جنگ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں حل نہیں: پروفیسر عبد الغنی بٹ

Share Article

سوال: پروفیسر صاحب،کشمیر جہاں آج کھڑا ہوا ہے، ایسا لگتا ہے کہ دو دیواریں کھڑی ہیں، جن میں کوئی سوراخ نظر نہیں آرہا ہے۔اس میں سوراخ کرنے کا کیا طریقہ ہے اور آج کے حالات سے نکلنے کا کیا راستہ ہے؟
p-3ج: پہلی بات تو یہ ہے کہ کشمیر کو جنوبی ایشیا ئی خطے سے علاحدہ نہ سمجھا جائے۔ اس کو جنوبی ایشیائی خطے کا ایک حصہ تسلیم کیا جائے اور جب سے ہندوستان اور پاکستان دونوں جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جب سے یہ جوہری مملکتیں بن کر کے ابھری ہیں، جب سے کشمیر کا مسئلہ جیسے جنوبی ایشائی خطے کے مستقبل کے ساتھ جڑا دکھائی دینے لگا ہے، جڑا ہوا ہے۔اس لئے جب آپ کشمیر کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت آپ ہندوستان کی بات کرتے ہیں ،پاکستان کی بات کرتے ہیں ،بلکہ پورے جنوبی ایشیائی خطے کی بات کرتے ہیں ۔اس لئے ہمیں دن کو دن کہنا پڑے گا اور رات کو رات۔ ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچے ہیں، جہاں ہمیں دانشمندی کے ساتھ بھی، دوراندیشی کے ساتھ بھی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حقیقت پسندی کے ساتھ بھی آگے بڑھنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اس لئے کشمیر میں جو آپ دیکھ رہے ہیں، شورش ہے، اس شورش کو بھی سمجھنا پڑے گا۔ اس میں جو عناصر ہیں، ان کو بھی دیکھنا پڑے گا اور پھر آگے بڑھنے کے لئے دل کو بڑا بھی کرنا پڑے گا۔ سب کا بھلا چاہنا ہوگا ۔بھلا آپ کا بھی ہو، میرا بھی ہو، سب کا ہو، بھلا ہندوستان کا بھی ہو، پاکستان کا بھی ہو، کشمیریوں کا ہو اور کشمیر میں جتنے بھی خطے ہیں، ان سب کا بھلا ہو۔ اگر اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔ مجھے اپنا وجود آپ میں دکھائی دے اور آپ کو اپنا وجود مجھ میں دکھائی دے،تو پھر یہ مسئلے بالکل آرام کے ساتھ حل ہو سکتے ہیں، ان کا حل نکالا جاسکتا ہے۔حل کیسے نکالا جائے؟حل کے لئے دیکھیں، پہلی بات تو پہلے کی جائے۔ جنگ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور جنم لیتے ہیں،حل نہیں ہوتے ہیں۔اس لئے جنگ کو آپ چھوڑ دیں۔ جنگ نہیں کریں گے۔ ہندوستان والے، پاکستان والے جنگ نہیں کریں گے۔ کشمیر والے بالکل ہی جنگ نہیں کریں گے۔وہ جنگ کرہی نہیں سکتے۔
کشمیر کے رگ و پے میں جنگ ہے ہی نہیں، کشمیر کی سوچ میں جنگ نہیں ہے، عمل میں جنگ نہیں ہے۔ کشمیریوں پر جب کوئی ناروا ، کوئی غیر حقیقی صورت حال ٹھونسی جاتی ہے، تو وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں آتے ہیں ضرور، یہ بات ہے لیکن وہ جنگ کے ارادے سے نہیں آتے ہیں۔ وہ اس ارادے سے، اس عزم سے آتے ہیں کہ ہم ان مسائل کا حل نکالیں۔ کیسے نکالیں، جنگ سے نہیں،ہٹ دھرمی سے نہیں، بلکہ بات چیت کے ماحول میں خوش اسلوبی کے ساتھ، دانشمندی کے ساتھ، دور اندیشی کے ساتھ اور حقیقت پسندی کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔
مجھے اس سلسلے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے کہ کشمیر میں آپ جہاں بھی جائیں گے، جن لوگوں سے بھی بات کریں گے، وہ آپ سے یہ بات ضرور کریں گے کہ کچھ نہ کچھ تو کیجئے، یا کچھ نہ کچھ تو جو ہے ،یہ کچھ نہ کچھ تو کیجئے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ راستہ ڈھونڈیئے اور جو بھی راستہ آپ مشاورت کے ساتھ ایک دوسرے سے مل بیٹھ کے ڈھونڈ نکالتے ہیں، اس پر ہم سب چلیں گے، تو اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں، جنگ نہیں، بلکہ بات چیت ہونی چاہئے۔ بات چیت کہاں ہو؟میرا یہ خیال ہے کہ ہم جس موڑ پر ہیں، تاریخ کے جس موڑ پر ہیں، اس موڑ پر آکر کے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ترجیحی بنیادوں پر انہیں پریفرینسز جو ہیں، ان کو دیکھنا پڑے گا۔ وہ پریفرینسیزیا ترجیحات کیا ہیں؟ترجیحات یہ ہیں کہ پہلے مرحلے پہ بات چیت ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ شروع ہو۔ اس کا امپیکٹ جو ہے، اس کا اثر جو ہے، وہ پوری ریاست کی سوچ پر پڑتا ہے۔ اس کا اثر پوری ریاست کے عمل پر پڑتا ہے۔ اس کا اثر پوری ریاست کے لوگوں کی حکمت عملی یعنی اسٹریٹجی پر پڑتا ہے۔ اس لئے اگر بات چیت وہاں ہو جاتی ہے، تو یہاں آپ کو امن لوٹتے دکھائی دے گا۔ وہاں آپ کو سلامتی کے ماحول میں گھومنے پھرنے کا شوق ابھرتا دکھائی دے گا۔ یہاں آپ کو مل بیٹھ کے سوچنے کا موقع میسر ہوتا دکھائی دے گا۔ سب چیزیں ہوں گی، تو میری رائے میں پہلے مرحلے پر ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع ہو۔ دوسرے مرحلے پر نکلنا ہے اگر، تو دوسرے مرحلے پر جب یہ بات چیت شروع ہوگی ، انڈیا اور پاکستان کے بیچ میں، تو آئی ٹرسٹ، دی آئس مسٹ بریک۔ یہ جو یخ (برف ) ہے، جما ہوا یہ جو برف ہے، پگھلنا شروع ہو جائے گا۔
سوال: تو بات چیت کا کور سبجیکٹ، پورا کشمیر ہوگا یا صرف سری نگر ہوگا؟
جواب: جب میں کشمیر کی بات کرتاہوں، میں پورے کشمیر کی بات کرتا ہوں۔ سری نگر تو ایک شہر ہے کشمیر کا۔ کشمیر کے معنی ، میں نے پہلے کہا کہ پورا جنوبی ایشیائی خطہ ہے۔ یہ جب جنوبی ایشیائی خطہ ہو تو پورا کشمیر ہے اور جب ہندوستان بھی ہو، پاکستان بھی ہو، پورا خطہ ہے۔ اور جب ہم ہندوستان کا، پاکستان کا، دونوں کا بھلا چاہتے ہیں، پورے خطے کا بھلا چاہتے ہیں، تو اس میں پورا کشمیر آجاتا ہے۔تو دوسری بات جو میں آپ کے ساتھ کرناچاہتا ہوں، وہ یہ ہے۔
سوال: پر اس کا ماحول کیسے بنے گا؟
ہاں، یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔ اب بات چیت کی بات پر پورا ہندوستان ، پاکستان اس کے بعد کشمیریوں کے ہر خطے کے لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے۔کیسے شامل کیا جائے؟میں ہوا میں قلعے بنانے کا قائل نہیں ہوں۔ایک تکونی طرز کا نظام پیدا کیا جائے۔ٹرائنگولر، اس کے معنی یہ کہ ہندوستان کے ساتھ کشمیر والا بات کرے گا۔ پاکستان کے ساتھ بھی بات کرے گا۔وہ پرو- فریڈم لوگ ہوں، یاپرو-انڈیا ہوں یا پرو- پاکستان ہوں، جو بھی ہوں، لیکن ایک ٹرائنگولر فریم ورک میں ان کو بات چیت کے لئے تیار کیا جائے۔ یہ ہو سکتا ہے، یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ ان کشمیریوں کو بات چیت میں شامل کرنے کے لئے لازم ہے، دیکھیں کہ یہاں جو راستے ہیں، اس کشمیر کے، اس کشمیر کے، یہ کھل جائیں۔ یہاں جو تجارت ہو، وہ پھلے پھولے اور دونوں کے درمیان شروع ہو۔ ہندوستان اور پاکستان کے لئے بھی راستے کھولے جائیں اور بندشیں توڑی جائیں اور پھر ماحول کو پیدا کرنے کے لئے ہم ایک دوسرے سے ملیں گے۔پنجابی، پنجابی سے ملتا ہے تو وہ پنجابی ہو جاتا ہے، نہ ہندوستانی رہتا ہے، نہ پاکستانی رہتا ہے۔سندھی گجراتی یا سندھی راجستھانی ملیں، تو وہ اپنی اسی بولی کے ہو جاتے ہیں اور اس گولی سے ڈرتے ہیں، جس گولی کا شکار ہم آج کل ہو رہے ہیں، اور بٹوارے کے نتیجے میں میں نہیں کہوں گا کیونکہ ایک تاریخی چیز ہے، ہو چکی ہے، بلکہ ایک تاریخی المیہ کے طور پر، جسے آپ سب کانٹیننٹل آئرینی (بڑ صغیر کی ستم ظریفی )کہتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں ہم ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں، دور ہو گئے ہیں۔ اس کو اس سے نجات پانا ہے۔ اس سے نجات پانے کے لئے ضروری ہے کہ راستوں کو کھولا جائے اور راستوں کو کھولنے کے ساتھ ساتھ عقل کے درینچوں کو بھی کھولا جائے، یعنی آپ کی جو عقل ہے، اس کی کھڑکیوں کو کھولنا پڑے گا۔ ہوائوں کو آنے دیجئے، تبدیلی کے ہوائوں کو اپنے دماغ میں سمونے کے لئے آپ کوشش کریں۔ تو یہ دوسری بات ہوئی۔ ایک ماحول پیدا ہو جائے گا۔ تیسری بات، جو ہے وہ موسٹ امپارٹینٹ ہے، اگین۔اب آپ دیکھ لیجئے، آپ کا برکس ہو گیا، برکس کانفرنس آپ نے دیکھاہے، تیور بھی آپ نے دیکھے ہوں گے، تیور بھی آپ نے پرکھے ہوںگے۔نئی صف بندیاں شروع ہو رہی ہیں دنیا میں ۔ اب یہ یونیپولر والی بات نہیں ہے کہ آپ امریکہ کے ہو جائیں، میں امریکہ کا ہو جائوں۔تو بس امریکہ مہاراجہ ہے۔امریکہ مہاراج نہیں ہے، امریکہ آپ جیسا ہے، مجھ جیسا ہے۔ لائک انڈیا، لائک پاکستان، لائک ایشیا ، لائک چائنا یعنی جیسے چین ہے، جیسے روس ہے، جیسے ہندوستان ہے، جیسے پاکستان ہے،ویسے امریکہ بھی ایک ہے۔ وہ یونیپولر والی بات ، وہ ایک آنکھ والی بات ختم ۔
آپ نے ڈالر دیکھا ہوگا۔ ڈالر پر جو نشانی ہے نا، وہ ایک آنکھ کی نشانی ہے، آپ نے دیکھا ہے ، وہ ایک آنکھ والی بات ختم ہے۔ اب دو آنکھ کی، آپ کو دونوں آنکھوں کو ملا کر دیکھنا ہوگا۔ آپ کو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گا ، وہ یہ ہے ۔رسیا از گروئنگ لائک چائنا۔ اب چین تو پہلے ہی گرو ہو چکا ہے۔ اب رسیا بھی گرو ہو گیا ہے۔روس نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر امریکہ سے کہا، ایران کے مسئلے کو آپ ایک آنکھ سے نہ دیکھیں ،ہماری بھی آنکھیں ہیں، آپ نے دیکھا ہوگا۔جب نیوکلیائی تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا اس میں ۔ جی، ایک آنکھ سے نہیں، تو پھر پانچ جمع ہو گئے، پانچ ملک جمع ہو گئے، حل نکل آیا۔ دونوں کے مفاد میں حل نکل آیا۔ پھر آپ چلیں گے کہیںاور ۔
جھگڑے جو ہیں، ہماری اس دنیا میں ہیں۔ اس میں روس جو ہے، وہ چین کی پالیسی پر چل رہا ہے۔ روس اور چین کے تیور ایک جیسے ہیں۔ روس اور چین کے نشانے ایک جیسے ہیں۔ روس اور چین کے ارادے ایک جیسے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں آپ، وہ ارادے کیا ہیں۔ اب ان چیزوں کو دیکھ کر کے مجھے یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہ ہمارا جو آنے والا کل ہے، وہ اس حقیقت سے جڑ چکا ہے کہ دن کو دن کہا جائے اور رات کو رات کہا جائے۔
ہندوستان اور پاکستان لڑائی نہیں لڑ سکتے۔ اس لڑائی میں ان کا خاتمہ ہوگا۔ نہیں، پھر کیا کرنا ہے؟ان کو بھائیوں کی طرح رہنے کا سلیقہ سیکھنا پڑے گا۔ ایک دوسرے کا مددگار، معاون بننا پڑے گا۔ اسپورٹ، انڈیا شد بی اسپورٹنگ پاکستان اینڈ پاکستان شد بی اسپورٹنگ انڈیا ، اور یہ کیسے ہوگا؟یہ تو تبھی ہوگا، جب ہمارے درمیان جھگڑے ختم ہوں، ان جھگڑوں کو ختم کیسے کیا جائے۔ ان جھگڑوں میں جھگڑوں کی ماں جو ہے، وہ کشمیر ہے۔ اب اس کو آپ کیوں نہیں مانتے ؟
یہ آج کا جھگڑا نہیں ہے۔ آپ تو تین چار جنگیں لڑ چکے ہیں ،اور پچھلے کئی سالوں سے 26-27 سالوں سے جنگ ہی جنگ ہے۔ بھلے ہی فوجیں نہ لڑ رہی ہوں، باضابطہ طور پر اعلان کے بعد جنگ نہ لڑ رہے ہوں، لیکن جنگ ہو رہی ہے۔ سرحدوں پر جنگ چل رہی ہے۔ کشمیر کی گلیوں کوچوں میں جنگ ہو رہی ہے، سوچ میں جنگ ہے، ارادوں میں جنگ ہے، اٹھنے بیٹھنے میں جنگ ہے، تجارت میں جنگ ہے، راستوں پر جنگ ہے۔ تو اس جنگ کا خاتمہ کرنے کے لئے ہم مل بیٹھیں گے۔ آپ بھی، میں بھی، وہ بڑے لوگ بھی، تو دیکھیں گے آپ اور میں، ہم اپنی طرف سے کوئی چیز پیش کریں گے۔ ذرا اس کو دیکھیں، یہ آپ کے لئے ٹھیک ہے۔ نسخہ پیش ہوگا۔ آپ کریں گے۔
آپ اخبار میں ہیں۔ آپ گھومتے ہیں، آپ پھرتے ہیں، تو آپ میرے سے بات کرتے ہیں،میں آپ کو ایک خاکہ دیتا ہوں۔ خاکہ یہ ہے جی، سنتوش بھائی خاکہ یہ ہے، اس خاکے پر چلئے اور دیکھئے کہ امن لوٹتا ہے کہ نہیں، لوٹتا ہے اور دیکھئے خوشحالی آتی ہے کہ نہیں آتی ہے اور دیکھئے کہ اس خطے کے سب لوگ سکون کے ساتھ اور خوشحالی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں کہ نہیں بڑھتے ہیں۔ اب میں نے کہا تھا آپ سے کہ ’ پیس ایٹ ہارٹ اینڈ پیس ایٹ ہوم ‘ ۔یہ ایک بہت بڑا مقام ہے، جس کو پانا ہوگا۔ بہت بڑی منزل ہے، جہاں تک جاناہوگا ،اور آپ جب جائیں گے، وہاں تو ادھر جاکر آپ کو یہ دکھائی دے گا کہ یہ پاکستان والا میرا بھائی ہے، وہ پاکستان والے کو دکھائی دے گا کہ یہ میرا بھائی ہے۔ کشمیر والا یہ آواز دے کہ دونوں میرے بھائی ہیں۔ ہندوستان والا میرا بھائی ہے، پاکستان والا میرا بھائی ہے۔ اس ماحول کو۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ کئی لوگ یہ کہیں گے کہ آئیڈیالزم ہے۔ لیکن اس آئیڈیالزم کو ریالزم میں بدلنے کے لئے آپ کو یہ باتیں بھی سننی ہوں گی اور یہ طعنے بھی سہنے ہوںگے۔ آگے بڑھنا ہے تو پھر یہ طعنے سننے ہوںگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *