جیت کر بھی ہار گیا این ڈی اے

Share Article

اشرف استھانوی
بہار قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں کے دو اہم آئینی عہدے حال ہی میں اختتام پذیر مختصر بارانی اجلاس کے دوران خوش اسلوبی کے ساتھ پُر کر لیے گئے۔ ایوان بالا، یعنی قانون ساز کونسل کے چیئر مین کے عہدے پر اودھیش نارائن سنگھ تو ایوان زیریں، یعنی قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر امریندر پرتاپ سنگھ کا انتخاب اتفاق رائے سے عمل میں آیا۔ یہ دونوں عہدے ریاست میں حکمراں این ڈی اے کے پارٹنر ہونے کے ناطے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حصے میں گئے۔ اتحاد کے بڑے پارٹنر جنتا دل (یو)نے دونوں عہدوں کے لیے متفقہ انتخاب میں تعاون دے کر صحت مند جمہوری روایات کو استحکام بخشا، لیکن یہ بھی ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ حکمراں اتحاد اس معاملے میں جیت کر بھی ہار گیا، کیوں کہ وہ قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو دینے کی طویل جمہوری روایت کی پاسداری میں ناکام رہا۔

بہار کی ہی اگربات کی جائے تو بی جے پی لوک نائک جے پرکاش نارائن اور جن نائک کر پوری ٹھاکر کا نام اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتی ہے اور خود کو ان دونوں رہنمائوں کے نقش قدم پر چلنے والا بتانے سے گریز نہیں کرتی ہے۔ بہار میں موجود ہ این ڈی اے حکمراں جے پی آندولن کے ہی دین ہیں۔ یہ وہی آندولن تھا جس کے نتیجے میں بدلے حالات کے تحت 1977 میں جنتا پارٹی کی حکومت آئی تھی اور اسی حکومت کے سربراہ کرپوری ٹھاکر نے جو روایت قائم کی اسے بی جے پی نے پامال کر دیا۔ جے پی تحریک کے ہی پروردہ راشٹریہ جنتا دل سپریمو لالو پرساد یادو پر اقتدار کے لیے تمام سیاسی او رپارلیمانی اقتدار کو پامال کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، لیکن انہوں نے بھی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو دینے کا حوصلہ دکھایا تھا اور اس سے فائدہ کسی اور کو نہیں خود بی جے پی کو ہی حاصل ہوا تھا، لیکن بی جے پی اپنے معاملے میں کمزور پڑ گئی۔

بہار میں اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو دینے کی روایت 1977 کی جنتا پارٹی حکومت کے دوران اس وقت کے وزیر اعلیٰ جن نائک آنجہانی کرپوری ٹھاکر نے قائم کی تھی۔ اس کے بعد سے لگاتار اس روایت کی پاسداری ہوتی رہی تھی۔ بیشک کئی بار یہ عہدہ خالی رہا، لیکن جب بھی اس عہدے کو پُر کیا گیا تو اس پر اپوزیشن کی حمایت کا ہی قبضہ رہا۔ خود نتیش کمار کی قیادت والی این ڈی اے-l حکومت کے دوران بھی یہ عہدہ اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کو سونپا گیا تھا اور شکونی چودھری تقریباً سوا سال تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔ چودھویں اسمبلی کی بقیہ مدت کے دوران یہ عہدہ خالی رہا تھا۔2010 کے اسمبلی انتخاب کے بعد اپوزیشن جب پوری طرح سمٹ گیا تھا اور اس کے ارکان کی تعداد اہم اپوزیشن کا درجہ حاصل کرنے کے لائق بھی نہیں رہ گئی تھی، تب وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 15 ویں اسمبلی میں راشٹریہ جنتا دل کے عبد الباری صدیقی کو اپوزیشن لیڈر کا درجہ دلانے کی قابل تعریف پہل کی تھی، لیکن جب ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو دینے کا سوال آیا تو بی جے پی اور اس کے قائدین فراخ دلی کا مظاہرہ نہیں کر سکے اور قانون سازیہ کے چار اہم آئینی عہدوں میں سے 2 پر قبضہ حاصل کرکے حکمراں اتحاد میں برابر کی شراکت داری حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ قانون سازاسمبلی میں اسپیکر کا عہدہ جنتا دل یو کے پاس ہے تو ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ بی جے پی کے قبضے میں ہے۔ اسی طرح قانون ساز کونسل میں چیئر مین کا عہدہ بی جے پی کے قبضے میں ہے تو وائس چیئر مین کا عہدہ جنتا دل یو کے سلیم پرویز کے پاس ہے۔بی جے پی نے اپنے حصہ کے دونوں عہدے اعلیٰ ذات کے لوگوں کو دیے ہیں تو جنتا دل یو نے ایک عہدہ دلت ( مہا دلت) اور ایک پسماندہ مسلمان کو دیا ہے۔
فرقہ اور ذات کی سیاست میں کمزوری کا مظاہرہ بی جے پی کی اپنی مصلحت یا مجبوری ہو سکتی ہے، لیکن ایسے طویل او رقابل قدر پارلیمانی جمہوری روایات کی نا قدری نا قابل فہم ہے، جس سے وہ خود بھی مستفید ہوتی رہی ہے اور زور و شور سے جس کی وکالت بھی کرتی رہی ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کا درجہ ہو یا بہار اسمبلی میں راشٹریہ جنتا دل کی حکومت کے دوران ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ، یہ سب اسے اسی پارلیمانی روایت کے طفیل میں حاصل ہوا ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں روایات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور خود بی جے پی پارلیمانی روایات ، اقدار یا مریادائوں کی رکشا کی بات بہت کرتی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ سب کچھ اپنے لیے کرتی ہے، یعنی اگر روایات کی پاسداری سے بی جے پی کو فائدہ ہو رہا تو وہ اس کی وکالت کرتی ہے، لیکن اگر روایات کی پاسداری سے اس کا نقصان ہو اور فائدہ دوسرے کو پہنچنے والا ہو تو پھر وہ ان باتوں کو بھول جانا ہی پسند کرتی ہے۔ بی جے پی کا یہ دوہرا پن ہی دراصل اس کی کمزوری ہے اور اسے ایک مضبوط اور با کردار سیاسی جماعت بننے نہیں دیتی ہے۔
بہار کی ہی اگربات کی جائے تو بی جے پی لوک نائک جے پرکاش نارائن اور جن نائک کر پوری ٹھاکر کا نام اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتی ہے اور خود کو ان دونوں رہنمائوں کے نقش قدم پر چلنے والا بتانے سے گریز نہیں کرتی ہے۔ بہار میں موجود ہ این ڈی اے حکمراں جے پی آندولن کے ہی دین ہیں۔ یہ وہی آندولن تھا جس کے نتیجے میں بدلے حالات کے تحت 1977 میں جنتا پارٹی کی حکومت آئی تھی اور اسی حکومت کے سربراہ کرپوری ٹھاکر نے جو روایت قائم کی اسے بی جے پی نے پامال کر دیا۔ جے پی تحریک کے ہی پروردہ راشٹریہ جنتا دل سپریمو لالو پرساد یادو پر اقتدار کے لیے تمام سیاسی او رپارلیمانی اقتدار کو پامال کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، لیکن انہوں نے بھی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو دینے کا حوصلہ دکھایا تھا اور اس سے فائدہ کسی اور کو نہیں خود بی جے پی کو ہی حاصل ہوا تھا، لیکن بی جے پی اپنے معاملے میں کمزور پڑ گئی۔ اپوزیشن لیڈر کا درجہ دینے میں فراخدلی کا مظاہرہ کرنے والے وزیر اعلیٰ نتیش کماربھی شاید اس لیے کمزور پڑ گئے اور اپنی طرف سے کوئی پہل نہیں کر سکے کہ وہ پارلیمانی روایات پر گٹھ بندھن دھرم کو زیادہ اہمیت دے رہے تھے اور گٹھ بندھن کی سیاست مذکورہ دونوں عہدے بی جے پی کو سونپنے کا مطالبہ کر رہی تھی۔
بھلا ہو اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کا کہ اس نے ڈپٹی اسپیکر کے عہدہ کے لیے اپنا امید وار نہیں کھڑا کیا، حالانکہ شروع میں اس کی سگبگاہٹ سامنے آئی تھی او رایسا اشارہ مل رہا تھا کہ شاید آر جے ڈی بھی وہی غلطی دہرائے جو دہلی میں بی جے پی نے کی تھی، لیکن آر جے ڈی نے وقت رہتے ہوئے خود کو سنبھال لیا او رایک ذمہ دار سیاسی پارٹی اور جوابدہ اپوزیشن ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ آر جے ڈی نے اگر اپنا امید وار اتارا ہوتا تو اس سے نتیجہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور اختلاف محض علامتی ہوتا، کیوں کہ اس کے پاس اہم اپوزیشن بننے کے لائق بھی ممبر نہیں ہیں۔ پھر بھی پارلیمانی جمہوریت کی بقا اور استحکام کے لیے صحت مند پارلیمانی روایات کی پاسداری ایک بڑی اور قابل قدر پہل ہے، کیوں کہ اس طرح کا فیصلہ بہت بڑا دل رکھنے والا ہی کوئی بڑا لیڈر ہی کر سکتا ہے۔ بی جے پی کو بڑابننے کا بڑا شوق ہے لیکن جب بڑا کام کرنے یا بڑے پن کا مظاہرہ کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ کمزور پڑ جاتی ہے اور ایسا کام کر گزرتی ہے کہ وہ اپنے حقیقی قد سے بھی چھوٹی دکھائی دینے لگتی ہے۔ بہر حال وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی نے رواداری اور فراخدلی کا مظاہرہ کرنے کے لیے اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کا شکریہ بھی ادا کیا اور مبارکباد بھی پیش کی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو دینے کی روایت رہی ہے، لیکن یہ کہہ کر اپنے فیصلے کو حق بجانب بھی ٹھہرایا کہ یہ عہدہ اپوزیشن کو دینے کا کوئی طے شدہ ضابطہ نہیں ہے۔
ویسے بی جے پی کو ان دونوں عہدوں کے لیے ہونے والے انتخاب کے بعد ایک فائدہ ضرور ہوا ہے اور وہ یہ کہ قانون ساز کونسل کو 100 سال کے آگے لے جانے اور کونسل کا صد سالہ جشن شایان شان طریقے سے منانے والے چیئر مین پنڈت تارا کانت جھا، جو خود کو ایک اور ٹرم نہ دیے جانے سے سخت ناراض تھے اور ان کے پارٹی چھوڑنے کی بھی خبریں گشت کرنے لگی تھیں، انہوں نے دونوں آئینی عہدوں کے لیے امید واروں کے انتخاب پر بی جے پی قیادت کی کھل کر تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی نے پہلی بار میرٹ پر دھیان دیا ہے، ورنہ عام طور پر ذات کی سیاست کو ہی اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کونسل کے چیئر مین کے لیے اودھیش نارائن سنگھ اور اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے عہدہ کے لیے امریندر پرتا پ سنگھ کے انتخاب پر پارٹی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کا انتخاب بالکل صحیح ہے۔ دونوں پرانے اور تجربہ کار ہونے کے علاوہ سنجیدہ لیڈر ہیں اور آئینی عہدوں پر کام کرنے کے پوری طرح اہل ہیں۔
خود اودھیش نارائن سنگھ نے کونسل کے چیئر مین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا کہ ’’مجھے ایوان کو چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے، لیکن تعلقات کو نبھانے کا تجربہ ضرور ہے اور یہی چیز مجھے ایوان کو کامیابی کے ساتھ چلانے میں مدد دے گی اور یہی میرا اصلی ہتھیار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں معمولی کسان خاندان سے آتا ہوں اور میرا اس بڑے آئینی عہدے تک پہنچنا جمہوریت کا کمال ہے۔ جب کوئی معمولی خاندان کا معمولی آدمی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتا ہے تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ میں اپنے متفقہ انتخاب کے لیے پورے ایوان اور تمام پارٹیوں کے ارکان کا شکر گزار ہوں ۔ ایوان بالا کی پارلیمانی جمہوریت میں بڑی اہمیت ہے اور میں اس کے وقار کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کروں گا۔ میں چار بار ایوان کا رکن منتخب ہو چکا ہوں اور میرے ساتھ دو دہائیوں کا تجربہ ہے۔ اس کے باجود ایوان کے تمام ارکان کا تعاون ہی میرا اصلی سرمایہ ہوگا۔ میں اسی کے سہارے اس ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کروں گا۔‘‘
قانون ساز کونسل کا مانسون اجلاس اس لحاظ سے اہم رہا کہ اس اجلاس کے دوران ایوان پوری طرح ڈپٹی چیئر مین سلیم پرویز کے کنٹرول میں رہا ۔ انہوں نے اجلاس کے شروع سے آخر تک پوری کامیابی کے ساتھ ایوان کو چلایا۔ اس دوران انہیں حکمراں جماعت کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کا بھی مکمل اعتماد حاصل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس کے آخری دن وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سلیم پرویز کو ان کے چیمبر میں جا کر خصوصی مبارکباد پیش کی اور ان کی صلاحیتوں کا کھلے لفظوں میں اعتراف کیا۔ دراصل بجٹ اجلاس اور مانسون اجلاس کے دوران ہی سابق چیئر مین کی مدت کار ختم ہو گئی تھی او راس دوران نئے چیئر مین کا انتخاب ممکن نہیں تھا۔ اس لیے مانسون اجلاس اور نئے چیئر مین کے انتخاب کی ساری ذمہ داری کونسل کے وائس چیئر مین سلیم پرویز کو ہی نبھانی پڑی۔ لیکن اب جب کہ کونسل کے چیئر مین کے عہدہ پر اودھیش نارائن سنگھ فائز ہو چکے ہیں ، ان کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، کیوں کہ سابق چیر مین تارا کانت جھا کے زمانے میں قانون ساز کونسل سکریٹریٹ میں کئی ایسے نزاعی فیصلے لیے گئے جس کے خلاف اردوآبادی میں شدید رد عمل پیدا ہوا۔ انہوں نے کونسل کے اردو شعبہ کو اپاہج بنا کر رکھ دیا۔ اردو میں خبر نامہ اور دستاویز کی اشاعت کو معطل کر دیا اور ایوان میں ارد ورپورٹر کے عہدہ کو عملاً ختم کر دیا۔ ایک رپورٹر سید جاوید حسن نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تو اسے غیر قانونی طریقے سے ملازمت سے محروم کرکے انہیں اور ان کے خاندان کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا۔ معاملہ راشٹر پتی بھون تک پہنچا، مگر سابق صدر جمہوریہ پرتبھا دیوی سنگھ پاٹل کی مداخلت کے باوجود سید جاوید حسن کو آج تک انصاف نہیں ملا۔ تارا کانت جھا کی سبکدوشی اور نئے چیئر مین کے انتخاب کے دوران جو عبوری دور رہا اس دوران ڈپٹی چیئر مین سلیم پرویز نے سابق چیئر مین کی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کی اور خبر نامہ کی اشاعت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا، مگر وہ جاوید حسن کو انصاف دلانے میں ناکام رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب نئے چیئر مین کیا کرتے ہیں۔ وہ اپنے پیش رو تارا کانت جھا کی اردو مخالف مہم کو آگے بڑھاتے ہیں یا سلیم پرویز کی اصلاحی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے ایوان کی زبان اردو اور اردو رپورٹر جاوید حسن کو انصاف دلانے کے لیے ٹھوس قدم اٹھاتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *