ڈی ایس پی نے جسمانی تعلقات بنانے کیلئے خاتون کانسٹیبل کو اتنا پریشان کیا کہ اس نے خودکشی کر لی

Share Article
jalaun

جے پور: راجستھان کے جالور میں ایک خاتون پولیس کانسٹیبل کی خودکشی کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔کانسٹیبل کے لواحقین پولیس افسران اور کانسٹیبلوں پر کئی سنگین الزام لگا کر کارروائی کی مانگ پر اڑے ہیں۔ بھائی کا الزام ہے کہ کانسٹیبل بہن نے خود کشی سے پہلے اسے واٹس ایپ پر میسیج کرکے پولیس افسران اور دو کانسٹیبل پر تشدد کی بات کہی تھی۔

constable
اس کی بہن نے اسے بتایا تھا کہ کیسے ایک علاقے کا ڈی ایس پی اسے جبراً اس کے ساتھ جسمانی تعلق بنانے کیلئے بلیک میل کر رہا ہے۔ وہ اس کی بات نہ ماننے کی وجہ سے جان بوجھ کر اسے پریشان کر رہا ہے۔

jalun1
خاتون کانسٹیبل کے بھائی نے پولیس تھانے میں رپورٹ دیکر سانچور DSP اوم پرکاش اجول پر سنگین الزام لگائے۔ بھائی نے الزام لگایا ہے کہ، اس کی بہن نے گزشتہ چار پانچ ماہ سے تھانے میں پریشان ہوکر آپ بیتی بتا رہی تھی۔الزام ہے کہ سی او اجول کے ذریعے اس پر جنسی تعلقات بنانے کا دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ رپورٹ میں الزام ہے کہ ایسا نہیں کرنے پر سی او کی طرف سے اس کو پریشان کرنے کے لئے گزشتہ کئی دنوں سے ہارڈ ڈیوٹی دی جا رہی ہے۔

whatsapp-msg
اب خاتون کانسٹیبل کے خاندان والوں نے اس کی لاش لینے سے انکار کر دیا ہے۔ لواحقین ملزم پولیس افسران اور کانسٹیبلوں پر کئی الزام لگا کر ان کے خلاف کارروائی کی مانگ کو لے کر مردہ خانہ کے باہر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔

jaloreconstablegeetabishnoi
خودکشی سے پہلے خاتون کانسٹیبل نے اپنے بھائی کو جو سوسائڈ نوٹ بھیجا تھا، اس میں اس نے لکھا تھا کہ ساری(Sorry) بھائی، ماں، والد وغیرہ سب سے ہاتھ جوڑ کرمعافی مانگتی ہوں، مجھے معاف کرنا لیکن اب میں نہیں جی سکتی ہوں۔میں بہت پریشان ہوں مجھے فالتو میں پریشان کرتے ہیں، میں نے سانچور تھانے میں تھانہ انچار، ایچ ایم انتظامیہ اور تھانے کی خاتون کانسٹیبل کیلمسے پریشان ہوں۔ یہ مجھے جینے نہیں دیں گے، بھائی بہنوں میں بہت پیارکرتی ہوں اور ماں والد میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ماں مجھے معاف کرنا۔ ساری(Sorry) پاپا مجھے معاف کرنا۔میں جینا چاہتی ہوں مگر مجھے جینے نہیں دیں گے۔ساری (Sorry)بھائی۔ آئی لو یو برو. پلیز، مجھے معاف کرنا۔ساری (Sorry)میری بہنا۔میری دوست نے مجھے معاف کرنا۔یار مجھے معاف کرنا۔ماں باپ کا خیال رکھنا۔‘

sanchorepolicestation
خاتون کانسٹیبل کی پنکھے سے لٹکی ہوئی لاش وردی میں ہی ملی تھی۔ بتایا جا رہا ہے خودکشی سے پہلے اس نے جس افسر پر الزام لگایا ہے اس سے کسی بات کو لے کر بحث ہوئی تھی۔ جس کے بعد وہ تھانے سے نکلی اور وہ اپنی سرکاری رہائش میں چلی گئی۔ جہاں جاتے ہی اس نے سی او اوم پرکاش اجول کو چالیس سیکنڈ کے اندر چار بار لگایا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *