جے پرکاش نارائن کا اندرا گاندھی کو خط ، 23 جون 1966

Share Article

ڈیئر اندرا جی
p-5کچھ دنوں پہلے جب میں ایک دن کے لئے دلی میں تھا تو مجھے پتہ چلا کہ کشمیر کے سوال کا جائزہ لینے کے لئے 26تاریخ کو آپ نے مسٹر صادق اور ان کے کچھ ساتھیوں کو ملاقات کے لئے بلایا تھا۔ اس میٹنگ کی اہمیت کے مد نظر، میں اپنے کچھ خیالات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کررہا ہوں اور آپ یہ بھی نہیں سوچیں گی کہ میں آپ کے اوپر کوئی دبائو ڈال رہا ہوں۔
کشمیر کے سوال کو لے کر یہ ملک 19 برسوں سے پریشان ہے۔ اس کی قیمت ہم نے جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے چکائی ہے۔ ہم جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں،لیکن کشمیر میں طاقت کے بل پر حکومت کرتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو بہلاتے رہتے ہیں کہ بخشی صاحب کی قیادت میں ہوئے دو عام انتخابات نے عوام کی خواہشات کو ظاہر کردیا ہے اور یہ کہ عوام کے ایک چھوٹے پاکستان حامی غدار طبقے کو چھوڑ کر باقی کے لئے صادق سرکار مقبول اور اکثریت پر مبنی سرکار تھی۔ہم لوگ سیکولرزم کی بات کرتے ہیں، لیکن ہندو راشٹر واد کو این کین پرکارین دبائو ڈال کر قائم کرنے کی کوشش کرنے دیتے ہیں۔
کشمیر مسئلہ نے دنیا بھر میں ہندوستان کی شبیہ کو جتنا داغدار کیاہے، اتنا کسی اور مسئلے نے نہیں کیا ہے۔ روس سمیت دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں ہے جو ہماری کشمیر سے متعلق پالیسیوں کی تعریف کرتا ہو، اگرچہ ان میں سے کچھ ممالک خاص وجوہات سے ہمیں حمایت دیتے ہیں۔
یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کہ کتنا زیادہ، کتنے پُر زور اور کتنے لمبے وقت سے ہم اس بات پر گمان کرتے رہیں کہ کشمیر ہندوستان کااٹوٹ حصہ ہے اور اس لئے کشمیرکوئی مسئلہ نہیں ہے۔اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ملک کے اس حصے میں ہم ایک سنگین اور انتہائی اہم مسئلے کا سامنا کرتے آرہے ہیں۔وہ مسئلہ اس لئے نہیں ہے کہ پاکستان کشمیر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، بلکہ اس لئے کیونکہ وہاں عوام میں گہرا اور وسیع پیمانے پر سیاسی عدم اطمینا ن پھیلا ہوا ہے۔ملک کے عوام کووادی کشمیر کی حقیقی صورت حال کے بارے میں اندھیرے میں رکھا جاسکتا ہے۔لیکن نئی دہلی میں سبھی غیر ملکی دفتر اور سبھی غیر ملکی رپورٹروں کو سچ کا پتہ ہے۔ یہ لگ سکتا ہے کہ ہمارے خفیہ نظام کو چھوڑ کر سبھی کو سچائی معلوم ہے یا ہمیں بھی حقائق کی جانکاری ہے لیکن ہم ان کا سامنا کرنا نہیں چاہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کوئی (شاید صادق صاحب یا قاسم صاحب ) ایک دن کوئی جادو کی چھڑی گھمائے گا اور پوری وادی میں ایک نفسیاتی بدلائو ہو جائے گا۔
کچھ تاریخی واقعات نے، جن میں سے کچھ ہمارے کنٹرول میں ہیں اور کچھ نہیں ہیں، نے ہماری کارکردگی (جو ہندوستانی سرکار کو اب تک آجانی چاہئے تھی) کو محدود کرنے کا کام کیاہے۔ مثال کے طور پر اب ریاست کے کسی بھی حصے کی کسی بھی طرح سے الگکرنے کی کوشش ناقابل عمل ہے،اس سلسلے میں یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ یہ جمہوریت اور سیکولرزم کے اصولوں کے کتنے موافق ہیں۔ جو بھی حل ہوگا ،وہ تحویل کے فریم میں ہی ہوگا۔
اور یہیں پر شیخ صاحب کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ میں ان کی رہائی کی مانگ اس لئے نہیںکر رہا ہوں کہ وہ میرے دوست ہیں۔ یقینی طور سے دوستی تمام حالات میں اہم ہوتی ہے،لیکن مجھے امید ہے کہ میرے اندر اتنا اخلاقی حوصلہ ہے کہ میں اپنے عزیز لوگوں کو، اگر انصاف کا تقاضہ یہی ہو تو کسی مخالفت کے بغیر پھانسی پر چڑھ جانے دوں۔یہی بات قومی مفاد کے معاملوں میں بھی کہہ سکتا ہوں،لیکن کئی بار یہ طے کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے کہ ہمارے قومی مفاد میں کیا ہے؟مختلف لوگ جو عوامی طور سے محب وطن ہیں ، ایک خاص حالت میں اس کی الگ الگ تشریح کرتے ہیں۔
اس لحاظ سے بھی میں یہ کہنا چاہوں گا کہ شیخ عبد اللہ کو ان پر لگے الزامات کے خلاف خود کو بے داغ ثابت کرنے کا موقع دیئے بغیر گرفتار کرنا منصفانہ نہیں تھا۔ اپنی طرف سے انہوں نے ملک لوٹنے کا فیصلہ لے کر اپنی بہتر شبیہ قائم کرکے اپنے مخالفین کا بہتر طریقے سے جواب دیا۔
میں یہ بھی نہیں سوچتا ہوں کہ وہ ملک کے غدار ہیں۔گوڈسے نے سوچا تھا کہ گاندھی جی غدار تھے۔ آر ایس ایس سمجھتا ہے کہ جے پرکاش غدار ہیں۔ گوڈسے ایک آدمی تھا، جبکہ آر ایس ایک پرائیویٹ تنظیم ہے۔ ایک جمہوری سرکار لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کے کچھ اصول ہوتے ہیں جس کے مطابق کام کرتی ہے۔ ہندوستانی سرکار کسی کو غدار نہیں قرار دے سکتی ، جب تک پورے قانونی عمل سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ غدار ہے۔ اگر سرکار ایسا کرنے میں اپنے آپ کو قاصر پاتی ہے تب ڈی آئی آر کا استعمال کرنا اور لگاتار استعمال کرنا بزدلانہ ہے، اس وقت بھی جب ملک کی سیکورٹی کو کوئی خطرہ محسوس نہ ہو۔میں سوچتا ہوں کہ چائو این لائی سے ملنے کافیصلہ شیخ صاحب کا ایک غیر معقول فیصلہ تھا۔ لیکن اس کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے ۔کوئی بھی صاف دل کا آدمی یہ نہیں سوچے گا کہ یہ ملک سے غداری کی طرف ایک قدم تھا۔ جب چین نے 1962 میں حملہ کیا تھا، تب کیا انہوں نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر اپنی تکلیف ظاہر نہیں کی تھی؟کیا انہوں نے 25مئی 1964 کو راولپنڈی میں چودھری غلام عباس کو چینی دخل اندازی کی مانگ کرنے کے لئے عوامی طور سے ڈانٹ نہیں لگائی تھی؟لندن میں ،کیا انہوں نے ایک رپورٹر کنوینشن (ٹائمس 19مارچ 1965) میں یہ نہیں کہا تھا کہ چین کا لداخ پر دعویٰ کرنا غلط ہے ۔شیخ کے غیر ملکوں میں دیئے گئے بیانوں پر طرح طرح کی باتیں کی گئیں۔ مجھے شبہ ہے کہ اگر اس کی غیر جانبدار جانچ کی جائے تو ان کے بیان جو غیر ملکی میڈیا میں شائع ہوئے ہیں اور جسے ملک کے میڈیا نے غلط طور سے پیش کیا ہے، میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو وہ ہندوستان میں نہیں کہتے رہے ہوں۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ شیخ صاحب کم بولتے اور احتیاط کے ساتھ اپنی باتیں رکھتے۔ لیکن شیخ صاحب جیسی شخصیت سے یہ امید نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بدلیں گے،وہ بالکل ہی خاموش نہیں رہ سکتے ہیں۔ یہ ہم ہندوستانیوں کی ایک عام کمزوری ہے۔ کیا مرکزی کابینہ کے ممبروں نے صرف ہندوستان میں ہی نہیں، بلکہ بیرون ملک میں بھی اپنی باری سے پہلے بیان نہیں دیئے ہیں۔ ؟یہاں تک کہ جواہر لعل نہرو کی زندگی میں بھی ایسا ہوتا رہا تھا۔
میں اس بات کو شیخ صاحب کے ایک بیان کے حوالے سے ختم کرنا چاہتا ہوں۔ غیر ملکی دورہ پر جانے سے پہلے 10فروری 1965 کو کنسٹی ٹیوشن کلب میں ایک استقبالیہ پروگرام میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے باہمی اختلاف ضرور ہو سکتے ہیں،لیکن آخر کار ہندوستان ہماری جائے پیدائش ہے۔ بھگوان نہ کرے اگر ایسا ہوتا کہ ہندوستان ویسا نہیں رہتا جیسا ابھی ہے اور ٹکڑے ہو جاتا ہے تو دوسروں کو کون بچائے گا؟ہمیں مسئلے کو اس نظریئے سے بھی دیکھنا چاہئے۔
میں شیخ کی رہائی کی مانگ اس لئے نہیں کررہاہوں کیونکہ وہ میرے دوست ہیں یا میں شہری آزادی سے سروکار رکھتا ہوں۔ اس سلسلے میں میری ترجیحی دلچسپی کشمیر مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی سمت میں ہے۔ جیسا کہ میں دیکھ پاتا ہوں کہ اگر اس مسئلے کا کوئی حل ممکن ہے، تو وہ شیخ عبد اللہ کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ حالانکہ میں اس بارے میں پورے طور سے پُر اعتماد نہیں ہوں لیکن کوئی بھی ایسانہیں کہہ سکتاہے ،جو نظریہ میرے سامنے ہے ، وہ یقینی طور سے شیخ عبدا للہ کی بلا شرط رہائی کے حق میں ہے۔ اس میں جوکھم ہو سکتا ہے،لیکن یہ جوکھم تو ہر بڑے سیاسی اور فوجی فیصلے میں ہوتا ہے۔ حقیقت میں یہ جوکھم زیادہ تر انسان کے فیصلوں میں رہتا ہے، یہاں تک کہ جب دو لوگ شادی کرنے کافیصلہ لیتے ہیں ،تب بھی رہتا ہے۔یہاں میں موضوع سے تھوڑا الگ ہٹنا چاہوں گا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نندا جی(گلزاری لعل نندا)، شری آر کے پاٹل سے کہتے ہیں کہ جے پرکاش کشمیر مسئلے اور شیخ عبد اللہ کے سوال پر عوامی جذبات سے پوری طرح سے ناواقف ہیں۔میں سوچتا ہوں کہ ہمارے زیادہ تر ساتھی بھی کچھ ایسا ہی خیال رکھتے ہیں۔ اس لئے میں کچھ باتیں کہہ کر اسے واضح کرنا چاہتا ہوں، جو آپ کے ساتھیوں کو ایک صحیح فیصلے تک پہنچنے میں مدد کرے گا۔
سب سے پہلے، کچھ لوگوں، جن میں چھپے ہوئے بائیں محاذ اور سبھی ہندو راشٹر وادی شامل ہیں، نے جے پرکاش نارائن کی ایک خاص شبیہ پیش کی ،جس میں انہیں ایک بیوقوف اصول پسند اور چھپے ہوئے غدار کی شکل میں پیش کیا گیا اور ان کے بیانوں کو توڑ مروڑ کر اپنی بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ مثال کے طور پر ،ایسا مان لیا جاتا ہے کہ میں ناگائوں کے لئے ناگالینڈ اور پاکستانیوں کو کشمیر سونپنے کی وکالت کرتا ہوں۔ لیکن ایسا میں نے کبھی نہیں کہا ہے۔یہاں تک کہ اکسائی چین کے معاملے میں ، میں نے ایک لیز (ایک عالمی مصدقہ لین دین جس پر حال میں ہندو نیپال سمجھوتے میں ہندوستان نے رضامندی دی ہے) کا سجھائو دیا تھا، یہ صلاح لین دین کی تجویز تھی، جیسا کہ چین ہندوستان کی چومبی گھاٹی یا پھر 2500 میل کی سرحد پر کسی دیگر جگہ کے لئے ہندوستان کی مانگ پر متفق ہو جاتاہے،لیکن ایک غلط شبیہ بنا کر پیش کیا گیا، جس سے دوسروں کے لئے تنقید کرنا آسان ہو گیا۔
لیکن یہ کام جے پرکاش کے تئیں لوگوں کا پیار کم نہیں کرسکا۔ میں بغیر لاگ لپیٹ کے زور دے کر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو چھوڑ کر آپ کی سرکار میں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے جو میری طرح لگاتار اور وسیع پیمانے پر لوگوں کے رابطے میں رہتا ہو۔ میں روز عوامی اجلاس کو خطاب کرتا ہوں اور میرا اندازہ یہ ہے کہ لوگ مجھے پوری طرح سے دھیان لگا کر سنتے ہیں اور اس کے بعد لوگ میری باتوں پر اتفاق کا اظہار کرنے کے لئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں پوری طرح سے گمراہ کن جانکاری دی گئی تھی اور جو باتیں میں کہہ رہا ہوں، اس سے وہ پوری طرح سے متفق ہیں۔مغربی پاکستان کے دورے کے بعددہلی میں میرے صرف 2 اجلاس میں لوگوں نے ہنگامہ کیا اور یہ ہنگامہ کھڑا کرنے والے آر ایس ایس کے لوگ تھے، جو کند دماغ کے لوگ تھے۔ میں ایسا نہیں کہہ رہا ہوں کہ سبھی لوگ جو مجھے سن رہے تھے اکسانے والے لوگ تھے،لیکن میں یہ کہہ رہاہوں کہ جس زور اور یقین کے ساتھ میں نے اپنی بات رکھی،وہ لوگوں کی سمجھ سے پرے نہیں تھی۔آخر میں ،(ختم کرنے سے پہلے ) میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ملک کے لیڈر عوام کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے ہیں۔قیادت کرنا لیڈروں کا کام ہے، لیکن ان میں سے زیادہ تر اتنے ڈرپورک ہیں کہ قابل قبول پالیسیوں پر وہ سچائی بیان نہیں کرسکتے ہیں اور اگر ایسے حالات پیدا ہوئے تو عوام کے غصے کا سامنا نہیں کرسکتے ہیں۔ جہاں تک میرا سوال ہے ،میں اپنے لوگوں پر یقین کرتاہوں،وہ عقلمند اور اچھے ہیں۔اگر ان کے سامنے سبھی حقائق رکھے جائیں تو وہ صحیح فیصلہ لینے کے اہل ہوں گے۔بغیر آپ کی جھوٹی تعریف کے میں یہاں کہنا چاہوں گا کہ حال میں آپ کے ذریعہ اٹھائے گئے جرأت مندانہ قدم سے آپ نے یہ دکھا دیا ہے کہ آپ نے عوام کو ایک مناسب اور حوصلہ افزا قیادت دیا ہے۔
اس خط کے اصل مقصد کی طرف لوٹتے ہوئے،میں شیخ عبد اللہ کی رہائی کی وکالت کیوں کرتا ہوں؟کیونکہ یہ ہم لوگوں کو کشمیر مسئلے کے حل کی سمت میں ایک اہم موقع فراہم کرا سکتے ہیں۔ کیسے؟ کیونکہ اگر کشمیر کے مستقبل کو لے کر ہندوستان کی سرکار ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، ( جو کہ ایکویزیشن کی سرحدوں کے دائرے میں ہوگا) تو شیخ عبد اللہ اکلوتے ایسے کشمیری لیڈر ہیں،جو کہ وادی کشمیر کے مسلمانوںکے ریفرنڈم کو اپنی طرف موڑ سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ طے ہے کہ انڈین یونین اس سلسلے میں آخری حد تک جاسکتا ہے ،وہ ہے مکمل اندرونی خود مختاری، جو تحویل کی اصل شرطوں کے مطابق ہوگی۔
اس جگہ پر کچھ سوال پیداہوتے ہیں۔کیا شیخ صاحب کسی ایسی صورت حال کے لئے متفق ہوں گے؟اگر انہوں نے ایسا کیا، تو کیا وہ کشمیریوں کو اس بات پر متفق ہونے کے لئے راضی کرسکیں گے؟کیا خود مختار کشمیر، دیر سویر انڈین یونین سے الگ ہونے کی کوشش نہیں کرے گا؟
نندا جی نے یہ پوچھ کر کہ شیخ کے نظریات بدل چکے ہیں، کیا اس کا کوئی ثبوت ہے، پورے ایشو پر لیپا پوتی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے وہ کچھ اور سوچتے تھے۔ شری رادھا کرشنن اور شری نارائن دیسائی کی شیخ عبداللہ کے ساتھ میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے 26 نومبر 1965 کو راجیہ سبھا میں نندا جی نے کہا تھا کہ سر وودئے لیڈروں کی ملاقات نے ایک بہت مثبت تاثرات پیدا کیا تھا۔
اگر اسے مان بھی لیا جائے کہ شیخ نہیں بدلے ہیں،تو بھی ان کے بارے میں کہی گئی سبھی باتیں میرے لئے بچکانی لگتی ہیں۔ کسی آدمی کو زیادہ لچیلا بنانے کے لئے جیل میں رکھنا صحیح راستہ نہیں ہے۔ نندا جی برٹش انڈین جیل میں رہ کر خود کے تجربے سے یہ بات زیادہ سیکھی ہوںگی ۔اس کے علاوہ،شیخ بدل چکے ہیں کا سرکاری اعلان کر کے انہیں رہا کر دیا جائے، تو کیا ہوگا؟اس کے بعد اگر شیخ سری نگر پہنچیں گے تو کیا بھیڑ شیر کشمیر زندہ باد یا ہندوستان کا پٹھو مردا باد جیسے نعرے لگائے گی۔ کشمیریوں کو ایک بہتر ہندوستانی شہری بننے کے لئے راضی کرنے کو لے کر، شیخ کے پاس کیا راستہ رہ جائے گا؟یہ سبھی چیزیں اتنی واضح ہیں۔یہ حیرت انگیز لگتا ہے کیوں کہ وزیر داخلہ اسے دیکھ پانے سے قاصر ہیں۔
اس کے برعکس ، مجھے پورا اعتماد ہے کہ شیخ صاحب رہائی کے بعد کشمیریوں کے حقوق (اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے) کے سوال کو بار بار دوہرائیںگے۔وہ پھراعلان کریں گے کہ تحویل آخری نہیں تھی اور نام نہاد عام انتخابات عوام کی خواہش کو ظاہر نہیں کرتے ہیں۔ ہم لوگوں کو یہ سب سمجھنے کے لئے زیادہ پختگی دکھانی ہوگی اور ان پر پاکستانی ایجنٹ ہونے کا فرد جرم عائد نہیں کرنا چاہئے۔وہ کبھی نہیں کہیں گے کہ کشمیری ہندوستان کے اندر خود مختاری پر رضامندی دے دے کیونکہ یہ صرف کشمیری ہی ہیں جنہیں یہ فیصلہ لینا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ باہر آتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کشمیر مسئلے کا حل کشمیر اسمبلی انتخاب اور دو عام انتخابات کے ذریعہ ہو چکا ہے، جب وہ جیل میں تھے، تب ان کی باتوں کی بخشی صاحب اور صادق صاحب کی طرح کوئی اہمیت نہیں رہ جائے گی۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ شیخ عبداللہ کس طریقے سے چاہتے ہیں کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں؟میں پُر اعتماد ہوں کہ وہ ریفرنڈم نہیں چاہیںگے۔ تب کیسے؟ایک راستہ ہے اور اس صورت حال میں سب سے بہتر 1967کے عام انتخابات میں لوگوں کو اس بات کا فیصلہ خود کرنے کی آزادی دینی چاہئے۔ ہندوستانی سرکار کے ساتھ اپنے سمجھوتے کی بنیاد پر انتخاب لڑکر شیخ صاحب ایسا کر سکتے ہیں۔ کیا کشمیر کے باشندے مرکز کے تحت زیادہ خود مختاری جیسی صورت پر خوش ہوں گے؟میں سوچتا ہوں وہ اس کے لئے تیار ہوںگے، اگر شیخ صاحب ان سے واضح طور سے کہیں کہ یہ اپنے آپ کو تباہ کرنے سے محفوظ رکھنے کا واحد راستہ ہے، نہیں تو ان کا علاقہ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ جنگی علاقہ بن کر رہ جائے گا۔اگر یہ دکھایا جائے کہ انہوں نے اپنے حقیقی لیڈروں کی قیادت میں انتخاب کے ذریعہ آزادانہ طور سے یہ فیصلہ لیا ہے تب پاکستان کو ان کے معاملوں میں دخل اندازی کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہوگا۔یہ ہندو پاک دوستی کی سمت میں سب سے بہتر راستہ ہوگا۔ تبھی ہندوستانی پولیس کی زیادتی سے انہیں چھٹکارا ملے گا اور وہ پوری آزادی کا مزہ لے سکیں گے،ویسی زندگی جی سکیں گے جیسی زندگی وہ جینا چاہتے ہیں۔ اگر یہ سب ان کی قیادت میںہو، جسے وہ اپنا لیڈر مانتے ہیں، تب مجھے پوری امید ہے کہ وہ لوگ بغیر مخالفت کے اپنی خواہش سے اسے قبول کر لیں گے۔مجھ سے پوچھا جاسکتا ہے کہ کس بنیاد پر میں یقین کرتا ہوں کہ شیخ عبدا للہ ہندوستان کے اندر خود مختاری کو قبول کر لیں گے۔ بحث کے ایک حصے کے طور پر ،میں نے میڈیا کو دیئے بیان میں کہا تھا، جسے تب آپ اور آپ کی سرکار کی نوٹس میں بھی یہ بات لی گئی تھی، اس بات کو میں نیچے جوں کا تیوں رکھ رہا ہوں۔
کئی برسوں سے ماناجاتا ہے کہ شیخ صاحب کشمیر کے پاکستان کے ساتھ انضمام کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے بلا شبہ ایک آزاد کشمیر کے نظریہ کی حمایت کی،لیکن میں یقین کرتاہوں کہ وہ ایک حقیقت پسندانہ ہونے کے ناطے یہ محسوس کریں گے کہ:
1۔ پاکستان سے گزشتہ جنگ کے بعد، ہندوستان کشمیر مسئلے کے کسی ایسے حل پر، جس میں یونین سے الگ ہونے کی بات ہو ،راضی نہیں ہوگا۔
2۔ دنیا کے ایک ایسے حصے میں ایک آزاد ریاست کی شکل میں زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہیں، جہاں پاکستان وادی کشمیر کو ہڑپنے کی خواہش رکھتا ہو اور چین اس خطے میں اپنی طاقت بڑھا رہاہے۔
اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شیخ صاحب نے نارائن اور رادھا کرشنن سے کہا تھا کہ یہ کشمیر کی مکمل اندرونی خود مختاری کی حالت پر بھی تیار ہو جائیں گے، بشرطیکہ یہ خود مختاری دھیرے دھیرے کم نہیں کیا جائے اور ریاست کے اندرونی معاملوں میں مرکز مداخلت نہیں کرے۔ آخری ثبوت کے طور پر میرے پاس گل شاہ کی رپورٹ ہے، جسے جے جے مکمل طور سے آپ کو واقف کرا چکے ہیں۔
میں مانتا ہوں کہ میرامعاملہ پوری طرح سے فل پروف نہیں ہے۔ایسا کوئی کیس ہوتا بھی نہیں ہے۔ نندا جی کا کیس بھی ایسا نہیں ہے۔ شیخ عبد اللہ کو جیل میں رکھ کر کشمیر میں عام انتخاب کرانا ویسا ہی ہے جیسا کہ جواہر لعل نہرو کو جیل میں بند کر کے برٹش انڈیا میں عام انتخاب کا حکم دیں۔ کوئی بھی کھلے دماغ کا آدمی اسے غیر جانبدار انتخاب نہیں مانے گا۔تب یہ انتخاب بھی پہلے کے دو عام انتخابات کی طرح کوئی سیاسی حل نہیں دے سکے گا اور اگر ہم لوگ اگلے انتخاب کے دوران مرکز کے تحت رہنے کے مسئلے پر کشمیر کے عوام کی رضامندی حاصل کرنے کے موقع کو گنوا دیتے ہیں تو ہندوستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہوگا۔ ایسا سوچنا کہ آخر کار ہم لوگ وہاں کے باشندوں کو قابو میں کر لیں گے اور طاقت کا استعمال کر کے کم سے کم مرکز کے ساتھ تعاون کے لئے راضی کر لیںگے، اپنے کودھوکہ میں رکھنا ہے ۔موجودہ حالت میں وہاں کے عوام کے بیچ بے اطمینانی کو دیکھتے ہوئے اسے پاکستان کے بھروسے نہیں چھوڑا جانا چاہئے۔ دیر سویر چین بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لینے سے پیچھے نہیں رہے گا۔ اگر کشمیر کے عوام کی اکثریت سے اس ایشو کا حل ڈھونڈ لیا جاتاہے،تو وہاں گڑبڑی پھیلانے والی باہری طاقتوں کے لئے کشمیر ایک ایسی زرخیز زمین نہیں رہ جائے گا جہاں وہ گڑبڑی کرسکیں۔ عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔کوئی بھی ذمہ دار سرکار پھر ہم پر الزام نہیں لگا سکے گی۔
جو دوسرا سوال پوچھا جاسکتا ہے، وہ یہ کہ کیا شیخ عبد اللہ پاکستان کو باہر رکھنے کے لئے ہندوستانی سرکار کے ساتھ بات چیت کریں گے؟ہاں، انہوں نے ہندو پاک جنگ کو دھیان میں رکھتے ہوئے سروودیے تحریک کے دو دوستوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ہندوستان کے ساتھ دو طرفی بات چیت کے لئے تیار کر رہے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ پہلے اسٹیج کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو بعد میں اس میں شامل کیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ وہ ہندوستان سرکار اور اور ان کے بیچ ہوئے سمجھوتے پر اپنی رضامندی دے۔ میں اس تجربے میں کوئی بھی نا معقول بات نہیں دیکھتا ہوں۔ دیر سویر کشمیر کے مسئلے سے جڑے کسی بھی حقیقی سمجھوتے پر پاکستان کی رضامندی لی جاسکتی ہے، تاکہ سرحد پر جنگ بندی کو نافذ کیا جاسکے اور دو ملکوں کے بیچ کے تنائو کو، جس کا برا اثر کشمیر پر پڑتا ہے، کو کم کیا جاسکے۔ ہندوستان کے ساتھ سمجھوتے پر پاکستان کی رضامندی لینے کی شیخ صاحب کی تشویش پر ناراض ہوئے بغیر ہم لوگوں کو خود پہل کرنی چاہئے اور اس سلسلے میں ان کے عہدے کا استعمال کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔
میں ایک لمبا خط لکھنے کے لئے آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ لیکن میں محسوس کرتاہوں کہ یہ میرا ملک کے تئیں فرض تھا کہ ان خیالات کو آپ اور آپ کے ساتھیوں کے سامنے رکھوں۔
آپ کا خیر خواہ
جے پرکاش نارائن

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *