دبئی میں جشن ریختہ تقریبات 28فروری سے 

Share Article
Jashn-e-Rekhta
نئی دہلی؍دبئی:گزشتہ پانچ برس سے دارالحکومت دہلی میں منعقد ہونے والی جشن ریختہ کی تقریبات نے اردو زبان کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اور دھیرے دھیرے یہ جشن دنیا بھر میں اردو زبان و تہذیب کے سب سے بڑے جشن کے طور پر تصور کیا جانے لگا ہے۔ ہندوستان میں بے پناہ مقبولیت کے بعد اب ملک سے باہر اس کی پہلی تقریب کا انعقاد دبئی میں ہونے جا رہا ہے۔ 28 فروری سے02مارچ تک دبئی کے اہم ثقافتی مرکز زعبیل پارک میں جشن کی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔
دبئی میں منعقد ہونے والا یہ جشن ہندوستان، پاکستان اور دوسرے ممالک میں مقیم اردو ادیبوں، دانشوروں اور فن کاروں کے بیچ ایک مضبوط تہذیبی، ثقافتی اور علمی رابطے کا کرادار بھی ادا کرے گا۔جشن میں شامل ہونے والی شخصیات میں مستنصر حسین تارڑ، شمیم حنفی، افتخار عارف، زہرا نگاہ، آصف فرخی، عارفہ سیدہ زہرا، جاوید اختر، شبانہ اعظمی، سرمد سلطان کھوسٹ، ماہرہ خان، رضا مراد، علی فضل، فرید ایاز، ابو محمد، صنم ماروی، تانیہ ویلس، رادھیکا چوپڑا اور محمود فاروقی کے نام اہم ہیں۔
Jashn-e-Rekhta-in-dubai
28 فروری کو جشن کا افتتاح اہم ترقی پسند شاعر کیفی اعظمی کی زندگی اور شاعری پر مشتمل جاوید اختر اور شبانہ اعظمی کی ایک شاندار پیش کش سے ہوگا۔ ۱ مارچ کی شروعات لندن کی معروف غزل گلوکارہ تانیہ ویلس کی غزل گائکی سے ہوگی۔ ساتھ ہی ایک دوسرے اسٹیج پر پاکستان کی معروف ادبی شخصیت عارفہ سیدہ زہرا، ممتاز نقاد ابوالکلام قاسمی اور شین کاف نظام ’اردو اور ہم نوا زبانیں‘ کے عنوان کے تحت ایک اہم گفتگو میں شامل ہوں گے۔ ’کیسی ہوگی دنیا ادب کے بغیر‘ کے موضوع پر جاوید اختر اور آصف فرخی کی گفتگو بھی خاصے کی چیز ہوگی۔ اس دن کا ایک اہم ادبی مذاکرہ ’شاعروں اور مشاعروں کی باتیں‘ کے عنوان سے رکھا گیا ہے جس میں ہندوستان سے ممتاز نقاد شمیم حنفی اور فرحت احساس کے ساتھ پاکسان سے زہرا نگاہ اور اشفاق حسین موجود ہوں گے۔ پاکستان کے مشہور قوال فرید ایاز اور ابو محمد کی قوالی کا جادو بھی دبئی کی سرزمین پر رنگ و نور بکھیرے گا۔
ایک خاص سیشن پاکستان کے معروف ترین فکشن نگار مستنصر حسین تارڑ اپنی زندگی اور فکشن پر بات کریں گے۔ اردو اور فلموں کے رشتے پر پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان، سرمد سلطان کھوسٹ، رضا مراد اور علی فضل اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ داستانوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مشہور داستان گو محمود فاروقی اور دارین شاہدی کو سننے کا موقع بھی ملے گا۔ جشن کی ایک شام مشاعرے سے سجی ہوگی جس میں ہندوستان اور پاکستان کے بہترین شعرا اپنا کلام پیش کریں گے۔ جشن کا اختتام پاکستان کی مقبول ترین گلوکارہ صنم ماروی کی صوفی گائکی سے ہوگا۔
اس موقعے پر ریختہ فاوٗنڈیشن کے بانی اور جشن ریختہ کے روح رواں سنجیو صراف کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستان میں جشن ریختہ کی غیر معمولی کامیابی کے بعد دنیا بھر میں موجود اردو عاشقوں کے اصرار پر اب ہم اس جشن کو ملک سے باہر لے جارہے، اس سلسلے کا آغاز دبئی سے کیا جا رہا ہے کیوں کہ اس پورے خطے میں بڑی تعداد میں اردو زبان بولنے، پڑھنے اور اس سے محبت کرنے والے بستے ہیں۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم دنیا بھر میں موجود تمام اردو آبادیوں تک جشن ریختہ کی ان تقریبات کو لے کر جائیں تاکہ یہ زبان اور اس سے وابستہ تہذیب کا جادو دنیا بھر میں عام ہوسکے۔‘‘
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *