تبریز انصاری پر ہوئے ہجومی تشد دکے خلاف جمعیۃ علماء جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع

 

مقامی پولس آفیسران اور ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے۔ گلزار احمد اعظمی

 

ہجومی تشدد کے شکار جھارکھنڈ کے تبریز انصاری کے اہل خانہ اور مسلمانوں کے تحفظ کو لیکر جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ رانچی میں ایک کریمنل رٹ پٹیشن داخل کی ہے جس میں خاطی پولس افسران وڈاکٹروں کے خلاف مجرمانہ مقدمات قائم کرنے کامطالبہ کیا گیا ہے۔

Image result for tabrez ansari

جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ جناب گلزاراحمد اعظمی نے آج ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ 18جون 2019 کو جھارکھنڈ کے شہر کھرسوا میں جمشید پور سے لوٹ رہے تبریز انصاری کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیاجس کے بعد اس کی پولس تھانے میں موت ہوگئی، حالانکہ پولس نے پپو نامی شخص پر مقدمہ درج کیا ہے لیکن ہجومی تشدد کی جو وارداتیں جھارکھنڈ میں لگاتار ہورہی ہیں اور حکومت جھارکھنڈ سپریم کورٹ کی گائڈ لائنس کو نافذ کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے اس کے خلاف مولانا سیدارشد مدنی (صدر جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر ممبئی سے ایڈوکیٹ افروز صدیقی وایڈوکیٹ انصارتنبولی کو رانچی روانہ کیا گیا جہاں انہوں نے جمعیۃ علماء جھارکھنڈ کے نائب صدر جناب الحاج منظور احمد انصاری ،ونائب صدر جمعیۃ علماء جھارکھنڈ جناب منظر احمد خان وجناب مفتی شہاب الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء جھارکھنڈ سے رابطہ قائم کیا ۔

Image result for tabrez ansari

نیز ان حضرات کے ہمراہ رانچی ہائی کورٹ کے سینیئر ایڈوکیٹ عبد العلام ،ایڈوکیٹ شرحبیل،وڈسٹرکٹ ایڈوکیٹ الطاف احمد سے ملاقات کی جن سے باہمی تبادلہ خیال کرنے کے بعد یہ طے پایا کہ تبریز انصاری کے لواحقین سے ملاقات کی جائے اور انہیں اس بات پر ٓامادہ کیا جائے کہ وہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ رانچی میں اس ہجومی تشدد کے خلاف ایک عرض داشت داخل کریں لہذا تبریز انصاری کے بڑے چچا حافظ مسرور احمد ،چھوٹے چچا مقصود احمد،تبریز انصاری کی بیوہ کے چچا شیخ محبوب اور تبریز انصاری کے پڑوسی قربان احمد سے ملاقات کرنے کے بعد جوکہ اس واردات کے گواہ بھی ہیں یہ طے پایا کہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے تبریز انصاری کے چوٹے چچا مقصود احمد کی جانب سے رٹ داخل کی جائے ۔

Image result for tabrez ansari

جس میں یہ درخواست کی جائے کہ ہجومی تشدد کا شکار ہونے والے تبریز انصاری کے معاملے کی آزانہ تحقیقات سی ،بی ،آئی سے کرائی جائے نیز تفتیش ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے زیر نگرانی ہو اور تفتیش کی رپورٹ ہائی کورٹ میں داخل کی جائے ،عرضداشت میں مزید یہ درخواست کی جائے کہ خاطی پولس افسران وڈاکٹروںکے خلاف فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلا جائے نیز جیل سپرنٹنڈنٹ اور جیل ڈاکٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اسی کے ساتھ ساتھ صدر اسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے کیونکہ متذکرہ دونوں ڈاکٹروں نے تبریز انصاری کو بروقت معقول طبی امداد نہیں دی ورنہ اس کی جان بچ جاتی ۔

Image result for tabrez ansari

عرضداشت میں مزید درخواست کی جائے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ریاستی حکومت فوراً فاسٹ ٹریک عدالت کا قیام عمل میں لائے اور مقدمہ کی سماعت جلد از جلد شروع کی جائے نیز ناصرف تبریز انصاری کا مقدمہ فاسٹ ٹریک عدالت میں منتقل کیا جائے بلکہ ہجومی تشدد کے تمام مقدمات کو فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعہ چلائے جائیں اور مقدمات چھ ماہ کے اندر فیصل کیئے جائیں۔

Image result for tabrez ansari

واضح رہے کہ ہجومی تشدد کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں متعدد عرضداشتیں زیر سماعت ہے لیکن 17جولائی 2018 کو سبکدوش چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرائ، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑنے اپنے ایک فیصلہ میں مرکزی حکومت سمیت تمام ریاستی حکومتوں کو ہجومی تشدد کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن ابتک سوائے منی پور کی حکومت کے مرکزی حکومت اور نہ ہی کسی بھی ریاستی حکومت نے اس پر عمل کیا جس کا نتیجہ ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات ہیں ،19 جولائی 2019 کو ان ہی عرضداشتوں پر دوبارہ سماعت متوقع جہاں حکومت کی ناکامی اور عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی پر بحث ممکن ہے ۔اور جمعیۃ علماء بھی وکلا ء سے مشورہ کے بعد سپریم کورٹ میں بحیثیت مداخلت کارحصہ لے گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *