جمہوری تہوار کی کمزور پڑتی روایت

Share Article

ملک میں موجودہ سیاست بھلے ہی مختلف تضادات کا شکار رہی ہو، لیکن پارلیمانی، اسمبلی، گرام پنچایت اور بلدیاتی انتخابات کو جمہوری تہوار کی طرح منایا جاتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ ان 66 برسوں میں ہندوستانی سیاست اور انتخابی عمل میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن بعض تبدیلی ایسی بھی ہوئی ہے، جس سے عوام جمہوریت سے دور ہوتے چلے گئے۔ سولہویں لوک سبھا کے لیے ہو رہے ان انتخابات میں تبدیلی کی اسی کہانی کو یہاں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ابھیشیک رنجن سنگھ
p-4پندرہ سال پرانی بات ہے۔ اُن دنوں میں انٹرمیڈیٹ کا ایک طالب علم تھا۔ گھر سے کالج کی دوری پانچ کلومیٹر تھی۔ کالج جاتے وقت دربھنگہ کلکٹریٹ اور ضلع کچہری کی چہار دیواری پر موٹے حروف میں لکھے نعروں کو نہایت غور سے پڑھتا تھا۔ کافی وقت گزرنے کے بعد بھی دیواروں پر لکھے کئی سلوگن مجھے آج بھی یاد ہیں۔ انھیں میں سے ایک کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسوادی – لینن وادی) کا ایک نعرہ لکھا ہوتا تھا ’رے بے، تم تام نہیں سہیں گے، مالک کسی کو نہیں کہیں گے‘۔ ایسے تمام نعرے، جن کی کل بھی افادیت تھی اور مستقبل میں بھی رہے گی۔ صرف دربھنگہ جیسے شہروں میں ہی نہیں، بلکہ ہندوستان کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں دیوار پر ہاتھ سے لکھنے کی ایک قدیم روایت رہی ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی این شیشن کے دور میں الیکشن کے وقت دیوار پر ہاتھ سے لکھنے پر تقریباً پابندی لگا دی گئی۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کو مؤثر بنانے کے مقصد سے الیکشن کمیشن نے ایسا قدم اٹھایا تھا۔ نتیجتاً بے جان دیواروں سے عوام اور حکومت کو بیدار کرنے والے الفاظ کا دھیرے دھیرے صفایا ہو گیا۔ مغربی بنگال، ممبئی اور چنئی جیسے میٹروپولٹن شہر ایک زمانے میں مضبوط ٹریڈ یونینوں کا مرکز رہے ہیں، وہاں بھی اب صرف نام کے ہی سلوگن دکھائی دیتے ہیں۔
1970-80 کی دہائی کی سیاست کرنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ ہندوستانی سیاست اور موجودہ انتخابی عمل ایک دائرے میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ آج ملک میں بڑی سیاسی پارٹیوں کا ہی دبدبہ ہے۔ ان پارٹیوں کو دیوار پر لکھنے کی پابندی اور انتخابی پرچار کے روایتی طریقوں میں آئی تبدیلی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ ایسی پارٹیوں کے پاس بے پناہ دولت ہے، ملکی اور غیر ملکی ایجنسیوں، صنعت کاروں سے انہیں بھرپور چندہ ملتا ہے۔ لہٰذا ایسی پارٹیاں الیکشن کے وقت نہ صرف اخبارات کے پہلے صفحے پر، بلکہ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے ذریعے بھی اپنا پرچار کرتی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس جیسی بڑی پارٹیوں کی تو بات الگ ہے، لیکن اب سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، جنتا دَل یونائٹیڈ، اے آئی ڈی ایم کے، ڈی ایم کے، راشٹریہ جنتا دل، بیجو جنتا دَل جیسی مضبوط علاقائی پارٹیاں بھی کم و بیش اسی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ملائم سنگھ یادو، مایاوتی، شرد یادو، جے للتا، نوین پٹنائک، کروناندھی اور لالو پرساد یادو جیسے زمینی لیڈروں نے بھی بدلتے وقت کے ساتھ چناؤ پرچار کا اپنا طریقہ بدل لیا ہے۔ ان سبھی پارٹیوں کے پاس بھی بے پناہ دولت ہے، لیکن ان چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے بارے میں بھی سوچیں، جن کے پاس وفادار کارکن تو ہیں، لیکن الیکشن لڑنے کے لیے پیسہ نہیں ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات کے علاوہ آج پنچایتوں کے انتخابات میں بھی لاکھوں روپے کی ضرورت پڑتی ہے۔ آخر کسی امیدوار کو الیکشن لڑنے کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اس بات کا جواب ہے؟ شاید ہوگا بھی نہیں، کیوں کہ انتخابی اخراجات کی حد بڑھائے جانے کی مانگ پر اس نے ہی اپنی منظوری دی ہے۔ الیکشن کمیشن ملک کا آئینی ادارہ ہے، عدلیہ کی طرح ہی۔ اس لیے ان دونوں اداروں کے بارے میں کچھ بھی کہنا یا تبصرہ کرنا غیر آئینی مانا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ جمہوریت میں کسی کو خدا مان کر اس کی اندھی تقلید میں ڈوب جانا بھی جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر سے یہ سوال پوچھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ جس انتخابی ضابطہ اخلاق کی بات کرتے ہیں، اس کی بنیاد کتنی مضبوط ہے۔ مثال کے طور پر بی جے پی، کانگریس، سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی جیسی پارٹیوں کے پاس مستقل انتخابی نشان موجود ہیں۔ اگر یہ پارٹیاں چھ مہینے یا سال بھر پہلے بھی امیدواروں کا اعلان کر دیں، تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ عوام کو امیدوار کا نام یاد رہے یا نہ رہے، لیکن پارٹی کا انتخابی نشان ضرور یاد رہے گا۔ بڑی پارٹیوں کی یہ ذہنیت جمہوریت کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ دوسری طرف چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو پرچہ نامزدگی بھرنے کے بعد ہی انتخابی نشان ملتا ہے۔ ایسے میں ان کے پاس چناؤ پرچار کرنے کے لیے کافی کم وقت مل پاتا ہے۔
ملک میں ہونے والے اسی لوک سبھا چناؤ کی بات کریں، تو بڑی پارٹیوں نے الیکشن سے ایک مہینہ اور ڈیڑھ مہینہ پہلے اپنے امیدواروں کے نام طے کیے ہیں، جب کہ الیکشن کمیشن کو بھی یہ معلوم ہے کہ ملک میں پارلیمانی حلقہ کا سائز کافی بڑا ہوتا ہے۔ کئی اسمبلی حلقوں کو ملا کر ایک پارلیمانی حلقہ بنتا ہے، جس میں سینکڑوں گاؤں آتے ہیں۔ کیا محض ایک یا ڈیڑھ مہینے میں کوئی بھی امیدوار اپنے لوک سبھا حلقہ کے سبھی گاؤوں کا دورہ کر پائے گا؟ دراصل، بڑی سیاسی پارٹیوں کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہے، کیوں کہ انہیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ عوام امیدوار کو پہچانیں یا نہ پہچانیں، لیکن وہ ان کے انتخابی نشانوں کو اچھی طرح سے پہچانتے ہیں۔ ملک میں دو دہائی قبل الیکشن کے وقت ہر امیدوار کو پرچار کرنے کے لیے کافی وقت ملتا تھا۔ اُن دنوں ہر گاؤں، قصبے میں انتخابی بحث ہوتی تھی۔ اُن دنوں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا، راج نارائن، کشن پٹنائک اور چودھری چرن سنگھ جیسے بڑے لیڈروں کے پاس پرچار کا طریقہ بھی بے حد دلچسپ ہوتا تھا۔ وہ لوگ گاؤں میں لوگوں سے مل کر ان کے مسائل سنتے تھے۔ بات چیت اور بحث میں ہی گھنٹوں بیت جاتے تھے، لیکن وہ کھل کر ووٹ نہیں مانگتے تھے۔ جس گاؤں میں رات ہو گئی، وہیں روکھا سوکھا کھا کر سو جاتے تھے۔ اسے اُس دور کی صحت مند سیاست کہیے یا لیڈروں کی عظیم شخصیت کہ ڈاکٹر لوہیا جیسے لیڈروں کی تقریر سننے ان کے مخالفین بھی پہنچتے تھے۔ لیکن موجودہ سیاست میں یہ روایت ختم ہو گئی ہے۔ اسے الیکشن کمیشن کی مہربانی ہی کہی جائے گی کہ ملک میں زیادہ تر انتخابی ریلیاں دفعہ 144 کے تحت منعقد ہوتی ہیں۔ ایسی ریلیوں میں عوام جانے سے ہچکچاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بڑی پارٹیوں کے اسٹار کمپینر کھلی جیپ میں کھڑے ہو کر روڈ شو کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ چناؤ پرچار کا یہ غلط طریقہ پہلے میٹرو پولٹن شہروں تک ہی محدود تھا، لیکن اب یہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور گاؤں تک پہنچ چکا ہے۔ بڑی پارٹیوں کے لیڈر مہنگی گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ اپنے پارلیمانی حلقہ میں پرچار کرنے پہنچتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہاتھوں میں رائفل لیے ان کے حامی بھی کھڑے رہتے ہیں۔ پیاس لگنے پر بوتل بند پانی پیتے ہیں اور اسی گاؤں میں عوام کو صاف پانی مہیا کرانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ موجودہ سیاست میں کھیتی باڑی، غریبی اور بے روزگاری کوئی مدعا نہیں رہ گیا ہے۔ اس کے لیے صرف لیڈروں کو ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس کے لیے کہیں نہ کہیں ہندوستان کا الیکشن کمیشن بھی قصور وار ہے، جس نے انتخابی ضابطہ اخلاق کے نام پر جمہوریت کو ایک محدود دائرے میں قید کر دیا ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر اُن باتوں پر بھی غور کریں، جن سے لوک سبھا، اسمبلی اور پنچایت کے انتخابات میں عوام کی مکمل حصہ داری یقینی ہو سکے۔ اگر الیکشن کمیشن ان باتوں پر دھیان نہیں دیتا ہے، تو وہ دن دور نہیں، جب ملک میں انتخابی سرگرمیاں محض ایک رسم ادائیگی ہی رہ جائے گی۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *