی عوام کو اپنی روایت کے مطابق اپنے صدر کے فیصلے خلاف سڑک پر اتر جانا چاہیے کیو ں کہ القدس کا مسئلہ مذاہب عالم اورانسانیت دونوں سے یکساں طور سے وابستہ ہے۔ انھوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ آج اندھرا پردیش میں 433، مہاراشٹرا میں 265، مغربی بنگال میں 145، یوپی میں 47،آسام میں 35،تری پورہ میں 3،مدھیہ پردیش میں5،کرناٹک میں10،تامل ناڈومیں2،اڈیشہ میں 5،دہلی میں 14،اتراکھنڈمیں 4،میوات و ہریانہ و پنجاب16،راجستھان15، بہار 10،گجرات 04،منی پور میں01،جھارکھنڈ میں 05مقامات پر احتجاج منعقد ہوا۔مہاراشٹرا کے سروردھن رتنا گیری میں جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا امان اللہ قاسمی کی قیادت میں زبردست احتجاج منعقد ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *