جنتا پریوار کے چکر میں کہیں ٹوٹ نہ جائے سماجوادی پارٹی

Share Article

پربھات رنجن دین
p-4bجنتا پریوار میں انضمام کے نام پر سماجوادی پارٹی واضح طور پر تقسیم ہوگئی ہے۔ یہ تقسیم صرف کارکنوں میں ہی نہیں، بلکہ لیڈروں میں بھی ہے۔ ایس پی قیادت کو ڈر ہے کہ وسیع جنتا پارٹی بنانے کے چکر میں کہیں سماجوادی پارٹی ہی تباہی کا شکار نہ ہو جائے۔ پارٹی کی سرکردہ قیادت نے انضمام کا فیصلہ لیا، تو اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ سماجوادی پارٹی کی اس اندرونی صورتِ حال پر بی جے پی نظر گڑائے بیٹھی ہے۔ اس خطرے کو دیکھتے ہوئے پارٹی قیادت نے انضمام پر پہل سے پرہیز کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایس پی قیادت یہ بھی نہیں چاہتی کہ انضمام کے راستے میں کسی بھی اڑچن کا ٹھیکرا ان کے سر پھوٹے۔
لہٰذا، بہار میں جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے ایک دوسرے میں شامل (ضم) ہو جانے کو لے کر چل رہی نوک جھونک اور بڑھ رہی اڑچنوں کا فائدہ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کو مل رہا ہے۔ انضمام کو لے کر سماجوادی پارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں نے اتر پردیش میں منفی رجحان دکھایا ہے۔ اس انضمام کو ایس پی لیڈر لالو یادو کی سیاست بتا رہے ہیں، جس پر پہلے نتیش کمار برباد ہوئے اور اب اگر سماجوادی پارٹی نے ہاتھ ملایا، تو ملائم برباد ہو جائیں گے۔ لہٰذا، وسیع تر جنتا پارٹی کے آپسی انضمام کا معاملہ اب حاشیہ پر جاتا ہوا صاف صاف دکھائی دے رہا ہے۔ جنتا پریوار کے لیڈروں نے گزشتہ دنوں دہلی میں ملائم سنگھ یادو کے گھر پر میٹنگ کرکے انضمام کا فارمولہ طے کیا تھا اور آگے کام کرنے کے لیے ملائم سنگھ یادو کو ذمہ داری سونپی تھی، لیکن پارٹی کیڈر میں منفی رخ کو دیکھتے ہوئے ملائم ہی اس میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ جنتر منتر پر ہوا دھرنا ملائم کا یہ رخ بنانے میں فیصلہ کن طور پر سامنے آیا، کیوں کہ یہ پایا گیا کہ اسٹیج پر لالو – نتیش نے اپنی اپنی سیاست تو خوب چمکائی، لیکن دھرنا میں بھاری بھیڑ اتر پردیش سے آئے کارکنوں اور لیڈروں کی تھی۔ جنتر منتر پر دھرنا کے بعد کارکنوں میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ پارٹی کا انضمام وہ کسی بھی قیمت پر نہ ہونے دیں اور اگر اس کے باوجود انضمام ہوا، تو ریاست میں اس کے متوازی سماجوادی پارٹی کی تشکیل ہو۔ اس نزاکت کو دیکھتے اور بھانپتے ہوئے ایس پی قیادت نے انضمام کے معاملے میں جوش دکھانا فی الحال بند کر دیا ہے۔
سماجوادی پارٹی میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس وسیع انضمام کے بعد کانگریس سے گٹھ بندھن کرنے کے مسئلے پر ایس پی قیادت اتر پردیش کے لوگوں کو کیا جواب دے گی اور انضمام سے سماجوادی پارٹی کو کیا فائدہ ملنے والا ہے؟ انضمام کے بعد سماجوادی پارٹی کی قومی حیثیت کی کیا شکل بنے گی اور جنتا پریوار کے لیڈروں کے تاریخی کردار کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں اگر مہا گٹھ بندھن ٹوٹا (جس کا پورا امکان ہے)، تو پھر سماجوادی پارٹی کس شکل میں آکر کھڑی ہوگی؟ ایس پی قیادت کے پاس ان سوالوں کا کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے۔ ملائم سنگھ یادو کے پوتے ایم پی تیج پرتاپ سنگھ اور آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کی بیٹی راج لکشمی کی شادی طے ہونے کے باوجود سماجوادی پارٹی انضمام کو لے کر خواہش مند دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ پارٹی اتنا تو طے مانتی ہے کہ انضمام سے سماجوادی پارٹی کو اتر پردیش میں کوئی مضبوطی نہیں ملنے والی۔ یو پی اسمبلی میں سماجوادی پارٹی کے پاس بھاری اکثریت ہے، جس سے پارٹی 2017 تک راجیہ سبھا میں زیادہ ممبران کو بھیج سکتی ہے۔
انضمام کی جو صورت سامنے نظر آ رہی ہے، اس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو میں انضمام ہونے کے بعد ہی سماجوادی پارٹی کے اس میں ضم ہونے کی کوئی شکل بنے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کا جنتا پارٹی میں شامل ہونے کا صاف صاف موڈ نہیں ہے۔ جے ڈی یو کے قومی صدر شرد یادو بھی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دَل یونائٹیڈ کا انضمام پہلے ہوگا۔ انہوں نے صاف کہا کہ ابھی بہار میں انضمام کی ضرورت ہے، کیوں کہ ریاست میں اسی سال نومبر میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ لیکن بہار میں ہی انضمام کا عمل داؤ پیچ میں الجھ گیا ہے۔ مختلف پروگراموں کے ذریعے انضمام کی سیاست ہو رہی ہے۔ کسی پروگرام میں نتیش نہیں جاتے، تو کسی میں لالو، تو کسی پروگرام میں بہار کے موجودہ وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی بالواسطہ طور پر حاضر ہو جاتے ہیں۔ یہی نہیں، مانجھی بی جے پی لیڈروں سے بھی ملتے رہتے ہیں اور اسی میں انضمام کی ساری سیاست گڈمڈ ہو کر رہ گئی ہے۔
انضمام ہو جانے کی صورت میں اتر پردیش میں متوازی سماجوادی پارٹی کے امکانات تیزی سے تیار ہو رہے ہیں۔ پارٹی میں اندیکھی کے شکار سینئر لیڈروں کی ایک بڑی تعداد ہے، جو متوازی سماجوادی پارٹی کو قیادت فراہم کرنے کے لیے تقریباً تیار ہی بیٹھے ہیں۔ ان میں امر سنگھ، بینی پرساد ورما جیسے کئی لیڈروں کا نام لیا جا سکتا ہے، جو یہ مانتے ہیں کہ جب نتیش اور لالو ہاتھ ملا سکتے ہیں، تو امر اور بینی کیوں نہیں؟ سماجوادی پارٹی کے وجود میں آنے کے وقت سے ہی بینی پرساد ورما اس سے جڑے ہوئے تھے۔ ملائم خود بینی ورما کو بلانے گئے تھے۔ تب جنیشور مشرا کو جنرل سکریٹری کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ لیکن بعد میں سماجوادی پارٹی خاندانی جاگیر بن گئی اور انہیں جنیشور مشرا پر امر سنگھ کو جنرل سکریٹری بنا کر تھوپ دیا گیا۔ جنیشور مشرا نائب صدر بنا دیے گئے تھے۔ بعد کے دنوں میں بینی پرساد ورما کو بھی باہر جانا پڑا اور امر سنگھ کو بھی بے عزت ہو کر پارٹی سے نکلنا پڑا۔ آج پارٹی میں اچھے اچھے لیڈر حاشیہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر جنتا پریوار کی پارٹیوں کا آپس میں انضمام ہوتا ہے، تو ایسے لیڈروں کو متوازی سماجوادی پارٹی کی تشکیل کرکے بنیادی سماجوادی کلچر کی جانب لوٹنے کا متبادل یا بہانہ ملے گا، کیوں کہ وہ مانتے ہیں کہ ملائم، نتیش، شرد، لالو، چوٹالہ، دیوے گوڑا وغیرہ کے انضمام کے بعد وہی انتشار پھیلے گا، جو جنتا پارٹی کے دور میں ہوا تھا۔ ایسے میں ریاست کے لیڈر اپنے مستقبل اور وجود کو لے کر بھی فکرمند ہیں۔ انضمام کے بعد اعلیٰ کمان کی بدلنے والی شکل و صورت کو لے کر بھی اتر پردیش کے لیڈر تشویش میں مبتلا ہیں اور انہوں نے ابھی سے کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ نتیش یا لالو کو اپنا لیڈر نہیں مانیں گے۔ سماجوادی پارٹی کے ہی کچھ لوگ ان میں اعظم خاں کا بھی نام لیتے ہیں، جو ملائم کے علاوہ کسی دوسرے کو لیڈر نہیں مانتے، یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو بھی نہیں۔

انضمام کو لے کر گھمسان یو پی میں کم نہیں
مجوزہ انضمام کو لے کر بہار میں جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے درمیان مچے گھمسان کا اثر صرف بہار میں ہی نہیں ہے، بلکہ اس کا گہرا اثر اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی پر بھی پڑ رہا ہے۔ بہار میں برسر اقتدار جے ڈی یو کے کئی ممبرانِ اسمبلی کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رابطے میں رہنے کی خبریں ہیں، تو اتر پردیش میں بھی ایس پی لیڈروں اور ممبرانِ اسمبلی کے بی جے پی کے رابطے میں رہنے کی خبریں ہیں۔ بہار کے بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ جے ڈی یو کے 50 سے زیادہ ایم ایل اے بی جے پی کی حمایت میں ہیں اور وہ جب چاہیں، بہار میں جے ڈی یو کی سرکار کو گرا سکتے ہیں۔ یہ پیغام اور اشارہ صرف بہار کے لیے تھوڑے ہی ہے۔ ایس پی قیادت کو بھی یہ معلوم ہے کہ سماجوادی پارٹی کے کئی لیڈر اور کئی ایم ایل اے بی جے پی کے رابطے میں ہیں اور وہ کبھی بھی پارٹی بدل سکتے ہیں۔ ایسے میں انضمام کا فیصلہ سماجوادی پارٹی کے لیے خودکشی کے مترادف بھی ہو سکتا ہے۔
متوازی سماجوادی پارٹی کی تشکیل کی چھٹ پٹاہٹ کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ ابھی پچھلے دنوں ہی دادا میاں کے عرس پر لکھنؤ میں جمع ہوئے تقریباً دو درجن ممبرانِ اسمبلی اور ایک وزیر نے سرکار کے خلاف کھلی ناراضگی ظاہر کی۔ اس ناراضگی کی خبر ملنے پر ایس پی سپریمو نے اپنے ایک خاص ایلچی کو بات کرنے کے لیے بھیجا، لیکن ان حضرت کو بھی خوب کھری کھوٹی سننی پڑی۔ وہ ایلچی اکھلیش سرکار کے سینئر وزیر بھی ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *