جنتر منتر سے اٹھی بوندیل کھنڈ کو قحط سے پاک بنانے کی مانگ

Share Article
نوین چوہان
p-4bگزشتہ 8 فروری کو دہلی کے جنتر منتر پر بوندیل کھنڈ سے آئے لوگوں نے وہاں کے مسائل کو لے کر دھرنا دیا۔’’ بوندیل کھنڈ سرودلیہ ناگرک سنگھرش مورچہ ‘‘ کے ذریعہ سماجوادی لیڈر رگھو ٹھاکر کی قیادت میں منعقد اس دھرنے میں بوندیل کھنڈ میں پانی کے بحران کا مستقل حل نکال کر اسے قحط سے پاک بنانا سب سے اہم مطالبہ تھا۔ دھرنے میں بوندیل کھنڈ کے مختلف ضلعوں سے آئے لوگوں نے کہا کہ اگر سرکاریں بوندیل کھنڈ کے مسائل کو لے کر سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے اسے پانی کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔
دھرنے میں ساگر کے ٹیلہ بزرگ گاؤں سے شامل ہونے آئے 60 سالہ بھاگ چند نے کہا کہ ’’ یہاں کی کئی ندیوں پر باندھ بن سکتی ہے۔لیکن اب تک کچھ بھی ہوا نہیں ،بس سروے ہوجاتا ہے،باقی بات جیسے آئی ویسے ہی چلی گئی۔ ہم لوگوں کے حال جیسے کا تیسا بنا ہوا ہے۔ پچاس سال تو ہم یہ سب دیکھتے ہوئے گزار دیئے ۔اب لگتا ہے مر جائیں گے لیکن یہاں کی حالت نہیں بدل پائے گی‘‘۔
مورچہ کے صدر رگھو ٹھاکر کہتے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ہر سال سوکھے کے مسائل کی نشاندہی کے لئے مانگ نہ کرنی پڑے۔تین سال سے بوندیل کھنڈ سوکھے کی مار جھیل رہا ہے۔ لیکن سرکاروں کے پاس اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ یہاں کی ندیوں میں پانی ہے باوجود اس کے یہاں کے کھیت سوکھے ہیں۔ ہر سال ’سوکھا راحت منصوبہ‘ کسانوں کے لئے نہیں بلکہ برسر اقتدار پارٹی اور نوکر شاہوں کے لئے ہوتا ہے۔ ہر بار جو پیکج دلی سے آتا ہے اس میں لیکیج ہو جاتا ہے، لیکیج سے بچنے کے لئے پیکیج سے بچنا ہوگا۔ بوندیل کھنڈ کے لوگوں کو احسان اور مہربانی نہیں چاہئے۔ ہمیں قحط سے نجات چاہئے۔ سرکاریں پورے ملک میں سوکھا ،سیلاب کے نام پر راحت کا کھیل کھیلتی رہتی ہے۔
گزشتہ تین سالوں سے بوندیل کھنڈ سوکھے کے مسئلے کا سامنا کر رہا ہے۔ اس سال بھی یہاں مانسون مہربان نہیں ہوا۔ اس وجہ سے علاقے کی لاکھوں ایکڑ زمین پر فصل نہیں ہوئی ہے۔ پانی نہ ہونے سے سے کھیتی برباد ہو گئی ہے اور کسان خود کشی کرنے لگے ہیں۔ کھیتی باڑی نہ ہونے سے مزدوروں کو روزگار نہیں ہے ،اس وجہ سے انہیں نقل مکانی کرنا پڑ رہا ہے۔ بوندیل کھنڈ کو قحط سے پاک بنائے بغیر اس کی ترقی نہیں ہو سکے گا۔ بوندیل کھنڈ کے گاؤں میں پینے کے لئے بھی پانی نہیں ہے، سینچائی کے لئے پانی تو بہت دور کی بات ہو گئی ہے۔ ’’بوندیل کھنڈ سرودلیہ ناگرک سنگھرش مورچہ‘‘ کئی سالوں سے ’بوندیل کھنڈ سینچائی وکاس نگر نگم‘ بنائے جانے کی مانگ کرتا رہا ہے۔ جس کے لئے آدھی رقم مرکزی سرکار مہیا کرائے اور 25-25 فیصد مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کی سرکاریں برداشت کریں
بوندیل کھنڈ کے سمندر میں’بنا ندی سینچائی پروجیکٹ‘ ملتوی پڑا ہے۔ اسے شروع کرنے کا منصوبہ مرکزی سرکار کو کرنا چاہئے۔ بوندیل کھنڈ کی ندیوں میں پانی ہے لیکن وہاں کے کھیت سوکھے پڑے ہیں۔ بوندیل کھنڈ کی ملتوی سینچائی پروجیکٹ کے پورے ہو جانے پر یہاں کی ہزاروں ایکڑ زمین سیراب ہو جائے گی۔
ریلوے سہولتوں میں اضافہ
بوندیل کھنڈ ریلوے سہولتوں کے معاملے میں بھی کافی پچھڑا ہوا ہے۔ جھانسی کو چھوڑ دیں تو اس کے آس پاس کے کئی علاقوں میں ریلوے نیٹ ورک بے حد کمزور ہے۔ ریلوے کے کئی پروجیکٹس سالوں سے ملتوی پڑے ہیں۔ کئی علاقوں میں ریلوے نیٹ ورک ہی نہیں ہے۔ اگر نیٹ ورک ہے بھی تو زیادہ تر ٹرینیں ان اسٹیشنوں پر نہیں رکتی ہیں۔ بوندیل کھنڈ کے علاقے شمال اور وسطی ہند سے تو جڑے ہیں لیکن جنوبی ہندوستان کے ساتھ یہاں ریلوے آمدو رفت نہیں ہے۔ دموہ ساگر کو جنوبی ہند سے جوڑنے کے لئے نئی ریل گاڑی کا اعلان اس سال کے ریلوے بجٹ میں کیا جانا چاہئے
ڈاکٹر گور اور دھیان چند کو بھارت رتن ملنا چاہئے
وسط ہند کی پہلی یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے والے ڈاکٹر ہری سنگھ گور اور ہاکی کے جادو گر دھیان چند کو بھارت رتن دینے کی مانگ بھی اس دھرنے میں کی گئی۔ دھرنے میں آئے لوگوں کا کہنا تھا کہ بوندیل کھنڈ کے ان دونوں سپوتوں نے ملک کا نام روشن کیا ہے۔لیکن سرکار ان دونوں کی قربانیو ں کو نظر انداز کرکے ان کی توہین کررہی ہے۔ ان دونوں شخصیتوں کو سالوں پہلے بھارت رتن دے دیا جانا چاہئے تھا،لیکن ایوارڈ کو سیاسی بنادینے کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا
بوندیل کھنڈ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن بننا چاہئے
بوندیل کھنڈ کو قدرت نے خوبصورتی اور تنوع سے نوازا ہے۔ جھانسی، کھجوراہو، اورچھا اور پنّا جیسی بہت سی ایسی جگہیں ہیں جو سیاحت کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔ لیکن سیاحت کی ترقی کے لئے بنیادی ڈھانچہ کی کمی کی وجہ سے سیاح یہاں تک نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ اس لئے مطالبہ ہو رہا ہے کہ اس علاقے کی سیاحت کی ترقی کے لئے بوندیل کھنڈ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی تشکیل کی جائے۔ جس سے یہ ادارہ یہاں کی سیاحت کی ترقی کے لئے کام کرسکے۔
سیاحت کی ترقی سے ہی یہاں کے لوگوں کی معاشی صورت حال میں سدھار ہوگی ،ساتھ ہی یہاں کے لوگوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس سے بوندیل کھنڈ کے لوگوں کی گھاٹے کا سودا بن چکی کھیتی پر انحصار کم ہوگا اور لوگوں کا دلی ممبئی جیسے بڑے شہروں کی طرف ہجرت کرنے میں کمی آئے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *