جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ بایوٹیکنالوجی کے پروفیسر محمد زاہد اشرف کو انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کی جانب سے بسنتی دیوی امیر چند نامی اعزاز سے نوازا گیا ہے۔یہ اعزاز کل مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر، ہرش وردھن نے پروفیسر اشرف کی تحقیقی کارفرمائی کے اعتراف میں انھیں دیا۔بسنتی دیوی امیر چند اعزاز 1953 میں آئی سی ایم آر کے ابتدائی ادارہ ایوارڈ میں سے ایک ہے جو بائیو میڈیکل سائنسز کے شعبے میں اہم تحقیقی کاموں کے لئے دیا جاتا ہے۔
پروفیسر اشرف کی لیب اونچائی والے علاقوں میں خون کے منجمد ہو جانے سمیت قلبی عوارض کی نشوونما اور کم آکسیجن کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کو سمجھنے میں معاون رہی ہے۔ کم آکسیجن کے جواب میں سیلولر رد عمل کی تحقیق کی اہمیت کا تجزیہ اس حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ اس سال نوبل انعام کمیٹی برائے جسمانیات یا دوائیوں نے اس بات کی دریافت کی صلاحیت کو پہچان لیا کہ کس طرح خلیوں کو احساس ہوتا ہے اورا سے آکسیجن کی دستیابی کے مطابق ڈھال لیا جاتا ہے۔مشترکہ طور پر ان کی تاریخی دریافتوں کی وجہ سے تینوں سائنسدانوں کو اعزاز کا اہل سمجھا گیا۔ آکسی ڈیشن کے عمل کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے جو توانائی پیدا کرتی ہے۔ اس کی کم فراہمی کے نتیجے میں پھیپھڑوں کو نقصان اور دماغی اختلال کے علاوہ دل کے عوارض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔پروفیسر اشرف کی تحقیق نے خون جمنے والے عوارض کے پیچھے آکسیجن سے منسلک میکانزم کے کردار پر کا م کیا ہے اور اونچائی پر آکسیجن کی کم دستیابی کی وجہ سے اس کے اثرات سے بحث کی ہے۔
ڈاکٹر اشرف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز اور انڈین اکیڈمی آف سائنسز دونوں کے فیلو ہیں۔ وہ ممتازرام چندرن-نیشنل بایوسائنس ایوارڈ 2018 کے وصول کنندہ بھی ہیں۔ اس وقت وہ یونیورسٹی میں ڈائریکٹر (اکیڈمکس) کے عہدے پر فائز ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستگی سے قبل، وہ ڈیفنس انسٹی ٹیوٹ آف فزیوالوجی اینڈ الائیڈ سائنسز (ڈی آئی پی اے ایس)، دفاعی تحقیق اور ترقیاتی تنظیم (ڈی آر ڈی او)، دہلی میں جینومکس ڈویژن کے سربراہ تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here