ایم۔ ودود ساجد
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے سوال پر اب کوئی ابہام باقی نہیں رہ گیا ہے۔مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل نے اس سوال پر انتہائی خطرناک اور مایوس کن بیان دے کر کانگریس پارٹی کو بھی برہنہ کردیا ہے۔اب تک اس مہم کے حامیوں اور جامعہ کے خیر خواہوں کو یہ بھرم تھا کہ حکومت خواہ اس مسئلہ پر دیانت دار نہ ہو لیکن کانگریس تو بہرحال جامعہ کے اقلیتی کردار کے سوال پر نرم گوشہ رکھتی ہوگی۔لیکن کپل سبل نے اس بھرم کو یہ کہہ کر توڑ دیا ہے کہ حکومت جامعہ کو اس کا سیکولر کردار باقی رکھتے ہوئے اس کو اقلیتی رتبہ دینا نہیں چاہتی۔کپل سبل کے اس بیان کے بعد کیا اب کسی اور توجیہ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟
تازہ بحث ‘ معلوم ہوا ہے کہ سلمان خورشید کے ذریعہ کپل سبل کو لکھے گئے خط کو عام کرنے کے نتیجہ میں شروع ہوئی ہے۔سلمان خورشید اب اس مسئلہ پر جامعہ کے حامیوں کے ساتھ آگئے ہیں۔حالانکہ اب سے پہلے تک خود ا ن کا نظریہ وہی تھا جو آج کپل سبل کا ہے۔یہی نہیں بلکہ آج جامعہ کے اقلیتی کردار کی جوبھیک جامعہ کے خیر خواہوں کو مانگنی پڑرہی ہے اس میں بھی سلمان خورشید کے والد محترم کی کرم فرمائی رہی۔جامعہ کو مرکزی یونیورسٹی قرار دئے جانے کے لئے نہ اس کے دستور سے وہ خاص سطر حذف کی جاتی جو اس کے اقلیتی ادارہ ہونے کی ناقابل تردید دلیل تھی اور نہ آج یہ کپل سبل کو یہ کہنے کی ہمت ہوتی کہ حکومت جامعہ کو’اس کا سیکولر کردار باقی رکھتے ہوئے اسے اقلیتی رتبہ دینا نہیں چاہتی۔گویا کہ جتنے ادارے اقلیتی لاحقہ کے ساتھ چل رہے ہیں وہ سیکولر نہیں بلکہ کمیونل ہیں۔
بہر حال کپل سبل کے بیان سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ خود کانگریس بھی اس مسئلہ پر وہی سوچ رکھتی ہے جو دوسری فرقہ پرست جماعتوں کی ہے۔ اگر کانگریس اس مسئلہ پر مخلص ہوتی تو عام انتخابات 2009کے انتخابی منشور میںاس نے جامعہ ملیہ کے اقلیتی کردار کے تحفظ کا وعدہ ضرور کیا ہوتا۔کانگریس کے انتخابی منشور میں یہ کمی اس لئے بھی کھلتی ہے کہ قومی سطح کی کم وبیش سبھی سیکولر جماعتوں نے جامعہ کے مسئلہ کو اپنے اپنے انتخابی منشور میں جگہ دی تھی۔ جامعہ کے اقلیتی کردار کے تحفظ کی تحریک چلانے والوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ تک سے مل کر معاملہ کی سنگینی اور نزاکت سے واقف کرایا۔انہوں نے وفد کو یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ جامعہ کے اقلیتی کردار کا مسئلہ منشور میں بھی شامل ہوگا اور جہاں تک ممکن ہو گا الیکشن سے پہلے بھی اس کے تحفظ کا پورا خیال رکھا جائے گا۔وفدنے یوپی اے اور کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کی کوشش کی لیکن ان کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔سابق مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل ارجن سنگھ سے بھی متعدد بار ملاقات کا وقت مانگا گیا مگر انہیں شاید اپنی حدودکا علم تھا اس لئے انہوں نے جامعہ جیسے حساس ایشو پر وفد کو وقت نہ دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ قضیہ انہی کی وزارت سے براہ راست تعلق رکھتا تھا۔انہیں ضرورمعلوم ہوگا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام مسلمانوں پرکوئی احسان نہیں تھا بلکہ مہاتما گاندھی کی تحریک ترک موالات کا دل وجان سے ساتھ دینے کے لئے ا یک طے شدہ انتظام تھا۔اور اگراس کو احسان بھی مان لیا جائے تو یہ احسان صرف مسلمانوں پر ہی نہیں کیا گیا تھا بلکہ دو ادارے غیر مسلموں کے لئے بھی قائم کئے گئے تھے۔اب خود مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کپل سبل نے بھی جامعہ کے اقلیتی کردار کے تعلق سے اپنی بدنیتی ظاہر کردی ہے۔
جامعہ ملیہ ابتدامیں علی گڑھ میں قائم کیا گیا تھاجہاں پہلے سے ہی سرسید کا قائم کردہ ادارہ کام کر رہا تھا۔وہ چونکہ انگلش حکومت کی مدد سے چلتا تھا اس لئے وطن پرست ہندوستانیوں نے اپنی شناخت کی بقا کے لئے اپنے آزاد  اداروں کا قیام ضروری سمجھا۔بلا شبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ مسلمانوں کے لئے قائم ہوا تھا اور اسی لئے اس کے نصاب تعلیم میں اردو اور اسلامیات کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔اگر یہ ادارہ خالصتاً مسلمانوں کے لئے نہ ہوتا یا کم از کم اقلیتی ادارہ نہ ہوتاتو اس میں کم سے کم اسلامیات کو لازمی قرار نہ دیا جاتا۔اس ادارہ کی بنیاد میں مجاہدین آزادی مولانا محمد علی جوہر‘شیخ الہند مولانا محمودالحسن‘مسیح الملک حکیم اجمل خان‘ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر مختار انصاری جیسے افراد کا خون پسینہ شامل تھا۔1939میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے ایک سوسائٹی رجسٹرڈ کرائی گئی تھی جس میں یہ تمام افراد شامل تھے۔علی گڑھ کے بعد اس ادارہ کودہلی کے قرول باغ لے آیاگیا اور پھر جامعہ نگر اس کا مستقل مسکن ہوگیا۔آج جامعہ کے اطراف میں موجود آبادی اسی ادارہ کی مرہون منت ہے۔1962میں اس ادارہ کو Deemedیونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا۔یہاں تک بھی اس ادارہ کے اقلیتی ادارہ ہونے میں کوئی اشکال نہیں تھا۔اس پر کوئی سوال بھی نہیں اٹھایا گیا‘اس لئے کہ یہ ادارہ مسلمانوں کے لئے ہی قائم کیا گیا تھا اورشروع سے اب تک انہی کے ذریعہ اس کا نظام بھی چل رہا تھا۔1988میں اس ادارہ کوپارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ مرکزی یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا‘سوسائیٹی تحلیل ہوگئی اور سارے اختیارات یونیورسٹی کو منتقل کردئے گئے۔اس کے پہلے چانسلر خورشید عالم خان بنائے گئے اور وائس چانسلر کی ذمہ داری علی اشرف کو دی گئی۔
چونکہ جامعہ کے پہلے چانسلر خورشید عالم خان تھے اس لئے توقع یہ تھی کہ ان کے فرزند ارجمند سلمان خورشیدکو حقائق کا بھر پور علم ہوگااور وہ جامعہ کے اقلیتی کردارکے تحفظ کی اس تحریک کا ساتھ دیں گے جس کوخود بعض کانگریسیوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔لیکن 25فروری2009کو انہوں نے جو رویہ اختیار کیا اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ خود خورشید عالم خان بھی اس یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے حامی نہیں تھے۔اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ 1988میں جامعہ کو مرکزی یونیورسٹی کا درجہ جلد از جلد دلوانے کے لئے خورشید عالم خان اور دوسروں نے جامعہ سوسائیٹی کے دستور سے وہ جملہ ہی حذف کردیا تھا جس میں صاف لکھا تھا کہ یہ ادارہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے اور ان کی تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔25فروری کومعروف سماجی خدمت گزاراور تحریک کے قائدالیاس ملک(9811972343) کی کنوینر شپ میں کانسٹی ٹیوشن کلب میں مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں ایک اجلاس ہواتھاجس میںممبران پارلیمنٹ محمد ادیب ‘محمد صابر علی‘احمد سعید ملح آبادی اور دہلی اقلیتی کمیشن کے چیر مین کمال فاروقی بھی شریک ہوئے تھے۔یہاں سلمان خورشید نے سب سے الگ راہ اختیار کی اورجامعہ کے اقلیتی کردار کے تعلق سے لیت ولعل سے کام لیا۔حالانکہ وہ وکیل ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ آئین کے آرٹیکل 30(1)کے تحت اقلیتوں کو نہ صرف اپنے اداروں کے قیام کا حق حاصل ہے بلکہ انکے انتظام وانصرام کا اختیار بھی انہی کو ہے۔اگر سلمان خورشید ہی جامعہ کے اقلیتی کردار پر صاف ذہن نہیں رکھتے تو پھر ان کی اس حکومت اور جماعت سے کیا توقع کی جاسکتی ہے جس میں گاندھی کے حامی کم اورسردار پٹیل کے حامی زیادہ تعداد میں ہیں؟یہاں ارجن سنگھ کے تعلق سے بھی ایک غلط فہمی کا ازالہ بے حد ضروری ہے۔90کی دہائی کے وسط میں جب پنچ مڑھی میں آل انڈیاکانگریس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تو اس میں انہی ارجن سنگھ نے کہا تھا کہ اب کانگریس کو مسلمان مسلمان گاناچھوڑ دینا چاہئے۔اس اجلاس میں سونیا گاندھی بھی موجود تھیں۔نرسمہارائو تو خیر اس بے ہودہ مشورہ کے خلاف کیا بولتے خود سونیا بھی خاموش رہیں۔اس موقع پر واحد کانگریسی لیڈر طارق انور تھے جنہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور نتیجہ میں انہی کو ’مجلس سے اٹھادیا‘ گیا۔کانگریس نے اس کے بعد اپنی پالیسی بدلی اور کانگریس میں موجود گوڈسے کے ہم نوا ئوں کی بن آئی۔سونیا گاندھی کو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ہندوستانی مسلمان ہی تھے جنہوں نے گاندھی کو مہاتما بنایا تھا۔کانگریس نے کبھی پنچ مڑھی اجلاس کی اس بے ہودگی سے اظہار بیزاری بھی نہیں کیا۔ایسے میں اس سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کا ایشو اپنے انتخابی منشور میں شامل کرے گی؟
جن اصحاب رائے کو اس قضیہ کا علم نہیں ہے وہ سوال کر سکتے ہیں کہ آخر اچانک ایسا کیا ہوا کہ جامعہ کا اقلیتی کردار خطرہ میں آگیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جامعہ کا اقلیتی کردار مسلسل خطرہ میں ہے۔1988کے بعد جامعہ میںساڑھے22فیصد ایس سی -ایس ٹی ریزرویشن لاگو کردیا گیا۔اب وہاں27فیصداو بی سی ریزرویشن لاگو کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ایسا ہوگیا تو پھر وہاں مزید ریزرویشن کی قانونی گنجائش نہیں رہے گی۔پچاس فیصد سے زائد ریزرویشن کسی ادارہ میں ہونہیں سکتا۔پھر مسلمان کہاں جائیں گے؟اقلیتی ادارہ میں ہوتا یہ ہے کہ50فیصد نشستیںمسلمانوں کے لئے مخصوص اور 50فیصد جنرل ہوتی ہیں۔ایسے میںپچاس فیصد کے علاوہ کچھ فیصد مسلمان بچے مقابلہ کے ذریعہ بھی آجاتے ہیں۔ یہاں ایک بات جامعہ نگر میں آباد ہزاروں مسلمانوں سے بھی کہنی ہے کہ وہ خدا کے لئے وقت کی نزاکت کو سمجھیں اور جامعہ کے تحفظ کے لئے اٹھنے والی اس تحریک کا ساتھ دیں۔اس لئے کہ اگر خاموشی کے ساتھ جامعہ نے 27فیصد اوبی سی ریزرویشن لاگو کردیا تو اس کی اقلیتی حیثیت خود بخود ختم ہوجائے گی اور اس کے لئے کوئی محنت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔فی الحال معلوم ہوا ہے کہ یہ قضیہ قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات میں زیر غور ہے لیکن لگتا نہیں کہ وہاں سے بھی انصاف ملے گا اس لئے کہ نوکری تو سب حکومت کی ہی کرتے ہیں۔اور حکومت کا موقف سامنے آہی چکا ہے۔
ایک مشکل یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کے ارباب اختیار اور خاص طور پر وائس چانسلر حکومت کی وفاداری نبھاتے ہیں تاکہ ان کی ’سیکولرشبیہ ‘کی بدولت ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کسی صوبہ کی گورنری یا کچھ اور مل جائے۔ایسے میں یہ خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے کہ اقلیتی ادارہ کی حیثیت ’عاقبت نااندیش اور مفادات حاصلہ‘رکھنے والے ارباب کے نامعقول فیصلوں سے خاک میں نہ مل جائے۔یہ خطرہ اس لئے بھی ہے کہ جامعہ کا موجودہ انتظامیہ اس تجویز کو لاگو نہیں کر رہا ہے جو1997میں جامعہ کی ایگزیکٹو کونسل نے پاس کی تھی۔اس تجویز میں جامعہ کو ایک اقلیتی ادارہ قرار دیا گیا تھا۔اس پر خود سابق وائس چانسلر پروفیسر مشیرالحسن کے دستخط تھے جو اس وقت جامعہ کے پرو وائس چانسلرتھے اور انہی کی صدارت میں یہ اجلاس ہوا بھی تھا۔مگر پروفیسر مشیرالحسن ’اقلیتی‘ لفظ کا ذکر کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔ان سے جب وفد ملتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ حکومت سے بات کیجئے۔سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی اتھارٹی وائس چانسلر ہوتا ہے یا حکومت ؟اس سوال کا جواب بہت مشکل نہیںہے مگر جب ملت کے اجتماعی مفادات پر ذاتی مفادات حاوی ہوجائیں تو پھر ایسے سوال کا جواب بہت مشکل ہوجاتاہے۔مگر مسلمانوںکی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروںکویہ یاد رکھنا چاہئے کہ آپ تو تھوڑی بہت شاباشی لوٹ لیں گے اور اپنے Most Secularہونے کا ثبوت دے کر کچھ حاصل بھی کرلیں گے لیکن یہ ملت جو پہلے ہی تعلیمی انحطاط اور بیورو کریسی کے تعصبات کا شکار ہے، بربادی کی ایک اور منزل سر کرلے گی۔
مضمون نگار سینئر صحافی اور ویوزینٹ ورک انٹرنیشنل کے ایڈیٹر ان چیف ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here