جموں و کشمیر کے حوالے سے آئین ہند کی دفعہ 370 کو کمزور نہ ہونے دیجئے

Share Article

آئینی وضاحت کے معاملے میں چند متنازعہ فیہ فیصلوں کو چھوڑ کر سپریم کورٹ آف انڈیا نے ریاستوں اور افراد کے حقوق و اختیارات کے تحفظ میں اب تک بہت ہی اہم کردار نبھایا ہے۔لیکن اجے کمار پانڈے اور ریاست جموں و کشمیر کے معاملے میں آئینی بینچ کے ذریعہ 19جولائی 2016 کو دیئے گئے فیصلے سے آئین ہند کی دفعہ 370 کے تحت فراہم کی گئی جموں و کشمیر کی اٹانومی میں مداخلت کا اندیشہ لاحق ہوگیا ہے۔
آئینی بینچ نے فیصلہ سنایا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ایک سول یا کرمنل مقدمہ کو ریاست جموں و کشمیر میں موجود کسی بھی عدالت سے ریاست کے باہر کسی بھی عدالت میں یا اس کے علی الرغم منتقل کرسکتا ہے۔یہ عام معاملہ تھا کہ کوڈ آف سول پروسیڈیور کے سیکشن 25 اور کوڈ آف کرمنل پروسیڈیور کے سیکشن 406 کے متعدد پروویژن جو کہ ایک ریاست سے دوسری ریاست میں سول اور کرمنل معاملات کو منتقل کرنے میں سپریم کورٹ کو امپاور کرتاہے، کا اطلاق جموں و کشمیر تک نہیں ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا استعمال یہاں اس طرح کی منتقلی کے معاملہ میں نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ بھی کامن گرائونڈ تھا کہ 1977 کے جموں و کشمیر کوڈ آف سول پروسیڈیور اور 1989 کے جموں و کشمیر کوڈ آف کرمنل پروسیڈیور میں ایسا کوئی پروویژن نہیں ہے جس سے سپریم کورٹ اس ریاست سے کسی مقدمہ کو اس کے باہر کسی اور عدالت یا اس کے علی الرغم منتقل کرسکے۔
یہ کامن گرائونڈ تھا کہ آئین کی دفعہ 139-A کے متعدد پروویژن جس سے سپریم کورٹ ایک ہائی کورٹ میں موجود ایک مقدمہ کو خود اپنے پاس یا کسی اور ہائی کورٹ میں منتقل کرنے میں امپاور ہوتا ہے،کا ایپلی کیشن اس وقت موجود کسی اور مقدمے میں نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ 1977 کے آئین کا 42 واں ترمیم ایکٹ جس نے خود اس پروویژن کو اپنے اوپر بھی لاگو کیا ہے ریاست جموں و کشمیر میں اپلائی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اس طرح یہ مانتے ہوئے کہ ایک لیٹی گینٹ (Litigant)کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر میں موجود کسی سول یا کرمنل مقدمہ کو ریاست سے باہر یا اس کے علی الرغم منتقل کرنے کو سوچ سکے، تب بھی متعلقہ عدالت ان باتوں کے باوجود یہ جواب دینے کے لئے آگے بڑھی کہ کوڈ آف سول اور کوڈ آف کرمنل پروسیڈیو رز میں موجود پروویژن ان سب سے آزاد ہوں، تب بھی اختیار کا یہ ذریعہ موجود ہے جس کا استعمال سپریم کورٹ ریاست جموں و کشمیر سے یا اس کے علی الرغم کسی مقدمہ کو منتقل کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس یہ اختیار ہے کہ یہ ’انصاف تک پہنچ‘ کے اصول کو نافذ کراسکے کیونکہ یہ بنیادی حق ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اسے یہ اختیارات آئین کی دفعہ 142 کے تحت حاصل ہے۔ عدالت ہمارے قانون کے اس اصول پر منحصر رہی کہ ہر شہری کو عدالت تک بلا جھجھک جانے کا حق ہے اور اس نے اس سلسلے میں ریمنڈورسس ہنی 1983 اے سی1 ) All ER 756 {1} 1982 ( کا حوالہ دیا جس میں لارڈ ولبر فورس نے اسے ’ بیسک رائٹ ‘ قرار دیا ہے۔لیکن احتراماً یہ عرض ہے کہ سپریم کورٹ کی توجہ لارڈ ولبر فورس کے مخصوص فرمودات تک مبذول نہیں کرائی گئی اور اس مقدمہ میں یہ استعمال بھی نہیں ہوئی تاکہ اس متروکہ پر زور دیا جاسکتا کہ ’’ ایک شہری کا روک ٹوک کے بغیر عدالت تک پہنچ کا حق صرف ایکسپریس انیکٹمنٹ منٹ ( Express Enactment) کے ذریعہ ہی چھینا جاسکتا ہے اور یہ قبول کرتے ہیں کہ اس طرح کے حقوق قانونی اصول کی بنیاد پر ہی کسی ضروری معاملہ میں واپس لئے جاسکتے ہیں ‘‘ ۔
یہاں اس موجودہ معاملہ میں جن متعدد پروویژن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے ،وہ ایک لیٹی گینٹ (LItigant)کے کسی مقدمہ کو جموں و کشمیر سے باہر منتقل کرنے کے حق کی نفی کرتا ہے لیکن یہاں بھی عدالت نے اس سے ہٹ کر فیصلہ سنایا ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کو اس سوال سے نمٹنا پڑا کہ کیا آئین ہند کی دفعہ 142 خود سپریم کورٹ امپاور کرتی ہے کہ وہ مقدمہ کی منتقلی کے بارے میں ہدایت دے سکے وہ بھی ایسی صورت میں جہاں نہ سول پروسیڈیور کا سنٹرل کوڈ اور نہ ہی کرمنل پروسیڈیور کا سینٹرل کوڈ ریاست جموں و کشمیر کے تعلق سے اس طرح کی منتقلی کے بارے میں کچھ کہتا ہے۔ تب عدالت نے یہ فیصلہ کیاکہ دفعہ 142 کے تحت اختیارات کافی ہیں جس سے سپریم کورٹ مناسب صورت حال میں اس طرح کی منتقلی کی ہدایت دے سکتا ہے ۔ اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ سول اور کرمنل پروسیڈیورز کے سینٹرل کوڈ کی توسیع نہ ریاست تک ہوتی ہے اور نہ ہی سول اور کرمنل پروسیڈیور کے ریاست جموں و کشمیر کے کوڈس کے پاس ایسا کوئی پروویژن ہے جس سے یہ عدالت کے مقدمات کی منتقلی کے لئے بااختیار ہے۔یہ بد نصیبی ہے کہ عدالت کی توجہ 7ججوں والے بینچ کے مقدمہ اے آر انتولے ورسس آر ایس نائک 1998(2) ایس سی سی 602 کی جانب مبذول نہیں کرائی گئی جہاں عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ ’’ تیسری بات یہ ہے کہ خواہ دفعہ کی زبان کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہو، عدالت کے ذریعہ دی گئی ہدایات بے ربط نہیں ہونی چاہئے اور کسی قانون کے خصوصی پروویژن کی خلاف ورزی کرتی ہوئی بھی نہیں ہونی چاہئے۔ اگر 1952 کے ایکٹ کے پروویژن دفعہ 139-A اور سی آر پی سی کے سیکشن 406-407 کے ساتھ پڑھنے کے بعد بھی اسپیشل جج سے ہائی کورٹ مقدمہ کی منتقلی کی اجازت نہیں دیتے ہیں، تب اس اثر کو بلا واسطہ حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘۔
یہ بھی بد نصیبی ہے کہ سپریم کورٹ کی توجہ قبل 1998 میں خود اسی عدالت کے پانچ ججوں کے فیصلے کی طرف مبذول نہیں کرائی گئی جہاں عدالت نے کہا تھا کہ ’’ اپنی وسعت کے باوجود دفعہ 142،جہاں قبل کس کا وجود نہیں تھا، کا استعمال کسی معاملہ سے منسلک قانونی پروویژن کو نظر انداز کرکے نہیں لیا جاسکتاہے تاکہ بلا واسطہ کچھ حاصل کیا جاسکے جو کہ بالواسطہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ عدالت کسی اہم قانون کے ایکسپریس پروویژن کا نوٹس لے گا اور پھر اسی کے مطابق اپنے اختیار کا استعمال کرنے کے لئے اسے باضابطہ شکل دے گا۔ یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ دفعہ 142 کے تحت اس کے اختیار کا دائرہ جتنا زیادہ ہوگا، اتنی ہی زیادہ اس بات کی ضرورت ہوگی کہ یہ عدالت اس بات پر نظر رکھے کہ متعلقہ اختیار کا احتیاط سے استعمال آئین کے حدود کو پیچھے ڈھکیلے بغیر لیا جارہا ہے تاکہ یہ اپنے حدود کا ر کے اندر کام کرسکے‘‘۔
مذکورہ بالا تشویش سے بھی زیادہ قابل تشویش بات یہ ہے کہ اس فیصلہ نے بلا واسطہ انداز میں آئین کی دفعہ 370 کے لازمی پروویژن کو کالعدم کردیا ہے۔ جموں و کشمیر لیجسلیٹر نے خصوصی طور پر اس کا لحاظ رکھا ہے کہ عدالت کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہوگا جس سے وہ جموں و کشمیر عدالتوں سے ریاست کے باہر مقدمات کو منتقل کرسکے۔ ان حالات میں دفعہ 142 کے اختیارات کو لاگو کرنے کے لئے ایسے احکامات جاری کرنا جو کہ جموں کشمیر کے لیجیسلیشن کے خلاف ہو، آئین کی دفعہ 370 کے خلاف خطرناک دھوکہ ہے جس کے بڑے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
مجھے امید ہے کہ مرکز اور ریاست جموں و کشمیر دونوں اس فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کو کہیں گے تاکہ سنگین آئینی وسیاسی بحران اور اثرات کو ٹالا جاسکے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہ یقین دہانی کرائی جاسکے کہ ان کی اٹانومی کو کمزور ہونے نہیں دیا جائے گا۔
تصویر کے نیچے
ماہر قانون اور حقوق انسانی رہنما راجندر سچر جو کہ اندرون و بیرون ملک اپنی سچر رپورٹ کے لئے زیادہ جانے جاتے ہیں، دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور فرق و امتیازات کی روک اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اقوام متحدہ کے ذیلی کمیشن کے سابق رکن رہے ہیں۔ آئینی قوانین پر ان کی گہری نظر ہے۔ ذیل کا مضمون ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے آئین ہند کی دفعہ 370 کاقانونی طور پر جائزہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *