جموںو کشمیر: نیشنل کانفرنس اور کانگریس میں سیٹوں کے بٹوارے پر ان بن

Share Article

محمد ہارون ریشی
p-9سولہویں لوک سبھا کے انتخاب کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی سیاسی جماعتوں نے خم ٹھونک کر میدان میں اترنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔فی الوقت پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کی کل 6، یعنی سرینگر، بارہمولہ، اننت ناگ، لداخ، اودھم پور اور جموں نشستوں پر نیشنل کانفرنس کے تین (وادی کی تین نشستوں)، کانگریس کے 2 (جموں، اودھم پور) اور ایک آزاد امیداوار (لداخ سیٹ ) پر براجمان ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اب کی بار بھی انتخابات میں یہی صورتحال ابھر کر سامنے آنے کا قوی امکان ہے، یعنی نیشنل کانفرنس وادی کی تین نشستوں اور کانگریس جموں اور اودھم پور کی سیٹوں کو جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔ لیکن، ظاہر ہے کہ اس ضمن میں وثوق کے ساتھ ابھی کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔
جموں و کشمیر میں کی کل چھ پارلیمانی سیٹوں کے لیے ریاست کی چار کلیدی جماعتوں نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی اور بی جے پی میں سے کئی نے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ پی ڈی پی نے جموں کی دو نشستوں کے لیے یشپال شرما اور ارشد ملک، اور اننت ناگ سے محبوبہ مفتی، بارہمولہ سے مظفر حسین بیگ اور سرینگر سے طارق حمید قرہ کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ دیگر پارٹیوں نے تاحال اپنے انتخابی امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن آثار و قرائن بتارہے ہیں کہ سرینگر سمیت کئی جگہوں پر حریفوں کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہوگی۔
نیشنل کانفرنس اور کانگریس، جو ریاست میں مخلوط حکومت چلارہی ہیں، پارلیمانی انتخابات میں بھی گٹھ جوڑ کرنے کے اشارے دی رہی ہیں، لیکن اس ضمن میں تاحال باضابطہ کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم نیشنل کانفرنس صرف وادی کی تین نشستوں یعنی سرینگر، بارہمولہ اور اننت ناگ کی سیٹوں پر بالترتیب فاروق عبداللہ، شریف الدین شارق اور محبوب بیگ کو کھڑا کرنے کا اعلان کرکے بظاہر باقی تین نشستوں (لداخ، جموں، اودھم پور) کو کانگریس کے حق میں خالی چھوڑ دیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، پردیس کانگریس کی لیڈر شپ اس بات پر نیشنل کانفرنس سے نالاں ہے کہ اسے وادی میں کوئی نشست نہیں دی گئی ہے۔ مقامی اخبارات میں شائع ہونے والی بعض رپورٹوں کے مطابق، کانگریس اپنی حلیف جماعت نیشنل کانفرنس سے جنوبی کشمیر یا شمالی کشمیر (اننت ناگ یا بارہمولہ) کی نشست کانگریس کے لیے خالی چھوڑنے کا مطالبہ کررہی ہے اور اس مسئلے پر دونوں پارٹیوں کے درمیان گفت و شنید جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس زیادہ تر بارہمولہ کی نشست میں دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ایک سینئر کانگریس لیڈر نے ’چوتھی دُنیا‘ کو بتایاکہ پارٹی نے بارہمولہ نشست سے پردیس کانگریس کے صدر سیف الدین سوز کے بیٹے سلمان سوز کو کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن نیشنل کانفرنس وادی کی تین نشستوں میں سے کسی بھی نشست سے کانگریس کے حق میں دستبردار نہیں ہونا چاہتی ہے، کیوں کہ ان تینوں نشستوں سے نیشنل کانفرنس 2009 میں بھی انتخاب چیت چکی ہے، اس لیے این سی کو لگ رہا ہے کہ وادی کی ان تینوں نشستوں پر اس کی جیت یقینی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ وادی میں کانگریس کے حق میں کوئی نشست خالی چھوڑنا پارٹی کے لیے ایک بہت بڑ نقصان ثابت ہوسکتا ہے، کیوں کہ اگر این سی کانگریس کے لیے کوئی نشست خالی چھوڑ بھی دیتی ہے، تو یہاں کانگریس کی جیت کے کچھ زیادہ امکانات نہیں ہیں۔
تجزیہ نگار طارق علی میر کہتے ہیں کہ ’’ویسے بھی وادی میں کانگریس پارٹی کا کوئی خاص ووٹ بینک نہیں ہے، بالخصوص شمالی کشمیر میں کانگریس نے کوئی اسمبلی نشست بھی نہیں جیتی ہے۔ ایسے میں اگر کانگریس نیشنل کانفرنس کو سیٹ خالی چھوڑنے پر مجبور بھی کردیتی ہے، تو اس کے نتیجے میں پی ڈی پی یا کسی دوسری جماعت کو ہی فائدہ پہنچے گا۔‘‘ طارق علی میر نے ایک اور پہلو کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کا وادی میں کسی نشست سے دستبردار ہوجانا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’نیشنل کانفرنس کو 1996 میں 89 ممبران پر مشتمل ریاستی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی۔ اب یہ جماعت سمٹ کر 28 سیٹوں پر آگئی ہے۔ نیشنل کانفرنس ریاست میں بڑی تیزی سے بدل رہے سیاسی منظر نامے کی وجہ سے اپنی سیاسی ساکھ کھو رہی ہے۔ ایسے میں اگر نیشنل کانفرنس وادی کی ایک پارلیمانی نشست سے کانگریس کے حق میں دستبردار ہوجاتی ہے، تو اس کا مطلب آنے والے اسمبلی انتخابات میں مزید نقصان اٹھانے کے لیے زمین ہموار کرنے کے مترادف ہوگا۔‘‘
کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے اتحاد کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اگر پارلیمانی انتخابات میں سیٹوں کے بٹوارے پر دونوں پارٹیوں میں کوئی مفاہمت نہ ہوئی یا ان بن رہی، تو اس کے اثرات آنے والے اسمبلی انتخابات میں بھی صاف دکھائی دیں گے، کیوں کہ یقینی طور پراس سال کے آخر میں ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھی سیٹوں کے بٹوارے پر دونوں اتحادی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے درمیان اختلافات شدت کے ساتھ ابھر آنے کا احتمال بڑھ جائے گا۔ g

پانچ مراحل میں ہوگی پولنگ
جموں و کشمیر میں 5 مراحل پر مشتمل پولنگ 10 اپریل سے شروع ہو رہی ہے۔ یہاں رائے دہندگان کی کل تعداد 69 لاکھ 33 ہزار 118 ہے۔ اس کے علاوہ 58 ہزار 279 سروس ووٹرز بھی ہیں اور مجموعی طور رائے دہندگان کی تعداد 70 لاکھ کے قریب ہے۔ مرد ووٹروں کی تعداد 36 لاکھ 57 ہزار 877، جب کہ خواتین ووٹروں کی تعداد 32 لاکھ 75 ہز 241 ہے۔ چار ہزار 59 پولنگ بوتھوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ سرینگر کی پارلیمانی نشست کے لیے مجموعی طور پر 1546 پولنگ مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ سرینگر پارلیمانی حلقہ انتخاب سرینگر، گاندر بل اور بڈگام اضلاع پر مشتمل ہے۔ پارلیمانی حلقہ انتخاب میں 15 اسمبلی حلقے ہیں، جن میں سے 8 سرینگر ضلع، 5 بڈگام اور 2 گاندر بل کے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *