جموں و کشمیر میں کشتواڑ فساد کے بعد فرقنہ وارانہ خلیج کو پاٹنے کی ضرورت

Share Article

محمد ہارون

جموں و کشمیر کا کشتواڑ خطہ صدیوں سے آپسی مذہبی رواداری کی علامت رہا ہے۔ مگر گزشتہ دنوں موٹر سائیکل کے ایک معمولی حادثہ اور عید کی نماز ادا کرتے اجتماع پر پتھراؤ کے بعد شروع ہوئے ہند و مسلم فرقہ وارانہ فساد میں چند افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے سے وہاں کا فرقہ وارانہ ماحول بگڑ گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ جہاں ریاستی حکومت مہلوکین کے ورثاء کو مناسب ہرجانہ اور زخمیوں کی طبی امداد میں پورا تعاون دے، وہیں اس کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرکے انہیں سخت سے سخت سزا دے نیز خطہ کے امن پسند شہری اور سماجی کارکنان بگڑے ہوئے ماحول کو بہتر بنانے میں کلیدی رول ادا کریں، تاکہ اس خطہ میں پھر سے آپسی مذہبی رواداری جلد از جلد قائم ہو جائے۔

p-5bریاست جموں و کشمیر ایک بار پھر’ بھیانک آگ‘ کی لپیٹ میں ہے۔ اب کی بار معاملہ فرقہ وارانہ فساد کا ہے، جس کی شروعات مسلمانوں کے مقدس تہوار عید الفطر کی صبح کشتواڑ میں ہوئی۔ کشتواڑ سطح سمندر سے 5360 فٹ کی بلندی پر واقع ایک پہاڑی قصبہ ہے، جہاں مسلمانوں اور ہندوئوں کی آبادی کی شرح بالترتیب 52 اور 48 فیصد ہے۔ بظاہر یہاں فساد کی شروعات ایک موٹر سائیکل کے معمولی سے حادثے کے بعد ہوئی، لیکن ایک الزام یہ بھی ہے کہ کچھ شرپسندوں نے عید کی نماز پڑھنے والے اجتماع پر پتھرائو کیا اور اس کے رد عمل میں نمازی بپھر گئے۔ شاید یہ ہلکی پھلکی لڑائی ایک بھیانک روپ اختیار نہیں کرتی اگر کشتواڑ کی دیہی حفاظتی کمیٹیوں سے وابستہ مسلح ممبران اپنی بندوقوں کے دہانے نہ کھولتے۔ مسلم فرقے کے لوگوں نے بندوقوں کی ایک دکان لوٹ کر اسلحہ اڑا لیا اور اسے متحاربین کے خلاف استعمال بھی کیا۔ دیر شام تک دو نوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک اور دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والی کروڑوں روپے کی املاک راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی تھی۔ حکومت نے ضلع کمشنر اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولس کو حالات پر قابو پانے میں ناکا می پر فوری طور پر تبدیل کر دیا، لیکن رات دیر گئے تک فرقہ وارانہ تشدد کی لہر جموں خطے کے کئی دیگر علاقوں تک پہنچ چکی تھی۔
حالات کس قدر خراب ہوئے، اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کو جموں کے دس میں سے آٹھ اضلاع میں سخت ترین کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ بعض حساس علاقے مکمل طور پر فوج کی تحویل میں دے دیے گئے۔ 16 اگست کو یہ سطور لکھے جانے تک تین افراد ہلاک ہوچکے تھے۔ سینکڑوں لوگ زخمی ہوچکے ہیں۔ درجنوں دکانیں اور گاڑیاں نذر آتش کی جا چکی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں فرقے کے لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ جموں کے بیشتر علاقوں میں ہنوز کرفیو جاری ہے۔ ریاست کے وزیر برائے امورِ داخلہ سے حکومت نے حالات پر قابو نہ کر پانے کی وجہ سے استعفیٰ لے لیا ہے۔
اس ساری صورتحال کے حوالے سے دونوں فرقوں کی متضاد آراء سننے کو مل رہی ہیں۔ جموں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ ہندو لیڈر اور بی جے پی کے لیجسلیچر اشوک کھجوریہ کی سنیں، تو وہ سارا قصور مسلم فرقے کے سر تھوپتے ہیں۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ ایک مفصل بات چیت میں کجھوریہ نے کہا کہ ’’ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ کشتواڑ میں حالات خراب ہونے والے ہیں، کیونکہ یہاں مسلمان کافی عرصے سے اشتعال انگیز حرکتیں کرتے تھے۔ افضل گورو کی تصویریں اور دھمکی آمیز پوسٹر چسپاں کیے جاتے تھے۔ مسلم لیڈران اُکسانے والی تقریریں کرتے تھے۔ حکومت کو یہاں کے مسلم شدت پسندوں کو بہت پہلے ہی گرفتار کرلینا چاہیے تھا۔ ایسا ہو جاتا، تو آج یہ نوبت نہیں آتی۔ گیلانی (تحریک حریت چیئرمین سید علی شاہ گیلانی) تو گیلانی، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی تنظیموں نے بھی جموں خطے کے اقلیتی فرقے کے ساتھ ناانصافی کی۔ خود کو ہندوستانی کہلانے والی ان جماعتوں میں سے ایک اٹانومی کی بات کرتی ہے اور دوسری سیلف رول کی۔ ان میں سے سچا ہندوستانی کوئی نہیں۔‘‘
اشوک کجھوریہ آگ بگولہ تھے، لیکن مسلم رہنمائوں کا الزام ہے کہ اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والی دیہی حفاظتی کمیٹیاں قاتل ٹولوں کا کردار ادا کرہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تین مرنے والوں میں دو کا مسلمان ہونا ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ تشدد کس نے برپا کیا ہے۔ ان میں سے ایک شخص، جو جسمانی طور پر معذور تھا، کو بلوائیوں نے زندہ جلادیا اور دوسرے کو پولس تھانے سے جبراً باہر نکال کر قتل کردیا۔سنجیدہ شہریوں کا ماننا ہے کہ مقتولین کا مذہب دیکھ کر ردعمل ظاہر کرنا ایک غیر انسانی حرکت ہے۔ معروف صحافی طارق علی میر نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’مذہب و مسلک اور رنگ و نسل کی بنا پر مرنے والوں کے ساتھ نفرت یا غم کا اظہار کرنا انسانوں کا کام ہوہی نہیں سکتا۔ انسانی زندگی بہرحال مقدم اور مقدس ہے۔ ‘‘ حیران کن بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں 1989 سے ملی ٹینسی جاری ہے اور یہ ریاست مسلسل ڈھائی دہائیوں سے پر تشدد حالات کے تھپیڑوں کا شکار ہے، لیکن یہاں پر اس سے پہلے کبھی بھی ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان اس حد تک خونیں تصادم نہیں ہوئے۔ سال 2008 میں پہلی بار اس ریاست میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان تشدد بپا ہوا اور تصادم آرائیاں ہوئیں، لیکن کسی کو زندہ نہیں جلایا گیا۔ درجنوں دکانیں تب بھی خاکستر نہیں کی گئیں۔ پھر یہ آج اچانک کیوں اور کیسے ہوا؟ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی مانیں، تو یہ انتخابی سیاست کا کھیل ہے۔ انہوں نے جموں میں فسادات بھڑکنے کے دوسرے دن سرینگر میں ایک پر ہجوم پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برملا الفاظ میں کہا کہ ’’بعض سیاسی جماعتیں ووٹ بینک سیاست کے لیے صورتحال کو اچھالنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ جماعتیں 2008 کی سی صورتحال دوبارہ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں، تاکہ انہیں اسمبلی انتخابات میں برتری حاصل ہو۔‘‘
انہوں نے بی جے پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کے اراکین پر میری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوگا، مجھے معلوم ہے کہ لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں‘‘۔ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ’’عوام کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ 2008 کی صورتحال سے موت اور تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، جس کے زخم ابھی تازہ ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ سیاسی جماعتیں انسانی مفادات پر اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دینا ترک کریں اور تشدد کے شعلوں کو بجھائیں۔‘‘
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے مرکزی رہنما ارون جیٹلی کی جانب سے عین فسادات کے وقت جموں میں داخل ہونے کی کوشش کرنا، ایک اکسانے والا قدم تھا۔ جیٹلی کو ریاستی سرکار نے ایئر پورٹ سے ہی واپس دہلی بھیج دیا۔ طارق میر کے مطابق ’’ارون جیٹلی کا جموں آنا حالات کو مزید بگاڑنے کی ایک کوشش تھی۔ میں حیران ہوں کہ جب جموں و کشمیر میں تشدد کی دیگر وارداتوں میں لوگ مارے جاتے ہیں، تو اس وقت ارون جیٹلی جیسے لوگ یہاں کیوں نہیں آتے؟‘‘
ایک عام تاثر یہ ہے کہ جموں خطے میں دیہی حفاظتی کمیٹیاں مسلمانوں اور ہندئوں کے درمیان خلیج بڑھانے میں ایک کلیدی کردار ادا کررہی ہیں۔ جموں خطے میں یہ کمیٹیاں 90 کی دہائی میں ملی ٹینسی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کی گئی تھیں۔ دیہی حفاظتی کمیٹیوں کے کل 3287 ممبران میںسے 3174 کا تعلق ہندو فرقے سے ہے۔ حالیہ فسادات میں بھی مبینہ طور پر دیہی حفاظتی کمیٹیوں کے ممبران نے ہی سرگرم رول نبھایا ہے۔ یہی نہیں، کشتواڑ کے پاڈر علاقے میں ایک شہری کو پولس تحویل سے چھین کر قتل کرنے کے واقعہ کا الزام بھی دیہی حفاظتی کمیٹی کے اراکین پر ہی عائد ہے۔ ویسے یہ تمام باتیں تحقیق طلب ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ کشتواڑ خطے میں آج تک مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان کبھی بھی کوئی خونیں تصادم نہیں ہوا ہے۔ اس پہاڑی خطے میں دونوں فرقوں کے لوگ صدیوں سے آپسی رواداری کے ساتھ رہتے آئے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب کی بار دونوں فرقوں کے درمیان ایک غیر معمولی خلیج پیدا ہوگئی ہے، جسے پر کرنا ناممکن نہیں، تو مشکل ضرور ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست کو علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازشیں طویل عرصے سے جاری ہیں اور حالیہ فسادات کے دوران سنجیدہ فکر اور امن پسند شہریوں اور سماجی کارکنوں کے بجائے فرقہ پرستی کو ہوا دینے والے ہی زیادہ سرگرم نظر آئے، جو کہ یقینا ایک قابل تشویش بات ہے۔ امن پسند شہریوں اور سماجی کارکنوں کو اس ماحول کو ختم کرنے کے لیے سامنے آنے کی ضرورت ہے۔
جموں خطے میں فرقہ وارانہ فسادات پر وزیر خزانہ پی چدمبرم کے اُس بیان پر بھی وادی میں سیاسی لیڈران نے شدید ردعمل کا اظہا ر کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اب کی بار 1990 کی طرح لوگوں کو جبری ہجرت کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ چدمبرم نے یہ بیان جموں کے فرقہ وارانہ فسادات پر پارلیمنٹ میں دیا تھا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں اس وقت فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے جو صورتحال ہے، اس کا تدارک کرنے کے لیے مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔ اشتعال انگیز بیانات اور الزامات و جوابی الزامات سے حالات بد سے بدتر ہوسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے سیاسی لیڈر اس ریاست کے حالات کو بہتر بنانے اور ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج پاٹنے کے لیے مثبت و مؤثر رول ادا کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *