مرکزی حکومت جامعہ ملیہ اسلامیہ کواقلیتی درجہ دینے کے حق میں نہیں

Share Article
jamia-millia-islamia
مرکزی سرکار نے دہلی ہائی کورٹ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کواقلیت کادرجہ دےئے جانے کو غلط ٹھہراتے ہوئے ایک حلف نامہ داخل کیاہے۔ مرکز نے یونیورسٹی کومذہبی اقلیتی ادارہ کادرجہ دےئے جانے کا مخالفت کررہی ہے۔اس طرح سے دیکھاجائے تو این ڈی اے سرکار یوپی اے سرکار کے رخ سے پلٹ گئی ہے۔سرکارنے نیشنل کمیشن فارمائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز(این سی ایم ای آئی) کے اس پرفیصلے پر غیررضامندی کا اظہارکیاہے، جس میں این سی ایم ای آئی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کواقلیتی ادارہ کا درج دیاہے۔دراصل کانگریس سرکار میں سال 2011میں اس وقت کے انسانی وسائل وزیرکپل سبل نے این سی ایم ای آئی کے فیصلے کوقبول کرتے ہوئے اورکورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے جامعہ کواقلیتی ادارہ ہونے کی بات مانی تھی۔

 

میڈیارپورٹس کے مطابق، حلف نامے میں کہاگیاہے کہ ایساضروری نہیں ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے بورڈ کاانتخاب ہو اورضروری نہیں ہے کہ اس میں مسلم مذہب کوماننے والوں کوہی اختیارہو۔ایسے میں جامعہ ملیہ کے اقلیتی داراہ ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔
عیاں رہے کہ 5مارچ کویہ حلف نامہ ہائی کورٹ میں داخل کیاگیاہے، جسے 13مارچ کوہائی کورٹ نے ریکارڈ پرلیا۔ حلف نامہ میں کہاگیاہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے بورڈ کا انتخاب ہوتاہے اوریہ بالکل ضروری نہیں ہے کہ اس میں مسلم مذہب سے جڑے لوگوں کوہی اختیارات ہو۔اس کے ساتھ ہی حلف نامہ میں کہاگیاہے کہ جامعہ ملیہ اقلیتی ادارہ اسلئے بھی نہیں ہے کیونکہ اسے پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت بنایاگیاہے اورمرکزی سرکار جامعہ ملیہ اسلامیہ کوفنڈدیتی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں   یوپی کے کانگریس صدر راج ببر نے دیا استعفیٰ
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *