جموں وکشمیر: کشمیری عوام شدید نفسیاتی تنائو کا شکار

Share Article

ہارون ریشی
p-5bذراتصور کریں، آپ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔آپ کا دوسرے لوگوں سے مواصلاتی رابطہ منقطع کردیا گیا ہو۔ فون اور انٹر نیٹ تک آپ کی رسائی نہیں ہے۔آپ کام پر نہیں جاسکتے ہیں۔اس وجہ سے آپ کی فی الوقت کوئی آمدنی نہیںہے ۔ آپ کے بچے سکول نہیں جاسکتے ہیں۔ گھر میں اشیاء ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اگر گھر میں کوئی مریض ہو تو اسے ادویات میسر نہیں۔آپ گھر سے باہر نکلنا چاہیں تو تشدد کی کسی واردات میں آپ کی جان جاسکتی ہے یا آپ بری طرح زخمی ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں آپ کو ہفتوں رہنا پڑے تو آپ کی نفسیات پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہونگے؟ یہ وہ خوفناک صورتحال ہے، جس کے وادی کشمیر کے عوام گزشتہ چالیس دنوں سے شکار ہیں۔
8جولائی کو جب کشمیری عوام عید الفطر کی خوشیاں ہی بانٹ رہے تھے، جنوبی کشمیر میں برہان وانی کے فورسز کے ہاتھوںمارے جانے کی وجہ سے تشدد کی ایسی لہر بپا ہوگئی ، جو آج چالیس دن گزرنے کے باوجود تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اس عرصے میں کم از کم 60لوگ ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سو سے زائد ایسے نوجوان بھی شامل ہیں ، جو فورسز کی جانب سے پلٹ گن کے استعمال کے نتیجے میں عمر بھر کے لئے اپنی بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ فی الوقت وادی کشمیر میں تمام تجارتی اور زرعی سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔ سیاحتی شعبہ مفلوج ہوچکا ہے۔ سیب پک چکے ہیں ، لیکن فروٹ منڈیاں مسلسل مقفل ہیں۔ اس وجہ سے ان سیبوں کو فروخت کرنے کیلئے کہیں بھیجنا ممکن نہیں ہوپارہا ہے۔
سب سے بدتر صورتحال یہ ہے کہ مسلسل ہڑتالوں ، کرفیو اور قدغنوں کی وجہ سے عام لوگ نفسیاتی طور علیل ہوگئے ہیں۔ وادی کے سرکردہ ماہر نفسیات پروفیسر مشتاق احمد مرغوب نے ’’ چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک مفصل انٹرویو میں بتا یا کہ وادی کے موجودہ حالات میں عام لوگوں کی نفسیات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوچکے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح خوفناک سیلاب یا زلزلوں سے متاثرہ آبادیوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب ہوجاتے ہیں اور لوگ اپنے گھر بار اور مال موئشی کھودینے کی وجہ سے حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ کشمیری عوام کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ کیونکہ عام طور سے ناگہانی آفات کے بعد دوسرے خطوں یا محفوظ انسانی آبادیوں سے متاثرین کی فوری امداد آجاتی ہیں ۔ لیکن کشمیر میں پچھلے لگ بھگ ڈیڑھ ماہ سے جاری خوفناک صورتحال میں لوگوں کو کہیں سے بھی مدد نہیں مل رہی ہے۔
پروفیسر مرغوب کا کہنا تھا: ’’ آپ یوں سمجھ لیجئے کہ آپ کو اپنے بال بچوں کے ہمراہ قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ مسلسل قید کے نتیجے میں آپ کی روح اور آپ کی نفسیات کو جو ٹھیس پہنچی ہے ۔ اسے ٹھیک ہونے میں مہینوں لگ سکتے ہیں، وہ بھی تب جب پہلے مکمل نارملسی قائم ہو۔پروفیسر مرغوب کا کہنا تھا کہ جنگ ذدہ علاقوں میں عوام کے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا ہے اور درجنوں سائنسی تحقیقات کے ذریعے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ متاثرین کی نفسیات اوران کی انفرادی شخصیت منفی انداز میں مرتب ہوجاتی ہیں۔
ماہرین نفسیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ وادی میں نوجوان اپنی جانوں کی پراہ نہ کرتے ہوئے جس طرح مسلح فوجیوں اور فورسز کے سامنے پر تشدد مظاہرے کرتے ہیں ، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی نظروں میں زندگی کے وہ معنی نہیں ہیں، جو عام طور پر پر امن جگہوں میں پر ورش پانے والے نوجوانوں کی ہوتی ہے۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر ارشد کہتے ہیں: ’’ وادی میں ہمارے نوجوان جس انداز میں احتجاج کرتے ہیں یا فورسز پر پتھرائو کرتے ہیں،وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُن کے تحت الشعور میں کچھ ایسی باتیں اور ایسی یادیںضرور ہیں، جس کی وجہ سے وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر ارشد کا کہنا ہے کہ کشمیر میں گزشتہ 26سال کے مسلسل پر تشدد حالات اور مسلسل ہلاکتوں اور خونریزی کی وجہ سے ہمارے بچے بھی ذہنی طور متاثر ہوچکے ہیں۔ حالات کا اثر نئی جنریشن میں منتقل ہوچکا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وادی میں مئی کے مہینے میں’’میڈیسین سانز فرنٹائر‘‘ نامی ایک رضاکار انجمن نے ایک مفصل سروے کے بعد پایا تھا کہ یہاں کی آبادی کے45فیصدلوگ ذہنی تنائو کا شکار ہیں۔اور اس کی بنیادی وجہ کشمیر کا ’’جنگ زدہ ‘‘ خطہ ہونا ہے۔
’’چوتھی دُنیا‘‘ نے سرینگر کے سب سے بڑے طبی ادارے شیر کشمیر میڈیکل انسٹی چیوٹ میں ایک سروے کے دوران پایا کہ اُن لوگوں کی نفسیاتی حالت انتہائی متاثر ہوچکی ہے ، جن کے بچے گزشتہ چالیس روز کے دوران زخمی ہوچکے ہیں اور فی الوقت اس اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
فاطمہ بیگم نامی ایک خاتون اپنے 19سالہ بیٹے فاروق خان کی تیمار داری کررہی ہیں، جو 25جولائی کو جنوبی کشمیر کے پلوامہ میں فورسز کی شلنگ کے نتیجے میں زخمی ہوگیا تھا۔فاروق کی چھاتی پر گہرے زخم لگے ہیں۔
فاطمہ کا کہنا تھاکہ جب سے یہ حادثہ ہوا ہے ، میں موت سے بدتر زندگی گزاررہی ہوں۔ ایک طرف میرا بیٹا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اور دوسری جانب مجھے اپنے ایک اور بیٹے ، جو گھر میں ہے کی فکر ستارہی ہے۔ میں یہ سوچ سوچ کر پاگل ہوجاتی ہوں کہ کہیں میرا چھوٹا بیٹا بھی گھر سے باہر نکل کر کسی احتجاج میں شامل نہ ہوگیا ہو۔ فون کی سہولیات منقطع ہونے کی وجہ سے فاطمہ کا اپنے گھر کے ساتھ کوئی رابطہ بھی نہیں۔ کم و بیش یہی حالت اُن تمام خواتین ہیں ، نوجوان بیٹوں کی مائیں ہیں۔
صاف ظاہر ہے کہ کشمیر کے موجودہ حالات کے نتیجے میں تو یہاں انسانی زندگیوں کانقصان ہواہے اور اقتصادی بدحالی ہو ہی گئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو کشمیری عوام کا نقصان ہورہا ہے ، وہ یہ کہ انہیں اور اُن کے بچوں کی نفسیات پر کچھ ایسے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ جن سے باہر آنے میں انہیں اب کافی وقت لگے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *