جن ستیہ گرہ 2012: سرکار اپنے وعدے کو پورا کرے یا تشدد جھیلنے کو تیار ہو جائے

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار 
آگرہ کے سی او ڈی گراؤنڈ میں پچاس ہزار کسان جمع تھے۔ ملک بھر کا میڈیا موجود تھا۔ لاؤڈ اسپیکر سے یہ اعلان کیا جا رہا تھا کہ یہ وقت خوشیاں منانے کا ہے۔ آنکھوں میں خواب اور چہرے پر مسکراہٹ لیے، ملک بھر سے آئے کسان خوشیاں منا رہے تھے۔ یہ کہہ رہے تھے کہ اگلے چھ مہینوں میں انہیں زمین اور گھر کا حق دینے کے لیے سرکار قانون بنائے گی۔ جے جگت… جے جگت کے نعروں سے ماحول گونج رہا تھا۔ کسان فتح کے گیت گا رہے تھے۔ سب ناچ رہے تھے۔ 3 اکتوبر سے جن ستیہ گرہ مارچ آگرہ میں 11 اکتوبر کو ختم ہو گیا۔ سرکار نے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگلے چھ مہینوں میں بے زمین کسانوں کے لیے زمین اور رہنے کے لیے چھت کا انتظام کرے گی۔ اس معاملے پر کوئی ٹھوس قانون لائے گی۔ کسانوں کو ان کا حق ملے گا، یہی امید لے کر یہ کسان اپنے اپنے گاؤں لوٹ گئے ہیں۔
جن ستیہ گرہ مارچ گوالیار سے 3 اکتوبر کو شروع ہوا۔ پلان کے مطابق قریب ایک لاکھ کسان گوالیار سے چل کر دہلی پہنچنے والے تھے۔ اس مارچ میں شامل ہونے والوں میں سبھی ذات اور عقیدہ کے آدیواسی، بے گھر اور غریب کسان تھے۔ گوالیار سے آگرہ کی دوری 350 کلومیٹر کی ہے۔ ہر دن لگ بھگ دس سے پندرہ کلومیٹر کی دوری طے کرتا ہوا یہ مارچ دہلی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس مارچ کا بنیادی مدعا ہے جل (پانی)، جنگل، زمین اور آدیواسی۔ ایکتا پریشد کے بینر تلے آئے ان لوگوں کی بس ایک ہی مانگ ہے، جو سیدھے سیدھے ان کے جینے کے حق سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ سارے لوگ بے زمین ہیں۔ بہت سے لوگوں کو کانکنی، ٹائیگر ریزرو اور دیگر ترقیاتی پروجیکٹوں کے نام پر ان کی زمین سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ ایکتا پریشد کے صدر پی وی راج گوپال کے مطابق، نیشنل لینڈ ریفارم کونسل کی تشکیل ہوئے کئی سال گزر گئے، لیکن اب تک لینڈ ریفارم کی پالیسی سے متعلق کوئی بھی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

مارچ کے دوران پیدل مسافروں کو 75 الگ الگ گروپ میں بانٹ دیا گیا۔ ہر پیدل مسافر کو ایک شناختی کارڈ دیا گیا، جس پر ان کے گروپ کا نمبر بھی لکھا تھا۔ ہر گروپ کا انتظام الگ تھا۔ ہر گروپ کا کھانا الگ بنتا تھا۔ اس مارچ کی خاصیت یہ تھی کہ پیدل مسافروں نے خود ہی سب انتظام کیا تھا۔ پیدل مسافر صبح صبح مٹھی بھر پوہا کھا کر اپنا دن شروع کرتے تھے۔ اگلے پڑاؤ پر پہنچنے کے بعد قریب تین چار بجے شام کو کھانا کھاتے تھے اور پھر اندھیرا ہوتے ہی سڑک پر سو جاتے تھے۔ ہر پیدل مسافر اپنے گروپ کے ساتھ رہتا تھا، ساتھ کھانا کھاتا تھا اور ساتھ ہی سوتا تھا۔ ہر پڑاؤ پر وہ وہیں رکتا، جہاں اس کے گروپ کا نمبر لکھا ہوتا تھا۔

وہ آگے کہتے ہیں کہ اس مسئلے پر سرکار اتنی بے حس ہے کہ اس کونسل کی میٹنگ تک نہیں ہوتی۔ نیشنل لینڈ ریفارم کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں سرکار کو فاریسٹ رائٹ ایکٹ کو کارگر ڈھنگ سے لاگو کرنے کی بھی صلاح دی تھی۔ کمیٹی نے اپنی سفارش میں کہا تھا کہ قدیم قبائلی برادریوں کے زمین کے قبضے کو منظوری دے دی جائے۔ فاریسٹ رائٹ ایکٹ بھی آدیواسیوں کو جنگل اور جنگلاتی زمین پر حق دیتا ہے، اس کے باوجود آج بھی لاکھوں آدیواسیوں کو جنگل پر ان کے روایتی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ راج گوپال کہتے ہیں کہ جب سے یہ ایکٹ لاگو ہوا ہے، تب سے زمین کے لیے لگ بھگ 30 لاکھ درخواستیں غریب آدیواسیوں کی طرف سے آئیں۔ ان 30 لاکھ درخواستوں میں سے 19 لاکھ درخواستوں کو محکمہ جنگلات نے خارج کر دیا۔ محکمہ جنگلات کے لوگ کھلے عام دادا گیری کر رہے ہیں اور غریبوں سے ان کی زمین چھینی جا رہی ہے۔
سال 2007 میں جب 25 ہزار لوگ گوالیار سے پیدل چل کر دہلی آئے تھے، تب اس وقت کے وزیر برائے دیہی ترقیات نے انہیں یقین دہانی کرائی۔ 2009 میں جب ایک بار پھر یہ لوگ دہلی آئے، تب بھی انہیں یقین دہانی ہی ملی۔ ہر بار صرف یقین دہانی۔ مارچ 2011 میں ایکتا پریشد نے دہلی میں ’چیتاونی ریلی‘ کی تھی، اس میں 15 ہزار لوگ دہلی آئے۔ یہ ریلی کسی مانگ کو لے کر نہیں، بلکہ صرف وارننگ دینے کے لیے تھی۔ وارننگ اس بات کی کہ 2012 تک اگر نئی لینڈ ریفارم پالیسی اور نیشنل لینڈ ریفارم کمیٹی کے ذریعے پیش کی گئی تجویزوں کو لاگو نہیں کیا گیا تو ہم ایک لاکھ لوگوں کے ساتھ آئیں گے اور پھر یہیں بیٹھ کر تب تک پرامن طریقے سے دھرنا دیتے رہیں گے، جب تک ہماری مانگیں نہیں مان لی جائیں گی۔ 2012 ختم ہونے کو ہے، لیکن سرکار نے کوئی بھی کارروائی نہیں کی۔ جن ستیہ گرہ مارچ کے شروع ہونے سے پہلے گوالیار میں وزیر برائے دیہی ترقیات، جے رام رمیش نے ایکتا پریشد سے بات کی اور جن ستیہ گرہ مارچ کو روکنے کی اپیل کی، لیکن کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا۔ پی وی راج گوپال کا ماننا ہے کہ سرکار کا پیش کش کا مقصد تحریک کو کمزور کرنا تھا۔ ایک دن بعد، یعنی 3 اکتوبر کو گوالیار سے جن ستیہ گرہ مارچ دہلی کی طرف بڑھ چلا۔ دریں اثنا، ایکتا پریشد اور سرکار کے درمیان بات چیت ہوتی رہی۔ 8 اکتوبر کو سرکار اور ایکتا پریشد کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا۔ ایکتا پریشد اور وزارتِ دیہی ترقیات کے درمیان 10 نکاتی سمجھوتے پر اتفاق ہو گیا۔ جن ستیہ گرہ مارچ آگرہ پہنچ چکا تھا۔ یہاں وزیر برائے دیہی ترقیات، جے رام رمیش نے کسانوں کو مخاطب کیا اور کسانوں کو بھروسہ دلایا کہ سمجھوتے میں شامل سبھی راستوں پر سرکار فوراً قدم اٹھائے گی۔
اس سمجھوتے کے مطابق، وزارتِ دیہی ترقیات ریاستوں کے ساتھ جلد ہی بات چیت کرے گی اور 4-6 مہینوں میں نیشنل لینڈ ریفارم پالیسی کا ایک مسودہ پیش کرے گی، جس کے فوراً بعد اسے حتمی شکل دی جائے گی۔ ایکتا پریشد کی تجویز نیشنل لینڈ ریفارم پالیسی کے مسودہ کی اہم بنیاد ہوگا۔ اس میں رضاکار تنظیموں کو بھی سرگرمی کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔ وزیر برائے دیہی ترقیات نے یہ بھی بھروسہ دلایا کہ پس ماندہ ضلعوں میں بے زمین غریبوں کو کھیتی کی زمین اور پورے ملک میں بے زمین اور بے گھر گاؤں کے غریب کنبہ کو رہائش کے لیے 10 ڈسمل زمین کی گارنٹی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ وزارتِ دیہی ترقیات کے ذریعے اندرا آواس یوجنا کے تحت ہر ایک بے زمین اور بے گھر غریب کنبہ کی رہائش کے لیے زمین کی شکل میں، 10 ڈسمل زمین کا انتظام کرنے کے لیے اکائی لاگت کو دوگنا کرنے کی تجویز ہے۔ اس سمجھوتے میں یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ وزارتِ دیہی ترقیات دلتوں، آدیواسیوں اور سماج کے دیگر سبھی کمزور اور محروم طبقوں کے زمین سے متعلق حقوق کو تحفظ دینے کے مقصد سے قانون سازیہ کے ذریعے نافذ قوانین کی مؤثر عمل آوری کے لیے ریاستوں کو آمادہ کرنے کے لیے اگلے دو مہینوں میں تفصیلی مشاورتی خط جاری کرنے پر راضی ہے۔ اس کے علاوہ وزارتِ دیہی ترقیات عدالتوں میں زیر التوا معاملوں کو تیزی سے نمٹانے کے لیے فاسٹ ٹریک لینڈ کورٹ قائم کرنے کے لیے ریاستوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے پر راضی ہے۔ وزارتِ دیہی ترقیات اگلے چار مہینوں میں اسٹیک ہولڈر مشاورت پورا کرنے کے لیے وزارتِ قبائلی امور اور وزارتِ پنچایتی راج کے ساتھ کام کرے گی، تاکہ گرام سبھاؤں کو اور بااثر بنایا جاسکے۔ جے رام رمیش نے بھی بتایا کہ رضاکار تنظیموں سے موصول ہونے والے مشوروں کی بنیاد پر فاریسٹ رائٹ ایکٹ کی مؤثر عمل آوری کے لیے ریاستوں کو پوری طرح تعاون دیا جائے گا۔ وزارتِ دیہی ترقیات، فاریسٹ اور رِوینیو تنازع حل کرنے کے لیے محکمہ جنگلات اور محکمہ مالیات کو مشترکہ پارٹی کی تشکیل کرنے کے لیے ریاستوں کو مشاورتی خط جاری کرنے پر راضی ہے۔ گرام پنچایتوں اور گرام سبھاؤں کو سروے اور بندوبست کے عمل میں پوری طرح سے شامل کیا جائے گا، ساتھ ہی گرام سبھاؤں اور گرام پنچایتوں کے براہِ راست اشتراک سے کمیونسٹی وسائل (سی پی آر) کا سروے کرنے کے لیے ریاستوں کو آمادہ اور تعاون فراہم کرایا جائے گا۔ سمجھوتے میں یہ بھی کہا گیا کہ وزارتِ دیہی ترقیات مذکورہ بالا ایجنڈے کو لاگو کرنے کے لیے مرکزی وزارتِ دیہی ترقیات کی صدارت میں لینڈ ریفارم سے متعلق ورکنگ گروپ کی فوراً تشکیل کرے گی۔ لینڈ ریفارم سے متعلق ورکنگ گروپ میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومتیں، لینڈ ریفارم کے مدعوں پر کام کر رہی رضاکار تنظیموں اور سبھی متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کے نمائندے شامل کیے جائیں گے۔
جن ستیہ گرہ 2012 میں ملک کی 26 ریاستوں کے کسان شامل ہوئے۔ سب سے کٹھن سوال تو یہ ہے کہ ایک لاکھ لوگوں کو کیسے لایا گیا؟ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا سماجی تنظیم میں ایک لاکھ لوگوں کو پیدل مارچ میں شامل کروانے کی طاقت نہیں ہے۔ اگر ایکتا پریشد نے یہ کام کیا ہے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر ان کی حکمت عملی کیا ہے۔ جن ستیہ گرہ یاترا کو کنٹرول کرنے اور چلانے کے لیے ایک مینجمنٹ کمیٹی بنائی گئی۔ ساتھ ہی ملک بھر میں ایکتا پریشد نے اپنا تنظیمی ڈھانچہ تیار کیا۔ اس تنظیم کی قیادت ایکتا پریشد کے لیڈر پی وی راج گوپال کر رہے تھے۔ دوسرے، رَن سنگھ پرمار کی نگرانی میں اس مارچ کو آپریٹ کیا گیا۔ ان دونوں نے 20 کیمپ لیڈروں کی قیادت کی۔ لیکن ایکتا پریشد کی سب سے بڑی طاقت گاؤں کی سطح پر بنایا گیا کارکنوں کا جال ہے، جس کی وجہ سے یہ کسانوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوا۔ ایکتا پریشد نے دس ہزار گاؤوں میں دستہ لیڈر بنایا۔ ہر گاؤں سے قریب دس لوگوں کو اس مارچ میں شامل ہونے کے لیے تیار کیا گیا۔ دستہ لیڈر کا کام لوگوں سے بات چیت کرنا، پیدل مارچ کے بارے میں بتانا اور ان کے مسائل کو جتھا لیڈر تک پہنچانا تھا۔ ملک بھر میں دستہ لیڈروں کی تعداد 2000 تھی۔ ایک جتھا لیڈر کو پانچ گاؤں اور پچاس پیدل مسافر کی ذمہ داری دی گئی۔ جتھا لیڈر کا بنیادی کام دستہ لیڈر کے ساتھ مل کر گاؤں میں میٹنگ کرنا اور ان کی شکایتوں کو اکٹھا کرنا تھا۔ جتھا لیڈر کو اس ساری جانکاری اور تنظیم کی سرگرمی کو گروپ لیڈر تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ملک بھر میں کل دو سو گروپ لیڈر بنائے گئے۔ اس طرح، ایک گروپ لیڈر کو 10 جتھا لیڈر یا 50 گاؤوں کی ذمہ داری دی گئی۔ اس تنظیم میں گروپ لیڈر کے اوپر کیمپ لیڈر ہیں۔ ان کی تعداد 20 ہے۔ مطلب یہ کہ ایک کیمپ لیڈر پر 5000 پیدل مسافروں کی ذمہ داری دی گئی۔ پیدل مارچ میں لوگوں کو شامل کرنے کا کام اکتوبر 2011 میں شروع کیا گیا۔ پی وی راج گوپال نے اڑیسہ سے اس کی شروعات کی اور گاؤں گاؤں جاکر لوگوں کو جمع کیا۔
مارچ کے دوران پیدل مسافروں کو 75 الگ الگ گروپ میں بانٹ دیا گیا۔ ہر پیدل مسافر کو ایک شناختی کارڈ دیا گیا، جس پر ان کے گروپ کا نمبر بھی لکھا تھا۔ ہر گروپ کا انتظام الگ تھا۔ ہر گروپ کا کھانا الگ بنتا تھا۔ اس مارچ کی خاصیت یہ تھی کہ پیدل مسافروں نے خود ہی سب انتظام کیا تھا۔ پیدل مسافر صبح صبح مٹھی بھر پوہا کھا کر اپنا دن شروع کرتے تھے۔ اگلے پڑاؤ پر پہنچنے کے بعد قریب تین چار بجے شام کو کھانا کھاتے تھے اور پھر اندھیرا ہوتے ہی سڑک پر سو جاتے تھے۔ ہر پیدل مسافر اپنے گروپ کے ساتھ رہتا تھا، ساتھ کھانا کھاتا تھا اور ساتھ ہی سوتا تھا۔ ہر پڑاؤ پر وہ وہیں رکتا، جہاں اس کے گروپ کا نمبر لکھا ہوتا تھا۔
پدیاترا ختم ہوگئی، لیکن کسانوں کے خواب زندہ ہیں۔ یہ پیدل مسافر اپنے اپنے گاؤں میں اپنی جدوجہد اور کامیابی کی کہانیاں سنا رہے ہوں گے۔ یہ لوگ اپنے اپنے گاؤں میں لوگوں کو بتا رہے ہوں گے کہ چھ مہینے بعد انہیں زمین ملے گی۔ مرکزی حکومت بھلے ہی ایکتا پریشد کے ساتھ سمجھوتہ کرنے اور پدیاترا کو دہلی سے دور ہی ختم کرنے میں کامیاب ہوگئی، لیکن ابھی کئی ایسے سوال ہیں، جن کا جواب یوپی اے حکومت کو دینا ہے۔ کیا سرکار اپنے وعدوں کو پورا کرے گی؟ کیا بے زمین غریب کسانوں کو زمین ملے گی؟ کیا غریب کسانوں کو گھر دے گی سرکار؟ اگر سرکار اپنی عادت کے مطابق پلٹ جائے تو غریب کسانوں کے اوپر کیا گیا سب سے شرم ناک مذاق ہوگا۔ پدیاترا میں شامل ہوئے غریب کسان بے ضرر تھے، انہوں نے تشدد برپا نہیں کیا، لیکن یہ بات بھی بھولنے کی نہیں ہے کہ یہ کسان جن علاقوں سے آتے ہیں، ان علاقوں میں نکسلیوں کا دبدبہ ہے۔ سرکار کا اپنے وعدوں سے پلٹنا ان کسانوں کو اپنے گاؤں میں مذاق کا سبب بنا دے گا۔ منموہن سنگھ کے لیے یہ ایک تاریخی امتحان کی گھڑی ہے۔ یو پی اے حکومت کے پاس دو ہی متبادل ہیں، سرکار بے زمینوں کو زمین دے، اپنے وعدوں کو پورا کرے۔ مفاہمت نامہ کے ہر نکتہ پر عمل کرے یا پھر ملک میں لگاتار بڑھ رہے نکسلواد کے برے نتائج اور دیہی علاقوں میں تشدد کو جھیلنے کے لیے تیار ہو جائے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *