جن لوک پال پر ہوئے سروے کے نتائج

Share Article

اروند کجریوال

گزشتہ دنوں IACٹیم نے ایک سروے کیا تھا۔ آئیے آج اسکے نتائج پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ سروے میں چارسوال پوچھے گئے تھے اور پورے ملک سے 6948 لوگوں نے ای میل کے ذریعہ اپنے جواب ارسال کئے تھے۔ سروے کے نتائج کو مندرجہ ذیل جدول میںپیش کیا جارہا ہے:

ایک بار پھر یہ ظاہر ہو گیا کہ ہندوستانی عوام پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں بیٹھے اراکین پر یقین نہیں کرتے، یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ عوام کو مکمل یقین ہوگیا ہے کہ یہ پارلیمنٹ ایک مضبوط لوک پا ل بل نہیں پاس کرے گی۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ محض خانہ پری کے لئے یہ حکومت ایک لاچار اور کمزوربل پاس کرے گی۔ دوسری تمام پارٹیاں بھی اس پر اپنی منظوری دے چکی ہیں۔ ایسی صورت میں ہم خاموش نہیں بیٹھیںگے۔ ہمارا مطالبہ ایک مضبوط لوک پال بل لانا رہا ہے اور رہے گا۔میری آپ تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ ایک بڑی تحریک کے لئے تیارہوجائیے۔
تحریک کی نوعیت کیا ہوگی، اس پر بھی مذاکرہ چل رہا ہے۔ لیکن تحریک اتنی بڑی ہونی چاہئے کہ تما م سیاسی پارٹیا ں اور ان میں شامل بدعنوان نیتاعوام کی آواز سے ہل جائیں اور انہیں عوام کی بات تسلیم کرنی پڑے۔
ہندوستان میں جمہوری نظام قائم ہے لیکن یہاں حکومت تاناشاہی پر آمادہ نظرآرہی ہے اور عوام کی ایک نہیں چل رہی ہے۔ سروے کے آخری سوال میں پوچھا گیا تھا کہ خود انتخاب نہ لڑتے ہوئے کیا انا جی کو صاف ستھریشبیہ کے لوگو ںکی حمایت کرنی چاہئے؟ 82فیصد لوگوں نے کہا کہ انا جی کو صاف ستھری شبیہ کے امیدواروںکی حمایت کرنی چاہئے۔ اس سوال کے جواب میں عوام نے ہاں یا نا کے علاوہ اپنی تفصیلی رائے بھی دی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ سیاست بہت ہی مکروہ اور گندی چیز ہے۔ ایک شخص نے یہ رائے دی ہے کہ انا جی جیسے صاف شبیہ کے لوگوں کو سیاست کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہئے۔
آپ اس موضوع پر مذاکرہ کریں کہ کیا سرکار کی ایسی تاناشاہی کا کوئی جواب نہیں ہے؟ اس دفعہ ہمیںایسا جواب ڈھونڈ نا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں حکومت کے سامنے پھر سے جھولی نہ پھیلانی پڑے۔ سرکار کو سمجھ میں آئے کہ آقا کون ہے اور خدمت گار کون۔ اس دفعہ نظام کی تبدیلی کی شکل میں جوا ب تلاش کرنا ہے۔
!جے ہند

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *